کشمیر کی جدوجہدِ آزادی میں پاکستان کا لازوال کردار

جنگِ ستمبر1965ء کی بنیاد اسی وقت رکھ دی گئی تھی جب انڈیا کی قیادت نے انتہائی مکاری سے طاقت کے بل بوتے پر برطانوی جنگی طیاروں کے ذریعے  سری نگر میں اپنی فوجیں اُتار دی تھیں اور کشمیری مسلمانوں کا نہایت بے دردی سے قتلِ عام شروع کر دیا تھا۔

 

کشمیری مسلمانوں پر گزشتہ ایک صدی سے ہندو ڈوگرہ مہاراجے ظلم ڈھاتے چلے آ رہے تھے۔ اِن مظالم کے خلاف پورے برِصغیر میں بڑے بڑے مظاہرے ہوتے رہے اور1931ء میں علامہ اقبال کی صدارت میں کشمیر کمیٹی قائم ہوئی جس کی اپیل پر ہزاروں کی تعداد میں رضاکار ریاست جموں و کشمیر میں داخل ہوئے جو ڈوگرہ حکومت کی اسلام دشمنی کے خلاف گرفتاریاں پیش کرتے تھے۔ ریاست کی جیلوں میں جگہ نہ رہی تو مہاراجہ کی درخواست پر برطانوی حکومت رضاکاروں کو پنجاب میں گرفتار کرنے لگی۔ یہ عجیب حُسنِ اتفاق تھا کہ ریاست جموں و کشمیر میں پہلا کشمیر ڈے14اگست1931ء کو منایا گیا اور اِسی تاریخ کو پاکستان وجود میں آیا جو ایک دوسرے کے مابین بہت گہرے تاریخی جغرافیائی اور دینی رشتے کو ظاہر کرتا ہے۔

 

تقسیمِ ہند کے وقت ریاست جموں و کشمیر رقبے کے اعتبار سے ہندوستان کی سب سے بڑی ریاست تھی جس کا رقبہ84 ہزار471 مربع میل ہے۔ اس کی بین الاقوامی سرحدیں تبت، چین، افغانستان اور ایک مختصر علاقے سے قطع نظر روس سے ملتی ہیں۔ یوں اس ریاست کی فوجی اعتبار سے بڑی اہمیت ہے۔1941ء کی مردم شماری کے مطابق اس کی مجموعی آبادی چالیس لاکھ تھی جس میں 77 فی صد مسلمان تھے۔ اس ریاست کے سلسلہ ہائے کوہ سے نکلنے والے دریا سندھ، جہلم اورچناب پاکستان کے میدانوں کو سیراب کرتے ہوئے اس پورے علاقے کو ایک جغرافیائی وحدت میں پرو دیتے ہیں۔ اس کے علاوہ ریاست کی سڑکوں اور ریلوے مواصلات کا سلسلہ پاکستان کے ساتھ جڑا ہوا تھا۔ اس کی اشیائے برآمدات و درآمدات یہیں سے گزرکر جاتی تھیں۔ ان حقائق کی بنیاد پر ریاست کے مہاراجہ نے پاکستان سے معاہدۂ قائمہ (Standstill Agreement)پر دستخط کئے جس کا ظاہری مقصد پاکستان کے ساتھ موجودہ تعلقات کا تسلسل قائم رکھنا تھا، مگر درحقیقت یہ معاہدہ ایک مکروہ سازش کا حصہ تھا۔ سازش یہ تھی کہ بھارت کے ساتھ ڈاک اور تار کا نظام قائم کرنے کی مہلت مل جائے اور اس عرصے میں کشمیری مسلمانوں کو ٹھکانے لگایا جا سکے۔ 15اگست 1947ء کو بھارت کی طرف سے مہاراجہ کو پیغام پہنچایا گیا کہ وہ کشمیری مسلمانوں کی اکثریت ختم کرنے کی مہم تیزتر کر دے۔

اِس پیغام کے ملتے ہی سفاک ڈوگرا حکومت نے خونریزی کا بازار گرم کر دیا۔ روزنامہ دی سٹیٹس مین کلکتہ کے ایڈیٹر آئن سٹیفنز نے لکھا: گیارہ ہفتوں میں جموں و کشمیر سے پانچ لاکھ مسلم آبادی کا صفایا کر دیا گیا۔ دو لاکھ تو ایسے نیست و نابود ہوئے کہ اُن کا سراغ تک نہیں ملا۔ باقی ماندہ مسلمانوں نے انتہائی بے سروسامانی کی حالت میں مغربی پنجاب میں بھاگ کر جان بچائی۔ کشمیری مسلمانوں کے قتلِ عام اور وحشیانہ ظلم و ستم کی ہولناک خبروں نے قبائلیوں میں شدید اشتعال پیدا کر دیا اور وہ مہاراجہ کے خلاف جہاد کے لئے گھروں سے نکل کھڑے ہوئے۔ پاکستان پر یہ مشکل آن پڑی تھی کہ اگر قبائلیوں کو ایک ایسے کام سے روکا جائے جسے وہ اپنا دینی فریضہ سمجھتے ہیں، تو اس سے پورے قبائلی علاقے میں آگ لگ سکتی تھی۔ اس وقت پاکستانی فوج لاکھوں مہاجرین کے تحفظ اور دیکھ بھال کی عظیم ذمے داریاں سنبھالے ہوئے تھی۔ قبائلی لشکر22اکتوبر 1947ء کو دریائے جہلم عبور کر کے ریاست کی حدود میں داخل ہوا۔ وہ ریاستی فوجوں کو پسپا کرتے ہوئے مختلف راستوں سے سری نگر کی طرف پیش قدمی کرتا رہا۔ مہاراجہ حالات سے خوف زدہ ہو کر جموں فرار ہو چکا تھا۔ لشکر کا ایک حصہ سری نگر سے صرف تیس میل کے فاصلے پر واقع بارہ مولا تک پہنچ گیا اور اپنے دوسرے حصے کی آمد کا انتظار کرنے لگا جسے انڈین کانگریس کا ففتھ کالم خیرخواہی کے لبادے میں دوردراز علاقے میں لے گیا تھا۔ قبائلی عمائدین کی آمد سے پہلے ہی ڈوگرا فوج اور آر ایس ایس کے درندے بارہ مولا کوتاخت و تاراج کر کے فرار ہو گئے تھے اور پروپیگنڈا یہ کر رہے تھے کہ قبائلیوں نے مالِ غنیمت لوٹنا شروع کر دیا اور وحشت میں گرجا گھر کے علاوہ ہسپتال کو بھی شدید نقصان پہنچایا۔ مالِ غنیمت لوٹنے کی بات سراسر جھوٹ پر مبنی تھی۔ قبائلی مجاہدین تو سختیاں برداشت کرتے ہوئے اپنے مسلمان بھائیوں کی مدد کو پہنچے تھے۔

 

بھارتی کابینہ کو کشمیر میں قبائلی یلغار کی اطلاع ملی تو وہ مہاراجہ کی طرف سے پہلے سے آئی ہوئی درخواست پر فوری طور پر اسلحہ بارود بھیجنے کے لئے مضطرب تھی، مگر لارڈ ماؤنٹ بیٹن نے پہلے ریاست کا الحاق حاصل کرنے پر زور دیا، چنانچہ بھارتی حکومت نے دستاویزِ الحاق پر مہاراجہ جموں و کشمیر کے دستخط حاصل کرنے کا ڈرامہ رچایا جس کا الیسٹر لیمب(Alastair Lamb) نے اپنی تصنیف 'نامکمل تقسیم' (Incomplete Partition)میں پول کھول دیا ہے۔ انڈین حکومت نے ایک دنیا کو فریب دیا کہ وی۔پی مینن26اکتوبر کو جموں گیا جہاں مہاراجہ سری نگر سے آ چکا تھا اور اس نے الحاق کی دستاویز پر دستخط کر کے وی۔پی مینن کے حوالے کر دی تھی۔ نام نہاد دستخط شدہ دستاویز حاصل کرنے کے بعد 27اکتوبر کی صبح سری نگر ایئرپورٹ پر بھارتی فوجیں اُتاری گئیں۔ مسٹر لیمب نے ناقابلِ تردید شواہد سے ثابت کیا ہے کہ26اکتوبر کو وی۔پی مینن جموں گیا ہی نہیں تھا، اس لئے اس روز الحاق کی دستاویز پر دستخط کی پوری کہانی جھوٹ پر مبنی ہے۔ اس معروف مصنف نے بھارتی قیادت اور ماؤنٹ بیٹن کی چالاکی اور کذب بیانی پوری طرح بے نقاب کر دی ہے اور پاکستان کی نیک نیتی اور امن پسندی کی گواہی دی ہے۔

 

وی۔پی مینن نے1965ء میں شائع ہونے والی اپنی یادداشتوں میں لکھا ہے کہ وہ کشمیر کے وزیراعظم مہرچند مہاجن کے ہمراہ 26اکتوبر کو جموں گیا تھا اور اسی روز مہاراجہ نے دستاویزِ الحاق پر دستخط کئے تھے، جبکہ وزیراعظم مہاجن نے اپنی شائع شدہ یادداشتوں میں وی۔پی مینن کے ساتھ جموں جانے کی تردید کی ہے۔ اِس تردید کے بعد مہاراجہ کے دستاویزِ الحاق پر دستخط ثبت کرنے کا پورا معاملہ جھوٹ کا پلندہ قرار پاتا ہے۔ مسٹر لیمب نے اس کے علاوہ ایک اور ناقابلِ تردید شہادت فراہم کی ہے۔ وہ یہ کہ دہلی میں برطانوی ڈپٹی ہائی کمشنر الیگزینڈر سائمن نے 26اکتوبر کو پیش آنے والے واقعات سرکاری ڈائری میں قلم بند کئے جو اگلے روز ڈی۔او کی شکل میں دولتِ مشترکہ کے افسر تعلقاتِ عامہ آرچبالڈ کارٹر کو بھیجے گئے۔ یہ اہم دستاویز برٹش آرکائیوز میں آج بھی محفوظ ہے۔ سائمن نے ریکارڈ کیا ہے کہ اس نے ضروری ملاقات کرنے کے لئے26اکتوبر کو مسٹر وی۔پی مینن کو فون کیا۔ اس نے جواب میں کہا کہ آج ملاقات نہیں ہو سکتی، کیونکہ وہ جموں جانے کے لئے پالم ایئرپورٹ پر آ چکا ہے۔سائمن وہاں پہنچا جہاں وی۔پی مینن واپس دہلی جانے کے لئے تیار بیٹھا تھا کیونکہ ہوائی جہاز رات سے پہلے جموں ایئرپورٹ پر اُتر نہیں سکتا تھا۔ وہ دونوں اپنی اپنی کاروں میں دہلی چلے آئے۔ حیرت ہے کہ وی۔پی مینن کی جھوٹی کہانی کی پوری دنیا میں ایک حقیقت کے طور پر تشہیر کی گئی کہ وہ جموں گیا اور مہاراجہ نے دستاویزِ الحاق پر دستخط ثبت کئے، جبکہ تاریخ گواہی دیتی ہے کہ ایک باضابطہ دستاویزِ الحاق سرے سے موجود ہی نہیں تھی۔ یہی وجہ ہے کہ وہ ریاست جموں و کشمیر کے آرکائیوز میں محفوظ ہے نہ سلامتی کونسل کی فائلوں میں نہ انڈین آفس لائبریری میں۔ وی۔پی مینن کی شائع شدہ کہانی اس حوالے سے بھی حقیقت کے منافی تھی کہ26اکتوبر کی شب تک مہاراجہ جموں پہنچا ہی نہیں تھا، اس لئے دستاویزِ الحاق پر دستخط حاصل کرنے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا تھا۔

 

کشمیر پر بھارتی حملے کی خبر ملی تو، قائداعظم نے بھارت سے کشمیر کے الحاق کو فراڈ قرار دیتے ہوئے پاکستان کے قائم مقام کمانڈر اِن چیف جنرل گریسی کو فوری طور پر کشمیر میں فوجیں بھیجنے کا حکم دیا۔ اس نے حکم کی تعمیل کرنے کے بجائے دہلی میں فیلڈ مارشل آکنلک سے رابطہ قائم کیا۔ وہ اگلے ہی روز قائداعظم سے ملنے لاہور آئے اور اُن سے اپنے احکام واپس لینے کے لئے کہا، کیونکہ برطانوی کابینہ کے فیصلے کی رو سے دو مملکتوں کے مابین تصادم کی صورت میں ہمیں پاکستانی فوج سے تمام انگریز افسر واپس بلانا پڑیں گے۔ قائداعظم نے بادلِ نخواستہ اپنے احکام واپس لے لئے۔ انگریز بھارتی فوجوں کو سری نگر ایئرپورٹ پر اُتارنے کی سازش میں شامل تھے، کیونکہ اس پورے آپریشن میں برطانوی ایئرکرافٹ اور پائلٹس استعمال ہوئے تھے۔ فیلڈ مارشل آکنلک نے جان بوجھ کر قائداعظم کو برطانوی کابینہ کے پورے فیصلے کے بارے میں اندھیرے میں رکھا جو یہ تھا کہ اگر ایک مملکت سے انگریز افسر واپس بلائے جائیں گے، تو دوسری مملکت سے بھی اُنہیں واپس بلا لیا جائے گا۔ اگر قائداعظم کابینہ کے اِس فیصلے سے واقف ہوتے، تو وہ فیلڈ مارشل آکنلک کی گیڈر بھبکیوں کو ہرگز خاطر میں نہ لاتے۔ بروقت فوجیں نہ بھیجنے سے پاکستان کو ناقابلِ تلافی نقصان پہنچا۔ ملاقات کے دوران آکنلک نے دونوں ملکوں کے گورنر جنرلوں اور وزرائے اعظم کی لاہور میں کانفرنس بلانے کی تجویز دی جو قائداعظم نے قبول کر لی، مگر بھارتی قیادت کی مکاریوں کا سلسلہ جاری رہا۔ پنڈت نہرو نے بیماری کا بہانہ بنا کر لاہور آنے سے معذرت کر لی اور لارڈ ماؤنٹ بیٹن چار دن کی تاخیر سے قائداعظم سے ملنے آئے۔

 

قائداعظم نے بھارت کے وائسرائے کو مسئلۂ کشمیر کے پُرامن حل کے لئے ٹھوس تجاویز پیش کیں، اس کے ہمراہ سری نگر جانے کا عندیہ دیا اور کہا کہ میں قبائلیوں سے سری نگر خالی کرنے کی اپیل کروں گا اور آپ بھارتی فوجوں کو واپس آنے کا حکم دیں گے۔ ماؤنٹ بیٹن نے عیاری سے کام لیتے ہوئے کہا کہ آپ تو بااختیار گورنر جنرل ہیں جبکہ میں انڈین کابینہ کے مشورے کا پابند ہوں۔ اس نے یقین دلایا کہ ہم ریاست جموں و کشمیر میں استصوابِ رائے کے پابند ہیں۔ اس پر قائداعظم نے فرمایا کہ ریاست پر قابض ہو جانے کے بعد رائے شماری کے اعلانات اور وعدے بے معنی ہو کے رہ جائیں گے، اِس لئے جلد سے جلد کشمیر سے بھارتی فوجوں کا انخلا بہت ضروری ہے اور ہمیں یہ مقصد حاصل کرنے کے لئے مخلصانہ کوششیں کرنی چاہئیں۔

 

بھارت اور پاکستان کے مابین مسئلۂ کشمیر پر مذاکرات کے دوران کشمیر کے شمال میں واقع گلگت میں ایک انقلاب رونما ہو چکا تھا جس کی پوری آبادی مسلمانوں پر مشتمل تھی۔ اعلانِ آزادی ہند کے ساتھ ہی برطانوی حکومت نے اس علاقے کو ریاست جموں و کشمیر کی تحویل میں دے دیا تھا۔ مہاراجہ کی بھارت سے الحاق کی خبر اس علاقے میں پہنچی، تو وہاں کے عوام نے مہاراجہ کا جُوا اُتار پھینکنے کا فیصلہ کر لیا۔31اکتوبر کو گلگت اسکاؤٹس نے ہندو گورنر گرفتار کر لیا اور عوام کی پُرجوش حمایت سے پاکستانی پرچم لہرا دیا اور حکومتِ پاکستان سے علاقے کا نظم و نسق سنبھالنے کی درخواست کی۔14 نومبر کو پاکستان کا نمائندہ طیارے کے ذریعے گلگت پہنچا اور یہ علاقہ پاکستان میں شامل ہو گیا۔ بعدازاں ہنزہ اور نگر کے حکمرانوں نے بھی پاکستان سے الحاق کر لیا۔

 

لاہور میں 8دسمبر کو دونوں مملکتوں کے وزرائے اعظم کی دوسری مرتبہ ملاقات ہوئی، مگر کوئی نتیجہ برآمد نہ ہوا، بلکہ پنڈت نہرو کشمیر میں رائے شماری کے لئے  اقوامِ متحدہ سے مشترکہ درخواست سے بھی منحرف ہو گئے اور یکم جنوری کو سلامتی کونسل چلے گئے۔ انہوں نے اپنی گھناؤنی حرکتوں پر پردہ ڈالنے اور عالمی رائے عامہ کو فریب دینے کے لئے یہ رَٹ شروع کر دی کہ کشمیر کا بھارت سے الحاق عارضی ہے اور کشمیری عوام اپنی قسمت کا فیصلہ آزادانہ استصوابِ رائے سے کریں گے۔ ایک طرف سلامتی کونسل میں اس تنازع پر بحث جاری تھی اور دوسری طرف بھارتی وزیر دفاع پارلیمنٹ میں اعلان کر رہے تھے کہ ہم تین ماہ کے اندر اندر کشمیر پر حملہ آوروں کا صفایا کر دیں گے، چنانچہ بھارتی فوجیں آزاد کشمیر پرچڑھ دوڑیں۔ آزادکشمیر کے فوجی دستوں اور قبائلی مجاہدین نے تابڑتوڑ حملوں کا مردانہ وار مقابلہ کیا، مگر وہ بہت بڑی اور منظم فوج کی پاکستان کی طرف پیش قدمی نہیں روک سکتے تھے۔ اِس نازک صورتِ حال پر قابو پانے کے لئے پاکستان کے کمانڈر اِن چیف جنرل گریسی نے حکومتِ پاکستان کو سفارش کی کہ بھارتی فوج کو اوڑی، پونچھ اور نوشہرہ کے خط سے آگے بڑھنے کی ہرگز اجازت نہ دی جائے۔ اِس سفارش پر حکومتِ پاکستان نے محدود پیمانے پر اپنی فوجیں ریاست کے اندر بھیج دیں، مگر فضائیہ استعمال نہیں کی گئی، حالانکہ بھارت فضائی طاقت سے حملہ آور ہو رہا تھا۔ ہماری بہادر فوج نے جانوں پر کھیل کر بھارتی حملہ پسپا کر دیا اور اُنہیں زبردست نقصان پہنچایا۔

 

وریں اثنا بھارتی حکومت سلامتی کونسل کی مصالحتی کوششوں کو ناکام بنانے میں لگی رہی۔ سلامتی کونسل نے آغاز ہی میں محسوس کر لیا تھا کہ یہ محض حملہ آوروں کے انخلا کا مسئلہ نہیں، بلکہ اس کا تعلق بھارت اور پاکستان کے باہمی تعلقات کے استحکام سے ہے جس میں کشمیر کا تنازع سب سے بڑی رکاوٹ ثابت ہو رہا ہے۔ ایک سال کی بحث و تمحیص کے بعد سلامتی کونسل نے 5 جنوری 1949ء کو ایک قرارداد منظور کی جس میں فوری جنگ بندی کے ساتھ ساتھ ریاست جموں و کشمیر کو متنازع علاقہ تسلیم کرتے ہوئے اقوامِ متحدہ کے زیرِاہتمام استصوابِ رائے کے طریقِ کار کا اعلان کیا گیا تھا۔ دونوں حکومتوں نے یہ قرارداد منظور کی اور پنڈت نہرو نے پارلیمنٹ میں بیان دیا کہ ہم جموں و کشمیر کی ریاست میں استصوابِ رائے کے پابند ہیں، مگر درپردہ ریاست کو بھارت میں ضم کرنے کے اقدامات کرتے رہے۔ تاریخ شاہد ہے کہ سلامتی کونسل کی طرف سے نامزد ڈاکٹر گراہم نے1951ء اور1958ء کے درمیان رائے شماری کے حوالے سے چھ رپورٹیں پیش کیں جسے بھارت مسترد اور پاکستان منظور کرتا رہا۔

 

1950ء میں بھارت نے جارحانہ انداز اختیار کرتے ہوئے اپنی فوجیں پاکستان کی سرحد پر جمع کر دیں جس نے پاکستانی قیادت کو امریکہ سے فوجی تعاون حاصل کرنے کا شدید احساس دلایا، چنانچہ 1954ء میں 'باہمی فوجی امداد' کے نام سے معاہدے پر دستخط ہوئے جو دس برسوں پر محیط تھا۔ پانچ سال بعد امریکہ اور پاکستان کے مابین فوجی تعاون کا ایک اور معاہدہ طے پایا۔ اس کی ایک اہم شق یہ تھی کہ پاکستان پر حملے کی صورت میں امریکہ پاکستان کی مدد کو پہنچے گا۔ اس معاہدے پر پنڈت نہرو بہت تلملائے اور کشمیر میں استصوابِ رائے کی کمٹمنٹ سے مکر گئے۔ پھر1962ء کے اواخر میں بھارت اور چین کے درمیان فوجی تصادم کا ایک حیرت انگیز وقوعے نے خِطے میں طاقت کا توازن بگاڑ کے رکھ دیا اور تنازع کشمیر کی گمبھیرتا میں بے پناہ اضافہ کر دیا صدر ایوب خاں کے پرنسپل سیکرٹری جناب قدرت اللہ شہاب نے اپنی معرکة الآرا تصنیف 'شہاب نامہ' میں اس حوالے سے ایک تاریخی اہمیت کا واقعہ قلم بند کیا ہے۔ وہ لکھتے ہیں کہ اکتوبر1962ء کی ایک رات ڈھائی بجے میرے ملازم نے مجھے جگایا کہ ایک چینی شخص آپ سے ملنا چاہتا ہے۔ اس نے مجھے بتایا کہ چین نے بھارت پر حملہ کر دیا ہے۔ صدر ایوب کو اس خبر میں بڑی دلچسپی ہو گی اور اُن تک یہ خبر پہنچانے میں آپ سب سے زیادہ مؤثر ثابت ہو سکتے ہیں۔ میں فوراً لباس تبدیل کر کے ایوانِ صدر پہنچا اور مجھے صدر ایوب کی خواب گاہ تک رسائی مل گئی۔میں نے چینی شخص کی گفتگو کا لبِ لباب پیش کرتے ہوئے کہا کہ اس کے آنے کا مقصد یہ تھا کہ پاکستان یہ لمحے اپنے فائدے میں استعمال کر سکتا ہے او راس کی فوجیں مقبوضہ کشمیر میں داخل ہو سکتی ہیں۔ صدر ایوب نے میری بات کاٹتے ہوئے کہا تم سویلین لوگ جنگی پیش قدمی کو بچوں کا کھیل سمجھتے ہو۔ اُنہوں نے مجھے آرام کرنے کا مشورہ دیا اور کشمیریوں کو بھارت کی غلامی سے نجات دلوانے کا سنہری موقع ضائع کر دیا۔

 

چین کے ساتھ سرحدی جھڑپوں میں بھارت ذلت آمیز شکست سے دوچار ہوا۔ بھارتی فوجی شدید بدحواسی میں محاذِ جنگ پر اپنے جوتے چھوڑ کر بھاگ نکلے اور بھارتی وزیراعظم پنڈت نہرو کی طرف سے دی جانے والی دھمکیاں گیڈر بھبکیاں ثابت ہوئیں۔ نومبر کے اواخر میں چینی فوج نے بھارتی فوج کا بھرکس نکالنے کے بعد خود ہی سیزفائر کا اعلان کر دیا۔ اس دوران پاکستان کے عوام و خواص کے اندر یہ مطالبہ زور پکڑتا گیا کہ صدر ایوب مقبوضہ کشمیر میں فوجی اقدام کریں، لیکن امریکہ اُنہیں اس عمل سے باز رکھتا اور اس امر کا یقین دلاتا رہا کہ وہ مسئلۂ کشمیر کے منصفانہ حل کے لئے فعال کردار اَدا کرے گا۔ امریکی اسسٹنٹ سیکرٹری آف سٹیٹ ہیری مین اور برطانیہ کے سیکرٹری اُمورِ دولتِ مشترکہ ڈنکن سینڈز کی کوششوں سے بھارتی وزیراعظم اور پاکستانی صدر نے ایک مشترکہ اعلان میں کشمیر اور متعلقہ مسائل میں دونوں کے مابین اختلافات رفع کرنے کے لئے ازسرِنو کوشش پر اتفاق کیا۔ دسمبر1962ء سے لے کر مئی1963ء تک وزیر خارجہ پاکستان جناب ذوالفقار علی بھٹو اور بھارتی وزیر خارجہ مسٹر سورن سنگھ کے درمیان مذاکرات کے چھ دور چلے ، مگر بھارتی قیادت کی ہٹ دھرمی کے باعث کوئی مفاہمت نہ ہو سکی۔ دوسری طرف پنڈت نہرو نے چین کے ہاتھوں ذلت آمیز شکست کو اپنی شاندار کامیابی میں تبدیل کرنے کے لئے طرح طرح کی چال بازیوں سے کام لیا اور دہائی مچائی کہ چین کی فوجی طاقت آزاد دنیا کے لئے بہت بڑا خطرہ بن سکتی ہے۔ اس پروپیگنڈے سے متاثر ہو کر امریکہ اور برطانیہ نے بھارت میں جدید ترین اسلحے کے انبار لگا دیئے اور اپنے خزانوں کے منہ کھول د یئے۔

 

اس بدلتی ہوئی صورتِ حال میں صدر ایوب نے امریکی صدر کینیڈی کو شدید حالتِ اضطراب میں خط لکھا کہ بھارت کو اس وسیع پیمانے پر فوجی امداد مہیا کرنے سے خِطے میں طاقت کا توازن بگڑ جائے گا اور پاکستان کی سلامتی خطرے میں پڑ جائے گی۔ مسئلۂِ کشمیر پر مذاکراتی عمل میں بار بار ناکامی اور بھارت کی بڑھتی ہوئی فوجی طاقت سے پاکستان کی عسکری اور سیاسی قیادتوں میں گہری تشویش پیدا کر دی، جبکہ مقبوضہ کشمیر کے اندر غاصب بھارتی حکمرانوں کے خلاف بغاوت کے رجحانات زور پکڑتے گئے۔ بھارتی قیادت کی، حیلہ بازیوں اور پُرتشدد کارروائیوں سے وہ تمام طبقے بددلی اور مایوسی کا شکار ہوتے گئے جو اہلِ کشمیر کے حقِ خودارادیت کی جدوجہد کو جائز تسلیم کرنے اور اسے ایک منصفانہ اور قابلِ عمل حل خیال کرتے تھے۔ پے درپے واقعات اُنہیں بڑی شدت سے یہ احساس دلا رہے تھے کہ مقبوضہ کشمیر کے مسلمانوں کا مذہب، اُن کی تہذیب و ثقافت اور اُن کی آزادی مہیب خطرات میں گھری ہوئی ہیں۔

 

1963- 64ء کے موسمِ سرما میں سری نگر کی درگاہ حضرت بل کے اندر سے موئے مبارک چوری ہونے کا اندوہناک واقعہ پیش آیا اور پوری ریاست میں پُرجوش احتجاج شروع ہو گیا۔ آگے چل کر اِس میں سیاسی مطالبات بھی شامل ہوتے گئے۔ شیخ عبداللہ جو گیارہ سال سے جیل میں تھے، اُن کی رہائی کے لئے جلوس نکلنے لگے۔ شدید عوامی دباؤ کے تحت شیخ صاحب رہا کر دیئے گئے۔ اُن کی اور اُن کے قریبی دوست مرزا اَفضل کی رہائی پر اُنہیں جون1964ء کے وسط میں پاکستان آنے کی دعوت دی۔ شیخ صاحب نے آغاز ہی میں یہ تاثر دیا کہ وہ صدر ایوب خاں اور پنڈت نہرو کومسئلۂ کشمیر کے حوالے سے مذاکرات کی میز پر بٹھانے آئے ہیں۔ پاکستان میں اُن کا پُرجوش استقبال ہوا، مگر اُنہوں نے ایئرپورٹ پر اُترتے ہی سیکولر بھارت کی تعریف کے پل باندھنے شروع کر دیئے۔ پاکستانی عوام کو اُن کی باتوں سے بڑی تکلیف پہنچی اور جب اُنہوں نے صدر ایوب سے ملاقات کے دوران بھارت، پاکستان اور کشمیر پر مشتمل کنفیڈریشن بنانے کی تجویز پیش کی، تو وہ ہکا بکا رہ گئے۔ شیخ صاحب کا ابھی دورۂ پاکستان جاری تھا کہ پنڈت نہرو کا اچانک انتقال ہو گیا اور اُن کے ساتھ ہی کنفیڈریشن کا فتنہ بھی دفن ہو گیا۔ شیخ عبداللہ مختلف ملکوں کا دورہ کرتے ہوئے حج پر چلے گئے جہاں اُنہوں نے ببانگِ دہل اعلان کیا کہ نہرو مر چکا ہے، مگر اس کے جاں نشین اُن تمام ہتھکنڈوں سے واقف ہیں جو کشمیریوں کو غلام بنانے کے لئے استعمال کئے جاتے رہے ہیں جن کا ہم ڈٹ کر مقابلہ کریں گے۔ وہ وہاں سے الجزائر گئے، جہاں اُن کی چینی وزیراعظم چواین لائی سے ملاقات ہوئی۔ واپسی پر وہ نئے بھارتی وزیراعظم لال بہادر شاستری کے حکم پر گرفتار کر لئے گئے۔ اُن کی گرفتاری پر پوری ریاست کے اندر ایک بھونچال سا آ گیا اور کشمیریوں کے حقِ خودارادیت کا مطالبہ شدت پکڑتا گیا جسے پاکستان کی مکمل سفارتی اور اخلاقی حمایت حاصل تھی، چنانچہ بھارت کی سیاسی اور عسکری قیادت عوامی ردِعمل کو ایک نیا رخ دینے کے لئے پاکستان پر حملہ آور ہونے کی منصوبہ بندی کرنے میں مصروف ہو گئی۔ اس مقصد کے لئے 'رن آف کچھ' کا انتخاب کیا گیا جس پر دونوں ملکوں کے درمیان سیاسی تنازع چلا آ رہا تھا۔ 1965ء کے اوائل میں بھارت نے شور مچانا شروع کیا کہ رن آف کچھ کی آڑ میں پاکستان اس کے تیل کے زیرِزمین علاقوں پر قابض ہونا چاہتا ہے۔ اس کے نتیجے میں سرحدی جھڑپیں شروع کر دیں جن کا سلسلہ مہینوں پر پھیلتا چلا گیا۔ پاکستان کو ہنگامی حالت کا اعلان کرنا پڑا۔ میجر جنرل ٹکا خان کی قیادت میں ہماری فوج نے بھارت کو اچھا سبق سکھایا اور برطانیہ کی ثالثی سے جنگ بندی کا معاہدہ طے پایا جس میں درج تھا کہ دونوں طرف کی فوجیں سات روز کے اندر اپنی پرانی پوزیشنوں میں چلی جائیں گی۔ اس معاہدے کے خلاف بھارت میں شدید ردِعمل پیدا ہوا جس پر قابو پانے کے لئے وزیراعظم شاستری نے اعلان کیا کہ ہم 'رن آف کچھ' کا انتقام لینے کے لئے اپنی پسند کے وقت اور مقام کا تعین کریں گے۔

 

پاکستان نے معاہدے پر دیانت داری سے عمل کرتے ہوئے اپنی فوجیں سرحدوں سے ہٹا لیں اور کھدے ہوئے مورچے بھی پُر کر دیئے۔ اس کے برعکس بھارت انتقام لینے کے بہانے تلاش کرتا اور لام بندی میں مصروف رہا۔ مقبوضہ کشمیر میں شیخ عبداللہ کی گرفتاری اور موئے مبارک کی پُراسرار چوری کے باعث خط فائر بندی کے دونوں طرف جذبات میں شدید ہیجان برپا تھا۔ پاکستانی قیادت حالات سے نمٹنے کے لئے ایک نئے لائحہ عمل کی تلاش میں تھی کیونکہ تنازع کشمیر کو پُرامن طریقے پر حل کرنے کا ہر طریقہ آزمایا جا چکا تھا۔ بین الاقوامی مصالحت اور ثالثی کی تجاویز بھی بے اثر ثابت ہوئی تھیں۔ باہمی مذاکرات کے متعدد ادوار بھی بے ثمر اور بے نتیجہ رہے تھے۔ جان کیگن کے بقول چین کے ہاتھوں شکست کھانے کے بعد بھارتی فوج نئی توانائی کے ساتھ اِس طرح اُبھری جس طرح ققنس آگ میں خاکستر ہو کر نئی آب و تاب سے جنم لیتا ہے۔ بھارتی حکمران غیر جانب داری کے نام نہاد لبادے کو خیرباد کہہ کر ہر جگہ سے اسلحہ حاصل کر رہے تھے اور بھارتی افواج کی تعداد ساڑھے سات لاکھ ہو چکی تھی جس میں تیزی سے اضافہ کیا جا رہا تھا۔ ان حالات میں پاکستان ایک ایسے منصوبے کی تشکیل میں ہمہ تن مصروف تھا جس کے ذریعے عالمی طاقتوں کو احساس دلایا جا سکے کہ علاقائی امن شدید خطرے میں ہے اور بھارت کو مسئلۂ کشمیر کے منصفانہ حل پر آمادہ کیا جا سکے، چنانچہ بہت سوچ بچار کے بعد آپریشن جبرالٹر کا منصوبہ تیار ہوا۔ لیفٹیننٹ جنرل (ر) محمود احمد نے اپنی تصنیف History of Indo Pak War - 1965میں بڑی تحقیق کے بعد اس آپریشن کی تفصیلات فراہم کی ہیں۔ اُن کے مطابق اس آپریشن کا ابتدائی خاکہ میجر جنرل اختر حسین ملک نے تیار کیا تھا جو بارہویں ڈویژن کی کمان دسمبر1962ء سے سنبھالے ہوئے تھے۔15 مئی 1965ء کو فیلڈمارشل ایوب خاں اور کمانڈر اِن چیف جنرل موسیٰ بارہویں ڈویژن کے ہیڈکوارٹر مری میں آئے اور تفصیلی تبادلہ خیال کے بعد آپریشن کی منظوری دی۔ بعدازاں       جی ایچ کیو میں جنرل موسیٰ کی سربراہی میں ایک کمیٹی قائم ہوئی جس میں ڈی ایم او بریگیڈئیر گل حسن اور ڈی ایم آئی بریگیڈیئر ارشاد شامل تھے۔ اس کے علاوہ  ڈویژنل ہیڈکوارٹر میں اسپیشل گروپ قائم کیا گیا جس نے سفارش کی کہ پہلے مقبوضہ کشمیر میں پائی جانے والی سیاسی صورتِ حال کا درست جائزہ لیا جائے اور اِس آپریشن میں وہ لوگ شامل کئے جائیں جو مقبوضہ کشمیر کے مقامات اور احوال سے پوری طرح باخبر ہوں۔ اس گروپ نے بھارت کی طرف سے حملے کے امکان کی بھی نشان دہی کی تھی اور مشورہ دیا کہ اِس آپریشن میں کاؤنٹر اٹیک کی پوری صلاحیت ہونی چاہئے۔

 

میجر جنرل (ر) شوکت رضا کی تحقیق کے مطابق اگست 1965ء کے اواخر میں وزیرخارجہ ذوالفقار علی بھٹو فیلڈمارشل ایوب خاں کا یہ پیغام لے کر جی ایچ کیو آئے کہ چھمب کی جانب سے حملہ کیا جائے۔ اس کا مقصد اکھنور پر قبضہ کرنا تھا تاکہ بھارتی فوج وہ علاقے واپس کرنے پر مجبور ہو جائے جس پر اُس نے بارہویں ڈویژن کے زیرِ نگرانی بعض اسٹریٹیجک اہمیت کے دروں اور علاقوں پر قبضہ کر لیا تھا اور مظفرآباد کے ہاتھ سے چلے جانے کا خطرہ پیدا ہو گیا تھا۔ آپریشن کے سلسلے میں جو احکام دیئے گئے اُن میں پوری طرح واضح کر دیا گیا تھا کہ اسے ہر قیمت پر سرزمینِ کشمیر تک محدود رکھنا ہے۔ آپریشن کے دوران محسوس ہوا کہ بارہویں ڈویژن کے لئے اتنے بڑے محاذ پر مؤثر کارکردگی برقرار رکھنا مشکل ہوتا جا رہا ہے، اس لئے ساتویں ڈویژن کو یہ ذمے داری سونپی گئی جس کے کمانڈر میجر جنرل محمد یحییٰ خاں تھے اور اُن کا ہیڈکوارٹر کھاریاں میں تھا جو محاذِ جنگ کے قریب تھا۔ کمان کی تبدیلی سے بعض منفی اثرات مرتب ہوئے اور اکھنور کا ہدف حاصل نہ کیا جا سکا۔ اس دوران بھارت نے 6ستمبر کی صبح لاہور پر حملہ کر دیا اور دونوں ملکوں کے درمیان سترہ روز خوں آشام جنگ جاری رہی۔ پاکستان کی سلامتی خطرے میں پڑ گئی اور اِس نازک ترین مرحلے میں افواجِ پاکستان کے افسروں اور جوانوں نے جان پر کھیل کر اپنے سے آٹھ گنا طاقت ور دشمن کو زخم چاٹنے پر مجبور کر دیا تھا۔ عوام نے اپنی فوج کے شانہ بہ شانہ رہ کر یہ ثابت کر دیا کہ پاکستان میں بسنے والی قوم ایک عظیم قوم ہے۔ عوام اور فوج پاکستان کے دفاع میں پوری طرح سینہ سپر تھے اور باہمی اعتماد کے رشتے ہر طرف جلوہ گر تھے۔ پاکستان اس کٹھن مرحلے سے اِس لئے صحیح و سالم گزر گیا کہ اس نے محکوم کشمیری عوام کو بھارت کی غلامی سے نجات دلانے کی مخلصانہ کوشش کی تھی اور آج بھی وہ اسی صراطِ مستقیم پر گامزن ہے۔

 

کشمیر اور پاکستان کے رشتے لازوال اور تاریخ کے اندر پیوست ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ کشمیر کی پوری وادی میں پاکستان کا ہلالی پرچم لہرا رہا ہے اور اس کا قومی ترانہ ہر سُو گونج رہاہے۔ وہ جو راہِ وفا میں شہید ہوتے ہیں، ان کی میتیں پاکستانی پرچم میں لپیٹ کر دفنائی جا رہی ہے۔ بہادر کشمیریوں کی قربانیاں رنگ لا رہی ہیں اور بھارت کے لئے اُنہیں غلام رکھنا روز بروز محال ہوتا جا رہا ہے۔ مقبوضہ کشمیر میں آزادی کی صبح طلوع ہونے والی ہے۔ کشمیریوں کی آزادی میں کشمیریوں کے علاوہ پاکستان کے عظیم شہیدوں کا بھی خون شامل ہے جو1965ء میں بہا تھا اور آج بھی لائن آف کنٹرول کا دفاع کرتے ہوئے بہہ رہا ہے۔ ہم اُن کی عظمت کو سلامِ عقیدت پیش کرتے ہیں۔ 1965ء کی جنگ میں عوام اور فوج نے قوتِ ایمانی، سرفروشی، ایثار کیشی، جرأت و مردانگی کے جو کارہائے نمایاں سرانجام دیئے، اُن کی مثال دنیا کی عسکری تاریخ میں کم ہی ملتی ہے۔ اِس سے ہمیں یہ سبق حاصل ہوا کہ ملکی سلامتی کا تحفظ وہی فوج کر سکتی ہے جسے عوام کی مکمل حمایت حاصل ہو اور اس کا ملک سیاسی اور معاشی اعتبار سے مستحکم ہو۔

 

Comments



Note: No comments!



Leave a Reply

Success/Error Message Goes Here
Note: Please login your account and then leave comment!
TOP