کراچی کے ساحلی مقامات

بانی ٔپاکستان قائدِاعظم محمد علی جناح کی جائے پیدائش ہونے کے ساتھ ساتھ کراچی پاکستان کا سب سے بڑا شہر اور معاشی حب ہے۔ کثیر آبادی اور رقبے کے لحاظ سے کراچی کو منی پاکستان بھی کہا جاتا ہے۔ صنعتی شہر ہونے کی وجہ سے کراچی مادرِوطن کا دل ہے۔ یہ وہ شہر ہے جہاں پاکستان بھر سے تعلق رکھنے والے لوگ بستے ہیں۔ صوبہ سندھ ، پنجاب، کے پی،بلوچستان، گلگت بلتستان اور آزادکشمیر کے شہریوں کو کراچی اپنا گھر لگتا ہے۔ جس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ یہ شہر رہائش اور دیگر ضروریات زندگی کے حوالے سے انتہائی سستا ہے۔

ساحل پر واقع ہونے کے باعث کراچی کی اہمیت میں مزید اضافہ ہوجاتا ہے۔ اگرچہ کراچی میں بے شمار تفریحی مقامات ہیں لیکن ساحلِ سمندر کی بات ہی الگ ہے۔ آج ہم قلم اور قرطاس کے ذریعے شہرِ قائد کے ساحلی مقامات کی سیر کریں گے۔

کلفٹن

ساحل سے لگائو رکھنے والے بیشتر افراد کلفٹن بیچ کارُخ کرتے ہیں۔ اس ساحل کو 'سی ویو' بھی کہا جاتا ہے۔ یہ کراچی کا نمایاں اور مصروف مقام ہے جو دن اور رات لوگوں کی گہما گہمی میں گِھرا رہتا ہے۔ پاکستان بھر سے لوگ سمندری ٹھنڈی ہوا کے جھونکوں اور سمندر کی لہروں سے لطف اندوز ہونے کے لئے یہاں آتے ہیں۔ یہاں بیشتر تفریحی سرگرمیاں رات دیر تک جاری رہتی ہیں جیسے کہ لذیذ کھانے یہاں کی نمایاں پہچان ہیں۔ یہاں پر اونٹ اور گھوڑوں کی سواری کا بہت اچھا انتظام ہے۔ ساحلوں پر تعینات پولیس گارڈ لوگوں کو مخصوص مقام سے آگے نہیں جانے دیتے۔ اس کے لئے پولیس کو سختی کرنے کے احکامات جاری ہو چکے ہیں تاہم اگر حادثہ پیش آ ہی جائے تو اس کے لئے فوری امداد کا خاطرخواہ انتظام موجود ہے۔ ویک اینڈ ہو یا کوئی بھی تہوار لوگوں کی آمدورفت کا سلسلہ جاری رہتا ہے۔ سی ویو کبھی بھی ویران نہیں ہوتا۔ 

دودریا

کراچی کے بسنے والے اپنے خوبصورت ساحلوں پرناز کرتے ہیں۔ دو دریا پر آپ ٹھاٹھیں مارتی موجیں، عمدگی اور خوبصورتی سے سجی کھانے کی میزیں ایک ساتھ دیکھ سکتے ہیں۔مشہور ریسٹورنٹس اسی جگہ موجود ہیں اور اگر آپ ٹیرس پر میز بک کروائیں تو اس مقام کی خوبصورتی سے مزید لطف اٹھا سکتے ہیں۔ چاند کی روشنی ، ٹھنڈی ہوا کے جھونکوں میں ایک عمدہ کھانا یقینا ایک ناقابلِ بیان حد تک خوبصورت احساس ہے۔ جس کا اندازہ وہاں جاکر ہی لگایا جا سکتا ہے۔

جزیرہ چرنا

 یہ کراچی کے حسین مقامات میں سے ایک ہے۔یہ کیماڑی ٹائون میں مبارک گوٹھ کے قریب ہے۔ یہ جگہ اپنی قدرتی شکل میں ہے۔ پانی سے لطف اندوز ہونے والے افراد یہاں غوطہ خوری کرتے ہیں۔ جس کے لئے مناسب احتیاط کی ضرورت ہوتی ہے اور ہر قیمت پر تمام آلات کا استعمال لازم ہے۔ محوِسفر آپ بیشتر مقامات پر سائن بورڈز پر واضح لکھا بھی دیکھ سکتے ہیں کہ ''سمندرکسی کا دوست نہیں۔'' اس مقام پر چھوٹی کشتیوں کے ذریعے پہنچا جاتا ہے ۔ اس کے قریب کوئی ریسٹورنٹ اور بیٹھنے کی جگہ نہ ہونے کے باعث آپ کو اپنی کشتی میں ہی رہنا پڑتا ہے۔آنے والے بہت سے لوگ زیرِ آب فوٹوگرافی، غوطہ خوری اور دوسرے کھیل کھیلتے ہیں۔

منوڑہ

ایک چھوٹا سا جزیرہ نما ساحل ہے جو کراچی کی بندرگاہ کے جنوب میں واقع ہے۔ منوڑہ کراچی سے سینڈ سپِٹ (Sand Spit)کی پٹی کے ذریعے جڑا ہوا ہے۔ منوڑہ اور اس کے قریبی جزائر کراچی کی بندرگاہ کے لئے ایک قدرتی حفاظتی آڑ کا کام کرتے ہیں۔ یہاں پاک بحریہ کا تربیتی مرکز بھی موجود ہے۔ عموماً یہاں لوگ اپنی فیمیلیز کے ہمراہ پکنک کے لئے آتے ہیں۔

پیراڈائز پوائنٹ

یہ بھی خوبصورت ساحل ہے۔ ماضی میں یہاں تاریخی محراب والی چٹان تھی جو اب ٹوٹ چکی ہے۔ یہاں غروب آفتاب کا منظر دل کش ہوتا ہے۔ یہاں مچھلی پکڑنے کا بھی اپنا ہی مزہ ہے۔ گہرے پانی کی بدولت یہاں کثیر تعداد میں بآسانی مچھلیاں پکڑی جا سکتی ہیں۔

کیپ مائونٹ

 یہ پہاڑی ساحل ہے یہاں اونچائی سے سمندرکا نظارہ آنکھوں کو بہت بھاتا ہے، یہاں ماہی گیروں کی ایک پرانی بستی بھی آباد ہے۔ یہ جگہ نوجوانوں میں بہت مقبول ہے کیونکہ یہاں تصاویر اچھی آتی ہیں۔

ہاکس بے

یہ35کلومیٹر طویل سمندری کنارہ سیر و تفریح اور پکنک منانے والوں کے لئے بڑی کشش رکھتا ہے۔ علاوہ ازیں ہاکس بے کے قر یب نیلم پوائنٹ اور سنہری پوائنٹ پر لوگوں کی کثیر تعداد پکنک منانے آتی ہے اور قدرت کے حسین نظاروں کو عکس بند کیا جاتا ہے تاکہ یہ لمحات کبھی فراموش نہ ہوں اور تصویری شکل میں ہمیشہ یاد رہیں۔ سنہری پوائنٹ ساحل بھی اپنی خوبصورتی کی مثال آپ ہے۔ یہاں تفریح کرنے والوں کے لئے اچھے اور معیاری ہٹس(Huts) کا بھی انتظام ہے۔ اگرچہ سی ویو کے علاوہ ہر ساحل پر ہٹس موجود ہیں تاہم سنہری پوائنٹ کے ہٹس تفریح کرنے والوں میں زیادہ مقبول ہیں۔

مبارک وِلیج

 ساحل پر قائم لکڑی کی جھونپڑ ی دیکھ کر آپ خود کو زمانہ قدیم میں محسوس کریں گے،ایک طرف پہاڑ ،دوسری طرف طویل خوبصورت ساحل ، سمندری لہروں کا شور آپ کو یہیں پر قیام کرنے پر مجبورکر دیتے ہیں ۔ الغرض کراچی کے یہ خوبصورت ساحل شہرکی خوبصورتی کو دوبالاکرتے ہیں۔ اگرچہ ہم سب اس صورتحال سے واقف ہیں کہ ماضی قریب میں کراچی میں آگ و خون کا بازار گرم تھا۔ دہشت گردی جوبن پر تھی، سکون سے جینا محال تھا تاہم سکیورٹی اداروں کی انتھک محنت کی بدولت کراچی کے گلی محلوں، سڑکوں اور مارکیٹوں کی طرح شہر کے سا حلی مقاما ت پر بھی زندگی کی گہما گہمی بحال ہوگئی ہے۔ اہلِ کراچی اپنی سکیورٹی ایجنسیوں کے شکر گزار ہیں۔


syeda133@live.com

 

 

Comments



Note: No comments!



Leave a Reply

Success/Error Message Goes Here
Note: Please login your account and then leave comment!
TOP