کاروانِ یکجہتی

گلگت  بلتستان اور آزاد کشمیر کے طلباء کاصوبہ بلوچستان سمیت مختلف علاقوں میں پاک فوج کے اداروں اور تنصیبات کا دورہ

کسی بھی قوم کا سب سے بڑا اثاثہ باہمت اور پُرعزم نوجوان ہوتے ہیں۔ پاکستان کی پچاس فیصد سے زائد آبادی نوجوانوں پر مشتمل ہے اور آئندہ چند برسوں میں ملک کا مستقبل انہی کے ہاتھوں میں ہوگا۔ یہ جتنے پڑھے لکھے اور باہمت ہوں گے ملکی ترقی اور خوشحالی میں اتنا ہی بھرپور کردار ادا کرسکیں گے۔ چیف آف آرمی سٹاف جنرل قمر جاوید باجوہ نے گزشتہ سال''دہشت گردی اور انتہاء پسندی کو رد کرنے میں نوجوانوں کے کردار'' کے موضوع پر منعقدہ سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے اس حقیقت کی طرف اشارہ کیا تھا کہ آئندہ دس سال میں ہم اپنے نوجوانوں کی صلاحیتوں کا پھل سمیٹ رہے ہوں گے یا پھر ان کی کثرت (بالخصوص انتہاء پسندی کے نرغے میں آنے والوں ) کے ہاتھوں مشکلات کا شکار ہوں گے۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ نوجوان اپنی اقدار اور شناخت کا ادراک کرکے انتہاء پسندی کو روک سکتے ہیں۔ مقصد حیات کی تلاش نوجوانوں کی زندگی کا سب سے بڑا محرک ہوتا ہے۔

 

جنرل قمر جاوید باجوہ نے جس اہم نقطے کی طرف اشارہ کیا تھا اس تناظر میں قوم کے اجتماعی شعور نے''قومی خدمت'' کو نوجوانوں کا مقصد حیات بنا دیا ہے۔ ہمارے نوجوانوں کو مستقبل کے چیلنجز کا ادراک اور اپنی ذمہ داریوں کا احساس ہے۔ وہ دہشت گردی اور انتہاء پسندی کو یکسر رد کرکے پاکستان کی تعمیر و ترقی کے لئے پرعزم ہیں۔ وہ اپنی اقدار اور شناخت کا واضح تصور رکھتے ہوئے قومی خدمت کو مقصد حیات بنا چکے ہیں۔افواج پاکستان اور تعلیمی درسگاہیں اس حوالے سے کافی سرگرم ہیں۔ مختلف یونیورسٹیوں کے طلباء و طالبات کے قومی شعور میں اضافے اور انہیں اپنی اقدار روشناس کرانے اور قومی شناخت کا تصور واضح کرنے کے لئے بہت سے پروگرام تسلسل سے ترتیب دیئے جارہے ہیں۔ ایسی سرگرمیاں مختلف علاقوں سے تعلق رکھنے والے طلباء کے رابطے کا ذریعہ ہونے کے ساتھ ساتھ ان کے اجتماعی شعور کو جلا بخشنے کا باعث ہیں۔ اسی سلسلے کی ایک کڑی گزشتہ دنوں قراقرم انٹرنیشنل یونیورسٹی گلگت بلتستان اور آزاد کشمیر کے مختلف کالجز سے تعلق رکھنے والے طلباء کا صوبہ بلوچستان سمیت پاکستان کے مختلف علاقوں میں موجود تاریخی و تذویراتی مقامات اور عسکری تنصیبات کا مطالعاتی دورہ تھا۔

 

سیکڑوں طلباء پر مشتمل یہ 'کاروان یکجہتی' سب سے پہلے صوبہ بلوچستان پہنچا۔ ایک ہفتے پر محیط اس دورے کے دوران انہوں نے براہ راست مقامی طلباء اور عوام سے ملاقات کے ساتھ ساتھ مختلف علاقوں میں واقع فوجی تنصیبات کا مشاہدہ کیا۔ اس دوران طلباء نہ صرف مقامی ثقافت سے متاثر ہوئے بلکہ انہیں اس علاقے کی تزویراتی اہمیت اور درپیش چیلنجز کو بہتر انداز سے جاننے کا موقع بھی ملا۔ یقینا یہاں کے عوام باشعور اور محب وطن ہیں خاص طور پر نوجوان ملکی ترقی اور خوشحالی میں اپنا بھرپور کردار ادا کر رہے ہیں۔ بلوچستان میں امن وامان کے قیام، دہشت گردی کے خاتمے اور طویل سرحدوں کے دفاع میں افواج پاکستان جس جانفشانی اور جرأت مندی سے اپنے فرائض انجام دے رہی ہیں، اس کا نظارہ طلباء نے براہ راست کیا اور اپنی بہادر افواج کو خراج تحسین پیش کئے بغیر نہ رہ سکے۔ پاک فوج یہا ں بنیادی سہولیات کی فراہمی، معاشی اور تعلیمی سرگرمیوں کے فروغ کے لئے بھی پیش پیش ہے۔

 

'کاروانِ یکجہتی' کا دوسرا حصہ تقریباً دوہفتوں پر محیط تھا۔ اس دوران ایبٹ آباد میں پاک فوج کے مختلف تربیتی اداروں سے اٹھنے والی ''اللہ اکبر'' کی صدائیں اور واہگہ بارڈ رپر'پاکستان زندہ باد' کے پرجوش نعرے سماعتوں سے ٹکرا کر ان کے دلوں کو گرماتے رہے۔ اس کے ساتھ ساتھ نیشنل ڈیفنس کالج اسلام آباد میں افواج پاکستان کی سینیئر قیادت کی فکر و دانش اور دفاع وطن کے لئے ان کے عزم نے طلباء کے اعتماد اور وطن کے لئے کچھ کرنے کے جذبے کو جلا بخشنے میں اہم کردار ادا کیا۔ ایبٹ آباد میں ممتاز عسکری درسگاہ پاکستان ملٹری اکیڈمی سمیت پاک فوج کے بہت سے تربیتی ادارے قائم ہیں۔ بلوچ رجمنٹل سنٹر، فرنٹیرفورس رجمنٹل سنٹر اور اے ایم سی سنٹرپاکستان بھر سے پاک فوج میں شامل ہونے والے ریکروٹوں کی عسکری تربیت میں مصروف عمل ہیں۔ اس دورے کے دوران طلباء کے جوش و جذبے میں خوب اضافہ ہوا اور دفاع وطن کے لئے وہ بھی ان کیڈٹس اور ریکروٹوں کے شانہ بشانہ ان کی صفوں میں شامل ہونے کے لئے بے چین نظر آئے۔ یہاں ریکروٹس عسکری تربیت کے کٹھن مراحل سے گزرکر ہر مشکل گھڑی کا مردانہ وار مقابلہ کرنے کے قابل ہوجاتے ہیں۔ پاک فوج کا یونیفارم زیب تن کرکے نظم و ضبط کا پیکر بن جاتے ہیں اور فرض کی پکار پر اپنی جان کی بازی لگانے سے بھی دریغ نہیں کرتے۔ طلباء نے ٹیکسلا میوزیم، آرمی میوزیم راولپنڈی، ایس سی اوہیڈکوارٹرز کا دورہ بھی کیا۔

 

 کارواں کا اگلا پڑائولاہور تھا۔ طلباء نے واہگہ بارڈر پرقومی پرچم اتارنے کی تقریب میں شرکت کی۔ جوش اور ولولوں سے بھرپور یہ فضا ان کے دل و دماغ پر ہمیشہ کے لئے ثبت ہوگئی۔ یقینا ہماری افواج سیاچن کے بلندوبالا محاذ سے لے کر مشرقی میدانوں تک دفاع وطن کا فریضہ اسی جوش وجذبے اور بہادری سے انجام دے رہی ہیں۔ طلباء نے دشمن پر طاری ان کی ہیبت کا براہ راست نظارہ کیا۔ انہیں پنجاب یونیورسٹی اور گورنمنٹ کالج یونیورسٹی کے طلباء و طالبات سے تبادلہ خیالات کا موقع بھی ملا۔ 'کاروانِ یکجہتی' کو لاہور کی روایتی مہمان نوازی سے لطف اندوز ہونے کے ساتھ ساتھ صوبہ پنجاب کے عوام کی گلگت  بلتستان اور آزادکشمیر کے خوبصورت نظاروں اور عوام سے عقیدت و والہانہ لگائو کا بھرپور احساس ہوا۔

 

اس میں کوئی شک نہیں کہ گلگت بلتستان اور آزاد کشمیر کے عوام کی پاکستان سے محبت لازوال ہے اور دفاع وطن میں ان کی قربانیاں بے شمار ہیں تاہم اس دورے نے یہاں کے نوجوانوں کے جذبوں اور ولولوں کو دو چند کردیا۔ اس دوران ان کے شعور میں اضافے کے ساتھ ساتھ ان پر بہت سے حقائق عیاں ہوئے جبکہ بہت سی غلط فہمیوں کا ازالہ بھی ہوا۔ وطن کے لئے ان کی محبت اور افواج پاکستان پر ان کے اعتماد میں اضافہ ہوا۔ اب کاروان یکجہتی، پاکستان کے دشمنوں کی سازشوں سے پوری طرح آگاہ ہے۔ وہ قومی یکجہتی میں دراڑ ڈالنے والوں، خاص طور پر سوشل میڈیا پر پاکستان کے خلاف منفی پروپیگنڈے، کا جواب دینے اور قومی مؤقف کو مثبت انداز سے اجاگر کرنے کے لئے پُرعزم ہے۔ ذیل میں طلباء کے ایسے ہی جذبات پر مبنی تاثرات بیان کئے جارہے ہیں:

 

شعیب سلطان، غذر

قراقرم انٹرنیشنل یونیورسٹی، گلگت بلتستان

''سیکھنے کے عمل میں مشاہدہ، تجربہ اور مطالعہ کلیدی کردار ادا کرتے ہیں۔ مطالعاتی دورے طلباء کو ان تینوں کا موقع فراہم کرتے ہیں۔ "کاروانِ یکجہتی" کا حصہ بن کر مجھے بہت کچھ سیکھنے اور جاننے کا موقع ملا۔ دورہ بلوچستان ہمارے لئے انتہائی معلوماتی تھا۔ وہاں کی ثقافت اور مہمان نوازی یقینا قابل تحسین ہے۔ وہاںپر موجود افواج پاکستان کی تنصیبات اور اداروں کے دورے کے دوران اطمینان ہوا کہ ہمارے بہادر افسروں اور جوانوں کی موجودگی میں ملک کے خلاف کوئی سازش کامیاب نہیں ہوسکتی۔ وہ سرحدوں کی حفاظت اور قیام امن کے لئے ہمہ وقت تیار ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ پاک فوج ان علاقوں میں بنیادی شہری سہولیات کی فراہمی اور فروغِ تعلیم کے لئے بھی بھرپور کردار ادا کررہی ہے۔ اسی طرح ایبٹ آباد میں افواج پاکستان کے تربیتی اداروں کے دورے کے دوران طلباء میں بھی پاک فوج کی صفوں میں شامل ہو کر دفاع وطن کا فریضہ انجام دینے کا جذبہ امڈ آیا۔ واہگہ میں رینجرز کے جوانوں کا       جوش و خروش اور  پاک فوج کے افسروں اور جوانوں کے پرعزم چہروں نے ہمارے ولولوں کو بھی تازگی بخش دی۔ اس طرح مجموعی طور پر اس مطالعاتی دورے نے ہمارے دلوں میں پاک فوج کی عزت واحترام میں  مزید اضافے کے ساتھ ساتھ نظم وضبط کی پابندی اور وطن کے لئے قربانی دینے کے جذبات بھر دیئے۔۔ شکریہ پاک فوج''

اقبال ناصر، تحصیل یاسین، غذر

قراقرم انٹرنیشنل یونیورسٹی، گلگت بلتستان

بلوچ رجمنٹل سنٹر کے دورہ کے دوران میں پاک فوج کی پیشہ ورانہ تربیت اور مہارت سے انتہائی متاثر ہوا۔ یقینا اپنی محنت، فرض سے لگن اورجدت کی بدولت افواج پاکستان کو دنیا بھر کی افواج میں ممتاز مقام حاصل ہے۔ ہماری افواج مختلف محاذوں پر دفاع وطن کا فریضہ بخوبی انجام دے رہی ہیں خاص طور پر دہشت گردی کے خاتمے میں ان کی کوششیں قابل تحسین ہیں۔ اپنے جری جوانوں میں گزارے لمحات میری زندگی کا قیمتی اثاثہ ہیں اور میری افواج میں شمولیت کی خواہش دوچند ہوگئی ہے۔

 

نیت ولی خان، برکلتی بالا، یاسین، غذر

قراقرم انٹرنیشنل یونیورسٹی، گلگت بلتستان

میں خان پور ڈیم اور ٹیکسلا کو دیکھ کر بہت متاثر ہوا۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ اللہ تعالیٰ نے پاکستان کو بہت سی نعمتوں سے نوازا ہے۔ جن سے استفادہ کرکے ہم ملک کو ترقی کی راہ پر گامزن کرسکتے ہیں۔

 

سعید احمد، تحصیل خپلو

قراقرم انٹرنیشنل یونیورسٹی، گلگت بلتستان

گردوارہ پنجہ صاحب حسن ابدال کے دورے کے دوران میں نے عملی طور پر دیکھا کہ پاکستان میں دوسرے مذاہب کی عبادت گاہوں اور افراد کو احترام کی نظر سے دیکھا جاتا ہے۔ ہمیں یہ بھی معلوم ہوا کہ پاکستان میں دوسرے مذاہب سے تعلق رکھنے والے افراد کی بہت بڑی تعداد بستی ہے۔ انہیں مکمل مذہبی آزادی کے ساتھ ساتھ یکساں شہری حقوق حاصل ہیں اور انہیں پاکستانی ہونے پر فخر ہے۔

 

ریاض حسین، سکردو

قراقرم انٹرنیشنل یونیورسٹی، گلگت بلتستان

واہگہ بارڈرپر پاکستانی پرچم کو لہراتے دیکھا تو فرطِ جذبات سے ہما رے ہاتھ بے اختیار سلامی کے لئے اٹھ گئے۔ فضا پاکستان زندہ باد کے نعروں سے گونج رہی تھی۔ پاکستان رینجرز کے جوانوں کی مہارت کو قریب سے دیکھنے کا موقع ملا۔ ان کے ولولوں نے یقینا دشمن کے دلوں پر ہیبت طاری کررکھی تھی۔

 

امتیاز شیخ، تحصیل شونتر، استور

قراقرم انٹرنیشنل یونیورسٹی، گلگت بلتستان

 10ڈویژن ہیڈکوارٹرز لاہور میں پاک فوج کے افسروں اور جوانوں کے ساتھ گزارے لمحات اور ان کے ساتھ چائے اور لنچ یادگارتھا۔ ان کا نظم و ضبط، اعلی اقدار، ملک اور قوم کے لئے ان کی خدمات اور قربانیاں قابل تحسین ہیں۔

 

اشرف علی، تحصیل گھامبا، سکردو

قراقرم انٹرنیشنل یونیورسٹی، گلگت بلتستان

آرمی میوزیم کے دورے کے دوران ہمیں افواج پاکستان کی تاریخ اور زیراستعمال رہنے والے ہتھیاروں کے بارے میں جاننے کا موقع ملا۔ نشان حیدر گیلری اور شہداء سیکشن میں شہداء کی ذاتی اشیاء دیکھ کر دل جذبات سے بھرگیا اور آنکھیں ان کے احترام و عقیدت سے نمناک ہوگئیں۔ یہاں گلگت بلتستان کے شہداء کی تصاویر دیکھ کر سر فخرسے بلند ہوگیا۔ بلاشبہ آرمی میوزیم میں قومی ہیروز کی یادگاروںکو بہترین انداز سے محفوظ کیا گیاہے۔ ہمارے یہ شہداء ہمارا فخر اور وقار ہیں۔

 

عطاء اللہ، گوہر آباد، چلاس

قراقرم انٹرنیشنل یونیورسٹی، گلگت بلتستان

دورہ ٔلاہور انتہائی یادگار تھا۔ مینار پاکستان سمیت تمام اہم تاریخی عمارات کے دورے کے دوران وہاں کے لوگوں نے ہمارا گرمجوشی سے استقبال کیا۔ لاہور کے لوگ انتہائی مہمان نواز ہیں۔ دل چاہتا ہے کہ باربار لاہور جایا جائے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ ہمارا وطن پاکستان پرامن اور خوبصورت ہے۔

 

معظم علی، الصبح کالونی، گلگت

قراقرم انٹرنیشنل یونیورسٹی، گلگت بلتستان

گلگت بلتستان کے کونے کونے میں ایس سی او مواصلاتی سروسز فراہم کررہی ہے۔ ہیڈکوارٹرز ایس سی او کا دورہ میرے لئے انتہائی دلچسپی کا باعث تھا۔ یہاں ہمیں گلگت بلتستان اور دیگر علاقوں میں ایس سی او کی سروسز کے بارے میں آگاہ کیا گیا۔ طلباء نے یہاں کے محنتی سٹاف اور آفیسرز کا گلگت بلتستان میں بہترین خدمات انجام دینے پر شکریہ ادا کیا۔

 

سالار حسین، نگرال، گلگت

قراقرم انٹرنیشنل یونیورسٹی، گلگت بلتستان

مطالعاتی دورے کے دوران ہمارے علم و شعور میں بے پناہ اضافہ ہوا۔ ہر جگہ کا اپنا حسن اور اہمیت ہوتی ہے تاہم ہزارہ یونیورسٹی کا دورہ میرے دل و دماغ پر نقش ہوگیا۔ اساتذہ کی قابلیت اور طلباء کا جوش و خروش سراہنے کے قابل ہے۔ یونیورسٹی کا سلیبس بھی جدید تقاضوں سے ہم آہنگ ہے۔ اللہ تعالی اس درسگاہ کو مزید ترقی عطا فرمائے۔۔آمین

 

فیضان علی، اوشکنداس

قراقرم انٹرنیشنل یونیورسٹی، گلگت بلتستان

اس دورے کے دوران کھیوڑہ میں نمک کی کان دیکھ کر احساس ہوا کہ اللہ تعالی نے پاکستان کو کتنی نعمتوں سے نوازا ہے۔ 326 قبل مسیح سے آج تک اس کان سے نمک نکالا جارہا ہے۔ کان کو ارضیاتی عجائب گھر قراردیا گیا ہے۔ ہم نے یہاں نمک سے بنائے گئے تاریخی مقامات کے نمونے بھی دیکھے۔

 

دانیال، کاشروٹ، گلگت

قراقرم انٹرنیشنل یونیورسٹی، گلگت بلتستان

میں قدیم تہذیب کا شیدائی ہوں۔ ٹیکسلا میوزیم کا دورہ یادگار رہا۔ یہاں رکھے گئے قدیم ترین تہذیب کے برتن، نوادارات اور ہتھیار اس دور کے لوگوں کا احوال بیان کرتے ہیں۔ یقینا ہمارا خطہ قدیم ترین تہذیبوں کا مسکن رہا ہے اور اس کا وارث ہونے پر ہمیں یقینا فخر ہونا چاہئے۔

 

قاسم نواز خان، اشکومن، غذر

قراقرم انٹرنیشنل یونیورسٹی، گلگت بلتستان

 تاریخ کا طالب علم ہونے کے ناتے ٹیکسلا میوزیم اور آرمی میوزیم میرے لئے سب سے زیادہ دلچسپی کا باعث تھے۔ خاص طور پر آرمی میوزیم میں رکھے گئے تاریخی ہتھیار اور شہداء کی تصاویر اور زیراستعمال اشیاء متاثر کن تھے۔ گلگت بلتستان سے تعلق رکھنے والے شہداء کی تصاویر اور اشیاء بھی موجود تھیں جنہیں دیکھ کر ہمارا سر فخر سے بلند ہوگیا۔

 

محمد نعیم عباسی

اسسٹنٹ پروفیسر پوسٹ گریجویٹ کالج مظفر آباد

میں آزاد کشمیر کے طلباء کے لئے دورہ آرمی میوزیم کے انعقاد پر افواج پاکستان کا بے حد ممنون ہوں۔ خاص طور پر پاک فوج کے جوانوں کی پریڈ ہمارے لئے متاثر کن رہی اور جذبہ حُب الوطنی کو اجاگر کرنے کا باعث بنی۔ مجھے افواج پاکستان پر فخر ہے۔

 

شاہین انور گیلانی

لیکچرار پوسٹ گریجویٹ کالج مظفر آباد

دورہ آرمی میوزیم سے ہمارے طلباء نے بہت کچھ سیکھا۔ ان پر یہ واضح ہوا کہ ہماری افواج کس طرح سرحدوں کی حفاظت میں مصروف عمل ہیں۔ افواج پاکستان کی تاریخ اور بے مثالی معرکوں کی تاریخ جان کر تمام طلباء بے حد محظوظ ہوئے۔ میں اس پر افواج پاکستان کا شکر گزار ہوں۔

 

ارشد ملک

پرنسپل پوسٹ گریجویٹ کالج مظفر آباد

ہمارے طلباء اور اساتذہ کے لئے کیڈٹس کی پریڈ اور آرمی میوزیم کا دورہ یادگار تھا جس پر میں افواج پاکستان کا شکر گزار ہوں۔ یہ ہمارے لئے ایک یادگار دن تھا اس دورے نے طلباء میں دفاع پاکستان کے بے مثال جذبے کو اجاگر کیا۔ یہ ایک قابل تحسین اور پروقار دورہ تھا۔

 

حبیب الحق

اسسٹنٹ پروفیسر، پوسٹ گریجویٹ کالج میرپور

پاکستان ملٹری اکیڈمی کا کول میں پاسنگ آئوٹ پریڈ کا نظارہ میرے اور ہماری یونیورسٹی کے طلباء کے لئے ایک شاندار تجربہ تھا۔ دریں اثناء بلوچ سنٹر کے شاندار دورے کی یاد آج بھی میرے ذہن میں تازہ ہے۔ میں اس حوصلہ افزائی کے لئے افواج پاکستان کا شکر گزار ہوں۔

 

ناصر کیانی

لیکچرار پوسٹ گریجویٹ کالج باغ

پاکستان ملٹری اکیڈمی کاکول اور بلوچ رجمنٹل سنٹر کا دورہ ہمیشہ میرے ذہن میں زندہ رہے گا۔ اس دوران افواج پاکستان کے افسروں کی مہمان نوازی سے متاثر ہو کر متعدد طلباء آرمی میں شمولیت کے خواہش مند نظر آئے۔ اس عزت افزائی پر میں ان کا بے حدشکرگزار ہوں۔

 

ایم صغیر خان

لیکچرار پوسٹ گریجویٹ کالج کوٹلی

افواج پاکستان ہمارا فخر ہیں۔ دورہ کاکول اور پاسنگ آؤٹ پریڈ میرے لئے ایک منفرد تجربہ تھا۔ وہاں یادگار شہداء پر حاضری، کیڈٹس اور بہادر جوانوں کے جذبہ شجاعت سمیت ان کی بے مثال کارکردگی میرے لئے ہمیشہ حوصلہ افزائی کا باعث رہے گی۔

 

پروفیسر محمد صدیق

پرنسپل پوسٹ گریجویٹ کالج کوٹلی

دورہ کاکول ہمارے لئے ایک انتہائی منفرد اور مثالی تجربہ تھا۔ طلباء افواج پاکستان کے نظم و ضبط سے متاثر ہوئے بغیر نہ رہ سکے۔ بلوچ رجمنٹل سنٹر کے جوانوں کی پیشہ وارانہ جدید جنگی مہارت قابل دید تھی۔

 

محمد فہد

طالب علم پوسٹ گریجویٹ کالج مظفر آباد

میری خوشی کا کوئی ٹھکانہ نہ تھا جب مجھے ملٹری پریڈ دیکھنے سے متعلق ایبٹ آباد کے دورے کا پتہ چلا۔ اس سے قبل ہم یہ صرف ٹیلی ویژن پر دیکھا کرتے تھے۔ لیکن براہ راست دیکھنے کا یہ پہلا موقع تھا جس نے مجھے بہت متاثر کیا۔

 

Comments



Note: No comments!



Leave a Reply

Success/Error Message Goes Here
Note: Please login your account and then leave comment!
TOP