چرن جیت سنگھ! مذہبی بھائی چارے کا علمبردار

 29مئی 2018 کو چرن جیت اپنی دکان میں معمول کے مطابق جب مسلمان بھائیوں کے لئے افطاری کا انتظام کر رہا تھا کہ نہ جانے کون وہ شقی القلب شخص تھا جس نے مسلمانوں کے مقدس مہینے کا لحاظ بھی نہ رکھا اور چرن جیت پر گولیوں کی بوچھاڑ کر دی اور وہ اپنے خالق حقیقی سے جا ملا۔

 

ہمارے سکھ مذہب کے بانی بابا گورونانک جی نے انسانی فطرت کا بہت قریب سے مشاہدہ کرتے ہوئے تین بنیادی تعلیمات ہر سکھ پر واجب کر دیں۔ (1)کیرت کرو۔ یعنی رزقِ حلال کا حصول (2) نام جپو۔ یعنی ایک خدا کے آگے سر جھکائو اور اسی کو پکارو (3) ونڈ چھکو۔ مل جل کر کھائو  المختصر خالق کائنات ہی واحد قوت ہے جو تمام امور زندگی پر کنٹرول رکھتی ہے اور تمام انسان ایک ہی خدا کی مخلوق ہیں اور انہیں آپس میں بھائی چارے کو قائم رکھتے ہوئے اسی طرح زندگی گزارنی چاہئے جیسے وہ ایک ہی خاندان کے فرد ہوں۔ انسانی منصب کا تقاضہ یہ بھی ہے کہ تمام انسانوں کی فلاح و بہبود اور امن کے لئے اجتماعی کوششیں کی جائیں۔ ایسا ہی درویش صوفی منش انسان چرن جیت سنگھ تھے۔ اس کے لئے ''تھا'' لکھتے ہوئے میرا قلم ضرور ڈگمگا گیا ہے۔ ہر وہ شخص جس نے اپنا کوئی پیارا دوست یا عزیز کھویا ہو تو وہ ''تھا'' کا مطلب سمجھ سکتا ہے۔اپنے کسی بھی قریبی دوست جس کے ساتھ کبھی مل کر ہنسے ہوں، زندگی سے مسکراہٹیں کشید کی ہوں، اس کے ساتھ گفتگو میں کئی ساعتیں بتائی ہوں، اس کو ''تھا'' لکھنا اور اس کے بارے میں لکھنا کہ جب داعیئِ اجل کو لبیک کہہ چکا ہوبہت مشکل ہوتا ہے۔

 

چرن جیت ہماری سکھ برادری کا مان اور فخر تھا اور سب سے بڑھ کر   بین  المذاہب اتحاد کا بہت بڑا علمبردار بھی تھا۔ بھارت خود اپنے ملک میں مسلمانوں پر مظالم ڈھا رہا ہے لیکن اس کو پاکستان میں رہنے والی اقلیتوں کی فکر کھائے جاتی  ہے۔ پاکستان میں عمومی طور پر سکھ برادری اور مسلمان باہمی عزت اور رواداری کے رشتوں میں بندھے ہوئے ہیں اور ایک دوسرے کی تعظیم کرتے ہیں۔ لیکن پڑوسی ملک بھارت کا ظاہر ہے اپنا ایک مخاصمانہ موقف ہے تبھی تو دہلی میں منعقدہ  ایک ہنگامی پریس کانفرنس میں سشماسوراج نے یہ کہنے سے گریز نہ کیا کہ پاکستان میں سکھوں کو زبردستی مسلمان کیا جا رہا ہے۔ اور یہ وہی چرن جیت ہے جس نے اس بیان کے کچھ گھنٹوں بعد ہی بین الاقوامی میڈیا پر سشماسوراج کو للکارتے ہوئے نہ صرف اس کے بیان کی تردید کی بلکہ جواب دیا کہ پاکستان میں سکھوں کو ہر طرح سے مذہبی آزادی حاصل ہے۔ پہلے اپنے گریبان میں جھانکو کہ اصل نسل کشی سکھوں کی کدھر ہوئی کیا ہندوستان اتنی جلدی بھول گیا کہ جو اس نے سری ہرمندر صاحب (گولڈن ٹمپل) امرت سر میں خون کی ہولی کھیلی اور وہاں مقامی سکھوں کو چن چن کر مارا۔ نہ بچوں پر خدا ترسی کی اور نہ ہی خواتین کا لحاظ کیا۔ صرف پاکستان ہی ہے جہاں نہ صرف ہمیں بلکہ تمام اقلیتوں کو سماجی اور مذہبی آزادی حاصل ہے۔ چرن جیت کی اس للکار نے جہاں شسماسوراج کا منہ بند کر دیا وہاں دنیا کو بھی بتا دیا کہ بین المذاہب محبت اور بھائی چارے کا دوسرا نام پاکستان ہے۔ چرن جیت سنگھ جو کہ عرصہ دراز سے پشاور شہر میں گوردوارہ بھائی جوگا سنگھ کے دست میں رہائش پذیر تھا وہاں بطور سماجی کارکن اپنی سکھ برادری اور مسلم سکھ بھائی چارے کے لئے کام کرتا تھا۔ 29مئی 2018 کو چرن جیت اپنی دکان میں معمول کے مطابق جب مسلمان بھائیوں کے لئے افطاری کا انتظام کر رہا تھا کہ نہ جانے کون وہ شقی القلب شخص تھا جس نے مسلمانوں کے مقدس مہینے کا لحاظ بھی نہ رکھا اور چرن جیت پر گولیوں کی بوچھاڑ کر دی اور وہ اپنے خالق حقیقی سے جا ملا۔ جب مجھے اس واقعے کا علم ہو تو بے ساختہ یہ سطریں یہ زباں پر آ گئیں۔

 

ہم جو تاریک راہوں میں مارے گئے

تیرے ہونٹوں کی پھولوں کی چاہت میں ہم

دار کی خشک ٹہنی پر وارے گئے

تیرے ہاتھوں کی شمعوں کی حسرت میں ہم

نیم تاریک راہوں میں مارے گئے

 

لیکن نہیں چرن جیت تم کہاں مارے گئے۔ تم تو ہمیشہ ہمیشہ کے لئے زندہ ہو گئے۔ ہاں یہ ضرور ہے کہ جسمانی طور پر ظالموں نے تمھیں ہم سے ضرور چھین لیا مگر اپنے کرموں کی وجہ سے وہ محبت جو تم نے مذہب رنگ اور نسل کا فرق کئے بغیر بانٹی ہے وہ نہ مری ہے اور نہ ہی مر سکتی ہے۔ مجھے وہ منظر کبھی بھی نہیں بھولے گا کہ جب تمہاری نعش کو گوردوارہ صاحب لایا گیا تو اس وقت بھی مسلمان بھائیوں کی افطاری کے لئے دیگیں تیار ہو رہی تھیں۔ موت برحق ہے لیکن دُکھ اس بات کا ہے کہ وہ آواز جو پاکستان دشمن خصوصاً بھارت کو منہ توڑ جواب دیتی تھی کہ پاکستان میں سکھ بالکل محفوظ ہیں، کو ہمیشہ کے لئے خاموش کر دیا گیا ہے۔ چرن جیت تمہاری روح سے یہ میرا وعدہ ہے کہ تمہارا مشن ادھورا نہیں رہے گا اسے ہم ضرور پورا کریں گے پاکستان ہمیشہ زندہ باد!!!

Comments



Note: No comments!



Leave a Reply

Success/Error Message Goes Here
Note: Please login your account and then leave comment!
TOP