پُراسرار بندے

وہ اُسے ہسپتال کے دروازے پر ملا۔ پاک فوج کی وردی دیکھ کر اُس بوڑھے شخص سے رہا نہ گیا۔ ٹھک سے سلیوٹ مارا۔ دونوں اجنبیوں میں بات چیت شروع ہوگئی۔ بہت جلد دونوں کے درمیان محبت کا وہ رشتہ استوار ہوچکا تھا جو وردی والوں کا خاصہ ہے۔ یہ پاک فوج کی وردی پہنے ہوئے تھا اور وہ دو جنگوںکا غازی۔ حوالدار فضل داد نام بتایا اس نے۔ تھوڑی ہی دیربعد غازی سپاہی اپنی جوش اور جذبے سے بھرپور آواز میں 1965 اور1971 کی جنگ کے واقعات سنا رہا تھا۔ 1965 کی جنگ اس نے وَن ایف ایف رجمنٹ جبکہ1971 کی جنگ اس نے 35 ایف ایف رجمنٹ کے ساتھ لڑی تھی۔بوڑھا سپاہی جو پچاسی سال کے پیٹے میں تھا، اپنی بیماری اور جسمانی دردوں کو بھلا چکا تھا۔ اس نے بہت سی باتیں بہت کم وقت میں کیں کہ اس نے اپنے گائوں چک بیلی خان کی بس میں بیٹھنا تھا۔ 1965 کی جنگ میں اکھنور کا ذکر کرتے ہوئے اس کی آواز میں ایک حسرت تھی کہ یہ شہر بس پاک فوج کے قبضے میں آتے آتے رہ گیا۔ چھمب جوڑیاں کے محاذوں کی فتوحات پر وہ نازاں تھا۔ پھر اس نے 1971 کی جنگ کا ذکر شروع کیا۔ پہلے جملے سے گفتگو اور سفر کے اختتام تک وہ اپنے کمانڈنگ آفیسر(CO) لیفٹیننٹ کرنل راجہ اکرم شہید کی بہادری، ایمانداری اور سپاہیانہ شان کی باتیں کرتا رہا۔ اُس نے بتایا کہ کس طرح دشمن نے ظفر وال سیکٹر (شکرگڑھ) پر ٹینکوں کی ایک بہت بڑی فوج کے ساتھ حملہ کیا۔ فضل داد چونکہ کمانڈو ٹریننگ کر چکا تھا، تو کمانڈنگ آفیسر نے اس کے سیکشن کو اپنے ساتھ رکھا۔ اس نے بتایا کہ اُس کا CO بہت نمازی، پرہیز گار اور بااصول لیڈر تھا۔ وہ اپنے جوانوں پر جان چھڑکتا تھا مگر ڈسپلن کے معاملے میں بے حد سخت تھا۔ اسلام کے اعلیٰ اصولوں پر بہت سختی سے کار بند رہتا تھا۔ مگر اس کے ایمان کی اصلی طاقت تو میدانِ جنگ میں نظر آئی۔ وہ لڑائی کے میدان میں نماز ادا کرتے بھی نظر آیا اور دشمن کو للکارتا ہوا بھی کہ اس نے پاک سرزمین  پر حملہ کرنے کی جرأت کی ہے تو واپس نہ جا سکے گا۔ اس کے جوشیلے پن، وطن سے محبت ، اورایمان کی طاقت پر اُس کی سپاہ کا یقین غیر متزلزل رہا۔ وہ سب کے سب میدان میں ڈٹ گئے۔ دشمن اپنے ٹینکوں کی ٹولیاں ایک ایک کرکے آگے بڑھاتا رہا کہ شاید ان کا حوصلہ ٹوٹ جائے۔ مگر پاکستان کے یہ سپاہی، اپنے ملک،  فوج اور وردی کی عظمت پر مرمٹنے والے، مرتے رہے، مارتے رہے مگر ایک قدم بھی پیچھے نہ ہٹے۔ لڑائی کے اختتام تک ساٹھ سے زیادہ جامِ شہادت نوش کرچکے تھے اور سیکڑوں زخمی تھے، مگر میدانِ جنگ، دشمن کا قبرستان بن چکا تھا۔ پھر فضل داد نے ایک انوکھی  شان اور ایمانی جذبے سے اپنے کمانڈنگ آفیسر راجہ اکرم کی شہادت کا واقعہ بیان کیا۔ اس کا کمانڈنگ آفیسر جو سپاہیانہ بہادری اور جرأت کا نمونہ تھا، ہمہ وقت اگلے مورچوں میں موجود رہا۔ خود دشمن کے ٹینکوں پر فائر گراتا رہا۔ پھر وہ وقت بھی آسمان نے دیکھا کہ دشمن کی گولیوں کی بوچھاڑ نے اس کا سینہ چھلنی کردیا۔ وہ دو زانوں بیٹھا ہوا تھا۔ دشمن کی گولیاں اُسے گرا نہ سکیں۔ اُس نے اپنے دونوں ہاتھوں سے اپنی زخمی چھاتی کا لہو اپنی داڑھی مبارک پر ملا، پاک لہو شہید کے چہرے کا نور بنا۔۔۔ پھر اُس نے ایک نگاہ اپنی سپاہ پر ڈالی، بلند آواز سے کلمہ طیبہ پڑھا اور آخری سانس لئے ، وہ شہید ہوچکا تھا مگر ابھی تک دو زانوں بیٹھا تھا جیسے حالتِ نماز میں ہو۔

 

 فضل داد کی منزل آچکی تھی۔ دونوں وردی والوں نے ایک دوسرے کو محبت اور فخر سے الوداع کیا۔ اس لمحے دونوں کو دھرتی کی فضائوں میں محبت کا فخر چار سو پھیلتا نظر آیا۔ وطن سے محبت ، وردی سے محبت، ایمان سے محبت،  روشنی کا ایک پُراسرار ہالہ  چار سُو پھیل چکا تھا۔

Comments



Note: No comments!



Leave a Reply

Success/Error Message Goes Here
Note: Please login your account and then leave comment!
TOP