وطن کا عشق

وطن کے لئے جان نچھاور کرنے والے سیکنڈ لیفٹیننٹ عبدالمعید شہیدکے حوالے سے مریم ارشادکی ایک تحریر

 پرچم کا عشق جن جوانوں کو سرحد پر لے کر جاتا ہے اور دفاعِ وطن کی خاطر جو اپنی جان دیتے ہیں، وفا کے دیئے جنہوںنے اپنے لہو سے جلائے اور قوم و ملک کی بقا کی خاطر اپنی جوانیاں قربان کیں، قوم کے اُن بیٹوں نے آزادی کی قیمت اپنے لہو سے چکائی اور اُن کی جرأت و بہادری کی بدولت ہم آزاد فضائوںمیں سانس لینے کے قابل ہوئے،ان وفادار بیٹوں کی عظیم قربانیاںکسی قوم کو اس قابل بناتی ہیں کہ وہ دنیا میںفخر سے سر اُٹھا کر چلتی ہیں۔ قوم کے ایک ایسے ہی سپوت سیکنڈ لیفٹیننٹ عبدالمعید شہید کے حوالے سے لکھنے کی سعادت حاصل کررہی ہوں۔ 13 مئی 1996 کو وہاڑی میں عبدالمعید نام کا ایک لڑکا پیدا ہوا جو والدین کا بہت لاڈلا بیٹا تھا۔ چھوٹے دو بھائی عبدالحنان، عبدالمتین اور چھوٹی بہن میں سب سے بڑا اور پہلی اولاد ہونے کی وجہ سے عبدالمعید کو خاص توجہ اور محبت حاصل تھی۔ اُن کے والدین کی خواہش اور اعلیٰ تعلیمی کیریئر ہونے کی وجہ سے ساتویں جماعت میں عبدالمعید ملٹری کالج سوئی چلے گئے اور وہاں اپنا ریکارڈ برقرار رکھتے ہوئے  بلوچستان بورڈ میں پہلی 20 پوزیشنز میں سے ایک اپنے نام کی۔ سرسید کالج واہ کینٹ سے FSc کا امتحان پاس کیا اور یوں 2015 میں پاکستان ملٹری اکیڈمی کاکول جوائن کی، عبدالمعید کو بچپن سے ایک باضابطہ زندگی پسند تھی اور اسی لئے  وہ پاک آرمی کو بہت سراہتا تھا۔ اسی شوق کے پیشِ نظر والدین نے اپنے جوان بیٹے کو اس ملک و قوم کی حفاظت کرنے پر مامور کیا۔ 136پی۔ ایم۔ اے

(PMA)

لانگ کورس سے پاس آئوٹ ہونے کے بعد عبدالمعیدکے نام کے ساتھ سیکنڈ لیفٹیننٹ کا رینک لگ گیا ۔ والدین کا بتانا ہے کہ جب عبدالمعید کی پاسنگ آئوٹ پریڈ ہوئی تو اس نے ہماری ملاقات اپنے پلاٹون کمانڈر سے کروائی۔ انہوںنے ہمیں بے حد مطمئن کیا اور کہا کہ آپ نے اپنے بیٹے کی اتنی اچھی تربیت کی ہے کہ ہمیں زیادہ محنت کرنے کی ضرورت ہی نہیں پڑی۔ دوستوں کا کہنا تھا کہ وہ ہمیشہ ہر کام میں سب سے آگے ہوتا تھا۔ کھیل ہو یا تعلیم ،وہ ہمیں پیچھے چھوڑ دیتا تھا اور آج وہی دوست احباب کہہ رہے ہیں کہ وہ تو ہمیں شہادت میں بھی پیچھے چھوڑ گیا۔ والدین عبدالمعید کی زندگی کے کچھ باب کھولتے ہوئے کہتے ہیں کہ وہ بہت خیال رکھنے والا بیٹا تھا۔ کھانا کھاتے ہوئے ہمیشہ سب کا انتظار کرتا اور پہلے والدہ کو خود کھانا ڈال کر دیتا پھرخود لیتا۔ بہن بھائیوں کی خوشیوں کو ہمیشہ یاد رکھتا اور تحفے تحائف کا سلسلہ ہمیشہ جاری رکھتا۔ عبدالمعید ایک بہتر معیاری زندگی گزارنے کا قائل تھا، اس لئے والدہ سے اکثر کہتا کہ گھر میںآسانیاں ہونی چاہئیں تاکہ کام کاج میں دشواری نہ ہو گھر والوں کو ہر طرح کی آسائش دینے کا عادی تھا۔ کوالٹی پر سمجھوتہ ہرگز نہ کرتاتھا، جب کہیںجانا ہوتا تو خوش لباس ہونے کی وجہ سے تمام گھر والوںکے لباس غور سے دیکھتا اور اگر کوئی کمی یا کوتاہی نظر آتی تو فوراً درست کرواتا۔ غریبوں کا بہت ہمدرد تھا۔ وزیرستان پوسٹنگ کے دوران جب کبھی سکول کا دورہ کرتا تو کبھی خالی ہاتھ نہ جاتا، بلکہ بچوںکے لئے ٹافیاںلے کر جاتا،نرم گوشہ رکھنے کی وجہ سے اپنی تنخواہ کا ایک مخصوص حصہ غریبوں کے لئے رکھتا تھا۔ والد کا کہنا ہے کہ وہ میرا'بیٹا' نہیں بلکہ 'دوست' تھا۔ اپنی ہر بات وہ مجھ سے شیئر کرتا تھا۔ہمیشہ مہذب دوستوں کا انتخاب کرتا تھا اور سوشل میڈیا پر غلط چیزوں کو بہت ناپسند کرتا تھا۔ تیراکی اور باکسنگ کا معید کو بچپن سے شوق تھا اور وہ اس میں کمانڈرکھتا تھا۔ ایک دفعہ باکسنگ کے دوران معید کو کندھے پر چوٹ لگی تو بہت پریشان ہوا لیکن میرے حوصلہ بڑھانے پر کافی مطمئن ہوا۔ والد کا بتانا ہے کہ معید ہم سے کہتا رہتا تھا کہ ہم فوجی ہیں اور ہم اپنی زندگی کا مقصد جانتے ہیں غازی یا شہید یہی دو تمغے ہمیں سجتے ہیں، وزیرستان پوسٹنگ کے دوران جب تک والدین رات کے بارہ بجے تک معیدکی فون پر خیریت دریافت نہ لیتے چین سے نہ سوپاتے تھے۔ والدہ کا کہنا ہے کہ اس کی شہادت سے ایک ماہ قبل خواب میں ڈوبتے سورج کو دیکھا تھا بس تب ہی مجھے محسوس ہوگیا تھا کہ کچھ ہونے والا ہے، وزیرستان جانے سے پہلے خصوصی طور پر اپنی دادی جان سے ملنے کے لئے عبدالمعید گائوں گیاتھا، والدہ کا کہنا ہے کہ ہمارے بیٹے نے وطن کے لئے جان دی، اگر چہ اس کی جدائی پر ہمارے دل مغموم ہیں لیکن خدا کے فیصلے کے آگے سرِتسلیم خم ہے۔

 

سیکنڈ لیفٹیننٹ عبدالمعید وزیرستان میں اپنے سپاہیوں کے ساتھ12 دسمبر2017 کو پیٹرولنگ کررہے تھے ،جب اُن کی گاڑی دہشت گردوں کی فائرنگ کی زد میں آگئی اور سیکنڈ لیفٹیننٹ عبدالمعید سپاہی بشارت کے ساتھ موقع پر ہی جامِ شہادت نوش کرگئے۔ 21سالہ عبدالمعید کی نمازِ جنازہ لاہور کے ایوب سٹیڈیم میں ادا کی گئی۔ والد کا کہنا ہے کہ انہیں یقین ہے کہ جس طریقے سے ان کے لعل نے یہ دُنیا چھوڑی ہے، ہمارے بیٹے دھرتی کے لئے قربانی کا یہ سفر یونہی جاری رکھیں گے۔


 مضمون نگار درس و تدریس کے شعبے سے وابستہ ہیں۔

Comments



Note: No comments!



Leave a Reply

Success/Error Message Goes Here
Note: Please login your account and then leave comment!
TOP