پاک فضائیہ کا راشد

پرواز ہے دونوں کی اسی ایک فضا میں

کرگس کا جہاں اور ہے شاہیں کا جہاں اور

راشد آبادسرزمین ِ پاک کا ایک شہر جس کے ایک شہباز کی کہانی آسمانوں پر لکھی گئی اور میں دعوے سے کہہ سکتی ہوں کہ یہ کہانی پڑھتے ہوئے آپ کی چشمِ نم عقیدت سے جھک جائے گی اور سرفخر سے بلند ہوجائے گا۔

لکھنا میرا شوق بھی ہے ا ور پہچان بھی لیکن کبھی کبھار کوئی موضوع کسی لکھاری کو اتنی مشکل میں ڈال سکتا ہے، اس کا اندازہ مجھے اس مضمون کو لکھتے ہوئے ہوا۔ بخدا اس کہانی کو کئی بار لکھا، پڑھا، پھر پڑھا اور ہر بار نجانے کیوں یہی سوال اُبھرا کہ آیاکہ میں حق اداکررہی ہوں یا نہیں۔؟

تین ہفتے لگے اس تحریر کو فائنل کرنے میں کیونکہ میںتذبذب کا شکار رہی کہ میں کہاں سے اور کس سے شروع کروں۔ کس کے بارے میں زیادہ تفصیل دوں۔ ایک عظیم باپ ایئر کموڈور شبیر احمدخان جن کو پاک فضائیہ میں شبیراینجل (Shabbir Angel)کے نام سے جانا جاتا ہے اور جس کا یہ کہنا ہے کہ ''ماں اور مٹی کا قرض کبھی بھی نہیں اُتارا جاسکتا۔'' یا ان کے عظیم تربیٹے فلائٹ لیفٹیننٹ راشد احمد خان کے بارے میں کہ جو اس شعر کی جیتی جاگتی مثال بنا۔

شہید کی جو موت ہے وہ قوم کی حیات ہے

لہو جو ہے شہید کا، وہ قوم کی زکوٰة ہے

جس نے ہزاروں معصوم جانیں بچانے کی خاطر اپنی جان قربان کرکے ہمیشہ کی زندگی پالی۔

آیئے آسمان پر لکھی ہوئی یہ کہانی پڑھتے ہیں:

20اگست1971ء مسرور ایئر بیس کراچی، مغرب سے کچھ دیر پہلے کا وقت، راشد منہاس شہید کا جسدِ خاکی لایا جاتا ہے۔ ڈیوٹی افسر شہید کا جسدِ خاکی وصول کرتا ہے اور اس کو سلیوٹ کرتا ہے کچھ دیر بعدنمازِ مغرب میں بارگاہِ ایزدی میں سجدہ ریز ہو کر اپنے رب سے اپنے دل کی خواہش بیان کرتا ہے ''اﷲ مجھے بھی بیٹا عطا کرے۔ میں اس کا نام راشد رکھوں گا۔''

یہ ڈیوٹی افسر 1971 کا غازی اور اپنے وقت کا بہترین جنگجو ہوا باز فلائٹ لیفٹیننٹ شبیراحمدخان تھا۔رب تعالیٰ دعا کوشرف قبولیت بخشتا ہے اور یکم مئی1972کو رات دوبجے  جب یہ جنگجو ہوا باز فضائوں میں اپنے مشن پر ہوتا ہے تو اس کو یہ اطلاع ملتی ہے کہ اﷲ پاک نے آپ کو بیٹے سے نوازا ہے۔

پاک فضائیہ کا یہ شاہین اپنی پرواز مکمل کرکے زمین پر آتا ہے۔ بیٹے کو گود میں لیتا ہے اور اﷲ سے کیا ہوا وعدہ نبھاتے ہوئے اس بچے کا نام راشد رکھتا ہے۔ یہ بچہ شروع سے ہی اپنے ہم عمر بچوں سے تھوڑا مختلف تھا۔تھوڑا زیادہ سنجیدہ، تھوڑا زیادہ سمجھدار اور ہر کام میں پرواز کا شوق نہیں بلکہ جنون ۔ جب سکوارڈرن لیڈر شبیر احمد خان ایک کورس کے لئے ترکی گئے تو راشد بھی اپنی والدہ کے ساتھ ان کے ہمراہ تھا۔12 سالہ راشد نے بہت کم عرصے میں ترکی زبان پر اتنا عبور حاصل کرلیا کہ  کہ پاکستان سے آنے والے مہمانوں کا مترجم بن گیا۔ زبان سے واقفیت کی بنا پر ترکی اور دوسرے ممالک سے آئے ہوئے افسران کے بچوں کے ساتھ دوستی بھی جلدی ہوگئی اور کم عمری میں اپنے دوستوں کے ساتھ ترکی کے مختلف  شہراور تاریخی مقامات گھوم آیا۔

شبیر اینجل کے کورس کے اختتام سے پہلے ہی ترکی سے راشد نے امریکہ کے سفر کا ارادہ باندھ لیا اور اکیلا ہی امریکہ کے لئے روانہ ہوگیا۔ امریکہ میں اس کے چچا نے سکول میں اس کا داخلہ کروا دیا جہاں اس نے اپنی ہائی سکولنگ مکمل کی اور چھٹیوں میں پاکستان آگیا جب چھٹیاں ختم ہوئیں تو اس نے امریکہ واپس جانے سے انکار کردیا۔ جب والد نے اس سے انکار کی  وجہ پوچھی تو اس کا جواب تھا۔

"I Would rather live, serve and die for this country"  ایک دن راشد نے اخبار میں پی اے ایف جوائن کرنے کا اشتہار دیکھا اور والدین کو بتائے بغیر اس کے لئے اپلائی کردیا اور سلیکٹ ہوگیا۔

جس دن رسالپور کے لئے روانگی تھی اس نے اپنے والد کویہ خبر سنائی۔ اس لڑکے کو ہرشخص کو قدم قدم پرحیران کرنے کی عادت تھی۔9جنوری 1991 کو راشد کی فضائی زندگی کا پہلا باب شروع ہوتا ہے۔ راشد کے کورس میٹ اورقریبی دوست گروپ کیپٹن جواد (او سی ایئر وار کالج فیصل بیس) سے جب گفتگو ہوئی تو انہوںنے بتایا کہ راشد انتہائی نفیس اور دھیمے مزاج کا انسان تھا۔ میرے لئے یہ بات بہت حیران کن تھی کہ امریکہ میں رہنے کے باوجود اس میں شرم و حیا اور مشرقیت قابلِ داد تھی اور سب سے بڑی بات وہ شبیراینجل کا بیٹا تھا تو ان کی تربیت تو پھر ہونی بھی بے مثال تھی۔ وہ پیدائشی ہوا باز تھا۔ اس کی فلائنگ کی ہمارے انسٹرکٹر تک مثالیں دیتے تھے۔ سب سے حیران کن بات یہ کہ ایئر کموڈور شبیر ایک سال تک پی اے ایف اکیڈمی رسالپور کے کمانڈنٹ رہے اور اسی ٹائم پیریڈ میں راشد وہاں کیڈٹ کے طور پر تربیت لے رہا تھا۔ لیکن اس نے کبھی بھولے سے بھی ظاہر نہ ہونے دیا کہ وہ کس کابیٹا ہے۔ کمانڈنٹ کو سلیوٹ ٹھیک نہ کرنے پر وہ سزا بھی پوری کررہا ہوتا تھا۔

فلائٹ لیفٹیننٹ راشد کے ایک اور قریبی ساتھی گروپ کیپٹن عاصم ( او سی فلائنگ شور کوٹ) جو ان کی شہادت کے چشم دید گواہ ہیں، وہ یادیں تازہ کرتے ہوئے بتا رہے تھے کہ راشد لاجواب فائٹر پائلٹ تھا،جس کو کہا جائے کہ ہوا بازی اس کی روح میں تھی۔ شاید وہ پیدائشی ہوا باز تھا۔ میں وہ دن نہیں بھول سکتا 13کہ  دسمبر1997کی صبح ایک ساتھ ناشتہ کیا۔ بریفنگ لی اور اپنی اپنی پرواز کی تیاری شروع کی۔ میں اپنے جہاز پر کھڑا تھا اس کے ٹیک آف کے 15 منٹ بعد میں نے فلائی کرنا تھا۔ میں تیارہی تھا کہ اچانک شور مچا کہ فضا میں ہمارے ایک جہاز کو آگ لگ گئی ہے رن وے پر مجھے صاف نظر آرہا تھا کہ جہاز کو آگ لگ چکی ہے لیکن پائلٹ eject نہیں کررہا تھا۔ پتہ چلا کہ ایک آبادی کے اوپر سے گزرتے ہوئے جہاز میں کچھ خرابی کے باعث آگ لگ گئی۔ راشد کو باربار کہا گیا کہ وہ پیراشوٹ کے ذریعے اپنی جان بچالے لیکن ہر بار راشد کا ایک ہی جواب ہوتا تھا۔ "Negative"

"It's highly populated"

''آبادی پر ہے اگر میں اپنی جان بچائوں تو سینکڑوں جانیں ضائع ہو جائیں گی۔''

راشدکسی طرح اس جہاز کو آبادی سے نکالتا ہوا ایئر بیس کی طرف خالی جگہ پر لاچکا تھا۔ لیکن اس وقت تک بہت دیر ہو چکی تھی۔ ایک اور راشد خدا سے کیا ہوا وہ وعدہ کہ اپنے ملک اور اس کے رہنے والوں کی حفاظت کا عہد نبھاتے ہوئے اس ملک پر قربان ہو چکا تھا۔

کیا منظر ہوگا راشدکو جب ساقیِ ٔ کوثرۖ نے اپنی بانہوں میں لیتے ہوئے خاتونِ جنت کو مخاطب کرتے ہوئے فرمایا ہوگا لو دیکھو فاطمہ زہرا ایک اور ماں کا لال تمہارے لال کے نقشِ قدم پر چلتا ہوا اپنی ماں کو تمہارے سامنے سرخرو کرگیا۔ جناب زینب  ملکوتی مسکراہٹ سے تمہاری بہنوں کو دیکھتے ہوئی کہہ رہی ہوں گی کہ میرے بھائی کی طرح ایک اور بھائی اپنی بہنوں کا مان بڑھا کر آیا ہے۔ شیرِ خدا علی المرتضیٰ کرم اﷲ وجہہ' جنت کے اس شجیع اورجری مہمان کی آمد پر استقبال کے لئے خود بڑھے ہوں گے۔

جب شہید راشد احمدخان کی والدہ سے ملاقات ہوئی اور ان سے راشد کے بارے میں بات چیت ہوئی تو تھوڑی دیر کے لئے میں چشمِ تصور سے اس دَور میں چلی گئی کہ جب شہیدوں کا جسدِ خاکی اس کی ماں کے پاس لایاگیا ہوگا۔ تو ایک ماں کا اپنے اکلوتے لختِ جگر کے ساتھ الوداعی ملاقات کا منظر کیسا ہوگا؟

عظیم ماںتیرے بیٹے کی لاش آئی ہے

قسم خدا کی شہادت کی موت آئی ہے

عظیم ماں تیرا نورِ نظر شہید ہوا

خدا کی راہ میں تیرا پسر شہید ہوا

جو دیکھتا ہے ادب سے وہ سر جھکاتا ہے

تیرے شہیدکا شاہی جلوس آتا ہے

تیرے شہید کا شاہی جلوس آتا ہے

میں فالکن کمپلیکس میں فلائٹ لیفٹیننٹ راشد کے ڈرائنگ روم میں دیوار پر لگی ان کی تصویر دیکھ رہی تھی۔ ان کے کاندھے پر لگے ان ستاروں کی چمک اس بات کی گواہی دے رہی تھی کہ اس شہید نے نہ صرف اس وردی پر لگے ستاروں کی لاج رکھی ہے بلکہ پاس آئوٹ ہوتے ہوئے وطن اور اہلِ وطن کے دفاع کا جو حلف لیا تھا، جو وعدہ کیا تھا، اس میں بھی رب تعالیٰ نے اُنہیںسُرخرو کیا۔

میں سوچتی ہوں کہ راشد بھائی کیا اس وقت آپ کے سامنے شبیر اینجل کا باوقار سراپا نہیں آیا ہوگا؟ ماتھے پر ماں کے ممتا بھرے بوسے کا لمس محسوس نہیں ہوا ہوگا؟ بہنوں کی مسکراہٹوں اور کھلکھلاہٹوں نے ایک لمحے کے لئے آپ کا ہاتھ نہیں تھاما ہوگا؟  لیکن سلام ہے شہید تم پر کہ تم نے ایک پل کے لئے بھی اپنی دنیا کو یاد کئے بغیرکتنے شبیروں کے راشد اور کتنے راشدوں کے شبیر بچا لئے وہ شعلے جو مائوں کی کوکھ  اور بہنوں کے سہاگ کی طرف بڑھ رہے تھے تمہارے مقدس لہو کے چھینٹوں نے بجھا دیئے۔

راشد میرے بھائی تم کیسے اس راہ کے مسافر نہ بنتے تمہیں تو شبیر نے راشد منہاس کی ابدی زندگی کی شہادت ملتے ہی سجدے میں اپنے رب سے مانگا تھا جس کا عقیدہ یہ ہے کہ ''ماں اور مٹی کا قرض کبھی نہیں اُتارا جاسکتا'' اور جب مادرِ وطن کی بات آئی تو جنم دینے والی ماں کو بھول گئے۔ پہلے تو ایک گھر میں رہتے تھے اب توپورے پاکستان میں رہتے ہو، زمین کے ایک ایک ذرے میں مسکراتے ہوئے، آسمان کے ایک ایک تارے میں چمکتے ہوئے۔دینِ اسلام کے اس بنیادی عقیدے پرکہ جس نے ایک انسان کی جان بچائی اس نے ساری انسانیت کو بچا لیا۔

ہم خود تراشتے ہیں منظر کے راہِ سنگ

ہم وہ نہیں کہ جن کو زمانہ بنا گیا

کہتے ہیںکہ اولاد سے نام چلتا ہے تو ایک غازی باپ کے لئے اس سے بڑی خوش نصیبی کیا ہوگی کہ اس کے اکلوتے بیٹے نے مادرِ وطن کے لئے جامِ شہادت نوش کرکے اس کا اپنا نام ہمیشہ ہمیشہ کے لئے امرکردیا اور جنگجو ہواباز شبیر اینجل آج بھی اس مٹی کی محبت کا قرض چکا رہے ہیں۔ انہوںنے فلائٹ لیفٹیننٹ راشد احمدخان شہید کے نام پر ٹنڈوالٰہ یار کے قریب ایک بے مثال تعلیمی شہر ''راشد آباد'' آباد کردیا۔ انہوںنے اپنے بیٹے کو خاموش زبان میں یہ پیغام دیا :

مت سمجھو ہم نے بھلا دیا

یہ مٹی تم کو پیاری تھی

سمجھو مٹی میں سلا دیا

اس بے مثال تعلیمی شہرمیں بے شمار معمارانِ مستقبل کو آنے والے وقت کے لئے تعلیمی اور حب الوطنی کے تقاضوں کے تحت تیار کیا جارہا ہے۔ راشد تم نے تو جاتے جاتے نہ جانے کتنے چراغ جلا دیئے جو آئندہ ارضِ پاک کے لئے جانے کیا کیا فرائض انجام دیں۔ میں اس وقت اپنے آنسو روک نہ سکی جب شبیر اینجل نے گفتگو کے دوان مجھے بتایا کہ میری بیٹی نے اپنے بیٹے یعنی میرے نواسے کا نام بھی ''راشد'' رکھا ہے اور وہ قدر کا ٹھ اور عادات میں بالکل اپنے ماموں پر گیا ہے۔ اس نے بھی پی اے ایف میں اپلائی کیا ہے، خدا کرے کہ اس کو بھی اپنے ملک کی خدمت کا موقع ملے۔(شبیر اینجل آپ کون ہیں؟ اور کہاں سے لائے ہیں یہ دل؟)

اس پوری گفتگو کے دوران بخدا مجھے کہیں نہیں لگا کہ شہید فلائٹ لیفٹیننٹ راشد ہمارے درمیان موجود نہیں ہیں۔ ایسا لگ رہا تھا جو کہانی ایک باپ اپنی اداس آنکھوں کے ساتھ سنا رہا ہے وہ داستانِ شجاعت ایک سعادت مند بیٹا اپنی مسکراتی آنکھوں کے ساتھ سُن رہا ہے۔

واقعی شہید کہاں مرتے ہیں وہ ہمارے درمیان ہی تو ہوتے ہیں۔ اپنوںکی خوشی میں خوش اور دکھ میں ان کے ساتھ ۔ واپسی کا سفر طے کرتے ہوئے پاک فوج کے ایک نغمے کے الفاظ میرے کانوں میں گونج رہے تھے۔

ہِل جاتی ہے ہر دستک پر

ماں کو لگتا ہے میں آیا

کوئی پیارا ہے مجھے آپ سے بھی

میں بابا سے یہ کہہ آیا

گھر بار ہے میرا بھی پیچھے

پر آگے بھی گھر میرا ہے

میں جی لوں گا اندھیروں میں

پر میرے بعد سویرا ہے

اِس گھر کی ساری خوشیوں کو

اِک بار نہ گھبرانے دیں گے

اِک سوچ بری بھی سرحد سے

اس پار نہیں آنے دیں گے

کبھی پرچم میں لپٹے ہیں

کبھی ہم غازی ہوتے ہیں

جو ہو جاتی ہے ماں راضی

تو بیٹے راضی ہوتے ہیں

 

افواجِ پاکستان زندہ باد

پاکستان پائندہ باد

Comments



Note: No comments!



Leave a Reply

Success/Error Message Goes Here
Note: Please login your account and then leave comment!
TOP