پاکستان کا اسلامی تشخص

آل انڈیا مسلم لیگ نے قائداعظم کی زیرِ صدارت جب  23مارچ 1940 کو قراردادِ لاہور منظور کی تو مَیں اُس وقت چوتھی جماعت کا طالب علم تھا۔ ہمارا خاندان سرسہ شہر میں آباد تھا جو پنجاب کے پسماندہ علاقوں میں شمار ہوتا تھا۔ پرائمری سکول میں غیرمسلم طلبہ کی تعداد سیکڑوں میں تھی جبکہ مسلم طالب علم صرف درجنوں میں تھے۔ قراردادِ لاہور کی منظوری کے فوراً بعد غیرمسلم طلبہ نے یہ کہنا شروع کر دیا کہ انگریزوں نے ہندوستان کا بٹوارا کرنے کے لئے یہ قرار داد منظور کرائی ہے۔ میں اُن سے کہتا کہ خود برطانوی حکومت اس قرارداد کی مخالفت میں بیان دے رہی ہے تو وہ کیسے اس عمل میں شامل ہو سکتی ہے۔ اُن کا کہنا تھا کہ یہ سب دکھاوا ہے۔ وقت کے ساتھ ساتھ مسلمان طلبہ کے خلاف اُن کی نفرت بڑھتی گئی۔ وہ جو باتیں اپنے گھروں میں سنتے، اسی کی جگالی کرتے رہتے۔ میں کم سن ہونے کے باوجود ملکی حالات سے خاصا باخبر رہتا تھا۔ والد صاحب نے اخبار بینی کی عادت چھوٹی عمر ہی میںڈال دی تھی۔ اس کے علاوہ گھر میں اہلِ علم و فضل تشریف لاتے رہتے اور قیام بھی فرماتے۔ اُن کی صحبت میں بیٹھنے سے سیاسی رموز سمجھنے میں بڑی مدد ملتی۔ میرا مارچ 1940 سے اگست 1947 کا زمانہ اسی شہر میں گزرا۔اس دوران مسلمانوں اور ہندوئوں کے تعلقات میں کشیدگی بڑھتی چلی گئی۔ سالہا سال ہمارے ساتھ پڑھنے والے لڑکے مسلمانوں کو صفحۂ ہستی سے مٹانے کے لئے اسلحہ چلانے کی ٹریننگ لینے لگے۔ انہوں نے ہمارے مہاجر کیمپ پر بھی بار بار حملے کئے جو اعلان آزادی کے بعد ہمارے علاقے ہی میں قائم کر دیا گیا تھاجہاں سے ہمیں پاکستان کی طرف ہجرت کرنا تھی۔ ہمارا شہر بھارتی علاقے میں آ گیا تھا حالانکہ ہماری تحصیل میں اکثریت مسلمانوں کی تھی اور ہم یہ اُمید لگائے بیٹھے تھے کہ ضلع فیروزپور سے متصل ہماری یہ تحصیل بھی پاکستان کا حصہ بنے گی۔ لارڈمائونٹ بیٹن نے ریڈکلف ایوارڈ میں تبدیلی کر کے فیروزپور اور گورداسپور کے مسلم اکثریتی اضلاع بھی بھارت میں شامل کر دیئے تھے اور مسلمانوں کو ناقابلِ تلافی نقصان پہنچایا تھا۔

لالۂ صحرا

یہ گنبدِ مینائی! یہ عَالمِ تنہائی!

مجکو تو ڈراتی ہے اس دشت کی پہنائی!

بھٹکا ہوا راہی میں، بھٹکا ہوا راہی تُو!

منزل ہے کہاں تیری اے لالۂ صحرائی؟

خالی ہے کلیموںسے یہ کوہ و کمر ورنہ

تُو شعلۂ سینائی، میں شعلۂ سینائی!

تُو شاخ سے کیوں پھوٹا، میں شاخ سے کیوں ٹوٹا

اِک جذبۂ پیدائی! اِک لذتِ یکتائی!

غوّاصِ محبت کا اﷲ نگہبان ہو

ہر قطرئہ دریا میں، دریا کی ہے گہرائی!

 اس موج کے ماتم میں روتی ہے بھنور کی آنکھ

دریا سے اٹھی، لیکن ساحل سے نہ ٹکرائی!

ہے گرمیٔ آدم سے ہنگامۂ عَالم گرم

سورج بھی تماشائی تارے بھی تماشائی!

اے بادِ بیابانی مجکو بھی عنایت ہو

خاموشی و دل سوزی، سرمستی و رعنائی

علامہ  اقبال           

 

قطعہ

فطرت مری مانندِ نسیم سحری ہے

رفتار ہے میری کبھی آہستہ کبھی تیز

پہناتا ہوں اطلس کی قبا لالہ و گُل کو

کرتا ہوں سرِ خار کو سوزن کی طرح تیز

علامہ  اقبال

 

الحمدﷲ پاکستان کو پھلتے پھولتے اب ستر سال سے زائد ہو چکے ہیں مگر جب میں بعض پاکستانیوں کے منہ سے یہ بات سنتا ہوں کہ انگریزوں نے اپنے مخصوص مفادات کے لئے پاکستان بنایا تھا تو مجھے بے اختیار پرائمری سکول کے ہندو طلبہ یاد آتے ہیں جو الزام انہوں نے 1940 میں لگایا تھا، وہی الزام دہرانے والے 2018میں پاکستان میں 'دانش وری' کے منصب پر فائز ہیں جو بلند آہنگ میں یہ بھی کہتے ہیں کہ قائداعظم لبرل خیالات کے حامل تھے اور وہ پاکستان کو ایک سیکولر مملکت بنانا چاہتے تھے۔ بعض 'بزرجمہر'یہ فتنہ بھی اُٹھاتے رہتے ہیں کہ ہندو اور مسلمان شکل و صورت میں ایک جیسے ہیں اُن کا رہن سہن بھی بڑی حد تک ایک ہی سا ہے اور اُن کی زبان میں بھی کوئی بڑا فرق نہیں۔ بھارت اور پاکستان کے علاقائی مفادات بھی ایک دوسرے سے وابستہ ہیں۔ اس گروہ کے گمراہ کن خیالات نئی نسل پر منفی اثرات ڈال رہے ہیں جسے ہم نے اپنی تاریخ اپنی ثقافت اور اپنی رخشندہ روایات سے بے خبر رکھا ہوا ہے۔ ہماری درسی کتابوں میں اس عظیم الشان جدوجہد آزادی کا کہیں مربوط اور مسحور کن ذکر نہیں ملتا جو ہمارے اسلاف نے انگریزوں کی غلامی اور ہندوستان کی نسلی اور ثقافتی جبر سے نجات پانے کے لئے صدہاسال کی اور بے مثال قربانیاں دی تھیں۔ خوش قسمتی سے قائداعظم کی ولولہ انگیز اور بے مثال قیادت میسر آگئی جو بیسویوں صدی میں ایک سیاسی معجزہ تخلیق کرنے اور پاکستان کو وجود بخشنے میں کامیاب رہی۔ ہماری نئی نسل تاریخ کے ان حیران کن واقعات سے پوری طرح واقف نہیں۔ اسی لئے وہ آسانی سے مختلف مغالطوں کا شکار ہو جاتی ہے۔ کبھی کبھی ہمارے نوجوان ایک عجیب ذہنی کیفیت میں پوچھتے ہیں کہ جب انڈین کانگرس اور آل انڈیا مسلم لیگ کی دونوں قیادتیں ایک سیکولر مملکت قائم کرنا چاہتی تھیں تو پھر تقسیم ہند کا کیا جواز تھا جس میں دونوں طرف کے لاکھوں انسان بے دردی سے قتل کئے گئے تھے اور کروڑ سے زائد ہجرت پر مجبور ہوئے تھے۔؟

ان مغالطوں کو دور کرنے کا صحیح طریقہ یہ ہے کہ نوجوانوں کو تحریک پاکستان کی مستند تاریخ پڑھائی جائے اور اُن واقعات کا ذکر ایک مؤثر پیرائے میں کیا جاتا رہے جن سے یہ حقیقت ذہن نشین ہو تی جائے کہ انسانی تاریخ میں حضرت قائداعظم کا مقام کیا ہے، اسلام کے بارے میں اُن کے اصل تصوّرات کیا تھے، قراردادِ لاہور کن حالات اور کس فضا میں منظور ہوئی اور اس کی منظوری کے بعد سات سال تک کیا کیا سیاسی معرکے بپا ہوتے رہے اور قائداعظم اپنی تقریروں، بیانات اور اعلانات کے ذریعے پاکستان کے خدوخال میں کن باتوں کو اوّلین اہمیت دیتے رہے۔ یہ بھی بار بار بتانے کی ضرورت ہے کہ سرورِکونین حضرت محمدۖ کے ساتھ ان کے قلبی رشتے کی نوعیت کیا تھی اور اسلامی شعائر کا احترام اُن کے پورے وجود میں کتنا رچا بسا تھا۔ میں اپنی اس مختصر تحریر میں چند مناظر پیش کروں گا جو تاریخ کے صفحات پر ثبت ہیں اور پاکستان کے اسلامی تشخص کی مکمل تعبیر کشی کرتے ہیں۔

تحریکِ پاکستان کے معاصرین جن میں جلیل القدر مسلم رہنمائوں کے علاوہ انگریز اور شیڈول کاسٹ کے رہنما بھی شامل ہیں۔اُنہوں نے قائداعظم کی عظیم شخصیت کو زبردست خراج تحسین پیش کیا ہے حکیم الامت علامہ اقبال نے فرمایا۔ ''مسٹر جناح کو اﷲتعالیٰ نے ایک ایسی خوبی عطا کی ہے جو آج مجھے ہندوستان کے کسی اور مسلمان میں نظر نہیں آتی۔'' ڈاکٹر عمر حیات ملک جو ایک بڑے مورّخ اور ماہر تعلیم تھے اُن کی رائے میں ''مغل سلطنت کے زوال کے بعد ہند میں کوئی ایسا مسلمان پیدا نہیں ہوا۔'' شیڈول کاسٹ کے رہنما مسٹر ایم سی راجا نے کہا۔ ''قائداعظم ایک ایسے مصلح تھے جو گاندھی اور کانگرس کی لیڈرشپ کی غلطیوں کی اصلاح کے لئے مبعوث ہوئے تھے۔'' سابق گورنر سرحد سراولف کیرو نے اُنہیں اپنے عہد کا ''مجدد''قرار دیا۔ مسٹر فرانس لونے واضح الفاظ میں کہا۔'' قائداعظم نہ ہوتے تو پاکستان کا قیام عمل میں نہ آتا۔''نامور مورّخ پروفیسر سٹینلے والپورٹ نے انسانی تاریخ میں قائداعظم کے مرتبے کا تعین کرتے ہوئے لکھا۔ ''مسٹرجناح نے تاریخ کا دھارا بدلا، دنیا کا نقشہ تبدیل کیا اور ایک قومی حکومت قائم کرنے کا اعزاز بھی حاصل کیا۔'' مسٹر ایف ڈی کرم کا احساس یہ تھا کہ ''مسٹر جناح بنفسِ نفیس پاکستان تھے، اس کی زندگی اور اس کا دل و دماغ تھے۔''

قائداعظم جو پاکستان کے دل و دماغ تھے، ان کے دل و دماغ میں پیغمبرِ اسلام حضرت محمدۖ کی محبت اور عظمت کس قدر گہری تھی۔ اس کا اندازہ اس واقعے سے ہوتا ہے جو انہوں نے قانون کی تعلیم حاصل کرنے کے سلسلے میں اپنی ہمشیرہ فاطمہ جناح سے بیان کیا تھا۔

''میں نے سوچا کیوں نہ لندن میں موجود مختلف اِنز (Inns) کو دیکھ لیا جائے اور وہاں کے طلبہ سے بھی ملاقات کر لی جائے۔ ملاقاتوں کے بعد میرے ذہن نے جس اِن (Inn) کو چننے کا مشورہ دیا وہ لنکز اِن نہیں تھی لیکن پھر میری اچانک نظر لنکز اِن کے مرکزی دروازے پر پڑی اور جب میں نے اپنے عظیم پیغمبر اسلام حضرت محمدۖ کا نام دنیا کے عظیم مقننین کی فہرست میں درج دیکھا تو یہ منت مان لی کہ لٹل گو(انٹری ٹیسٹ)' میں کامیابی کے بعد لنکز اِن میں ہی داخلہ لوں گا۔''

اس واقعے سے اندازہ ہوتا ہے کہ محمد علی جناح کے شعور میں سرورِ کونین حضرت محمدۖ کے ساتھ شیفتگی کس قدر بے پایاں تھی اور اس وارفتگی کا اظہار اُن کے مختلف اقدامات سے ہوتا رہا۔ اسلامی شعائر کا احترام ان کی روح کی گہرائیوں میں اترا ہوا تھا اور یہی وجہ ہے کہ ان کی اور مسلمانوں کی زندگی میں جتنے بھی نازک موڑ آئے ان میں فیصلہ کن اقدام کے لئے انہوں نے جمعة المبارک کے مبارک دن کا انتخاب کیا ۔ یہ اس بات کو ظاہر کرتا ہے کہ قائداعظم کا یہ پختہ ایمان تھا کہ جو کام جمعة المبارک سے شروع ہو گا اس میں اﷲتعالیٰ کامیابی عطا کرے گا۔ یہ روش وہی شخص اختیار کر سکتا تھا جسے دین اور سیاست کے مابین تعلقات کا مکمل ادراک ہو اور جس کی سوچ میں اسلام ابدی روایت کی حیثیت رکھتا ہو۔

1937 کے انتخابات میں کانگرس کو سات صوبوں میں حکومتیں قائم کرنے کا موقع مل گیا تھا۔ انہو ںنے مسلسل طور پر ضلعی افسروں کے ذریعے چھوٹے چھوٹے معاملات میں مداخلت کی جو مسلمانوں کے لئے سخت ضرر رساں ثابت ہوئی اور ہندو عوام کے اندر یہ تاثر قائم ہو گیا کہ ہندو راج قائم ہو گیا ہے۔ 1939میں دوسری جنگ عظیم شروع ہو جانے کے بعدکانگرس کی حکومتیں مستعفی ہو گئیں۔ اس پر قائداعظم نے 6دسمبر کو ''یومِ نجات'' منانے کا فیصلہ کیا۔  یہ جمعة المبارک کا مقدس دن تھا اور مسلمانوں نے قائداعظم کی اپیل پر نمازِ جمعہ کے بعد شکرانے کے نوافل ادا کئے۔ یہی وہ دن تھا جب ہندوستان کی سیاست میں مسلمانوں کی کامیابی کی راہیں کشادہ ہوتی گئیں۔ یہ بھی حسن اتفاق تھا کہ قراردادِلاہور کا پہلا مسودہ بھی 22مارچ 1940کو پیش کیا گیا تھا اور وہ بھی جمعة المبارک کا بابرکت دن تھا۔ یہ بھی مشیت ایزدی تھی کہ اہل پاکستان نے پہلی تقریب آزادی 15اگست 1947 کو منائی اس موقع پر پاکستان براڈ کاسٹنگ ہائوس کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے قائداعظم نے فرمایا:

''آج جمعة الوداع ہے۔ رمضان المبارک کا آخری جمعہ، مسرت و انبساط کا دن، ہم سب کے لئے اور اس وسیع و عریض دنیا کے ہر گوشے میں جہاں بھی مسلمان ہوں، مساجد میں ہزاروں کے اجتماعات ربِّ جلیل کے حضور بڑی عجزوانکساری سے سجدہ ریز ہو جائیں۔ اس کی نوازش پیہم اور فیاضی کا شکر ادا کریں اور پاکستان کو ایک عظیم ملک اور خود کو اس کے شایانِ شان بنانے کے کام میں قادرِمطلق کی ہدایت اور اعانت طلب کریں۔''

30اگست 1947کو قائداعظم نے پنجاب یونیورسٹی سٹیڈیم میں عوام سے خطاب کرتے ہوئے فرمایا:

''ہم اس تائیدایزدی کے سراپا شکرگزار ہیں جس نے طاغوتی طاقتوں کا مقابلہ کرنے کے لئے سخت ہمت و حوصلہ اور ایمان کی قوت عطا کی۔ اگر ہم قرآن حکیم سے ہدایت حاصل کرتے رہے تو حتمی فتح ہماری ہو گی۔''

بابائے قوم حضرت محمدعلی جناح نے 25فروری1948 کو عید میلاد النبیۖ کی تقریب سعید کراچی سے خطاب کرتے ہوئے وجد آفریں انداز میں کہا۔

''اسلام اور اس کے اعلیٰ نصب العین نے ہمیں جمہوریت کا سبق پڑھایا ہے۔ اسلام نے ہر شخص کو مساوات، عدل اور انصاف کا درس دیا ہے۔ محمدرسول ﷲۖ عظیم ترین انسان تھے جس کا چشمِ عالم نے آپۖ سے پہلے کبھی نظارہ نہیں کیا۔ تیرہ سو سال گزرے جب آپۖ نے جمہوریت کی بنیاد ڈالی۔''

قائداعظم نے 25فروری 1948 کو امریکی شہریوں سے نشری خطاب کے دوران پاکستان کے اسلامی تشخص کے خدوخال پوری طرح واضح کر دیئے تھے۔

''مجلس دستور ساز کو ابھی پاکستان کا دستور مرتب کرنا ہے۔ مجھے اس بات کا تو علم نہیں کہ دستور کی اصل شکل کیا ہو گی۔ لیکن مجھے اس امر کا یقین ہے کہ یہ جمہوری نوعیت کا ہو گا، جس میں اسلام کے لازمی اصول شامل ہوں گے، آج بھی جن کا اطلاق عملی زندگی میں ویسے ہی ہو سکتا ہے جیسا کہ تیرہ سو سال پہلے ہوتا تھا۔ اسلام نے ہر شخص کے ساتھ عدل اور انصاف کی تعلیم دی ہے۔ ہم ان شان دار روایات کے وارث ہیں اور پاکستان کے آئندہ دستور کے مرتبین کی حیثیت سے ہم اپنی ذمہ داریوں اور فرائض سے باخبر ہیں۔''

Comments



Note: No comments!



Leave a Reply

Success/Error Message Goes Here
Note: Please login your account and then leave comment!
TOP