پاکستان زندہ باد …آزادی پائندہ باد

یہ15 اگست کی روشن صبح تھی ! ایک نئی مملکت کا سورج آب و تاب سے آسمانِ دنیا پر چمک کر بانیٔ پاکستان اور حصولِ مملکت کے لئے جانوں کا نذرانہ دینے والوں کو خراجِ تحسین پیش کررہا تھا ۔ اُس وقت کے دارالحکومت کراچی میں آزادیٔ وطن کی تقریب جاری تھی ۔ شیخ الاسلام مولانا شبیر احمد عثمانی پرچمِ وطن لہراتے ہیں تو اچانک فضا میں نیوی بینڈ کی دھن گونجتی ہے اور پھر پاک بحریہ کے جوانوں کی زباں سے نغمہ گونجتا ہے  :

پاکستان زندہ باد …آزادی پائندہ باد

اسرارالحق مجاز کا تحریر کردہ یہ نغمۂ آزادی پاکستان کا وہ پہلا ترانہ تھا جس میں لفظ '' آزادی'' موجود تھا ۔ لیکن اس صبحِ آزادی کی خاطر نہ جانے کتنے ہی افراد نے اپنے لہو کے دیپ جلائے تھے  جن کی لوؤں سے یہ سورج جگمگ ' روشن و تاباں تھا۔ آزادی کی حقیقی ساعتوں میں شعر و ادب کے وہ چراغ بھی شامل تھے جنہوں نے اس قافلۂ ملّت کو منزلِ مراد کا راستہ دکھایا ۔ کبھی احتجاج کی شکل میں تو کبھی پیغامِ بیداری کی شکل میں … اقبال کے نعرۂ حریت بھی بلند ہوتے تو کبھی مولانا ظفر علی خان  کے پیغامِ آزادی سے ہندوستان کا قریہ قریہ آزادی کا پیکر بن جاتا۔ کبھی مولانامحمد علی جوہر کی نظمیں سامانِ آزادی مہیا کرتیں تو کبھی حسرت کے سخنِ آزادی اس سفر میں فکری جوش پیدا کرتے اور یوں یہ قافلہ 14 اگست کو منزلِ مقصود پر پہنچا تو ہر گام آزادی کے چراغ روشن تھے ۔

تحریکِ پاکستان میں جہاں اردو ادب نے نمایاں کردار ادا کرتے ہوئے کئی ملّی نظموں سے عوام کو شعور دیا وہاں ان میں لفظ آزادی بھی جوش پیدا کرتا ۔ یہی نظمیں اُس وقت ملّی ترانوں کا کردار ادا کررہی تھیں ۔اقبال کا شعر لفظ'' آزادی'' کی حقیقت بیان کرتے ہوئے کہتا ہے :

بندگی میں گھٹ کے رہ جاتی ہے اک جوئے کم آب

اور آزادی میں بحرِ بیکراں ہے زندگی

اسی طرح تحریکِ پاکستان کا مقبول نعرہ '' لے کے رہیں گے پاکستان ''  میں مسرت جہاں صدیقی نے آزادی کایوں رنگ بھرا  :

ہوکے رہیں گے ہم آزاد…شام و سحر ہے ہم کو یاد

قائدِ اعظم کا ارشاد …آئین اپنا ہے قرآن

لے کے رہیں گے پاکستان

بٹ کے رہے گا ہندوستان

اسرار الحق مجاز نے قیامِ پاکستان سے قبل ایک پرُ جوش ملّی نظم تحریر کی جس میں ''آزادی'' کی اہمیت بتاتے ہوئے باطل کو خبردار کیا کہ

'' آزادی کی دھن پہ کس نے آج ہمیں للکارا

خیبر کے گردوں پر چمکا'اِک  ہلال اک تارہ

سبز ہلالی پرچم لے کر نکلا لشکر سارا

پاکستان ہمارا … پاکستان ہمارا''

تحریکِ پاکستان کے زمانے میں خیبر پختونخوا کے بچّے بچّے کی زبان پر سید مظہر گیلانی کی  ایک نظم '' آزادی'' کا شعر بھی ہوتا تھا  جسے کسی جلوس میں نوجوان پڑھتے تو کانگریسی ذہنیت کے ہندو اور سکھ مسلمانوں کا جوشِ ا زادی دیکھ کر دکانیں بند کرکے بھاگ جاتے 

اٹھ کہ پاکستان تیرا حق ہے، تقدیر ہے

اٹھ کہ پاکستان تیرے خواب کی تعبیر ہے

آزادی پہ جان دینا ' آزادی تیرا چلن

چھین لینا یرغمالیوں سے تو اپنا وطن

( اس تاریخی نظم کے کچھ اشعار 1997 میں گولڈن جوبلی کے موقع پر طاہرہ سید نے پاکستان ٹیلی ویژن لاہور مرکز پر وزیر افضل کی موسیقی میں ریکارڈ کروائے)

قیامِ پاکستان کے بعد قومی نظموں کا ایک شاندار سلسلہ شروع ہوا اور جب یہ نظمیں موسیقی میں ڈھل کر ملّی نغمے بننے لگیں تو ان کی مقبولیت  میں اضافے کے ساتھ ساتھ پیغامِ وطن کو بھی فروغ ملنے لگا ۔ ان نغماتِ وطن میں جہاں پاکستان  کی تعمیر و ترقی کے لئے جذبات اور دعائیں شامل ہوتیں وہاں بہت سے نغمات میں لفظ'' آزادی'' بھی نمایاں  ہوتے ۔ جو عوامی مقبولیت کے ساتھ ساتھ ا ردو ادب میں آزادی کی اہمیت اور پاکستانیت کے بھی شہہ پارے بن چکے ہیں جیسا کہ تنویر نقوی نے جنگِ ستمبر میں کہی گئی اپنی نظم '' رنگ لائے گا شہیدوں کا لہو'' میں حصول و بقائے آزادی کے لئے لکھا :

''اپنی رفتار کو اب اور ذرا تیز کرو

اپنے جذبات کو کچھ اور جنوں خیز کرو

ایک دو گام پہ اب منزلِ آزادی ہے

آگ اور خوں کہ اِدھر امن کی آبادی ہے ''

پاکستان کے ابتدائی ملّی نغموں میں فیاض ہاشمی مرحوم کا تحریر کردہ نغمہ  ۔۔۔ ''مبارک آزادی …اے پاکستانیو ! لو مبارک بادی ''  بھی ا پنے دور کا مقبول نغمہ تھا جو 1947 کو ستارہ بیگم کی آواز میں ریکارڈ ہوا ۔ اسی طرح محشر بدایونی نے   ''آزاد مسلمان '' کی صدا لگاتے ہوئے کہا

آزاد مسلمان

یہ پاک زمیں ' یہ پاک وطن

یہ میرا پاکستان

یہ آزادی ' یہ صبحِ چمن …یہ میرا پاکستان

ریڈیو پاکستان کراچی ٹرانسکرپشن سروس کے تیار کردہ اس قومی نغمے  کے ذکر میں یہ بات بھی دلچسپ ہے کہ اس میں بھارتی گلوکار طلعت محمود کی آواز بھی شامل تھی جو اُن دنوں فلم '' چراغ جلتا رہا'' کے لئے کچھ گیت ریکارڈ کروانے پاکستان آئے تھے لیکن بھارت جس نے پاکستان کی '' آزادی '' کو دل سے تسلیم نہیں کیاتھا، اُس نے اس بھارتی مسلمان گلوکار کے لئے اس ''جرم'' پر فلمی صنعت کے دروازے بند کرکے کھلا تعصب دکھایا جبکہ اُسی زمانہ میں بھارتی گلوکاروں نے برطانیہ ' نیپال اور ایران کے لئے قومی نغمات بھی گائے تھے ۔

صوفی غلام مصطفی تبسم آزادی کو شان 'آن اور ایمان قراردیتے ہوئے قوم کے نونہالوں کے دل میں آزادی کی اہمیت اجاگر کرتے ہیں کہ :

آزادی ہے شان ہماری …آزادی ہے آن ہماری

آزادی ہے اپنا ایمان … دیس ہمارا پاکستان

اہلِ نظر کے ہاتھوں '' تازہ بستیاں آباد ''کروانے والے شان الحق حقّی مرحوم  اپنی ایک نظم میں نئی مملکت اور آزادی کی نعمت کا منظر نامہ اس طرح بیان کرتے ہیں :

صبحِ آزادی کی جاں پرور کرن…پھر ہے سازِ آرزو پر زخمہ زن

پھر لگی ہر دل میں اک تازہ لگن …لہلہایا حسرتوں کا پھول بن

ہو مبارک یہ آزادیٔ وطن

1955ء میں ریڈیو پاکستان سے ایک اور نغمۂ آزادی کورس کی شکل میں نشر ہوا جسے حمایت علی شاعر نے تحریر کیا تھا جس کے یہ اشعار بھی زبان زدِ عام ہوئے :

آزادی کی قدر کرو …اللہ کی  نعمت آزادی

دورِ غلامی زحمت ہے… اللہ کی نعمت آزادی

آزادی  پر مرنا مٹنا… اپنی عزت آزادی

جاں بھی جائے پھر بھی کریں گے تیری حفاظت آزادی

نعمتِ آزادی کی ان پر نور ساعتوں کا نقشہ تحریکِ پاکستان کے ایک مقبول شاعر جناب کیف بنارسی نے  اپنی نظم '' غم زدہ مہاجر سے '' میں یوں کھینچا :

خوشی کا وقت ہے اے دوست !غم کا وقت نہیں

کہ آج پائی ہے اسلامیوں نے آزادی

وہ رنگِ صبحِ بنارس ' وہ لطفِ شامِ اَوَدھ

ہم اپنے جذبِ تصور میں کھینچ لائیں گے

تم ایک تاج محل کے لئے افسردہ ہو

ہزار تاج محل ہم یہاں بنائیں گے

کہ آج پائی ہے اسلامیوں نے آزادی

پاکستان کے تیسرے  یومِ آزادی کے موقع پر لطیف انور نے ایک خوبصورت نظم  '' ہماری آزادی '' تحریر کی جو ریڈیو پاکستان لاہور سے نشر ہوئی جو فیض کے ''داغ داغ اجالا'' کے جواب میںعام روایتی انداز میں لکھی گئی تاکہ پاکستانی عوام ''سرخ آندھی'' کی زد میں نہ آسکیں ۔ چھوٹی بحر میں پرُفکر نظم آزاد مملکت کا منظر دکھاتے ہوئے کہتی ہے :

آزادی کا ہوا سویرا …دور ہوا گھنگھور اندھیرا

ہر جانب نزدیک اور دور…پھیل گیا ہے صبح کا نور

ہم ہیں اب آزاد …پاک وطن ہم سے آباد

جناب میجر (ر) ضمیر جعفری صاحب آزادی کی نعمت کو وطن کی روح بتاتے ہوئے اسے اپنا دل و جان کہتے ہیں کیونکہ مملکت آزادی سے ہی مشروط ہے۔ پاکستان ٹیلی ویژن کے لئے 1986میں لکھے گئے اپنے نغمے میں انہوں نے آزادی کی نعمت کوگھٹاؤں کا کاجل ' ہواؤں کی خوشبو اور ارضِ وطن کی آبرو کہا اور پورے نغمے میں آزادی کی تعریف کے لئے خوبصورت استعارے استعمال کئے :

میرا دل میری جاں

میری آزادی…میری آزادی

یہ کاجل گھٹاؤں کا …یہ خوشبو ہواؤں کی

اسی سے آبرو قائم  میرے شہروں کی گاؤں کی

یہ آنچل میری بہنوں کا ' یہ چادر میری ماؤں کی

میری آزادی … میری آزادی

پروفیسر حسن اکبر کمال اپنی نظم '' نامعلوم سپاہی '' میں ارضِ پاکستان کو ''' آزادی کا نام '' قراردیتے ہوئے ہوئے نغمۂ وطن کہتے ہیں :

پاکستان آزادی کا نام

پاکستان تیری میری پہچان

پاکستان ہے جب تک یہ جہاں

پاکستان ہے جب تک آسماں

( یہ نغمہ1994 میں Keynotes Band نے پاکستان ٹیلیوژن  کے لئے ریکارڈ کروایا )

آزادی کے لئے یومِ آزادی کی مناسبت سے بھی شعراء نے ان گنت نغماتِ وطن کہے جن میں '' میں بھی پاکستان ہوں تو بھی پاکستان ہے '' کا نظریۂ'' فنا فی الوطن'' دینے والے صہبا اختر مرحوم ریڈیو پاکستان کراچی کے لئے  یومِ آزادی کو مدِ نظر رکھتے ہوئے لفظ'' آزادی'' سے اپنا قومی سخن یوں سجاتے ہیں  :

آج خوشی کے دیپ جلاؤ موسم ہے آزادی کا

مل کر سارے جشن مناؤ ' موسم ہے آزادی کا

( یہ نغمہ سینٹرل پروڈکشن یونٹ ریڈیو پاکستان کراچی پر مہناز بیگم اور ساتھیوں کی آوازوں میں تیار ہوا )

قومی نغمات کے معروف شاعر اور ''سوہنی دھرتی ''کو رہتی دنیا تک آزاد دیکھنے والے جناب مسرور انور نے آزادی کو یومِ آزادی سے منسلک کرتے ہوئے خوب اشعار کہے جو یقینا ہمارا ملّی ادبی سرمایہ بھی ہیں کہ

 ہر دھڑکن میں آزادی کا پھول کھلا تھا آج کے دن

اس دھرتی کو پاکستان کا نام ملا تھا آج کے دن

( اس نغمہ کی تسجیل سینٹرل پروڈکشن یونٹ ریڈیو پاکستان لاہور پر اے نیرّ اور ساتھیوں نے وجاہت عطرے کی موسیقی میں کروائی )

اسی طرح لاہور ریڈیو کے لئے کلیم عثمانی بھی یومِ آزادی پر دل کی روشنائی سے تحریر کرتے ہیں جسے ترنم ناز اور ساتھی گاتے ہوئے بتاتے ہیں کہ :

آزادی کے افسانے کا یہ اُجلا عنوان

یہ دن ہے پہچان ہماری ' ہم اس کی پہچان

محشر بدایونی بھی جشنِ آزادی منانے کا پیغام '' چودہ اگست ''کے ساتھ دیتے ہوئے کہتے ہیں  :

جشن آزادی منائیں آج ہے چودہ اگست

سربھی سجدے میں جھکائیں آج ہے چودہ اگست

آج کی تاریخ ہے آغاز پاکستان کا

آج کی تاریخ نقشِ ناز پاکستان کا

سب ہیں خوش پرچم ہے سر افراز پاکستان کا

خالقِ کونین ہے دم ساز پاکستان کا

لاہور ریڈیو کے لئے ناصر رضوی آزادی اور جشنِ آزادی کے ساتھ پاکستانیوں کو عزم و اعتماد کا پیغام دیتے ہیں کہ

 آزادی کا جشن مناتے جائیں گے

فکر و عمل کے دیپ جلاتے جائیں گے

آزادی پر مبنی اشعار اور قومی نغمات میں  فلم '' جناح'' کے لئے لکھے گئے قومی نغمے میں صابر ظفر کا یہ شعر تو گویا آزادی کے حصول اور اُس کے عوامل بھی بتاتا ہے کہ :

جنون سے اور عشق سے ملتی ہے آزادی

قربانی کی بانہوں میں ملتی ہے آزادی

الحمدللہ ! آج آزادی اور تخلیقِ پاکستان کو71 برس بیت گئے اور پاکستان کا پرچم دنیا میں سرفراز اور پاکستانی عوام سُرخرو ہیں ۔ ہر سال آزادی کے جشن میں کہی گئی ملی نظموں اور نغموں میں اضافہ ہی ہوتا ہے اور ان شاء اللہ تاابد ہوتا رہے گا کیونکہ  :

جتنے ہمارے ہیں شہہ پارے -- دیتے ہیں سارے پیغام تیرا

ہم ہیں سجیلے فنکار تیرے … ہے فن ہمارا انعام تیرا

ہم کو ملی چاہت تیری … تیرے ہی نغمے گائیں گے


[email protected]

 

Comments



Note: No comments!



Leave a Reply

Success/Error Message Goes Here
Note: Please login your account and then leave comment!
TOP