پاکستان۔۔ خواب سے تعبیر تک

پاکستان اسی روز قائم ہوگیا تھا جس دن پہلے مسلمان نے برصغیر میں قدم رکھااور یہ اس وقت تک قائم رہے گا جب تک ایک بھی مسلمان یہاں موجود ہے۔کارلائل نے کہا تھا کہ تاریخ عالم محض بڑے آدمیوں کی سوانح کا نام ہے۔ اس بات کی تصدیق یوں ہوتی ہے کہ قائد اعظم محمد علی جناح کی سوانح کو تحریک پاکستان کی تاریخ کہہ سکتے ہیں۔ کارلائل نے یہ بھی کہا تھا کہ بڑا آدمی آسمان سے گرنے والی بجلی کی طرح ہوتا ہے جس کی چکا چوند نگاہوں کو خیرہ اور ماحول کو ششدر کر دیتی ہے، عام آدمی تو ایندھن ہوتا ہے جو آسمان سے گرنے والی بجلی کے انتظار میں ہوتا ہے۔

 

 23مارچ1940سے 14اگست 1947محض ساڑھے سات برسوں میں قرارداد پاکستان منظور ہوئی، عمل ہوا اور پاکستان دنیا کے نقشے پر ایک عظیم اسلامی ملک کی حیثیت سے وجود میں آگیا،لیکن یہ ملک طشتری میں سجا کر پیش نہیں کیا گیا، ہزاروں انسانی جانیں تحریک پاکستان کا ایندھن بنیں۔ گھر بار لٹے، راوی ، ستلج اور بیاس کا پانی قیام پاکستان کے لئے قربانیاں دینے والوں کے خون سے مدتوں سرخ رہا تب جا کر پاکستان کی تکمیل ہوئی۔ قیام پاکستان کے وقت کسمپرسی کا یہ عالم تھا کہ تنخواہیں دینے کے لئے پیسے موجود نہیں تھے، پاکستان کے حصے کا اسلحہ اور روپیہ بھارت نے ہڑپ کر لیا۔ ابھی نوزائیدہ مملکت پاکستان سنبھلنے بھی نہ پائی تھی کہ بھارت نے کشمیر میں فوج اتار کے ایک نیا محاذ کھول دیا اور ریاست جونا گڑھ پر شب خون مارا ۔ مہاراجہ ہری سنگھ سے ساز باز کی۔ پاکستان کے لئے ہجرت کرنے والے قافلوں کو لوٹااورقتل و غارت گری کا بازار گرم کیا گیا اور ایک سازش کے تحت اس سے پہلے پولیس سے اسلحہ واپس لے لیا گیاتھا۔ کیونکہ قیام پاکستان سے پہلے پولیس میں مسلمانوں کی اکثریت تھی اور ہندو بنیے کو یہ شبہ تھا کہ پولیس مسلمانوں کی حفاظت کرے گی اس لئے اسے نہتا کر دیا گیا تھا۔ پاکستان کے حصے میں آنے والی فوج کی کوئی ایک بٹالین بھی پوری نہ تھی، کوئی بریگیڈ موجود نہ تھا۔ جو فوج پاکستان کو ملی وہ ایک جگہ بھی نہیں تھی بلکہ برصغیر کے مختلف علاقوں میں بکھری پڑی تھی یہی وجہ تھی کہ جہاں مسلمانوں کے قافلے تشکیل پائے، اسی طرح فوج کو اکٹھا ہونے اور ہجرت کے کرب سے گزرنا پڑا۔ آج پلٹ کر دیکھیں تو سب خواب سا لگتا ہے نئی نسل یقین کرنے کو تیار نہیں کہ اس قدر کس مپرسی میں قائم ہونے والا ملک جو معمولی سی سوئی بنانے کی صلاحیت سے بھی عاری تھا، وہ ایٹمی قوت بن گیا، وہ جس کے قیام کے وقت ایک بھی فوجی بٹالین مکمل نہ تھی آج وہ دنیا کی بہترین افواج کا حامل ہے۔

 

پاکستان کی اسلامی ریاست کے حصول کی وجہ دو قومی نظریہ ، اسلامی اقداراور تعلیمات کی ترویج و پابندی اور ان پر عمل پیرا ہونا تھا مگر بانیِ پاکستان قائد اعظم محمد علی جناح کے بعد ملک کے سیاسی حالات کچھ ایسے رہے کہ باقی سب کچھ تو ایک طرف ہم سیاسی اور جمہوری استحکام سے بھی عاری رہے اوروطن عزیز نے، جس کے حصول کے لئے مسلمانان برصغیر نے بے شمار قربانیاں دیں، ہندوئوں کے گھنائونے مظالم برداشت کئے مگر لازوال اتحاد کا مظاہرہ کرتے ہوئے شاعر مشرق علامہ اقبال کے خواب کی تعبیر اور بابائے قوم محمد علی جناح کی پرعزم، زیرک اور دانشمندانہ قیادت میں قیام پاکستان کی تکمیل میں کوئی دقیقہ فروگراشت نہ کیا اور دنیا کے نقشے پر پہلی اسلامی نظریاتی ریاست پاکستان کے نام سے قائم ہوئی۔ مگر دکھ یہ ہے کہ تحریک پاکستان کے قائدین اور خصوصاً قائد اعظم کے فرمودات پر عمل پیرا ہونے کے برعکس قیام پاکستان کے مقاصد کی تکمیل کو تج کر ہمارے سیاستدان ہی باہمی چپقلش اور اختلافات کے باعث تعمیر پاکستان میں سد راہ بن گئے اور ان میں بتدریج اضافے کے باعث سیاسی مخالفت، ذاتی مخالفت پر منتج ہوئی جو کسی بھی طرح ملک کی تعمیر کے لئے نیک فال نہ تھی اور سیاستدان ملکی و قومی مفاد کے بجائے ذاتی مفادات کے حصول میں سرگرم ہوگئے جس کے باعث قومی اور باہمی مفاد معدوم رہا اور  بعدازاں کرپشن کی لہر نے ملک کو بری طرح اپنی لپیٹ میں لے لیا ۔جو وطن عزیز کی تعمیر و ترقی کے لئے سمِ قاتل سے کم نہ تھی جس پر شاعر مشرق علامہ اقبال کا یہ شعر صادق آتا ہے

 

فرقہ بندی ہے کہیں اور کہیں ذاتیں ہیں

کیا زمانے میں پنپنے کی یہی باتیں ہیں

 

گروہی اور ذاتیات وشخصیات اور مفادات کی سیاست سرعت کے ساتھ وسعت پذیررہی اور ہم ایک قوم کے بجائے ہجوم بن گئے اور ملکی ترقی کا پہیہ  ساکت ہوکر رہ گیا جس کے باعث بے روزگاری اور مہنگائی میں اضافے کے ساتھ ساتھ ملک کی ترقی بھی رک گئی اور ملک کی سیاست پر سرمایہ دار ، جاگیر دار، وڈیرے اور مفاد پرست مسلط ہوگئے جس سے بے پناہ مسائل نے جنم لیا، جس سے براہ راست غریب اور عام آدمی متاثر ہوا۔ ضرورت اس امر کی تھی کہ ہمارے سیاستدان ، سیاسی اور مذہبی جماعتیں پاکستانی قوم کو اتحاد، اتفاق، قومی یکجہتی اور ملک کو سنوارنے اور اقتصادی طور پر مضبوط بنانے جیسے سنہرے اصولوں سے بہرہ ور کرتے اور تفرقہ بازی سے دور رکھنے میں کوئی بار آور سعی کرتے مگر ایسا نہ ہوسکا بلکہ 71سالوں میں اس میں بتدریج اضافہ ہوا یہاں تک کہ ہماری مذہبی جماعتوں نے بھی اس اہم مسئلے میں کوئی قابل ذکر کردار ادا نہ کیا بلکہ اپنی ساری توجہ سیاست پر مرکوز رکھی اور کسی بھی طرح قومی خواہشات اور امنگوں پر پوری نہ اتر سکی۔

 

ہمارے سیاستدانوں اور منتخب ممبران اسمبلی جن کی اکثریت دیہی علاقے سے تعلق رکھتی ہے اور جو وسیع اراضیوں کے مالک ہیں اور جن کا ذریعہ آمدنی بھی زراعت ہے، انہوںنے بھی شعبہ زراعت کی طرف نہ تو خود کبھی توجہ دی اور نہ ہی حکومتوں کو مجبور کیا کہ وہ زراعت کی ترقی اور بہتری کے لئے کچھ کریں ۔ یہ بات اظہر من الشمس ہے کہ ہمارا ملک ایک زرعی ملک ہے اور جس کی 61فیصد دیہی آبادی کا ذریعہ معاش زراعت سے ہی وابستہ ہے مگر کسی حکومت نے بھی کسان اور زراعت کی ترقی کوقابلِ توجہ نہ سمجھا اور نہ ہی انہیں جدید زرعی تکنیک اور جدید مشینری کی افادیت سے آگاہ کیا اور نہ ہی یہ جدید تکنیک اور مشینری انہیں فراہم کرنے کی کوشش کی۔ اس حوالے سے ہمارے ملک کا زرعی طبقہ جو شہروں کی آبادی سے کہیں زیاد ہ ہے، پسماندگی کا شکار ہے۔ اگر زرعی شعبے پر توجہ دی جاتی اور اسے ترقیاتی خطوط پر استوار کیا جاتا تو نہ صرف زرعی طبقہ خوشحال ہوتا بلکہ اس کے اثرات 39فیصد شہری آبادی پر بھی مرتب ہوتے اور یوں دیہات اور شہرخوشحالی سے ہمکنار ہوتے۔ زرعی ترقی کے لئے پانی اور بجلی بنیادی اہمیت کے حامل ہیں مگر ہم نے اس طرف بھی کوئی توجہ نہیں دی اور نہ ہی پانی کے ضیاع کو روکنے کے لئے ڈیم بنائے ۔ صدر ایوب کے دور میں کچھ ڈیم تعمیر ہوئے لیکن اس کے بعد آج تک کوئی قابل ذکر ڈیم تعمیر نہ ہوسکا جس کے باعث ہم سالانہ 25ار ب روپے کا پانی ضائع کرتے ہیں جو ایک لمحۂ فکریہ ہے اور نئے ڈیموں کی تعمیر وقت کا اہم ترین تقاضا ہے۔ اسی طرح تعلیم اور صحت کے شعبے ہیں جو زبوں حالی کا شکار ہیں۔ سرکاری ہسپتالوں کی حالت زار یہ ہے کہ ایک ایک بستر پر کئی مریض لیٹے ہوتے ہیں ، ادویات کی عدم دستیابی کے باعث سیکڑوں مریض متاثر ہوتے ہیں اور بعض جان کی بازی بھی ہار جاتے ہیں۔ دوسری طرف پرائیویٹ ہسپتالوں میں مہنگا ترین علاج ہے جو عام آدمی کی دسترس سے باہر ہے۔ یہ ایک مسلمہ امر ہے کہ صحت مندقوم ہی ملک کی ترقی اور خوشحالی کی ضمانت ہوتی ہے۔ یہ شعبہ بھی فوری توجہ کا طالب ہے۔ اسی طرح تعلیم کا شعبہ ہے جسے آج تک ہم پاکستان کی نظریاتی بنیادوں سے ہم آہنگ نہیں کر سکے۔ سرکاری تعلیمی اداروں کا نصاب الگ ہے اور پرائیویٹ اداروں کا الگ اور اس پر مستزاد یہ کہ پرائیویٹ تعلیمی اداروں کی فیس غریب آدمی کی پہنچ سے باہر ہے ۔ سرکاری تعلیمی اداروں اور پرائیویٹ اداروں کا اختصاراً جائزہ لیا جائے تو یہ فرق نمایاں نظر آئے گا کہ سرکاری اداروں کا معیار تعلیم پرائیویٹ اداروں سے بہت کم ہے جس کے باعث سرکاری ادارے کلرک پیدا کرتے ہیں جبکہ پرائیویٹ ادارے حاکم اور یوں قابل مگر غریب طالب علم اس تفاوت سے بری طرح متاثر ہوتا ہے ۔ اگر صنعتوں کا ذکر کیا جائے تو ان کی حالت بھی قابل داد نہیںکہ یہ بھی بجلی کی مرہونِ منت ہوتی ہیں اور بجلی کی صورت حال سے ایک عالم واقف ہے۔

 

ان تمام عوامل کے باوجود یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ گزشتہ 71سالوں میں پاکستان نے ہر شعبۂ زندگی میں ترقی بھی کی ہے۔ قیام پاکستان کے ابتدائی ایام میں نوزائیدہ مملکت پاکستان کو طرح طرح کے مسائل کا سامنا تھا۔ یہاں تک کہ سرکاری اداروں میں پیپر پن بھی دستیاب نہیں تھی اوراس کا کام کانٹوں سے لیا جاتا تھا۔ اس مرحلے پر محب وطن صنعتکاروں ، تاجروں اور دیگر لوگوں نے وطن عزیز کی بے حد خدمت کی فیکٹریاں اور کارخانے قائم کئے دیگر شعبوں میں بھی ترقیاتی کام ہوئے ۔ یہاں تک کہ آزاد ی کے وقت افواج پاکستان کے پاس سامان حرب بھی ناکافی تھا مگر آج پاک فوج کے پاس میزائل اور جوہری طاقت بھی ہے۔ یہ قوت اس وقت حاصل ہوئی جب پاکستان میں ڈھنگ کی سائیکل بھی تیار نہیں ہوتی تھی اور اب عسکری قیادت کی دانشمندانہ پالیسیوں کے باعث پاک فوج کو دنیا کی بہترین فوج قرار دیا گیا ہے۔ جب روس اور امریکہ کی افغانستان میں فوج کشی اور اس میں پاکستان کی شمولیت اور روس کے ٹوٹنے کے بعد دہشت گردی نے جنم لیا اور 9/11 کے بعد اس میں تیزی سے شدت آئی تو افواج پاکستان نے بڑی دلیری اور شجاعت کامظاہرہ کرتے ہوئے اپنی بہترین حکمت عملی سے دہشت گردی کا قلع قمع کرنے میں کامیابی حاصل کی اور اس کامیابی میں افواجِ پاکستان کے بڑی تعداد میں دلیر نوجوانوں نے قربانیاں دیں۔ پاک فوج نے دہشت گردی کے خلاف متعدد آپریشن کئے جن میں:

 

آپریشن المیزان،آپریشن راہ حق،آپریشن شیر دل،آپریشن صراط مستقیم،آپریشن راہ راست،آپریشن راہ نجات،آپریشن کوہ سفید،آپریشن ضرب عضب،آپریشن ردالفسادشامل ہیں۔

علاوہ ازیں ملک میں کبھی سیلاب آئے یا زلزلہ تو ہمیشہ پاک ا فواج ہی اس سلسلے میں نہ صرف دن رات ایک کرکے متاثرین کی مدد کرتی ہیںبلکہ ان آفات سے بڑی دلیری اور جوانمردی سے نبرد آزما ہوتی ہیں اور اس وقت تک عمل پیرا رہتی ہیں جب تک ان پر قابو نہ پالیں۔ہماری دلیر افواج نے ہر کڑے وقت میں وطنِ عزیز کے لئے قربانیاں دے کر ملکی و قومی استحکام کے لئے متاثر کن اور قابلِ ستائش امور انجام دیئے ہیں۔

 

ضرورت اس امر کی ہے کہ ہمارے حکمران ، قائدین اور سیاستدان اپنے سیاسی اور دیگر اختلافات کو پس پشت ڈال کر ملک وقوم کی بھلائی ، بہتری اور استحکام کے پیش نظر بھرپور اتحاد کا مظاہرہ کریں اور یہ اتحاد وقتی اور عارضی نہ ہو بلکہ دائمی بنیادوں پر قائم ہو جوصرف ملک و قوم کے لئے ہی نہیںبلکہ ان کے اپنے بھی بہترین مفاد میں ہوگا ملک کا ہر فرد اور سیاستدان اپنے علاقے سے پیار کرے، وہاں کے مسائل دیانتداری سے حل کرے، اپنی علاقائی ثقافتوں کی ترویج کرے ان سے محبت کرے ، اپنی علاقائی زبان سے الفت کرے، اپنی رسومات کو چاہے، اپنی ذات اوربرادری سے پیار کرے کیونکہ یہ ایک فطری امرہے مگر شرط یہ ہے کہ وہ ان سب سے بڑھ کر والہانہ طور پر صرف پاکستان سے پیار کرے، جو ان سب خوش رنگ پھولوں کا ایک دلکش گلدستہ ہے تو پھر آپ دیکھیں گے کہ پاکستانی قوم جسے اللہ تعالیٰ نے بہترین صلاحیتیں عطا کی ہیں وہ آپ کی قائدانہ صلاحیتوں کا اعتراف بھی کرے گی اور دل لگا کر بھر پور محنت سے پاکستان کی ترقی میں اہم کردار ادا کرے گی۔ پاکستان کے پاس دنیا کی بہترین قوم ، بہترین فوج اور بہترین محل وقوع ہے اور اگر ہم ہر چیز سے بلند ہوکر صرف اتحاد ، یگانگت ، اتفاق اور بھائی چارے کا مظاہرہ کریں توکوئی وجہ نہیں کہ ہم بہت جلد دنیا کی ترقی یافتہ اقوام کی صف میں کھڑے نہ ہوں۔


مضمون نگاردرس و تدریس کے شعبے سے وابستہ ہیں اور مختلف اخبارات و جرائد کے لئے لکھتے ہیں۔

[email protected]

 

Comments



Note: No comments!



Leave a Reply

Success/Error Message Goes Here
Note: Please login your account and then leave comment!
TOP