پاکستان۔۔۔۔میری پہچان

یومِ آزادی کی مناسبت سے ملک کے ممتاز گلوکار فاخر کی ہلال کے لئے خصوصی تحریر

ہمارے آباء نے ایک بیش بہا احسان ہم پریہ کیا کہ وہ ہمیں یہ خطہ ارضی دے گئے لیکن ان70 سالوں میں ہم نے دیکھاکہ بہت لوگوںنے ہمارے وطن کے وجود پر باتیں کیں اور قیامِ پاکستان کے محرکات پر تنقید بھی کی۔ پھر سانحۂ سقوطِ ڈھاکہ ہوا۔ دو قومی نظریہ دفن ہونے کی بات ہوئی۔ بحیرئہ عرب میں اس کو غرق کرنے کی باتیں کی گئیں، تمسخر اُڑا یا گیا۔ لیکن بالآخر جو نتائج برآمد ہوئے وہ ہم دیکھ رہے ہیں۔ آج دنیا بھر میں جوسیاست چل رہی ہے، شدت پسندی آرہی ہے۔ جو ہمارے پڑوس (ہندوستان )میں ہو رہا ہے اس کے بعد ایک Conclusion اور میری ذاتی رائے ہے کہ یہ وطن ہمارے بزرگوں کی کوششوں کا ثمر ہے۔ یہ ٹھیک ہے کہ Ideologiesبھی تبدیل ہوتی ہیں Definitions بھی تبدیل ہوتی ہیں کیونکہ دنیا میں کوئی بھی چیز حتمی نہیں ہے۔ یہ سب چیزیں تبدیل ہوتی رہتی ہیں تاکہ بہتر ہوں۔ کوئی چیز حرفِ آخر نہیں ہوتی۔

                ثبات ایک تغیرّ کو ہے زمانے میں         اقبال

کوئی چیز حرف ِ آخر نہیں ہے۔ اسی طرح ہمارے وطن کے قائم ہونے کے پیچھے یہ جو نظریات ہیں ان کی اساس تبدیل نہیں ہوئی اور اس میںکوئی شک نہیں ہونا چاہئے کہ یہ وطن انتہائی ضروری تھا۔ ہمیں پھلنے پھولنے کے جو مواقع یہاں میسر ہیںکہیں نہیںہو سکتے تھے۔ ہندوستان میں بھی گیا ہوں، بہت لوگ جاتے ہیں لیکن کسی بھی صورت میں اگر وطن کے خلاف کوئی بھی بات کہے تو ہم اس کا منہ توڑ دیتے ہیں۔ اس کا چہرہ نوچنے کو دل کرتا ہے۔اگرچہ بہت سے مسائل ہیں، کیونکہ 70 سال قوموں کی زندگی میںکوئی زیادہ وقت نہیں ہوتاتاہم یہ وقت بھی گزر جائے گا اور اس کے بعد ایک عالی شان اور پُروقار منزل ہماری منتظر ہے،یہ نئی مملکت ہے نئی قوم ہے اورپھر پھلنے پھولنے میں، سنبھلنے میں، وقت لگتا ہے مگر میں پُراُمید ہوں کہ یہ مسائل یہ مایوسی، یہ سب وقتی ہیں۔ جو خواب ہمارے بزرگوں نے دیکھے تھے وہ ہمیں اب سچے ہوتے نظر آرہے ہیں۔ ایک پرفیکٹ سوشل ویلفیئر سٹیٹ ہمیں اب نظر آنے لگ گئی ہے اور ہم اسی سفر کی جانب گامزن ہیں۔ اس ملک کی صورت میں جو پودا لگایا گیا تھاوہ اب تن آور شجر بن چکا ہے،پاکستان ایٹمی طاقت ہے۔ 1940 میں مختلف رنگ و نسل سے تعلق رکھنے والے لوگوں کی صورت میں، یک جا ہونے والے افراد ایک گلدستے کی طرح ہیں اور یہ گلدستہ آج عالمِ اسلام کی خصوصی شناخت ہے ۔

 

میں شدت پسندنہیں ہوںتاہم ان تمام چیزوںکا جائزہ لینے کے بعدایک رائے قائم کرتا ہوں۔ میں سمجھتا ہوں کہ جو نظریات ہمیں پڑھائے گئے وہ بالکل ٹھیک تھے، اور انہی کی بدولت میری وطن سے محبت جنم لیتی ہے۔میری، اپنی ثقافت سے محبت، اپنے لوگوں سے محبت اور موسیقی سے محبت بھی وہیں سے جنم لیتی ہے۔ اگر میوزک میں میرے وطن کی محبت کا تڑکہ نہ لگا ہوتاتو آج میں جو بھی ہوںیہ نہ ہوتا۔۔ جب مجھے Pride Of Performanceدیا گیاتو مجھے یقین نہیں آرہا تھا کیونکہ میں نہ تو زیادہ مشہور تھا اور نہ میری کسی سے ایسی دوستی تھی اس پر مجھے احساس ہوا کہ ریاست میں کچھ لوگ ایسے ہوتے ہیں جو جاگ رہے ہوتے ہیں اور سب دیکھ رہے ہوتے ہیں۔ ان کو علم ہوتا ہے کہ کیا ہو رہا ہے اور کیا نہیں۔ کون کیا کررہا ہے اورکیا نہیں ، اور وہسراہتیبھی ہیں۔

 

 پاکستان سے باہر جا کر میںنے بہت کام کیا وہاں رہ کر پاکستان سے محبت کرنے والوں کے ساتھ کام کرنا ایک بالکل الگ تجربہ ہوتا ہے۔جب آپ ہی کی طرح کے پاک وطن کے شیدائی آپ کے ساتھ ہوتے ہیں جن کے لئے آپ Perform کر رہے ہوتے ہیں تو یہ محبت اور بڑھ جاتی ہے۔

 

میری کامیابی کے پیچھے بھی میرے وطن کے لئے گائے گئے نغمے ہیں اور اس محبت کو پروان چڑھانے کے لئے ہمیں یہ سلسلہ جاری رکھنا پڑے گا کیونکہ موسیقی سے حوصلہ ملتا ہے۔ اس میں احساس ہوتا ہے جو ہمیں Motivate کرتا ہے۔جب میںنے آئی ایس پی آرکے ساتھ کام کیامجھے معلوم ہوا کہ جتنا نظم و ضبط اوراچھے دوستانہ ماحول کا حامل ادارہ ہماری پاک فوج ہے اس طرح کی ڈیلنگ ہمارا کوئی اور ادارہ نہیں کرسکتا۔ ہماری تینوں مسلح افواج کا یقینا کوئی ہم سَر نہیں ہے۔اس لئے جہاں پر Credit دینے کا حق بنتا ہے ہمیں دینا چاہئے۔ کیونکہ یہ سب ہمارے اپنے ہیں ہمیں ان کا مورال ہائی رکھنا ہے۔ جو کام یہ کررہے ہیں وہ ہم کر ہی نہیں سکتے۔ کوئی عام انسان اپنی جان ہتھیلی پر رکھ کر، کفن سرپر باند کر،گھر سے نہیں نکلتا۔ اس لئے ان سرفروشوںاور جاں نثاروں کی ہمت اور حوصلہ بنیں۔ یہی وقت ہے ان کی ہمت بننے کا، نفرتیں ختم کرنے کا،اور ایک دوسرے سے سیکھنے کا۔ کیونکہ پاکستان نے تاقیامت سلامت رہنا ہے۔ ان شاء اﷲ! تو پھر کیوںنہ ہم اس کو ترقی کی ان منزلوں تک پہنچادیں جہاں پر ہماری آئندہ آنے والی نسلیں ایک پُرامن اور خوشحال ماحول میں اپنا مستقبل سنوار سکیں۔

Comments



Note: No comments!



Leave a Reply

Success/Error Message Goes Here
Note: Please login your account and then leave comment!
TOP