پانی کی قلت پر قابو پانے کے اقدامات

 مملکتِ خداداد پاکستان کی ترقی پذیری سے ترقی یافتگی کی جانب بڑھنے کی صلاحیتوں اور مواقع کے حصول کی کوششوں کے ساتھ ساتھ بڑھتی ہوئی آبادی کے پیش نظر شہروں کے نوآبادیاتی نظام سے جہاں بہت سے مسائل نے جنم لیا ہے وہاں سہولیات کے حصول کی کوششیں اور مانگ میں بھی اضافہ ہوا ہے۔ تعلیم، صحت، خوراک، زراعت، توانائی کی ضروریات سے بڑھ کر پینے اور آبپاشی کے لئے پانی کا مسئلہ ایک بڑے چیلنج کے طور پر ابھر کر سامنے آیا ہے۔ گزشتہ چند دہائیوں سے پاکستان کے روایتی حریف ہمسایہ ملک بھارت کی طرف سے پاکستان دشمنی میں جو اقدامات اٹھائے جاتے رہے ہیں، ان میں پاکستان کو بے آب وگیاہ اور بنجر کرنے کے لئے بھارتی چیرہ دستیاں حالیہ برسوں میں بہت زیادہ نمایاں نظر آنے لگی ہیں جو پاکستان میں پالیسی سازوں کے لئے نہ صرف ایک لمحہ فکریہ ہے بلکہ پاکستان کی خوراک، زراعت، معیشت، ضروریات زندگی کے تمام شعبوں پر پڑنے والے اثرات سے بچنے کے لئے کسی بڑی ممکنہ حکمت عملی کو اختیار کرنے کی جانب پوری قوم کی توجہ مبذول کرا رہی ہے۔ بحیثیت قوم ہمیں مل کر اس بڑے چیلنج کو حل کرنے کی جانب آگے بڑھنے کی ضرورت ہے تاکہ نہ صرف بھارتی عزائم کو خاک میں ملایا جا سکے بلکہ وطنِ عزیز کی شادابی، خوشحالی اور استحکام کے لئے مستقبل کی پیش بندی کی جا سکے۔ اس ضمن میں پاکستان میں حکومتیں اور پالیسی سازبے خبر نہیں ہیں بلکہ بہت سے اقدامات اٹھائے بھی جا رہے ہیں لیکن اس کے باوجود ان سطحی اقدامات سے بڑھ کر کچھ کرنے اور ملک میں آبی ایمرجنسی نافذ کرنے کی ضرورت ہے۔ معاملے کی سنگینی کے پیش نظر گزشتہ پانچ سال کے دوران جو اقدامات اٹھائے گئے ہیں ان کا مختصر جائزہ بھی ہمیں بتائے گا کہ یہ اقدامات اس مسئلے کو حل کرنے میں کتنے مفید ہیں اور کس قدر پائیدار ہوں گے تاکہ ان پر مزید توجہ دی جائے۔

 

ملک میں پانی کی کمی کے مسئلے پر قابو پانے اور آبی ذخائر اور پانی کی ضرورت کو پورا کرنے کے لئے مختصر ، درمیانی اور طویل المدتی منصوبوں پر کام جاری ہے ۔2013ء کے بعد پن بجلی کے منصوبوں کی پیداوار میں نمایاں اضافہ ہوا ہے فی الوقت پانی سے تقریباً 7ہزار میگاواٹ بجلی پیدا کرنے کی گنجائش ہے جبکہ دیامیر بھاشا، داسو ہائیڈرو پاور پروجیکٹ ، نیلم جہلم ہائیڈرو پاور پروجیکٹ سے تقریباً 98 سو میگا واٹ بجلی حاصل ہونے کی توقع ہے ۔ ملک کی 60 فیصد آبادی زراعت کے شعبے سے وابستہ ہے۔ جس کی وجہ سے پانی کی طلب میں اضافہ ہوتا جارہا ہے، 3 فیصد پینے کا صاف پانی ہے جس میں 70 فیصد پانی گلیشیئر سے آتا ہے۔ 24 فیصد زیر زمین سے جبکہ ایک فیصد دریاؤں اور ندیوں سے آتاہے۔ 1979 میں اوسط پانی183 ملین ایکٹر فٹ تھا جو اب 145 ملین ایکٹر فٹ رہ گیا ہے۔ پاکستان ان 15 ممالک میں شامل ہے جن کو پانی کی کمی کا خطرہ لاحق ہے۔پاکستان میںکل پانی کا 90فیصد آبپاشی کے لئے استعمال کیا جاتا ہے جبکہ اس میں سے 50 فیصد پانی فرسودہ کنوؤں کے نظام اور پانی چوری کی وجہ سے ضائع ہورہا ہے جس سے پانی کی قلت میں اضافہ ہوتاجارہا ہے۔ پانی ذخیرہ کرنے کی صلاحیت 18 ملین ایکڑ فٹ سے کچھ زائد ہے جس میں تربیلا ڈیم کی 6.17 ملین ایکڑ فٹ ہے۔25 ملین ایکڑفٹ پانی ضائع ہورہا ہے جس کو ذخیرہ کیا جا سکتا ہے۔امسال تربیلا ڈیم میں 36 فیصد پانی کم جمع ہوا ہے۔ دیا میراور بھاشا ڈیم بننے سے تربیلا ڈیم کی عمر 25 سال بڑھ جا ئے گی۔

 

پاکستان میں کل 155 ڈیم ہیں جن میں 30 دنوں کے لئے پانی ذخیرہ ہو سکتا ہے جو کہ 120 دن ہونا چاہئے ۔ رواں مالی سال 2018-19ء میں پانی کے مختلف منصوبہ جات کے لئے پی ایس ڈی پی میں 174651 ملین روپے مختص کئے گئے ہیں جن میں سے 36750 ملین روپے ادا کئے گئے ہیں۔ بلوچستان میں کچھی کینال سے 72 ہزار ایکڑ اراضی سیراب ہوگی جسے 13 ستمبر2017 کو مکمل کیا گیا۔ چترال میں گولن گول منصوبہ 4 فروری2018 کو مکمل ہوا جس سے 108 میگاواٹ بجلی ملے گی۔ نیلم جہلم منصوبے سے بھی مرحلہ وار بجلی کی پیداوارشروع ہوگئی ہے جس کی مجموعی استعداد ِکار 969 میگاواٹ ہے اور اس منصوبے پر 500 ارب روپے کی لاگت آئی ہے۔ نیلم جہلم ہائیڈرو پاور پراجیکٹ کے یونٹ نمبر2 نے بھی مکینیکل ٹیسٹ رن کامیابی کے ساتھ مکمل کر لیا ہے جس کے بعد اِس یونٹ کو نیشنل گرڈ کے ساتھ منسلک کردیا گیا ہے۔ مذکورہ یونٹ نے آزمائشی طور پر بجلی کی پیداوار شروع کر دی ہے۔ ٹیسٹ رن کے دوران اِس یونٹ نے 185 میگاواٹ تک بجلی پیدا کی۔ اِس یونٹ کو بتدریج پوری پیداواری صلاحیت یعنی 242 اعشاریہ 25 میگاواٹ تک لے جایا جائے گا۔کنٹریکٹ کے قواعد و ضوابط کی رو سے یونٹ نمبر2 کو بھی کمرشل آپریشن سے پہلے رِیلائی ایبلٹی ٹیسٹ اور رِیلائی ایبلٹی پیریئڈ کے مراحل سے گزارا جائے گا۔یہ امر قابلِ ذکر ہے کہ 18 مئی سے نیلم جہلم پراجیکٹ کا یونٹ نمبر3 اپنے 30 روزہ رِیلائی ایبلٹی پیریئڈ سے گزر رہا ہے۔اور قومی نظام کو اپنی پوری پیداواری صلاحیت کے مطابق 242 اعشاریہ 25 میگاواٹ بجلی فراہم کررہاہے۔ نیلم جہلم ہائیڈرو پاور پراجیکٹ سے اب تک قومی نظام کوتقریباً 9 کروڑ یونٹ بجلی فراہم کی جاچکی ہے۔بجلی کی یہ مقدار تقریباً ایک ارب روپے کی آمدنی کے مساوی ہے۔ نیلم جہلم پراجیکٹ کی مجموعی پیداواری صلاحیت 969 میگاواٹ ہے۔ اِس کے 4 پیداواری یونٹ ہیں، جن میں سے ہر ایک کی پیداواری صلاحیت 242 اعشاریہ 25 میگاواٹ ہے۔

 

مختصرمدت کے منصوبہ جات کے تحت ایک ملین ایکڑ فٹ پانی ذخیرہ کرنے کے لئے ڈیم بنائیں جائیں گے ، وسط مدتی منصوبہ جات کے تحت 9 ملین ایکڑ فٹ پانی ذخیرہ کیا جائے گا۔طویل المدتی منصوبہ جات کے تحت 25 ملین ایکڑ فٹ پانی ذخیرہ کرنے کی گنجائش بنائی جائے گی۔ ان تمام منصوبہ جات پر کل لاگت 5 ہزار ارب روپے ہوگی ۔دیامیر بھاشا ڈیم میں 81لاکھ ایکڑ فٹ پانی ذخیرہ کرنے کی گنجائش ہوگی اس سے 45 سو میگا واٹ بجلی پیدا ہوگی۔یہ منصوبے مکمل ہونے سے ملک میں پانی ذخیرہ کرنے کی گنجائش 45دن ہوجائے گی۔ تربیلا ڈیم سمیت ڈائون سٹریم آبی ذخائر کی زندگی میں بھی اضافہ ہوگا۔ دیا میر بھاشا ڈیم سے داسو ہائیڈرو پاور پروجیکٹ کی استعداد میں بھی 28فیصد اضافہ ہوگا۔1960ء کی دہائی میں تربیلا ڈیم اور منگلا ڈیم کی تعمیرکے بعد پاکستان میں پانی کا کوئی بڑا ذخیرہ مکمل نہیں کیا گیا۔داسو ہائیڈرو پاور پراجیکٹ خیبرپختونخوا کے ضلع کوہستان میں دریائے سندھ پر مکمل کیا جائے گا اور یہ منصوبہ دو مراحل میں مکمل ہوگا۔ پہلے مرحلے میں 21سو 60میگاواٹ بجلی پیدا ہوگی۔پانی ذخیرہ کرنے کی صلاحیت میں اضافے سے سستی اور ماحول دوست توانائی میسر آئے گی۔ یہاں یہ بتانا دلچسپی سے خالی نہیں کہ پن بجلی کے منصوبوں سے حاصل ہونے والی توانائی کی قیمت 2روپے 15پیسے فی یونٹ ہے جبکہ ایٹمی بجلی کی قیمت 6 روپے 86پیسے ، گیس سے پیدا ہونے والی بجلی کی قیمت 9روپے 7پیسے،  فرنس آئل سے پیدا ہونے والی بجلی کی قیمت 11 روپے 7پیسے ، آر ایل این جی سے پیدا ہونے والی بجلی کی قیمت 11 روپے 27 پیسے، بیگاس سے پیدا ہونے والی بجلی کی قیمت 11 روپے 95پیسے ، کوئلہ سے پیدا ہونے والی بجلی کی قیمت 12 روپے 8پیسے شمسی توانائی سے حاصل ہونے والی بجلی کی قیمت 16 روپے 95 پیسے ، ہائی سپیڈ ڈیزل سے پیدا ہونے والی بجلی کی قیمت 17روپے 96 پیسے ہے جبکہ ایران سے 10 روپے 55 پیسے فی یونٹ کے حساب سے بجلی درآمد کی جارہی ہے۔ واپڈا کے 19 ہائیڈرو اور الیکٹرک پاور سٹیشنز کی مجموعی پیداوار 6 ہزار 900میگاواٹ سے زائد ہے۔ جو کہ ملک کی بجلی کی مجموعی پیداواری استعداد کا ایک تہائی ہے۔ تربیلا فور توسیعی منصوبے سے 1410میگاواٹ بجلی کا افتتاح ہو چکا ہے جس سے اس کی مجموعی پیداوار 4ہزار 888 میگاواٹ ہوگئی ہے۔تربیلا فور منصوبے سے سالانہ 3ارب 84کروڑ یونٹ بجلی پیدا ہوگی۔

 

پانی اللہ کی طرف سے ایک انمول عطیہ ہے اور اسی سے زندگی عبارت ہے، تاہم اس عطیہِ خداوندی کو اختیا ط کے ساتھ استعمال کرنے کی بھی ضرورت ہے ایک رپورٹ کے مطابق دنیا  میں کئی اہم گنجان آباد شہر وں کو پانی کی قلت جیسے چیلنجز کا سامنا ہے ۔زیر زمین آبی ذخائر کا تیزی سے خاتمہ ہورہاہے ،جس کے نتیجے میں کئی شہر ویرانے بن جائیں گے ،دنیا کے باقی ممالک کی طرح پاکستان کے کئی شہروں میں بھی آبی قلت کی چیلنجز کا سامناہے جن میں پاکستان کا سب سے گنجان آباد شہر کراچی ، وفاقی دارالحکومت اسلام آباد اور کئی دیگر شہر شامل ہیں۔ پاکستان میں نہ صرف شہر بلکہ دیہاتی علاقے بھی اس مسئلے سے دوچار ہیں اور کئی علاقوں کے بنجر ہونے کے خدشات ہیں ، یہاں تک کہ خیبر پختونخوا کے مشہور سیاحتی مقام سوات وغیر ہ بھی زیرزمین پانی کی قلت کے مسئلے سے دو چار ہورہے ہیں۔یہ صورتحال اگر ایک طرف عالمی حدت میں اضافے کی وجہ سے رونما ہوئی ہے تو دوسری طرف ہم سب بھی اس کے ذمہ دار ہیں۔ایک طرف جنگلات کی کٹائی تیزی سے جاری ہے اور دوسری طرف حکومت کی طرف سے زیر ِزمین پانی کے استعمال کے بارے میں کوئی جامع پالیسی موجود نہیں ہے اور نہ  ہی اس حوالے سے کوئی قانون سازی کی گئی ہے ۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ حکومت  فوری طور پر اس مسئلے کے حل کے لئے مزید ٹھوس اقدامات کرے۔ اس کے ساتھ ساتھ عوام میں بھی پانی کی بچت کے حوالے سے شعور اُجا گر کرنے کے لئے مہم چلانے کی ضرورت ہے ورنہ مسئلہ آئندہ کچھ سالوں میں سنگین صورتحال اختیار کرسکتاہے۔ کراچی میں اب بھی لوگ بہت مشکل سے پینے کا پانی حاصل کرتے ہیں حالانکہ کراچی ساحل سمندر پر واقع شہرہے اگر ساحل سمندر پرکھاراپانی  قابل استعمال پانی میں بدلنے کے لئے بڑے پیمانے پر پلانٹ تعمیر کئے جائیں تو اس کے نتیجے میں مستقبل میں کراچی میں پانی کا مسئلہ مستقل بنیادوں پر ختم کیا جاسکتاہے۔ اسی طرح وفاقی دارالحکومت اسلام آبادکے لئے بھی دریائے جہلم سے نہر بنا کر پانی لایا جاسکتا ہے اور اس اقدام سے زیر زمین آبی ذخائر پر لوگوں کا انحصار کم ہوجائے گا اور ایک سنگین مسئلے کا سد باب بھی ہو سکے گا۔

 

حکومت کو پانی کے ذخائر بڑھانے کے لئے بجٹ میں مختص کردہ فنڈ بھی بڑھانے ہوںگے تاکہ پانی کے ذخائر ہنگامی بنیادوں پر تعمیر کئے جاسکے، حکومت کو جہاں پر بھی ممکن ہو نئے ڈئم تعمیر کرنے ہوں گے اور اس کے لئے ملک  میں آبی ایمرجنسی نافذ کرنے کی ضرورت ہے ۔

 

حکومت کوچاہئے کہ ملک  میں ایک جامع حکمت عملی کے ذریعے جنگلات کی کٹائی کا عمل روک دیں اور جنگلات میں اضافے کے لئے ٹھوس اقدامات کئے جائیں ، شجرکار ی مہم میں زیادہ سے زیادہ سے لوگوں کو شامل کیا جائے اور سرسبز پاکستان بنانے کے لئے زیادہ سے زیادہ درخت اگائے جائیں۔


[email protected]

Comments



Note: No comments!



Leave a Reply

Success/Error Message Goes Here
Note: Please login your account and then leave comment!
TOP