ٹھنڈا گرم پانی

جیمز بانڈ کی فلموں میں ولن کا کردار نہایت دلچسپ ہوتا ہے، عام طور سے یہ ولن ایک کھرب پتی شخص ہوتا ہے جس کے تصرف میں کئی محلات ہوتے ہیں، ذاتی جہاز میں سفر کرتا ہے، دنیا کے ہر ملک میں پھیلی اس کی کمپنی کی شاخوں میں ہزاروں ملازمین کام کرتے ہیں، اس کے ذاتی محافظوں میں سپر پاور ممالک کی خفیہ ایجنسیوں سے فارغ ہونے والے کمانڈو زشامل ہوتے ہیں، کبھی اس کا دل چاہے تو سمندر کے نیچے ذاتی آبدوز میں پورا شہر بسا لے اور کبھی من کرے تو کسی سپیس شپ میں اپنا ہیڈ آفس قائم کر لے، دنیا بھر کی دوشیزائیں اس کے آگے پیچھے پھرتی ہیں، اس کے پالتو کتوں کی نسل بھی کمیاب ہوتی ہے جو اپنے سامنے رکھے ہوئے گوشت کے پارچوں کو اس وقت تک منہ نہیں لگاتی جب تک مالک اشارہ نہ کرے۔ یہ دنیا میں پھیلے کئی جزیرو ں کا تنہا مالک ہوتا ہے، چاہے تو کسی پہاڑ کی برفانی چوٹی پر قلعہ تعمیر کرکے رہنا شروع کردے اور چاہے تو کسی صحر ا کو نخلستان میں بدل دے۔عموماً ایسے فلمی کردار حقیقی زندگی میں کم کم ہی ملتے ہیں مگر اس قسم کے کردارو ں کی دنیا میں تو کیا اپنے ملک میں بھی کمی نہیں، ایسے ایسے امرأ یہاں پائے جاتے ہیں جن کی دولت کا حساب لگانے کے لئے قیامت کے دن شائد فرشتوں کو بھی کمپیوٹر کی ضرورت پیش آ جائے۔

 

کسی انسان کو زندگی میں کتنی دولت درکار ہوتی ہے ؟ اس سوال کا جواب اگر آج کل کے کسی برینڈڈ صوفی سے پوچھا جائے تو وہ پہلے'' شباب نامے'' کی صورت میں اپنی زندگی کا'' درویشانہ'' احوال سنائے گا، اس کے بعد سائل کو قناعت پسندی کا درس دے کر خود اپنا علاج کروانے امریکہ' ٹُر' جائے گا۔ یہی سوال اگر کسی کالج کے پروفیسر سے پوچھا جائے تو وہ اپنی قناعت پسندی کی مثال دے کر سمجھائے گا کہ دنیا میں حقیقی خوشی دولت سے نہیں عزت سے ملتی ہے۔ یہی سوال اگر کسی طوائف سے پوچھا جائے تو وہ کہے گی کہ میرے لئے تو اتنی دولت ہی کافی ہے جس سے مجھے اپنے کوٹھے پر عزت کی روٹی مل سکے اور یہی سوال اگر کسی عاشق سے کیا جائے تو وہ کہے گا کہ مجھے تو جتنی بھی دولت ملے کم ہے میں نے تو ساری دنیا کی دولت اپنی محبوبہ کے قدموں میں نچھاور کرنی ہے۔ویسے فی زمانہ ایسے عاشق ملنے مشکل ہیں کیونکہ جس دن ان کے پاس چار پیسے آجاتے ہیں یہ پہلی فرصت میں موٹر سائیکل کے ساتھ اپنی محبوبہ بھی بدل لیتے ہیں۔لیکن بنیادی سوال وہیں رہتا ہے کہ ایک شخص کے لئے زندگی میں کتنی دولت کافی ہے ؟ایک آسان جواب تو یہ ہے کہ دولت کی کوئی حد نہیں،اس کی قدر غریب اور متوسط طبقے کے لوگوں سے پوچھو جو اپنے بچوں کی چھوٹی چھوٹی خواہشات کی خاطر روز جیتے روز مرتے ہیں، دولت سے انسان اپنی خواہشات پوری کر سکتا ہے جس سے اسے خوشی ملتی ہے اور چونکہ خواہشا ت کی کوئی حد نہیں لہٰذا دولت کی بھی کوئی حد مقرر نہیں ہو سکتی، جتنی زیادہ دولت ہو اسے ضرب دے کر بڑھانے کی خواہش بھی اتنی ہی شدید ہوتی ہے۔اس قسم کا جواب امتحان میں پاس تو کروا سکتا ہے مگر اے گریڈ نہیں دلوا سکتا کیونکہ بات اتنی سادہ نہیں ہے۔ قدرت نے انسان کو کچھ آزادیاں دے رکھی ہیں اور کچھ حدودوقیود مقرر کر رکھی ہیں، مثلاً کوئی بھی انسان چاہے کتنا بھی امیر ہو، بیک وقت دو کمروں میں نہیں سو سکتا، ایک دن میں چار کلو سے زیادہ کھانا نہیں کھا سکتا، دو جہازوں یا دو گاڑیوں میں سفر نہیں کر سکتا۔ پطرس بخاری یاد آئے، ایک مرتبہ گورنمنٹ کالج میں ان سے ایک صاحب ملنے آئے، وہ پطرس کے دفتر میں داخل ہوئے تو آپ نے نظریں اٹھائے بغیر کہا۔ تشریف رکھئے، اس پر وہ صاحب خاصے جز بز ہوئے اور بولے'' میں قومی اسمبلی کا رکن ہوں'' جواب میں پطرس بخاری نے کہا ''پھر آپ دو کرسیوں پر تشریف رکھئے !'' سو کوئی بھی انسان چاہے کتنا بھی بااثر، طاقتور یا دولت مند ہو، اس بیچارے کی حدود و قیودبھی وہی ہیں جو کسی کمزور، بے بس اور غریب شخص کی ہیں، دونوں زیادہ سے زیادہ سو برس تک جی سکتے ہیں البتہ انسان کی خواہشات اور پرواز تخیل کی کوئی حد نہیں۔مثلا کوئی بھی شخص یہ خواہش کر سکتا ہے کہ ساری دنیا کے تیل کے کنوئیں اس کی ملکیت میں ہوں یا وہ دنیا کی سب سے بڑی کمپنی کا مالک بن جائے یا اس کے پاس اتنی زمین ہو کہ ایک دن میں ریل گاڑی بگٹٹ بھاگے تو زمین ختم نہ ہو(بے فکر رہیں میں یہاں وہ گھسی پٹی کہانی نہیں سنائوں گا جس میں ایک شخص کو یہ آپشن دیا گیا تھا کہ وہ ایک دن میں جتنی زمین پر دوڑ سکے گا وہ اس کی ملکیت ہو جائے گا اور شام تک وہ دوڑتے دوڑتے بے دم ہو کر گرا اور فوت ہو گیا ) سو در حقیقت انسان کی خواہشات اسے دولت کے حصول کی جانب راغب کرتی ہیں اور چونکہ ان خواہشات کی کوئی حد نہیں ہو سکتی لہٰذا دولت کمانے والے بھی اپنے لئے کوئی حد مقرر کرنا بھول جاتے ہیں۔ آپ کسی آرکیٹیکٹ سے بہترین گھر بنوائیں،اس کی انٹیرئیر ڈیزائننگ کروائیں، اس میںفوارے، سوئمنگ پول بنوائیں اوراسے بیش قیمت فرنیچر سے سجاکر استراحت فرمائیں، بے حد لطف آئے گا مگر اس کے باوجود دنیا میں لاکھوں گھر موجود رہیں گے جو اب بھی آپ کے اس گھر سے بہتر ہوں گے۔یہی مثال دیگر آسائشوں کی ہے، کوئی بھی لگثرری آئٹم آخری نہیں ہے، ہر چیز سے آگے کی ایک چیز موجود ہے اور پھر اس سے بھی آگے کا ماڈل بازار میں آ چکا ہے اور یوں یہ کروفر ختم ہونے میں نہیں آ سکتا۔

 

 قدرت کا ایک دلچسپ قانون اور بھی ہے جسے ہم Law of Diminishing Marginal Utility  ''یعنی قانونِ تقلیلِ افادہِ مختتم '' کہتے ہیں، یعنی اگر ایک شخص کسی شے کا کثرت سے استعمال شروع کردے تو اس شے کی افادیت کم ہو جاتی ہے، مثلاً جب ہم کسی ریستوران میں جاتے ہیں جہاں بوفے ڈنر ہوتو ہم اپنی پسندیدہ ڈش لیتے ہیں، اسے ختم کرنے کے بعد دوسری مرتبہ پھر کوئی اور ڈش لیتے ہیں اور اسی طرح جب ہم تیسری مرتبہ کھانے کے لئے اٹھتے ہیں تو چاہے سامنے من و سلویٰ ہی کیوں نہ ہو، طبیعت مائل نہیں ہوتی، یہی انسان کی حدود و قیود ہیں۔دولت سے آپ دنیا کا بہترین پھل خرید سکتے ہیں، ناشتے میں خالص جوس لے سکتے ہیں، بہترین ہسپتا ل میں علاج کروا سکتے ہیں، دنیا کی سیر کر سکتے ہیں مگر ایک انسان ہونے کی وجہ سے آ پ ایک خاص مقدار سے زیادہ پھل نہیں کھا سکتے، ہر وقت ہوائی جہاز میں سفر نہیں کر سکتے اور روزانہ ناشتے میں دو درجن سنگترے کا جوس نہیں پی سکتے۔ یہ تمام فلسفہ اپنی جگہ مگر سوا ل پھر وہیں کا وہیں کہ ایک انسان کے لئے کتنی دولت کافی ہے !اس کا بہترین جواب ایک مرتبہ اشفاق احمد صاحب نے دیا تھا، انہوں نے کہا تھا''بچے اچھے سکولوں میں پڑھتے ہوں، ایک آدھ مضبوط گاڑی ہو جو راستے میں خراب نہ ہو، رہنے کے لئے مناسب گھر ہو، نلکوں میں ٹھنڈا گرم پانی آتا ہو، اس کے علاوہ اور کیا چاہئے!''

 

سو عزیز ہم وطنو، اگر آپ کے گھر میں ٹھنڈا گرم پانی آتا ہے، بال بچے آسودہ ہیں، خدا نے اپنا مکان دے رکھا ہے، گاڑی اچھے ماڈل کی ہے، سال میں ایک آدھ چکر باہر کا لگ جاتا ہے تو آپ کا شمار دنیا کے خوش قسمت ترین لوگوں میں ہے، جیمز بانڈ کے ولن کی طرح اپنی خوش قسمتی کو بد قسمتی میں بدلنے کی حماقت نہ کیجئے۔


مضمون نگار معروف کالم نویس اور تجزیہ نگار ہیں۔

 yasirpirzada@hotmail.com

   

Comments



Note: No comments!



Leave a Reply

Success/Error Message Goes Here
Note: Please login your account and then leave comment!
TOP