وطن کا نام روشن ہے جن سے ۔۔۔۔

اقوامِ متحدہ کے سلامتی مشن میں شہید ہونے والے سپاہی محمداشتیاق عباسی پرایک تحریر

تحریر کی اپنی ایک تاثیر ہوتی ہے۔ بسا اوقات ایسے واقعات دائرئہ تحریر میں آ جاتے ہیں جو دلوں اور ذہنوں پر گہرے اور انمٹ نقوش چھوڑ دیتے ہیں۔  محمداشتیاق عباسی اس پاک سرزمین کو روشن کرنے والے چراغوں میں سے ایک چراغ تھا جو اپنی زندگی کے ساتھ ساتھ اس وطن کو بھی اُمید کی کرن سے منور کرگیا۔ وہ اس دھرتی کے امن کے رکھوالوں میں سے ایک ایسا سپاہی تھا جو اپنی مثال آپ تھا۔ جو ستارے وطن کی ناموس میں اس طرح روشنی بھر دیں کہ خود وطن بھی ان پر فخر کرے ایسے جوانوںکو 'تھا' لکھنا مشکل ضرور لگتا ہے لیکن ان کی تابناکی اس چمن کا ہر ذرہ اس ادا سے روشن کر دیتی ہے کہ باقی رہنے والوں کی زندگیاں اس احساس سے ہی روشن ہو جاتی ہیں کہ ان کا جانے والا ایک شہید ہے۔ بس یہ سفر ہے اس 'تھا' سے 'ہے' تک کا۔ سفر ہی نہیں بلکہ ایک کامیاب سفر، جو اپنے جانے کے بعد بھی اس دُنیا میں اپنا وجود ، اپنا احساس چھوڑ جائے، ایسے جوانوں کوہی 'شہید' کہا جاتا ہے۔ مادرِ وطن پر قربان ہونے والا ہمارا سپاہی محمداشتیاق عباسی ایک ہونہار جوان تھا جس کی زندگی کے مختصر سے واقعات ہمیں ان کے اہلِ خانہ کی زبانی سننے کو ملے۔ 26اے کے رجمنٹ کا یہ ستائیس سالہ جوان اس وطن پر کچھ اس طرح سے قربان ہوا کہ اسے زینتِ قرطاس بنانا میرے لئے کٹھن ہے۔۔۔ سپاہی محمداشتیاق عباسی کا تعلق مظفرآباد کے گائوں گڑھی دوپٹہ سے تھا۔

سبز پرچم ترا میری پہچان ہے

 

اے وطن تو عقیدت کا عنوان ہے

سبز پرچم ترا میری پہچان ہے

تیرے کھیتوں میں صندل کی مہکار ہے

حسنِ فطرت کا تو ایک شاہکار ہے

تیرے آنگن میں خوشیوں کی برسات ہے

میرے لب پہ ہمیشہ مناجات ہے

پاک قرآن کا تجھ پہ سایہ رہے

ابرِ رحمت سدا تجھ پہ چھایا رہے

کتنے جانباز تجھ پہ نچھاور ہوئے

عزم و ہمت کے کتنے شناور ہوئے

 

نجف علی شاہ بخاری

 

اشتیاق عباسی شہید کے والد محترم محمدارشد عباسی نے بتایا کہ سپاہی محمد اشتیاق 18 ستمبر1989 کو کھڑیالہ میں پیدا ہوا۔ ابتدائی تعلیم اپنے گائوں سے ہی حاصل کی اور پھر میٹرک کا امتحان گورنمنٹ ہائی سکول ٹھیراں شریف سے 2010 میں پاس کیا۔ بچپن سے بہت سادہ طبیعت کا حامل تھا اور بہادر بھی بہت تھا اسی وجہ سے پاک فوج میںجانے کا شوق بھی رکھتا تھا اور اکثر کہتا تھا کہ میں پاک فوج کا حصہ بنوں گا۔ اسی جذبے کو پروان چڑھاتے ہوئے 4 اپریل2012 میںپاک آرمی کی 26 اے کے رجمنٹ میں بطورِ سپاہی بھرتی ہوا۔ بھرتی ہونے کے بعد وزیرستان میں پوسٹنگ ہوگئی ،وہاں پر حالات کافی خراب تھے،2013 میں ایک خود کش دھماکے میں اشتیاق بے حد زخمی ہوا جس کی وجہ سے اس کی کمر میں شدید چوٹ آئی، اس کا آپریشن کروایا گیااور اﷲ کے فضل سے وہ صحت یاب ہوگیا اس کے بعداس نے دوبارہ وزیرستان آپریشن میں حصہ لیا۔

دوعالم سے کرتی ہے بیگانہ دل کو

عجب چیز ہے لذتِ آشنائی

(اقبال)

 

 انہوںنے کہا کہ میرے اور بھی بچے ہیں لیکن مجھے جو عزت اور وقار میرے اس بیٹے کی وجہ سے نصیب ہوا، وہ اور کسی سے نہیںہوا۔ ایسی اولاد والدین کے لئے خوش نصیبی کا باعث ہوتی ہے لیکن میرے اس بیٹے نے میرا سر پاک فوج اور وطن کے آگے بھی سربلند کردیاہے ۔ والد کا کہنا تھا کہ میرے پاس زیادہ الفاظ نہیں ہیں کہ میں اس کی زندگی کا باب کھول سکوں بس یہ کہنا چاہوں گا کہ خدا سب کو ایسی اولاد سے ضرور نوازے جو والدین کے لئے باعثِ افتخار ہو۔ میرا بیٹا ایک کھلے ذہن اور کھلے دل کا مالک تھا، گھر والوں کے ساتھ تو اس کا حُسنِ سلوک تھاہی لیکن محلے والے بھی اس کی تربیت اور عادات وخصائل کی تعریفیں کرتے تھے۔ کبھی گھر خالی ہاتھ نہ آتا تھا، بلکہ ہمیشہ پیسے کی پروا کئے بغیر سب کے لئے کچھ نہ کچھ تحائف لے کر آتا، والدہ جب بچت کرنے کا کہتیں تو ہمیشہ یہی کہتا کہ ماں پیسہ آنی جانی شے ہے، محلے کے لوگوں کا بھی اپنوں جیسا خیال رکھتا تھااسی لئے آج وہ بھی  اس کو اچھے الفاظ میں یاد کرتے ہیں۔

 

 2017 میں اشتیاق کو ایک بار پھر اپنے وطن کی خدمت کا موقع ملا اور وہ بہت خوشی خوشی یونٹ کے ساتھ کانگو مشن پر روانہ ہوا۔ کانگومشن میں دورانِ ڈیوٹی ایک بیرل بلاسٹ ہوا جس کی وجہ سے اشتیاق شدید زخمی ہوا، اس کا تقریباً95  فیصد جسم جل چکا تھااور اس کو وہیں، سائوتھ افریقہ میں ہی، کافی عرصہ زیرِ علاج رکھا گیا لیکن وہ جانبر نہ ہوسکا اور 16 جون 2017 کو اس جہانِ فانی سے رخصت ہوگیا۔  ہمیں زندگی میںہر طرح کی تکلیف سے دُور رکھنا چاہتا تھا، یہی وجہ تھی کہ جب آخری وقت میں ہسپتال میں تھا تو ہمیں خبر نہ دینے دی کہ ہم پریشان نہ ہوجائیں بلکہ ہمیں شہادت کے بعد پتہ چلا ۔

 

طلب جس کی صدیوں سے تھی زندگی کو

وہ سوز اس نے پایا انہیں کے جگر میں

(اقبال)

جس قوم میں وطن کے لئے قربانی کا ایسا جذبہ پایا جائے وہ کبھی زوال پذیر نہیںہوتی۔ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاک فوج کے افسروں اور جوانوں نے بہت قربانیاں دیں اور یہی وجہ ہے کہ آج دہشت گردچھپتے پھر رہے ہیں۔ میرے27 سالہ بیٹے نے6 سال پاک فوج میں عسکری خدمات انجام دیں اور اسی حب الوطنی کی بناء پر اس کو اپریل 2018 میں اقوامِ متحدہ کی طرف سے امن مشن میڈل

Dag Hammarskjold

سے بھی نوازا گیا۔ میری دعا ہے کہ اﷲ تعالیٰ ایسی اولاد سب کو دے جو اپنے ملک اور اپنے والدین کے سَر ہمیشہ بلند رکھے۔آمین!

 

پچھلی دس دہائیوں سے دنیا بھر میں اقوامِ متحدہ کے سلامتی مشن میں 170,000 سے زائد پاکستانیوں نے خدمات انجام دیں اور 146 فوجیوںنے اپنی جانیں اس دوران جانِ آفریں کے حوالے کیں۔ پاکستان کی اقوامِ متحدہ کے ساتھ مل کر امن قائم کرنے کی یہ تاریخ بہت طویل اور ممتاز ہے۔ پاکستان نے1960 سے اس حمایت کا آغاز کیا اور کانگو آپریشن میں حصہ لیا، پاکستان اس سلسلے میں 43 مشنز میں حصہ لے چکا ہے۔

محمد اشتیاق عباسی ڈی آر سی میں اقوامِ متحدہ  کی تنظیمِ استحکام ِ امن (جس کو

Monusco

کے نام سے جانا جاتا ہے)، مشن کے پاکستانی رُکن تھے۔

Comments



Note: No comments!



Leave a Reply

Success/Error Message Goes Here
Note: Please login your account and then leave comment!
TOP