نوجوان نسل،انتہا پسندی اور نئے بیانیے کی تلاش

پاکستان اس وقت جن بڑے مسائل سے نمٹنے کی کوشش کررہا ہے ان میں ایک بڑا اور حساس مسئلہ معاشرے میں بڑھتی ہوئی انتہا پسندی ہے ۔اس انتہاپسندی کا نتیجہ دہشت گردی اور معاشرتی تقسیم کی صورت میں ہمیں گزشتہ کئی دہائیوں سے دیکھنے کو مل رہا ہے ۔ریاستی اور حکومتی سطح پر اس انتہا پسندی سے نمٹنے کے لئے ماضی میں کئی اقدامات کئے گئے مگر کوئی خاطر خواہ نتائج نہیں مل سکے ۔ بنیادی وجہ یہ تھی کہ مجموعی طور پر معاشرہ انتہا پسندی کے تناظر میں تقسیم نظر آتا تھا اور ہر ایک کے پاس انتہا پسندی کے معاملات میں اپنا اپنا جواز موجود ہوتا تھا، جو ناکامی کا سبب بنتا تھا ۔

 

لیکن پشاور کے سکول اے پی ایس کے واقعے نے عملی طور پر ریاستی ، حکومتی ، اہل دانش اور اہلِ فکر سمیت تمام جماعتوں میں کسی نہ کسی شکل میںاس احساس کو اجاگر کیاکہ ہمیں باہمی تضادات سے نکل کر انتہا پسندی اور دہشت گردی کے خلاف ایک بڑی جنگ لڑنی ہوگی ۔یہ جنگ محض انتظامی بنیادوں یا طاقت تک ہی محدود نہیں رہے گی بلکہ اس کو فکری و علمی بنیادوں پر بھی لڑکر لوگوں کو اس موذی مرض کے خلاف منظم اور کھڑا کرنا ہوگا۔اس نکتہ پر بھی زور دیا گیا کہ اس جنگ کے لڑنے میں نوجوان طبقہ کلیدی کردار ادا کرسکتا ہے۔

 

ہمیں اس فکری مغالطہ سے باہر نکلنا ہوگا کہ ہماری نوجوان نسل میں کوئی انتہا پسندی نہیں ہے ۔بہت سے اہل دانش اس کی تردید کرتے ہیں ، لیکن حقیقت یہ ہے کہ نئی نسل میں انتہا پسندی بڑی تیزی سے بڑھ رہی ہے ۔ یہ انتہا پسندی محض مذہبی نوعیت کی نہیں بلکہ سیاسی ، سماجی ،معاشی ، لسانی ، علاقائی ، فرقہ ورانہ اور عدم انصاف یا محرومی کی سیاست سے بھی جڑی نظر آتی ہے ۔لیکن کیونکہ ہم عملی طور پر حقائق کی دنیا سے زیادہ خوابوں ، خواہشوں اور حقیقتوں سے دور رہتے ہیں۔ اس لئے اصل صورتحال کا ادراک کرنے سے قاصر ہیں۔انتہا پسندی ایک ایسی بیماری بن چکی ہے جس سے نمٹنا کسی ایک ادارے، کسی ایک فریق یا جماعت کا کام نہیں بلکہ یہ ایک اجتماعی عمل اور باہمی تعاون کا تقاضا کرتا ہے ۔

 

پچھلے دنوں ایک بار پھر فوج کے سربراہ جنرل قمر جاوید باجوہ نے نوجوان نسل کے تناظر میں انتباہ کیا ہے کہ چند داخلی اور خارجی عناصر اپنے ایک مخصوص ایجنڈے کے تحت نوجوان نسل کے ذہنوں پر اثر انداز ہوکر انتشار پھیلانا اور معاشرے میں ایک بڑا بگاڑ پیدا کرنا چاہتے ہیں ۔فوج کے سربراہ کے بقول انتہاپسندی کو معاشرہ اجتماعی طو رپر مسترد کرے او راس کے مقابلے میں امن، رواداری اور اخوت کو بنیاد بنا کر ایک نئے بیانیہ کی تشکیل میں مدد کرے ۔ہمیں نئی نسل کو انتشار پر مبنی سیاست کے ایجنڈے میں الجھانے کے بجائے ملکی ترقی میں ان کے کردار کو مضبوط کرنا ہوگا۔اس سے قبل فوج کے سربراہ نے پاکستان کی تمام جامعات کے وائس چانسلرز کے کنونشن میں بھی پڑھی لکھی نئی نسل میں بڑھتی ہوئی انتہا پسندی اورخاص طور پر جامعات کا انتہا پسندی سے مقابلہ کرنے کے کردار پر سیر حاصل گفتگو کی تھی ۔

 

انتہا پسندی اور دہشت گردی سے نمٹنے کے لئے قومی اتفاق رائے پر مبنی بیس نکاتی نیشنل ایکشن پلان سامنے لایا گیا جو یقینی طورپر کافی اہمیت کی حامل دستاویز تھی۔ان نکات میں مجموعی طو رپر محض انتظامی بنیادوں پر انتہا پسندی اور دہشت گردی سے نمٹنے کی حکمت عملی نہیں تھی ، بلکہ ایک قدم آگے بڑھ کر علمی اور فکری بنیادوں پر ذہن سازی اور نوجوان نسل میںہر سطح پر رواداری پر مبنی سوچ، فکر کو اجاگر کرنا فوقیت رکھتا تھا ۔خاص طور پر تعلیمی اداروں ، نصاب ، اساتذہ اور طالب علموں کو فوقیت دے کر اس میدان میں بنیادی نوعیت کی تبدیلیوں پر زور دیا گیا تھا ۔ پیغام پاکستان کی دستاویز جو تمام مذہبی مکاتب فکر کے درمیان انتہا پسندی کے خلاف اتفاق رائے پر مبنی ہے، وہ بھی ایک اہم پیش رفت ہے۔ اسی طرح رائے عامہ کی تشکیل میں میڈیا کے کردار کی اہمیت کے پیش نظر میڈیا ، سوشل میڈیا کو بھی بنیاد بناکر اصلاحات پر زور دیا گیا تھاتاکہ ہم نئی نسل میں برداشت اور تحمل کا کلچر پیدا کرسکیں۔

 

بدقسمتی یہ ہے کہ ہماری سیاست میں موجودہ غیر یقینی کیفیت، عدم سیاسی، سماجی او رمعاشی استحکام ،محاذ آرائی ، الزام تراشی اور ایک دوسرے کو قبول نہ کرنے کی روش نے نیشنل ایکشن پلان پر عملدرآمد کے تناظر میں وہ کچھ نہیں کیا جو قومی ضرورت کے زمرے میں آتا تھا ۔ اصولی طو رپر اس انتہا پسندی سے نمٹنے کے لئے سیاسی حکومتوں اور حزب اختلاف کی جماعتوں کو ایک بڑی قیادت کے طور پر ان معاملات میں برتری حاصل کرنی تھی ، جو یقینا ایک مضبوط سیاسی کمٹمنٹ اور مربوط نگرانی کے نظام کے بغیر ممکن نہیں تھی ۔اس لئے اگر آج جو انتہاپسندی جیسا مرض موجود ہے او راس میں ہم مسئلہ کے حل کی جانب نہیں بڑھ رہے تو اس میں ریاستی اور حکومتی تضاد کا پہلو بھی نمایاں ہے جو ہمیں مطلوبہ نتائج دینے کے بجائے نئی نسل کو فکری بنیادوں پر مزید اُلجھا رہا ہے ۔

 

ماضی میں ہم یہ دلیل دیتے تھے کہ مذہبی انتہا پسندی دینی مدارس تک محدود ہے او ریہ مدارس انتہا پسندی کو بڑھانے میں کلیدی کردار ادا کررہے ہیں ۔لیکن اب یہ مسئلہ محض دینی مدارس تک محدود نہیں رہا بلکہ ہمارے دیگر تعلیمی ادارے بھی اس کی لپیٹ میں آچکے ہیں ۔حالیہ کچھ برسوں میں انتہا پسندی اور دہشت گردی جیسے معاملات میں جو کردار سامنے آئے ہیں ان میں پہلے نمبر پر زیادہ نوجوان نسل ہے اور دوئم ان کا تعلق اعلیٰ تعلیمی اداروں سے ہے جو ظاہر کرتا ہے کہ پڑھی لکھی نسل بھی اس مرض کا حصہ بن گئی ہے ۔

 

اب سوال یہ ہے کہ نئی نسل میں جو انتہا پسندی بڑھ رہی ہے اس کی درست انداز میں تشخیص اور ادرا ک کے بعد ہم نے کیا حکمت عملی اختیار کرنی ہے جو ہمیں فی الوقت درکار ہے۔ یقینی طور پر جواب میں ہمیں بہت سے خلا یا مسائل نظر آتے ہیں ،کیونکہ بظاہر ایسا لگتا ہے کہ ہم ان انتہا پسندوں کے معاملات میں یکسو ہونے کے بجائے منقسم نظر آتے ہیں ۔ہم اس کو محض مذہبی مسئلہ سمجھ کر نمٹنے کی کوشش کررہے ہیں ،جبکہ یہ مسئلہ مجموعی طور پر ریاستی ، حکومتی نظا م ،طرز حکمرانی، فیصلہ سازی اور نئی نسل میں موجود محرومی کی سیاست سے بھی جڑا ہوا ہے۔ ہمیں یہ سمجھنا ہوگا کہ جو انتہا پسندی موجود ہے یا بڑھ رہی ہے اس سے نمٹنے کے لئے ہمیں کیا کچھ درکار ہے ۔یہ اسی صورت میں ممکن ہوگا جب ہم اجتماعیت پر مبنی اتفاق رائے اور فیصلے کو اہمیت دیں گے ۔

 

اس میں کوئی شبہ نہیں کہ داخلی اور خارجی سطح پر کچھ عناصر ایسے موجود ہیں جو نئی نسل کو بغاوت، انتہا پسندی ، انتشار اور شدت پسندی پر اکسارہے ہیں ، وہ یقینا سچ ہوگا ۔ کیونکہ ہمارے دشمن چاہے وہ ملک کے اندر ہیں یا باہر، ہماری نوجوان نسل کو بنیاد بنا کر معاشرے میں فوج ، حکومت، مذہب ،ریاست اور اداروں میں ایک ایسی تقسیم پیدا کرنے کا ایجنڈا رکھتے ہیںجو ہمیں داخلی سطح پر کمزور کرنے کا سبب بن رہا ہے ۔یہ جو داخلی اور خارجی عوامل ہیں چاہے ان کا تعلق انفرادی ہو یا ادارہ جاتی سطح پر، اس سے نمٹنے کے لئے بھی ہمیں ایک مربوط منصفانہ اور شفافیت پر مبنی جوابدہی ،احتساب اور نگرانی کا ایسا نظام درکار ہے جو ہمیں ان عناصر کی نشاندہی کرنے او ر انتہا پسندی کوختم کرنے میں معاون ثابت ہو ۔

 

لیکن سوال یہ ہے کہ جو بھی داخلی یا خارجی عناصر ہماری نئی نسل کو بنیاد بنا کر ہمیں کمزور کرنے او رانتہا پسندی پھیلانے کا ایجنڈا رکھتے ہیں ان کو طاقت بھی ہمارا کمزور داخلی نظام دے رہا ہے ۔ کیونکہ داخلی سطح پر ہماری کمزوری ان قوتوں کو طاقتور بنارہی ہے جو ہمیں کمزور کرنے کا ایجنڈا رکھتے ہیں ۔ہمارا حکمرانی کا نظام نئی نسل میں بغاوت، غصہ ، نفرت اور محرومی کی سیاست کو طاقت فراہم کرکے ریاست اور نوجوان نسل کے درمیان ایک بڑی تفریق اور خلا پیدا کررہا ہے۔ اس لئے مسئلہ یہ نہیں کہ ہم سارا غصہ نئی نسل پر نکالیں کہ وہ انتہا پسند بنتی جارہی ہے ۔ بلکہ اصل مسئلہ ان محرکات کو سمجھ کر ایسی مؤثر حکمت عملی کی طرف بڑھنا ہے جو نئی نسل کو انتہا پسندی سے باہر نکالے۔

 

نئی نسل کی بات کی جاتی ہے تو یہ محض پڑھی لکھی نسل یا لڑکوں تک محدود نہیں بلکہ اس میں وہ نسل بھی شامل ہے جو پڑھ نہیں سکی ، یا جن کا تعلق دیہات سے ہے یا جو لڑکیاں ہیںیا جو معذور افراد ہیں، سب کو بنیاد بنا کر معاملات کو آگے بڑھانا ہوگا او رسب کے لئے مختلف حکمت عملیاں درکار ہیں ۔ اسی طرح سوشل میڈیا ایک بڑی طاقت کے طور پر سامنے آیا ہے ۔ اس پر نئی نسل کو آگاہ کرنا ، اس سے متعلق قوانین سے روشناس کروانا ہے مزید یہ کہ کس طرح سے نئی نسل اس میڈیا کو طاقت بنا کر دو کام کرے ۔ اول وہ اس سوشل میڈیا کو طاقت بنا کر سیاسی اور سماجی بنیادوں پر فکری اور علمی مباحث پیدا کریں اور دوئم  علمی اور فکری بنیادوں پر انتہا پسندی پر مبنی مباحث کو چیلنج کرتے ہوئے ایک متبادل بیانیہ سامنے لائیں جو نئی نسل میںتحمل، برداشت اور رواداری پر مبنی سماج کی تشکیل میں معاون ثابت ہو۔اسی طرح مدارس کے نصاب میں تبدیلی اور بالخصوص فرقہ وارانہ سوچ او رفکر کو چیلنج کرکے سب میںباہمی احترام کا رشتہ پیدا کرنا ہوگا۔

 

اسی طرح یہ سمجھنا ہوگا کہ اگر ہم نے نئی نسل کو انتہا پسندی سے باہر نکالنا ہے تو اس کا علاج ایک منصفانہ ، شفاف اور برابری کی بنیاد پر چلنے والے جمہوری نظام سے جڑا ہے ایسا نظام جو لوگوں کے بنیادی حقوق کی ضمانت کا سبب بن سکے ۔یہ تصور کہ ہم نئی نسل کو محروم رکھ کر انتہا پسندی سے نمٹ سکیں گے ، غلط ہے ۔اس لئے ہمیں اپنی مجموعی سیاست او راس کے فیصلوں کو بدلنا ہوگا۔ نئی نسل کو مثبت سرگرمیوں میں شامل کرکے تعلیمی اداروں ، گھروں، محلوں اور کمیونٹی کی سطح پر زیادہ سے زیادہ لڑکوں اور لڑکیوں کے لئے غیر نصابی سرگرمیوں کو فروغ دینا ہوگا۔ غیرنصابی سرگرمیوں کے لئے وسائل کو مختص کرنا ، کھیلوں کے میدان جن تک ان سب کی آسانی سے رسائی ہو اور کلچرل بنیادوں پر سرگرمیوں کی بنیاد کو طاقت دینی ہوگی ۔ہمیں نئی نسل میں ایک ایسا اتفاق رائے پیدا کرنا ہوگا کہ وہ مختلف سوچ،فکر، مذہب، رنگ، نسل اور زبان کے باوجود اکٹھے رہ سکیں اور مل کر ملکی ترقی میں اپنا کردار ادا کرسکیں اس سب کچھ کے بعد ہی انتہا پسندی سے نمٹا جاسکتا ہے ۔

 

یہ سمجھنا ہوگا کہ نیا بیانیہ کسی سیاسی تنہائی میں نہیں ہوگا۔ بیانیہ کی تلاش اور یکسو ہونے کا مقصد یہ ہے کہ تمام فریقوں کو سمجھنا ہوگاکہ انتہا پسندی سے نمٹنا ریاستی استحکام کی کنجی ہے ۔ہمیں ماضی کے بیانیے او راس پر مبنی تضادات سے باہر نکل کر ایک ایسی سوچ اور فکر کو عام کرنا ہوگا جو معاشرے میں ایک دوسرے کو قبول کرنے میں معاون ثابت ہو۔اس میں تعلیم او راس سے جڑے تعلیمی اداروں ، جامعات کو فوقیت دے کر نئی نسل کو اس نئے بیانیے سے جوڑ کر ایسے نوجوان لڑکے اور لڑکیوں کو سفیر بنانا ہوگاجو خود آگے بڑھ کر اس بحث کو خود بھی سمجھیں اور دوسروں کو بھی سمجھائیں کہ ہمیں اس شدت پسندی کا مقابلہ کرنا ہے جو ہماری ریاستی ضرورت کے زمرے میں آتا ہے ۔


مصنف ملک کے معروف تجزیہ نگار اور کالم نگار ہیں اور دہشت گردی ، جمہوریت سمیت پانچ اہم کتابوں کے مصنف او ر کئی اہم تھنک ٹینکس کے رکن ہیں

[email protected]

Comments



Note: No comments!



Leave a Reply

Success/Error Message Goes Here
Note: Please login your account and then leave comment!
TOP