ناکامی کا جادو

میرے دوست ارشد پر جادو ہوگیا ہے۔ لیکن یہ نہیں پتا چل رہا کہ جادو کرایا کس نے ہے' ارشد کا کہنا ہے کہ اس کا کام میں دل نہیں لگتا' ہر وقت سستی اور بیزاری چھائی رہتی ہے اور اسی وجہ سے جس جگہ بھی نوکری کرتاہے ایک ہفتے بعد نکال دیا جاتاہے۔ میں نے پوچھا ''یہ جادو کب سے ہے؟ ''کچھ سوچ کر بولا''لگ بھگ دو سال سے'' میں نے اسے گھورا''میں تو تمہیں بچپن سے جانتا ہوں' ماشاء اللہ سُستی اور بیزاری تو تمہاری پیدائشی خوبیاں ہیں''۔ارشد کے چہرے پر کرب نمایاں ہوگیا''یار سمجھنے کی کوشش کرو' میں بہت محنتی ہوں' زندگی میں ترقی کرنا چاہتا ہوں' اپنے پائوں پر کھڑا ہونا چاہتا ہوں لیکن مجبور ہوں کیونکہ مجھ پر جادو ہوگیاہے''۔پاکستان میں ہر ''نکمے'' بندے پر اسی طرح کا جادو ہوچکا ہے' ہم اپنے سارے غلط فیصلے ' سارے غلط کام اورہڈ حرامی کو کسی جادو کرنے والے کے کھاتے میں ڈال کر اطمینان سے انٹرنیٹ پر فلمیں دیکھتے رہتے ہیں۔ کیونکہ ہمیں لگتاہے کہ ہم جو کچھ بھی کر رہے ہیں یہ خود نہیں کر رہے بلکہ جادو کا اثر ہے۔اس خودساختہ تسلی سے بہت سے لوگوں کو دلی اطمینان نصیب ہوتاہے اور وہ دنیا کی کڑوی کسیلی باتیں سننے سے بچ جاتے ہیں۔ ان لوگوں کے پاس رٹا رٹایا ایک جملہ ہوتاہے کہ ''ہمارا رزق کسی نے باندھ دیا ہے۔''اب تو حالات یہاں تک پہنچ چکے ہیںکہ پچھلے دنوں ایک صاحب یہ بھی فرما رہے تھے کہ ''پہلے وہ بہت حسین و جمیل ہوا کرتے تھے لیکن اب چہرے پر عجیب سی نحوست ٹپکنے لگی ہے' یقینا کسی نے میرا حُسن باندھ دیا ہے''۔

 

ناممکن

آنکھوںکوکیسے مل سکے خوابوں پہ اختیار !

قوسِ قزح کے رنگ کہیں ٹھیرتے نہیں،

منظر بدلتے جاتے ہیں، نظروں کے ساتھ ساتھ

جیسے کہ اِک دشت میںلاکھوں سراب ہوں

جیسے کہ اِک خیال کی شکلیں ہوں بے شمار

(بارش کی آواز۔ امجداسلام امجد)

 

انگریزی کھانے اور دیسی کھانے کے انداز میںتقریباً وہی فرق ہے جوانگریزی اور اُردو بولنے میں ہے۔ جس طرح ایک نوآموز کی زبان سے انگریز ی الفاظ یا محاورے پھسل پھسل جاتے ہیں اُسی طرح ہمارا انگریزی مٹرگوشت بھی ہمارے اناڑی چھری کانٹوں کی زَد میں نہ آتا تھا۔ اِدھر ہاتھوں سے کھانا خلافِ شان تھا لیکن برضا و رغبت فاقہ کرنا بھی ممکن نہ تھا۔ لہٰذا جس طرح بولتے بولتے  انگریزی جواب دے جائے تو اُردو پر ہاتھ یا زبان صاف کرلی جاتی ہے۔ اسی طرح جہاں انگریزی چھری کانٹے سے کام نہ چلتا، ہم آنکھ بچا کرانگلیوں سے ہی بوٹی اُچک لیتے۔ گویا انگریزی کھانا اُردو میں کھالیتے۔ بعض حضرات البتہ ایسے بھی تھے جو لفٹینی کے احترام میں اوزاروں کی وساطت کے بغیر کوئی چیز حلق سے اتارتے ہی نہ تھے۔ ان میں سے کئی ایک کو دیکھا کہ چھری کانٹا لئے پلیٹ میں مٹروں کا تعاقب کررہے تھے اور مٹر ہیں کہ ادھر ڈوبے ، اُدھر نکلے، اُدھر ڈوبے، اِدھر نکلے! پیشتر اس کے کہ ان مٹروں کو کوئی گزند پہنچتا، بیرے پلیٹیں اٹھا کر چل دیئے اور لفٹین صاحبان  اپنا سا منہ اور چھری کانٹا لے کر رہ گئے۔

(اقتباس:  بجنگ آمد۔ کرنل محمدخاں)

 

ناکامی کی دلیلیں دینا ہم پر ختم ہے' کام خود نہیں کرتے اور مُدعا جادو پر ڈال دیتے ہیں۔ اس جادو کا توڑ بھی ہم خود ہی ڈھونڈ لیتے ہیں کہ اگر بڑے ماموں ہمیں کینیڈا بلا لیں تو حالات سدھر سکتے ہیں'پتا نہیں بڑے ماموں پر کوئی جادو کیوں اثر نہیں کرتا؟؟؟ ایک اور جملہ جو جادو کے حق میں بولا جاتاہے وہ ہے کہ ''جادو تو برحق ہے۔''یہ کہتے ہوئے ہم ''برحق'' کا مطلب بھول جاتے ہیں ورنہ کبھی یہ جملہ استعمال نہ کریں۔ کتنی عجیب بات ہے کہ ہم موبائل فون سے لے کر کمپیوٹر اور گاڑی تک سارا دن سائنس کی ایجادات میںبسر کرتے ہیں لیکن اپنے مسائل کاذمہ دار جادو کو قرار دیتے ہیں۔آدھی سے زیادہ قوم ''عملیات'' کے چکر میں پڑی ہوئی ہے حالانکہ عملیات کا تعلق عمل سے ہے' جو لوگ زندگی میں ترقی کرتے ہیں وہ جیتے جاگتے ''عملیات'' کرتے ہیں لیکن ایسے لوگوں کو کوئی عامل نہیں کہتا' عامل وہی کہلاتاہے جو کالے دھاگے کے ساتھ کوئی تعویز باندھ کر چھ دن چراغ میں جلانے کی ہدایت کرتاہے۔مسائل سے چھٹکارے کا یہ حل ہمیں بڑا آسان لگتاہے' ہم کسی کا ادھار چکانے کے بجائے کوئی ایسا تعویز چاہتے ہیںکہ ادھار دینے والا اپنا ادھار بھول جائے' اولاد کی شادیاں نہ ہورہی ہوں تو ہمارا شک فوراً اپنی کسی رشتہ دار خاتون کی طرف جاتاہے کہ وہی کوئی عمل کروارہی ہوگی۔ایسے میںجب کوئی ''نورانی چہرے'' والے صاحب ہمیں بتاتے ہیں کہ ''تمہارے خاندان کی کسی عورت نے تم پر تعویز کرائے ہیں'' تو ہمیں فوراً اُس کے عمل کی صداقت کا یقین ہوجاتا ہے' اصل میں ہم خود بھی مذکورہ رشتہ دار خاتون کے بارے میں ہی کچھ سننے کے متمنی ہوتے ہیں۔عامل جب ہمیں بتاتا ہے کہ آپ پر جنات کا سایا ہے یا تعویزات کی بندش ہے تو ہمیں خود پر ترس آنے لگتاہے' ہمیں وہ عامل اچھا لگنے لگتاہے جو ہمیں گدھا کہنے کے بجائے نہایت عقلمند اور ''چیتا'' ثابت کرکے ہماری ساری ناکامی تعویذات کے کھاتے میں ڈال دیتاہے۔اصل میں وہ ہمارا کتھارسس کرتاہے اور ہم مزے سے اس کے جال میںپھنس جاتے ہیں۔ہم میں سے کوئی بھی یہ نہیں سننا چاہتا کہ اپنی ناکامی کا ذمہ دار وہ خود ہے' اتنی ہولناک بات سننے کا ہم تصور بھی نہیں کر سکتے لہٰذا عامل کی شکل میں ہمیں ایک ایسا ہمدرد مل جاتاہے جو ہماری خام خیالی کو تقویت دینے کا فریضہ سر انجام دیتاہے۔اقبال نے کہا تھا کہ ''عمل سے زندگی بنتی ہے…'' لیکن ہم سمجھتے ہیں کہ ''عملیات سے زندگی بنتی ہے…'' دنیا عمل کرتی جارہی ہے اور ہم عملیات پر یقین رکھتے ہوئے اپنی زندگی کے مسائل حل کرنے میں لگے ہیں۔آپ ایک دفعہ کسی سے کھل کر پوچھئے تو' ہر بندہ تعویذات کا مارا ہوا ملے گا۔ہم پر کوئی اور تعویز کرے نہ کرے ہم خود پر تعویز حاوی کرنے میں ماہر ہیں' اس کا ایک فائدہ یہ بھی ہوتاہے کہ ہم بے بسی کی تصویر بنے مزے سے گھر میں پڑے رہتے ہیں اورگھر والے ہمیں طعنے دینے کے بجائے تعویذ کرنے والی خاتون کو کوستے رہتے ہیں۔آپ نے بہت کم سنا ہوگا کہ کسی مرد نے کسی مرد پر تعویز کرائے ہوں' یہ الزام عموماً رشتہ دارخواتین کے سر آتاہے اور خواتین بھی وہ جن سے ہماری کوئی دشمنی چل رہی ہوتی ہے۔مزے کی بات یہ ہے کہ اگر ہم کسی فیکٹری کے مالک ہوں اور ہمارا ملازم ہم سے کہے کہ میں کام اس لئے ٹھیک طریقے سے نہیں کر پارہا کیونکہ مجھ پر کسی نے جادو کروایا ہوا ہے' تو ہم پہلی فرصت میں اسے فراڈیا کہہ کر نکال باہر کرتے ہیں' لیکن ہماری اپنی یہ خواہش ہوتی ہے کہ ہمارے اوپر کئے گئے جادو کو نہ صرف سرِعام تسلیم کیا جائے بلکہ ہمیں ''گریس مارکس''بھی دیئے جائیں۔

 

دنیا میں اگر کوئی جادو ہے تو وہ سائنس ہے' یہ وہ جادو ہے جسے عامل بابا بھی استعمال کئے بغیر نہیں رہ سکتا' رہی بات ہم پر جادو ہونے کی تو جس طرح محنت کا جادو سر چڑھ کر بولتاہے اسی طرح کاہلی اورڈھٹائی کا جادو بھی اپنا اثر دکھاتاہے' سمجھ سے بالا تر ہے کہ جو لوگ ازل سے کچھ نہیں کرتے اُن کا رزق کوئی تعویزات کے ذریعے کیوں بند کرتاہے۔ یہ لوگ تو اپنا رزق خود بہت اچھے طریقے سے بند کئے رکھتے ہیں۔اصل میں یہ بھی تو ہے کہ ہم غیبی رزق پر یقین رکھتے ہیں' آپ نے بے شمار دوکانوں پر چوکھٹے میں کچھ مقدس کلمات لکھے دیکھے ہوں گے جن کے بارے میں کہا جاتاہے کہ اِن کو روزانہ دیکھنے سے غیبی رزق ملے گا' لیکن عموماً یہ غیبی رزق ان کے نصیب میں آتاہے جہاں ایسی تحریریں نہیں لگی ہوتیں اورہر کام محنت سے کیا جارہا ہوتاہے۔ہم روزانہ دوکان میں داخل ہوتے ہی غیبی رزق والی تحریر کو ٹکٹکی باندھ کر دیکھتے ہیں اور پھر سارا دن بے ایمانی کے سودے بیچتے ہوئے اِسی انتظار میں گزر جاتاہے کہ کب بے دھیانی میںکسی کا بٹوہ گرتاہے یا کب کوئی سو روپے کی چیز ایک لاکھ میں خریدنے کی آفر کرتاہے۔میرے ایک محلے دار کو ایک دن سڑک سے پانچ سو کا نوٹ ملا' موصوف نے ایمانداری کا مظاہرہ کرتے ہوئے مسجد میںجمع کرا دیا' اگلے دن انہیں ہزار کا نوٹ ملا تو خوشی سے پھولے نہیں سمائے کہ اللہ نے ایمانداری کا انعام دیا ہے۔کوئی بھی ناکام نہیں ہونا چاہتا' سب کامیابی کے درپے ہیں' ایسے میں جادو ہی وہ لولالنگڑا سہارا ہے جو ہماری ڈھٹائی کا بوجھ برداشت کر سکتا ہے۔ لہٰذا ہمیں اِس سے بہت محبت ہے' ہم خود بھی سیکڑوں عاملوں کے پاس جاتے ہیں لیکن جس عامل کے پاس ہمارا مخالف جاتاہے وہ کبھی ہمیں پتا نہیں چل پاتا کیونکہ اس کا جادو زیادہ تیز اثر ہوتاہے' میں جادو کے مارے جتنے لوگوں سے بھی ملتا ہوں سب یہی کہتے ہیں کہ ہم نے کبھی کسی کا برا نہیں چاہا لیکن دیکھیں ہمارے ساتھ کیا ہورہا ہے۔سچ تو یہ ہے کہ جب ہم تسلیم کرلیتے ہیں کہ ہم پر کسی نے جادو کیا ہے تو ہم اپنی ناکامی کو سیڑھی فراہم کر رہے ہوتے ہیں۔ناکامی ایک ایک زینہ طے کرتی ہے اور ایک دن ہمارے سر کا تاج بن جاتی ہے۔


مضمون نگار مشہور مزاح نگار ہیں، ایک قومی اخبار میں کالم لکھتے ہیں او رنجی ٹی وی کے ایک مزاحیہ پروگرام کا سکرپٹ بھی لکھتے ہیں۔

  [email protected]

 

Comments



Note: No comments!



Leave a Reply

Success/Error Message Goes Here
Note: Please login your account and then leave comment!
TOP