میں شہید ہو کر ہی آئوں گا

ناموس وطن پر مٹنے والے لانس نائیک رفیق شہید کے حوالے سے صبا زیب کی تحریر

محبت کرنا شاید اتنا مشکل نہیں جتنا اسے نبھانامشکل ہے۔ محبت کا دعویٰ کرتے ہوئے تو ہمیںبہت سے لوگ نظر آتے ہیں لیکن جب محبت میں قربانی دینے کا وقت آتا ہے تو اس وقت وہی انسان سامنے آتا ہے جو اپنے دعوے میں سچا ہو، جس میں ہمت، حوصلہ اور عزم ہو۔ اپنی مٹی اور اپنی دھرتی سے محبت کی بات آئے تو قربانی دینے میں ہماری فوج کا ہر سپاہی ہر اول دستے میں ہوتا ہے اور وہ اس وقت یہ بھی نہیں سوچتے کہ اس محبت میں وہ کیا کچھ قربان کرنے جارہے ہیں۔ اس وقت نہ اُنہیں یہ فکر ہوتی ہے کہ اس میں ان کی جان چلی جائے گی اور نہ اُنہیں یہ خیال آتا ہے کہ اگر ہم نہ ہوئے تو ہمارے بعد ہمارے گھروالوں کا کیا ہوگا۔ ایسے ہی ایک مایہ ناز سپاہی لانس نائیک رفیق(شہید) تھے جنہوںنے کہا تھا کہ ''میں شہید ہو کر گھر آئوں گا۔''لانس نائیک رفیق( شہید) کی بیوہ سونیا مجید اپنی جاندار آوازمیں یہ بتا رہی تھیں اور اس وقت ان کی آوازکہیں سے بھی ان کے اداس چہرے کا ساتھ نہیں دے رہی تھی۔ وہ بہت بلند حوصلہ تھیں اسی حوصلے کو آزماتے ہوئے وہ ہمیں اپنے شہید شوہر کی باتیں بتا رہی تھیں اور ان کے چہرے سے نظر ہٹانا مشکل ہو رہا تھا۔ کبھی ان کی آنکھیں درد و الم سے اشکبار ہو جاتیں اور کبھی ان کے ہونٹوں پر مسکراہٹ بکھرجاتی ہے لیکن چہرے پر موجود عزم اور حوصلہ قائم رہتا کیونکہ یہ عزم اور حوصلہ انہیں ان کے شہید شوہر سے ملا ہے۔ وہ بتا رہی تھیں کہ وہ اکثر انہیں کہا کرتے کہ ایک فوجی کی بیوی کو ایک فوجی کی طرح ہی مضبوط ہونا چاہئے۔ فوجی ہر وقت جنگ کے لئے تیار رہتا ہے۔ کسی بھی وقت اسے کوئی بھی مشن پورا کرنے کے لئے جانا پڑتا ہے اور وہ نہیں جانتا ہوتا کہ وہ زندہ لوٹے گا یا شہید ہو کر۔

آج ہم (ہلال ٹیم) AFIRM میں ان شہداء کی فیمیلیز سے ملنے آئے تھے جنہوں نے اپنے شہید بیٹوں یا شوہروں کی قربانیوں کے عوض ملنے والے بہادری کے تمغے  وصول کرنے تھے اور یہاں آتے ہوئے مجھے بالکل بھی اندازہ نہیں تھا کہ یہاں میری ملاقات اتنی باہمت اور حوصلہ مند خواتین سے ہو گی۔ ان کا عزم اور وطن سے محبت کا جذبہ دیکھ کر مجھے بہت اچھی طرح اندازہ ہو گیا کہ آج کی عورت کسی بھی چیلنج کا سامنا کر سکتی ہے اور اس کے ساتھ اپنی زندگی گزار سکتی ہے۔ بالکل اسی طرح جس طرح سونیا نے ایک شہید کی بیوہ ہونے کی آزمائش قدرت کی طرف سے قبول کرتے ہوئے اپنی دو بیٹیوں کے ساتھ زندگی گزارنے کا فیصلہ کیا۔  سونیا نے بتایا کہ رفیق (شہید) کے والد بھی فوج میں تھے جب رفیق (شہید) کی فوج میں سلیکشن ہو گئی تو ان کے والد نے ان سے کہا کہ میری جگہ بھرتی ہو کر جا رہے ہو وہاں سے کبھی بھاگ کر نہ آنا تو رفیق (شہید) نے جواب دیا کہ ابو میں بھاگ کر کبھی نہیں آئوں گا بلکہ شہید ہو کر ہی آئوں گا اور آخر انہوں نے اپنا کہا سچ ثابت کر دیا اور شہید ہو کر ہی آئے۔ آٹھ بہن بھائیوں میں ساتواں نمبررکھنے والے اس بھائی کا بہن بھائیوں کے ساتھ محبت اور پیار کا تعلق تھا۔ بچپن سے ہی بہت شرارتی تھے۔ اکثر گھر سے باہر نکلتے اور چلتے چلتے اتنے دور نکل جاتے کہ گھر والوں کو انہیں ڈھونڈنے کے لئے جاناپڑتا۔ سونیا کہتی ہیں کہ رفیق شہید فوج کو اس قدر پسند کرتے تھے کہ اپنی دونوں ٹوئنز بیٹیوں (حفصہ رفیق اور دعا رفیق) کو بھی فوج میں لانا چاہتے تھے۔ سونیا مجید کو رفیق (شہید) کے ساتھ بہت کم وقت گزارنے کا موقع ملا۔ ابھی ان کی شادی کو دو سال بھی مکمل نہیں ہوئے تھے کہ رفیق ان کو ایک شہید کی بیوہ کا درجہ دے گئے۔ یہ ایک حقیقت ہے کہ بیوہ ہو کر زندگی گزارنا ایک مشکل کام ہے لیکن شہید کی بیوہ ہونا ایک فخر، ایک اعزاز ہے کہ شہید وہ ہوتا ہے جو ایک مقصدکی خاطر اپنی جان قربان کرتا ہے اور پھر ہم فخر سے سب کو بتاتے ہیں کہ وہ اس وطن کی محبت میں اپنی جان کا نذرانہ پیش کر چکے ہیں۔

وہ جا چکا ہے

مگرجدائی سے قبل کا

ایک نرم لمحہ

ٹھہر گیا ہے

مری ہتھیلی کی پشت پر

زندگی میں

پہلی کا چاند بن کر

اگرچہ AFIRM کے اس ہال میںا س وقت دس بارہ لوگ موجود تھے مگر ایسے لگ رہا تھا جیسے یہاں سوائے سونیا کے اور کوئی نہیں۔ سب کی خاموش نظریں ان کے آنسوئوں سے تر چہرے پر تھیں اور توجہ ان کی باتوں پر۔۔۔ وہ بتا رہی تھیں  کہ رفیق ایک بہت اچھے اور ہمدرد انسان تھے۔ مزاج بہت سادہ تھا۔ غصہ بہت کم  آتاتھااس لئے زیادہ تر اچھے موڈ میں رہتے تھے۔ دوستانہ رویہ ہونے کی وجہ سے ہمیشہ ہر دل عزیز رہے اور اپنے تمام دوستوں کی مدد کے لئے ہمیشہ پیش پیش رہتے۔ان کے دوست بہت زیادہ تھے۔ ان کے ساتھ وقت گزار کر وہ بہت خوش ہوتے تھے۔ اکثر دوستوں کے ساتھ رات دیر تک بیٹھے رہتے۔ ہمارے گھر کے پاس ایک نہر ہے اکثر اپنے دوستوں کے ساتھ وہاں جاتے۔ اس نہر پر ان کابہت ٹائم گزرتا تھا۔ ان کی شہادت کے بعد ہم نے حکومت سے گزارش کر کے اس نہر کے قریب والی سڑک کا نام انہی کے نام پر رکھوایا ہے۔ ''رفیق شہید روڈ ''ان کے لئے ہم یہی کر سکتے تھے سو کر دیا تاکہ ان کا نام ہمیشہ زندہ رہے۔

 

اپنے شوہر کے ساتھ گزرے ہوئے وقت کویاد کرتے ہوئے سونیا نے بتایا کہ  ہم دونوں کا رشتہ بہت دوستانہ تھا ان کے ہوتے ہوئے کبھی کسی کی کمی محسوس نہیں ہوئی لیکن اب لگتا ہے کہ میں بہت اکیلی ہو گئی ہوں۔زندگی کے اس سفر میں وہ مجھ اکیلی کو تمام دُکھ اور امتحان اٹھانے کے لئے چھوڑ گئے لیکن ان کا دیا ہوا حوصلہ اور ہمت ہے جو مجھے سب کے سامنے مضبوط بناتا ہے۔ ہماری دو ہی بیٹیاں ہیں جو ان کی شہادت کے وقت صرف 7ماہ کی تھیں اور اپنی بیٹیوں سے انہیں بہت پیار تھا۔ان کی شہادت کے بعد اکیلے ان دونوں بیٹیوں کی پرورش میری زندگی کی ایک اور بڑی آزمائش ہے جس پر مجھے پورا اُترنا ہے میں جب بھی ان کے دیکھے ہوئے وہ خواب جو انہوںنے اپنی دونوں بیٹیوں کے لئے دیکھے تھے، یاد کرتی ہوں تومجھ میں ہمت و حوصلہ خود ہی آجاتا ہے اور اپنی بیٹیوں کے حوالے سے ان کے خوابوں کو تعبیر اب میں نے دینی ہے۔ میں نے خود سے عہد کیا ہے کہ میں اپنے شہید شوہر کے ہر خواب کو پورا کروں گی ۔ ان کو وہ رنگ دوںگی جووہ نہ دے سکے۔

 

 لانس نائیک رفیق 21 اپریل2016 کو وزیرستان میں دہشت گردوں کو نیست ونابود کرتے ہوئے شدید زخمی ہونے کے بعد تقریباً 2 ماہ تک CMH میں زیرِ علاج رہے لیکن محبت نبھانے کا وہ وقت آہی گیا جس کا ہر جوان کو شوق ہوتا ہے۔ اس طرح 16 جون 2016 کو لانس نائیک رفیق اپنے خالقِ حقیقی سے جا ملے اور اپنے نام کے ساتھ 'شہید' کا تمغہ سجا گئے۔

Comments



Note: No comments!



Leave a Reply

Success/Error Message Goes Here
Note: Please login your account and then leave comment!
TOP