مینارِ پاکستان کا پیغام

''مینار پاکستان نظریاتی دفاع کی ضرورت،تحریک آزادی کی علامت،دین کی سرفرازی کا گواہ اور ہماری تاریخ کاایک نشانِ خیر ہے۔یہ جس جگہ (اقبال پارک) واقع ہے اس کے مشرق اور شمال میں وسعت اور ہریالی ہے ۔ مغرب میں ایک محلہ ، جنوب میں قلعہ ،گوردوارہ اور مسجد عالمگیری(بادشاہی مسجد)واقع ہے ۔دنیا میں کہیں بھی کسی قرار داد کو منظور کرنے کی یاد اس طرح نہیں منائی گئی کہ جلسہ گاہ میں ایک مینار تعمیر کر دیا جائے۔اس برعظیم میں عالمگیری مسجدکے مینار وں کے بعد جو پہلا اہم ترین مینار مکمل ہوا وہ یہی 'مینار پاکستان 'ہے''۔

 

درج بالا سطور ممتاز ادیب اور بیوروکریٹ مختار مسعود کے طویل مضمون ''مینارپاکستان ''سے لی گئی ہیں۔مختار مسعود نے مینار پاکستان کے حوالے سے اپنی روحانی اور جذباتی کیفیت کو جس اسلوب سے اپنی شہرہ آفاق تصنیف  ''آواز دوست ''میںبیان کیا ہے وہ بلاشبہ ان کے قلم کاایک لافانی شاہکار ہے۔ صاحبان علم و فن کے ہاںان کی یہ طویل تاثراتی تحریر اردو ادب کا بیش بہا سرمایہ قرار پائی ہے۔عام طور پر ایک طویل مضمون میں دلچسپی برقرار رکھنا کسی بھی لکھاری کے لئے مشکل ہے لیکن مختار مسعود کا یہ مضمون طویل ہونے کے باوجود انتہائی دلچسپ ہے۔کسی نے سچ ہی کہا ہے کہ : '' مختار مسعود واقعات کی روح میں اْتر کر حقائق تک پہنچنے کا فن جانتے ہیں''۔مختار مسعود وہ شخصیت ہیں جن کا شمار اردو ادب کے چند مایہ ناز ادیبوں میں ہوتا ہے لیکن ان کا ایک بڑا اعجاز یہ بھی ہے کہ' مینار پاکستان 'کی تعمیر و تکمیل کا سہرا ان کے سر ہے ۔ مختار مسعود مینار پاکستان کی تکمیل کے وقت کمشنر لاہور تھے ۔

 

 قارئین ِ'ہلال ' کے ذوق مطالعہ کے لئے ذیل کی سطور میں مینار پاکستان کا ایک نظریاتی و تاریخی جائزہ پیش کیا جا رہاہے۔

 کسی بھی معاشرے کی قومی یادگاریں اس کی سنہری تاریخ کی امین ہوتی ہیں۔یہ یادگاریں اور عمارتیں کسی بھی قوم کی تخلیقی صلاحیتوں ، فکر ونظر یا اس کے شاندار ماضی کی عکاسی بھی کرتی ہیں۔وطن عزیز میں کئی ایسی یادگار عمارتیں ہیں جو ہمارے روشن ماضی کی گواہ ہیں ، ان میں سرفہرست اہم ترین قومی یادگار     '' مینار پاکستان ''ہے۔ یہ محض ایک مینار ہی نہیں بلکہ استعارہ ہے ہمارے   عزم و استقلال کا، اور نشان ہے ہماری جدو جہد آزادی کا ۔ مینار پاکستان کے تناظر میںدراصل ہم اپنی درخشندہ اور تاباں تاریخ کو دیکھ سکتے ہیں اورقربانیوں سے عبارت اپنے شاندار ماضی پر ایک نظر ڈال کر روشن مستقبل کی راہیں متعین کرسکتے ہیں۔

 

پنجاب کے صوبائی دارالحکومت لاہور میں واقع مینار پاکستان کویادگار پاکستان بھی کہاجاتا ہے۔یہ تحریک آزادی کی ایک عظیم الشان یادگار ہے ۔مینار پاکستان اس جگہ پر تعمیر کیا گیا ہے جہاں 23مارچ1940ء کوقائد اعظم محمد علی جناح کی صدارت میں منعقدہ آل انڈیا مسلم لیگ کے اجلاس میں تاریخی قراردادِ پاکستان منظور ہوئی۔مینار پاکستان اس جگہ پر بنایاگیا ہے جہاں  قراردادِ پاکستان کے عظیم الشان جلسے کا سٹیج بنایا گیا تھا۔اس جگہ کی نشاندہی ہمارے ان مشاہیر اور اکابرین نے کی تھی جو جدو جہد آزادی کے سرخیل تھے اور انہوں نے اس تاریخی جلسہ عام میں شرکت کی تھی۔جس وقت قرار داد پاکستان منظور ہوئی اس دور میں اس جگہ کا نام منٹو پارک تھا لیکن بعدمیں اسے شاعر مشرق ،مصور پاکستان علامہ اقبال کے نام سے منسوب کر دیا گیا۔

 

انسائیکلو پیڈیا آف پاکستانیکا کے مطابق :''23مارچ1959ء کو بلدیہ لاہور کے ا جلاس میں ایک قرار داد پیش کی گئی کہ قرارداد پاکستان کی جگہ پر ایک قومی یادگار بنائی جائے ۔اس وقت کے صدر ِپاکستان فیلڈ مارشل ایوب خان نے اس تجویز کی تائید کی او ر 1960ء میں ایک شاندار مینار تعمیر کرنے کے لئے کمشنر لاہور کی سربراہی میں بائیس رکنی'' پاکستان ڈے میموریل کمیٹی ''قائم کی گئی۔ مینار پاکستان کا ڈیزائن روسی نژاد ترک مسلمان آرکیٹیکٹ نصرالدین مرات خان نے بنایااور اس کی تعمیر عبد الخالق اینڈ کمپنی نے کی ''۔

 

محمد نعیم مرتضیٰ نے اپنی کتاب ''نیا لاہو ر''میں مینار پا کستان کی کہانی تفصیل سے بیان کرتے ہوئے لکھا ہے کہ:''ترک نژاد مرات خان راسخ العقیدہ مسلمان تھے، روس میں قیام کے دوران انہوںنے سول انجینئرنگ کی تعلیم حاصل کی اور روسی مسلمانوں کے لئے فلاحی کاموں میں بھی مصروف رہے۔بعد میں وہ جرمنی منتقل ہوگئے ، وہاں انہیں قیام پاکستان کے پس منظر کا پتہ چلا تو بہت متاثر ہوئے اور پاکستان بننے کے چند سال بعد ہی یہاں مستقل طور پر رہائش پذیر ہوگئے۔ ان کا جذبہ اس قدرشدید تھا کہ انہوں نے اس کام کی تنخواہ بھی نہ لی اورصرف جذبہ حب الوطنی کے تحت یہ فریضہ انجام دیا ۔حکومت پاکستان نے ان کی خدمات کے اعتراف میں انہیں تمغہ امتیاز عطا کیا ''۔

 

 مینار پاکستان کی تعمیر کا کام 23مارچ 1960ء کو شروع ہوا اور 26جولائی 1967ء کو پایہ تکمیل کو پہنچا ۔مینار پاکستان کی بلندی 196فٹ اور6انچ ہے۔  یہ 18ایکڑ رقبے پر محیط ہے۔ 180فٹ تک اسے لوہے اور کنکریٹ سے تعمیر کیا گیا ہے، باقی 16فٹ حصہ اور گنبد سٹین لیس سٹیل کا ہے۔گنبد سے سورج کی روشنی منعکس ہو کر ماحول کو منور کرتی ہے۔ یہ مینار اس طرز تعمیر کے مطابق بنایا گیا ہے جس میں عمارت کی ساخت گول ہوتی ہے اور جوں جوں عمارت بلندی کی جانب اٹھتی جاتی ہے اس کی گولائی بتدریج کم ہوتی جاتی ہے ۔اس کی پانچ گیلریاں ، بیس منزلیں اوراس پر چڑھنے کے لئے 334سیڑھیاں ہیں۔لفٹ کی سہولت بھی موجود ہے۔ مینار پاکستان پر 19تختیاں نصب ہیں جو پاکستان کے نظریے،حصول ،جدوجہد آزادی اور مستقبل کی نشاندہی کرتی ہیں۔اوپر گولائی کی تختیوں پر اسمائے حسنیٰ(اللہ تعالیٰ کے ننانوے نام) رقم ہیں۔مینار پاکستان کی دیواروںپر قرآن پاک کی آیات لکھی ہیں اوراردو،بنگلہ اور انگریزی زبان میں تین تختیوں پر قرار داد لاہور کندہ ہے۔سنگ مر مر کی باقی سلوں پر قائد اعظم کی تقاریر کے ا قتباسات ، شاعر مشرق کی نظم'' مجھے ہے حکم اذاں ، لا اِلٰہ الا اللہ'' اورمختلف اقوال کندہ ہیں۔مینار پاکستان پر کی گئی خطاطی مشہور زمانہ خطاط صوفی خورشید عالم ،محمد صدیق الماس رقم اور یوسف سدیدی چشتی کی ہے ۔اسی طرح ایک تختی پر قومی ترانہ درج ہے،صدر دروازے پر اللہ اکبر اور مینار پاکستان کی تختیاں لگی ہیں۔1984ء میں مینار پاکستان اور اقبال پارک کا کا م لاہور ڈویلپمنٹ اتھارٹی کے سپرد کر دیا گیا جس کے بعد مینار پاکستان کے ارد گرد کے علاقے کو خوبصورت بنانے کے کئی منصوبوں پر کام ہوا۔

 

مینار پاکستان مغلیہ اور جدیدفن تعمیر کا ایک عمدہ اور بے مثال شاہکار ہے ۔یہ مینار یونہی نہیں بنادیا گیا بلکہ اس کی تعمیر اس انداز سے کی گئی ہے کہ یہ نظریاتی طور پر جدوجہد آزادی کی کہانی بیان کرتاہے۔مینار پاکستان پھول کی پنکھڑیوں سے نمودار ہوتا ہوا بلندی کی جانب گامزن ہے۔ اسے بلندی سے دیکھا جائے تو یہ ایک کھِلے ہوئے گلاب کی مانند ہے ۔جالی دار پھولوں سے مرصع اس کی پہلی چھت گنبد نما ہے ۔ مینار پاکستان پر لگا پانچ کونوں والا ستارہ اور اس کے گرد دو چاند قوم کو ایک روشن ، پر امن اور خوشحال مستقبل کی اُمید دلاتے ہیں ۔مینار پاکستان کی تعمیر میں چار بنیاد ی نظریات کار فرما ہیں۔اس کا پہلا چبوترہ جو بڑے بڑے پتھروں سے تعمیر کیا گیاہے تحریک آزادی کے آغاز کی طرف اشارہ ہے۔دوسرا حصہ کھردرے پتھروں کا بنا ہواہے جو آزادی کی راہ میں حائل رکاوٹوں اور سختیوں کی یاد دلاتا ہے۔تیسرا حصہ سخت پتھروں سے تعمیر ہے ، یہ پتھر آزادی کی راہ میں خون بہانے والے حریت پسندوں کے عزم اور استقامت کی یاد دلاتے ہیں۔ اس کا چوتھا حصہ جو سفید اور نرم ماربل سے بنا ہے اس عظیم کامیابی کی طرف اشارہ ہے جو مورخہ14اگست1947ء کو  مسلمانا ن برصغیر کے حصے میں آئی۔مینارکے بالکل اوپر آخر میں جگمگاتا گنبد اس بات کا غماز ہے کہ پوری اسلامی دنیا میں سرداری کا تاج پاکستان کے سر پر ہے اوریہ نہ صرف خطہ ہند بلکہ پورے عالم اسلام کا رہبر اور رہنما ہے۔

 

یوں تو ہر دور میں اس قومی یادگار کو خوبصورت بنانے اور اس کی     حفاظت و دیکھ بھال کے منصوبوں پرکام جاری رہا تاہم گزشتہ حکومت نے ایک میگا پراجیکٹ کے تحت اس کی خوبصورتی میں خاطر خواہ اضافہ کیا ہے ۔ منصوبے کے تحت مینار پاکستان اور شاہی قلعہ ، بادشاہی مسجد اور گوردوارہ کے درمیانی علاقہ کو بھی پارک میں تبدیل کر کے اس کا نام'' گریٹر اقبال پارک'' رکھ دیا گیا ہے۔ اس کا کل رقبہ تقریبا ً120ایکڑ بتایا جاتا ہے۔اس عظیم الشان منصوبے کی تکمیل کے بعد اب اس کی تزئین وآرائش پہلے سے بھی زیادہ دیکھنے سے تعلق رکھتی ہے۔جن لوگوں نے پانچ سات برس قبل کا مینار پاکستان دیکھاہے، انہیں چاہئے کہ اب وہ جب بھی لاہو رآئیں تو ''گریٹر اقبال پارک ''اور اس کے عین وسط میں پورے جلال اور جمال کے ساتھ ایستادہ'' مینار پاکستان ''کو دیکھنا نہ بھولیں۔ یہاں لائبریری بھی ہے، اوپن ایئرجم اور ڈانسنگ فائونٹین بھی۔پارک میں لہلہاتے رنگا رنگ پھول ، سبزہ زار، انواع و اقسام کے پودے ، راہداریاں اور جھیل اس کی خوبصورتی میں اضافہ کرتے ہیں۔اب یہاں غیر ملکی سیاحوں کی دلچسپی بھی پہلے سے بہت بڑھ گئی ہے اور وہ بیک وقت مینار پاکستان اور اس کے ساتھ ساتھ بادشاہی مسجد ، حضوری باغ، شاہی قلعہ ، سکھوں کے گردوارے کی سیر اورفوڈ سٹریٹ کے انواع واقسام کے کھانوں سے بھی لطف اندوز ہوتے ہیں۔یہی نہیں بلکہ مینار پاکستان کے سائے تلے پاکستان کے قومی ترانے کے خالق اور عظیم دانش ور حفیظ جالندھری (مرحوم )بھی محواستراحت ہیں ۔ ''گریٹر اقبال پارک'' منصوبے کے تحت حفیظ جالندھری کے مزار کی بھی خوب تزئین و آرائش کی گئی ہے ۔

 

قارئین !مینار پاکستان کو ایک خاموش یادگار نہ سمجھا جائے بلکہ یہ ہر لمحہ ہم سے کچھ طلب کرتا ہے ۔ اس پر کندہ قائداعظم محمد علی جناح کے فرمودات ،  قلب و جگر کو گرماتی شاعر مشرق کی شاعری اور قرآنی آیات ہم سے تقاضا کرتی ہیں کہ ہم اس دھرتی کو عظیم سے عظیم تر بنانے میں کوئی دقیقہ فرو گزاشت نہ کریں اوراس کی تعمیر و ترقی میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیں۔سنگ مر مر کی سلوں پر کندہ اقبال کے اشعار ''مجھے ہے حکم اذاں-لاالٰہ الااللہ''ہمیں ایک آفاقی پیغام دیتے ہیںاور ہمیں بھولا ہوا سبق یا د دلاتے ہیںکہ ہم آگے بڑھیں اور نہ صرف اپنے وطن بلکہ پوری امت مسلمہ کے لئے ایک ''مینارہ نور''ثابت ہوں۔بس ''مینار پاکستان ''کاقوم کے نام یہی پیغام ہے۔


مضمون نگار ایک قومی اخبار کے لئے کالم لکھتے ہیں۔

[email protected]

Comments



Note: No comments!



Leave a Reply

Success/Error Message Goes Here
Note: Please login your account and then leave comment!
TOP