میرے بلوچستان ، تو آباد رہے

ایک نسل نے خون کا خراج ادا کیا، اب اگلی نسل تعمیرِ نو میں مصروفِ عمل ہے!اس سال میرا بیٹا پاکستان ملٹری اکیڈمی سے فارغ التحصیل ہو کر فرنٹیئر فورس رجمنٹ کی ایک نامور بٹالین کا حصہ بن چکا ہے۔ یونٹ اس وقت بلوچستان کے دور اُفتادہ، پسماندہ علاقے میں تباہ حال سکولوں کی بحالی، صاف پانی کے لئے کھدائی، فلٹریشن پلانٹ نصب کرنے سے لے کر مقامی آبادی کے لئے طبی سہولیات تک کی فراہمی میں مصروفِ عمل ہے۔ قوم کے بیٹے، خاموشی اور انکساری کے ساتھ موسم اور جغرافیائی سختیوں کو جھیلتے ہوئے، روشنیوں میں لپٹے وطنِ عزیز کے شاد و آباد شہروں سے دور سیاسی ہنگاموں سے بے خبر اپنے خون اور پسینے کی مہک سے وطن کی فضائوں میں محبتوں کی خوشبو رچارہے ہیں۔ میرا بیٹا بچپن سے ہی عمدہ تعلیمی ریکارڈ اور کھیل کے میدان میں شاندار کارکردگی کا حامل رہا ہے۔ سکیٹ شوٹنگ میں فطری مہارت کے علاوہ زمانۂ طالب علمی سے ہی اس نے ٹینس کے میدان میں اپنی مہارت کا لوہا منوایا۔ متعدد ٹورنامنٹس جیتنے کے بعد اپنی نمایاں کار کردگی کی بناء پر اسے جاپان جانے والے پاکستانی طلباء کے وفد کا حصہ بننے کا اعزاز حاصل ہوا۔

صرف 17 سال کی عمر میں وہ بلوچستان کی ٹینس ٹیم کا حصہ بنا اور اسلام آباد میں منعقدہ نیشنل گیمز2013 میں صوبے کی نمائندگی کی۔ کچھ ہی دنوں بعد اُسے ہندوستان میں نوجوانوں کے لئے منعقدہ ٹینس کے تربیتی کیمپ میں شرکت کی دعوت موصول ہوئی۔ اسی دوران میرے اصرار پر وہ

NUST

کے انٹری ٹسٹ میں کامیابی کے بعد سکول آف بزنس میں داخلے کا بھی اہل ہوچکا تھا، مگر اس سب کے باوجود وہ صرف پاکستان آرمی میں شمولیت کا عزم ِ صمیم رکھتا تھا۔ لہٰذا اس نے ان تمام مواقع کو پسِ پشت ڈالتے ہوئے پاکستان ملٹری اکیڈمی جانے کو فوقیت دی۔

پاکستانی فوج میں شمولیت کی یہ کہانی خدا کے اُن پرُاسرار بندوں کی کہانی ہے جو آسائشوں بھری زندگی اور رنگ و نور کی دنیا کو چھوڑ چھاڑ کر مادرِ وطن کے دفاع میں اختیاری طور پر کڑی آزمائشوں، سختیوں سے لبریز اور ایک مشکل راستے کا انتخاب کرتے ہیں۔ دُور دراز علاقوں میں ٹھکانے آباد کرتے ہیں۔ موسموں کی صعوبتیں جھیلتے ہیں۔ صحرانوردی کرتے اور سنگلاخ چٹانوں پر بسیرا کرتے ہیں۔ میرا عقیدہ ہے کہ آج کا نوجوان فوجی افسر زندگی کا کوئی بھی شعبہ اختیار کرے عمدہ کارکردگی اس کا طرئہ امتیاز ہوگا۔ میں آج کل  کے نوجوانوں کی طرح عمدہ تعلیمی کیریئر اور شاندار جسمانی صلاحیتوں کا دعویٰ تو نہیں کرسکتا تاہم 35 سال قبل میںنے بھی افواجِ پاکستان کا حصہ بننے کا اختیاری راستہ چنا تھا۔

سال 1985 میں پی ایم اے سے پاس آئوٹ ہوکر میں بلوچستان کے  دارالحکومت کوئٹہ میں ہی اپنی پہلی یونٹ میں تعینات ہوا۔ کوئٹہ آج بھی میری سنہری یادوں کا مسکن ہے۔ بلوچستان کے دھول اُڑاتے میدانوں کے بیچوں بیچ رسیلے پھلوں میں گھری ایک دلکش قدیم طلسمی وادی!

جاڑوں کے اوائل ، سرمائی مشقوں کے سلسلے میں میری یونٹ نواحی علاقے بلیلی میں مصروفِ عمل تھی۔ کوئٹہ کے گرد بلند پہاڑوں کی چوٹیاں برف سے ڈھک چکی تھی۔ قریبی پہاڑوں کے دامن اور کوئٹہ چھائونی کی سڑکوں کے کنارے کھڑا پانی شفاف شیشے جیسا روپ دھارے روپَہلی دھوپ میں دن چڑھے دیر تلک چمکتا رہتا۔ بلیلی میں ہمارا رہائشی کیمپ لال سنہرے سیبوں سے لدے باغ کے عین کنارے پر واقع تھا۔ دن بھر کی تھکا دینے والی تربیتی مشقوں کے بعد رات گئے خیموں کے بیچ آگ کے الائو کے گرد کبھی کبھار محفل جمتی۔ کوئٹہ شہر سے ہمارے  ایک یونٹ آفیسر کوئٹہ جن کا آبائی شہر تھا، کے شناسا مقامی افراد اکثر ہماری مجلس کا حصہ بن جاتے۔ اسی محفل میں میںنے مصری کی ڈلی منہ میں جما کر لال انگاروں پر دھری کیتلی سے اُبلتا قہوہ چھوٹی چھوٹی رکابیوں میں انڈیل کر پینے کا خوشگوار تجربہ کیا۔ ہمارے مہمان مقامی حضرات بالعموم خوشحال اور تعلیم یافتہ طبقے سے تعلق رکھنے والے نوجوان ہوتے۔ ایک بار ان دوستوں کے ساتھ ایک ولایت پلٹ نوجوان بھی ہماری محفل کا حصہ بنا۔ یہ نوجوان بالعموم پاکستان آرمی کا ناقد اور فوج میں پنجابیوں کی اکثریت کی بنا پر  پر ان سے شاکی رہتا۔ تاہم جب یہ پٹھان نوجوان انگریزوں کے لہجے میں انگریزی اور اُردو بولتا تو وہ پشتو لہجے کی ملاوٹ سے کانوں کو خوب بھلی لگتی۔ ہم نوجوان افسروں کو تو خیر صرف سننے کا اختیار حاصل تھا ہمارے بڑے بھی اس کی بسااوقات تلخ بات پر مسکرا دیتے اور گفتگو کا اختتام ہمیشہ دوستانہ قہقہوں پر ہی ہوتا۔ پٹھان دوستوں کے علاوہ ہزارہ قبائل کے افراد سے بھی خوب  میل ملاقات رہتی کیونکہ ہمارے پیارے کیپٹن عباس کا تعلق کوئٹہ کے ہزارہ قبیلے سے تھا۔ ایران عراق جنگ کے دن تھے، لیاقت بازار اور اس سے ملحقہ دکانوں کی اکثریت ہزارہ قبیلے کی ملکیت تھی جو ایرانی سامان سے اٹی رہتیں۔ کسی مخصوص شناخت رکھنے والے فرد کی ٹارگٹ کلنگ کسی کے وہم و گمان میں بھی نہیں تھی، ویک اینڈز پر ان مارکیٹوں کے علاوہ کوئٹہ شہر کی مرکزی شاہراہ جناح روڈ پر مٹرگشت ہمارے معمولات کا حصہ تھی۔

جناح روڈ اپنی شاندار دکانوں، جن میں سے ایک ٹیلر شاپ اور کتابوں کی معروف دکان شاہراہ کی پہچان تھیں، کے علاوہ اپنی صفائی ستھرائی کے لئے جانی جاتی تھی۔ سمارٹ وردیوں اور سفید اینکلٹس میں ملبوس ٹریفک پولیس اپنے نظم، پیشہ ورانہ مہارت کے لئے مشہورتھی۔اس پولیس فورس کے زیادہ تر افراد کا تعلق ہزارہ قبیلے سے تھا۔ میں نے اپنا پہلا

(Ceremonial)

ڈریس اور میس کٹ جناح روڈ پر واقع ٹیلر شاپ سے سلوائے۔ جس کی لاگت اس وقت میری ایک ماہ کی تنخواہ کے برابر تھی۔ جب میرا اردلی یہ لباس وصول کرنے گیا تو ٹیلر ماسٹر صاحب نے معاوضہ طلب کئے

بغیر محض ایک سادہ چٹ پر لکھے میرے نام کو دیکھ کر قیمتی لباس اس کے حوالے کر دیئے جو عوام اور ہمارے بیچ باہمی اعتماد اور احترام پر مبنی رویے کی غمازی کرتا۔ کوئٹہ میں واقع انفنٹری سکول نوجوان افسروں کی آماجگاہ ہے۔ یہاں زیرِتربیت نوجوان افسران عمر کے اس حصے میں ہوتے ہیں جہاں ان کے ہم عمر سویلین دوست زیرِ تعلیم یا ابھی سول اداروں میں حصولِ ملازمت کے لئے کوشاں ہوتے ہیں۔ ویک اینڈز پر انفنٹری سکول میں زیرِ تربیت نوجوان افسران جناح روڈ پر مٹرگشت اور لیاقت روڈ پر ونڈو شاپنگ یا پھر شہر کے دیگر علاقوں میں روایتی کھانوں کی تلاش میں نکلتے ۔ کبھی کبھار ان ٹولیوں اور کوئٹہ پولیس کا اِکا دُکا اہلکاروں کے بیچ اونچ نیچ ہو جاتی ۔ وقتی طیش کے بعد معاملات بالعموم سنبھل جاتے۔ سول ملٹری تعلقات مجموعی طور پر ہمیشہ خوشگوار اور اداروںکے مابین تعلقات باہم استوار رہتے۔ ایک شام ہم تین لفٹین ایک موٹرسائیکل پر سوار جناح روڈ پر پہنچے جہاں کسی زمانے میں پی آئی اے کا دفتر تھا۔ وہاں متعین ٹریفک پولیس کے اہلکار نے ہمیں رُکنے کا اشارہ کیا اور پاس آکر تڑاخ سے سلیوٹ کرتے ہوئے کہا ''آپ لوگ ہمارے آفیسر ہو، اس لئے آپ کو قانون کا احترام کرنا چاہئے۔'' شدیدشرمندگی کی حالت میں ہم میں سے دو موٹر سائیکل  سے اُترے، ٹریفک پولیس کے سپاہی سے معذرت کی اور پیدل جناح روڈ پر چل دیئے۔ کوئٹہ کی ٹریفک پولیس اپنے ڈسپلن، اخلاق اور سفید اینکلٹس کے لئے مشہورتھی۔ بعد ازاں ٹارگٹ کلنگ کی وجہ سے اس شاندار فورس کو شدید نقصان پہنچا۔

1988 کی گرمیوں میں میں کوئٹہ سے کچھ فاصلے پر کوئٹہ خضدار شاہراہ آر سی ڈی ہائی وے پر واقع شہر مستونگ کے نواح میں خضدار سے آئے ہوئے بریگیڈ کے ساتھ گرمائی مشقوں کا حصہ تھا۔ بلوچستان کے اس علاقے میں بلوچ قبائل کی غالب اکثریت آباد ہے۔سخت گرمی کی ایک دوپہر ڈھلنے کے بعد میں اسی قدر گرم شام، پسینے میں شرابور مرکزی شاہراہ پر ٹریک سوٹ پہنے جاگنگ کررہا تھا کہ عقب سے ایک بلوچ اپنی گدھا گاڑی سرپٹ بھگاتے میرے برابر لایا اور تشویش بھرے لہجے میں بولا''خیر ہے؟، کدھرکو جانا ہے؟، آئو میں تمہیں چھوڑ آتا ہوںـ'' اس سادہ لوح بلوچ کی محبت اورخلوص میری حسین یادوں کا حصہ ہیں۔

اسی سال جنرل ضیاء الحق کے فضائی حادثے کی خبر ہم نے اسی کیمپ میں سنی۔ جنرل ضیاء الحق کے بارے میں ہم نوجوان افسروں کے مابین تاثر تھا کہ خفیہ اداروں کے ذریعے  ہماری ''غیر اسلامی سرگرمیوں'' پر نظر رکھتے ہیں۔ چنانچہ خفیہ والوں سے ہماری آنکھ مچولی چلتی رہتی اور ہم ان اداروں کے اہلکاروں کو بالعموم  ناپسندیدگی کی نگاہ سے دیکھتے۔ عرصہ بعد جب شعور میں پختگی آئی تو احساس ہوا کہ خفیہ ادارے اتنے بُرے نہیں ہوتے جتنا ان کو بڑھا چڑھا کر پیش کیا جاتا ہے۔

مقامی انٹیلی جنس کا ایک کپتان، آفیسرز میس میں میرے برابر والے کمرے میں رہائش پذیر تھا۔ ایک بار اپنی

Seniority

کا فائدہ اٹھاتے ہوئے اس نے مجھے گوادر، تربت اور تفتان کے علاقوں میں ہونے والے قوم پرستوں کے جلسے میں کی جانے والی تقاریر کے اُردو متن کا انگریزی میں ترجمہ کرنے کودیا۔ ان تراجم کے دوران مجھے پہلی بار پتہ چلا کہ بلوچستان کے کچھ افراد جو اپنے آپ کو اشتراکیت پسند کہتے ہیں، اپنی تقریروں میں روس سے مطالبہ کررہے تھے کہ وہ گوادر پر بندر گاہ تعمیر کرے اور بلوچستان کو آزاد کراکے بندر گاہ سمیت ان کے حوالے کردے۔

کوئٹہ شہر میں سرخ غالیچوں پر بیٹھ کر میںنے پہلی بار کابلی پلائو اور افغانی تکے کھائے۔ افغان جنگ کے اوائل تھے اور افغانی رفتہ رفتہ کوئٹہ اور بلوچستان کے پشتون علاقوں بشمول پشین اور چمن میں کثرت سے آباد ہو رہے تھے۔ اس پٹی میں محمود خان اچکزئی کا گائوں گلستان بھی آباد ہے۔ اب تو ان علاقوں میں مقامی  کم اور افغانی اکثریت میں آباد ہیں۔ ان میں زیادہ تر افغان آباد کار محمود اچکزئی اور ان کے خاندان کے ووٹرز ہیں۔

سنہری یادوں سے مزین کوئٹہ میں میرا چارسالہ قیام1989 کے وسط میں اختتام پذیر ہوا۔بعدازاں تقریباً دو عشروں پر محیط عرصہ میںنے پاکستان اور پاکستان سے باہر اپنی پیشہ ورانہ ذمہ داریوں کی انجام دہی میں گزارا۔ اس دوران بلوچستان سے وابستہ میری یادیں محو تو ضرور ہوئیں۔ مگر دل کے نہاں خانوں میں ٹمٹماتے چراغوں کی طرح روشن رہیں۔ سال 2012 میںطویل عرصے بعد کوئٹہ میں دوبارہ تعیناتی کے بعد میں ایئر پورٹ پر اترا تو مانوس سرد ہوا کے تھپیڑے نے استقبال کیا۔ تاہم وقت کے ساتھ سب کچھ بدل چکا تھا۔ اس طویل عرصے کے دوران 2001 میں نیویارک میں دہشت گردوں کے حملے میں ہزاروں بے گناہ مارے گئے تو بدلے میں سلگتے امریکہ نے افغانستان پر آسمان سے آگ کی بارش برسا دی۔ بستیوں کی بستیاں تہہ و بالا کردی گئیں۔ جس کی دھول میں دہشت گردوں کا وہ عفریت پھن پھیلائے اٹھا کہ دُنیا کا بالعموم اور خطے کا بالخصوص حلیہ بدل کر رکھ دیا۔

مذہب، نسل اور علاقائی مفادات کی آڑ میں کتنے ہی بے گناہ موت کے گھاٹ اُتر گئے۔ نفرت کے بیوپاریوں نے نت نئے روپ دھار کر وطنِ عزیز کی گلیوں، بازاروں ، عبادت گاہوں ، کھیل کے میدانوں کو موت کی تاریکی میں ڈبو دیا۔ اب کی بار کوئٹہ کی سرد شاموں میں خوف کا عنصر تھا۔ ایک گرد تھی جو دلوں پر بیٹھ چکی تھی۔ یہ وہ بلوچستان  تو نہیں تھا جس کی یادیں دو عشرے میرے ساتھ رہیں۔

خون کا خراج دیتے ایک نسل جان سے گئی تو آج امید کا سورج ایک بار پھر اپنی آب و تاب سے ابھرنے کو ہے۔ تاریکیوں کی طاقتیں سمٹ رہی ہیں اور خوف کا اندھیرا چھٹ چکا ہے۔ تاہم دشمن، حلیفوں اور حلیف دشمنوں میں بدل چکے ہیں۔ اگرچہ خطے میں پاک چین دوستی اب بھی ہمالیہ کی چوٹیوں کو چھو رہی ہے۔

چین ایک علاقائی طاقت سے بڑھ کر عالمی سیاست کا طاقتور کھلاڑی بن چکا ہے۔ دُنیا سرد جنگ کے طاقت کے دو مراکز سے سمٹ کر ایک مرکزاور اب طاقت کے کئی مراکز کے تصور کو حقیقت میں بدلنے کے لئے پوری طرح تیار کھڑی ہے، قوموںکے درمیان معاشی اور علاقائی تعاون کے نت نئے امکانات ابھررہے ہیں۔ چین کے ون بیلٹ ون روڈ میں سی پیک کو مرکزی حیثیت حاصل ہے۔ سمندر سمٹ رہے ہیں۔ فاصلے کم ہو کر قوموں کو قریب لا رہے ہیں۔ مگر امریکہ کا بغل بچہ روس کی گود سے اُتر کر اب امریکہ سے لوریاں لے رہا ہے۔ انہی لوریوں میں ایک لوری بھارت کو چینی عزم کی راہ میں کھڑا ہونے کے لئے تیار کرنا ہے۔ بھارت پاکستان کو خطے میں بالادستی کے خواب کی راہ میں رکاوٹ سمجھتا ہے اور پاکستان بالخصوص بلوچستان میں نفرت کا کھیل جاری رکھنے کے لئے زخمی سانپ کی طرح تڑپ رہا ہے۔ سرِ دست بلوچستان کی سنگلاخ سرزمین پر آباد پاکستان کے جری بیٹوں کو کچھ رستے ناسوروں کو اپنی چھاتی پر سہنا ہے، نفرت، تفرقہ اور دہشت کا عفریت مرتے مرتے جان سے جائے گا۔

 اسی دوران افواجِ پاکستان کے وہ نوجوان جنہوں نے چکا چوند روشنیوں میں شاد آباد بستیوں کو خیرباد کہہ کرصعوبتوں کا راستہ چنا ہے اُنہیں دشمن کے پھیلائے ہوئے جھوٹ، نفرت اور نفاق کے کانٹوں کو اپنی آنکھوں سے چننا ہے۔ مجھے یقین ہے کہ ان کا جنون رنگ لائے گا۔امن، تعلیم اور ترقی بلوچستان کے باسیوں کا حق ہے، بلوچستان کے طول و عرض میں سرگرداں پاک فوج کے نوجوان افسر اور سجیلے سپاہی ہمارے بیٹے ہیں۔ ہمارے بیٹے جو ہم سے کہیںزیادہ باشعور، تعلیم یافتہ اور بہتر جسمانی صلاحیتوں کے حامل ہیں۔ ہماری امیدوں کا استعارہ ہیں۔

میری دعا ہے کہ بلوچستان اور اس کی حسین وادی کوئٹہ کی فضا امن و پیار، خوشبو و آشتی میں رچی بسی رہے۔ یہاں کے لوگ آسودہ و شادمان رہیں، اس کی سرزمین سونا اُگلے۔ اس کے درو دیوار پر ہیرے و جواہرات جڑے ہوں اور اس کے گہرے نیلے آسمان کے نیچے سرسبز و شاداب باغات، سنہرے لال سیبوں سے لدے پھندے رہیں۔

Comments



Note: No comments!



Leave a Reply

Success/Error Message Goes Here
Note: Please login your account and then leave comment!
TOP