مِٹ کے جو اک انمٹ روشنی بن گیا

حوالدار قیصر غفور شہید(تمغہء بسالت) کی داستانِ جرأت  محمد امجد چوہدری کے قلم سے

15 فروری 2015ئ۔۔۔ کوئٹہ ،آج سورج نے ٹھنڈ کی چادر کو تھوڑا سا ہٹایا تھا مگر جونہی غروب ہوا سارا شہرایک مرتبہ پھرکہر کے سمندر میں ڈوب گیا۔ دہشت گردی کی بڑھتی ہوئی وارداتوں اور غیرملکی سازشوں کی وجہ سے کوئٹہ اور گردونواح کی فضا میں ایک سنسنی پائی جاتی تھی۔ آپریشن ضرب عضب شروع ہوئے 8 ماہ ہو چکے تھے۔ ملک بھر میں سکیورٹی اداروں بالخصوص خفیہ ایجنسیوں کو کسی بھی ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لئے چوکس کردیا گیا تھا۔ کوئٹہ میں کالعدم تنظیموں کے بھی بہت سے خفیہ نیٹ ورک سرگرم عمل تھے جو معصوم شہریوں کا  قتل ِعام کررہے تھے۔ دن دیہاڑے ٹارگٹ کلنگ کے بہت سے واقعات رونما ہو چکے تھے۔ دہشت گرد ایک سوچے سمجھے منصوبے کے تحت ایک خاص فرقے کے افراد کو نشانہ بنا رہے تھے۔ بارودی سرنگیں پھٹنا ایک معمول تھا۔ دوسری جانب سکیورٹی فورسز اور خفیہ ادارے ان ملک دشمن عناصر کے گرد گھیرا تنگ کرتے جارہے تھے۔ حوالدار قیصر غفور بھی اس پیشرفت میں ان کے ساتھ شامل تھا۔ کوئٹہ میں آئے اسے دوسال ہوچکے تھے اور وہ اپنی محنت اور ذہانت کی وجہ سے اپنے سینئرز کا اعتماد حاصل کرچکا تھا۔ اس کی مؤثر کارروائیوں اور انفرادی جرأت و حکمت عملی سے بہت سے دہشت گرد اپنے انجام کو پہنچ چکے تھے۔ آج وہ اپنے فرائض ادا کرنے کے بعد واپس آیا تو ذرا سا تھکا ہوا تھا۔ آتے ہی  بستر پر لیٹ گیا۔ آنکھیں بند کیں تو زہرہ اور فائزہ چشم تصور میں ابھر آئیں۔ بابا، کب آرہے ہیں؟ ہمیں آپ کی یاد آ رہی ہے۔ اس کی آنکھ کھل گئی۔ اس نے موبائل اٹھایا اور گھر کا نمبر ڈائل کردیا۔ دونوں بیٹیوں سے جی بھر کے باتیں کیں۔ بیگم کو ان کا خیال رکھنے کو کہا۔ والدین کی خیریت دریافت کی اور اپنے چھوٹے بھائی فیصل غفور کو حسب عادت چند نصیحتیں کرکے فون بند کردیا۔

زندگی

برتر از اندیشۂ سُود و زیاں ہے زندگی

ہے کبھی جاں اور کبھی تسلیمِ جاں ہے زندگی!

تواسے پیمانہ امروز و فردا سے نہ ناپ

جاوداں پیہم دواں، ہر دم جواں ہے زندگی!

اپنی دنیا آپ پیدا کر اگر زندوں میں  ہے

سِرِّ آدم ہے ضمیرِ کن فکاں ہے زندگی!

زندگانی کی حقیقت کوہکن کے دل سے پوچھ

جوئے شیرو تیشہ و سنگِ گراں ہے زندگی!

بندگی میں گھٹ کے رہ جاتی ہے اِک جوئے کم آب

اور آزادی میں بحرِ بیکراں ہے زندگی!

آشکارا ہے یہ اپنی قوّتِ تسخیر سے

گرچہ اِک مٹی کے پیکر میں نہاں ہے زندگی

قلزمِ ہستی سے تو اُبھرا ہے مانندِ حباب

اس زیاں خانے میں تیرا امتحاں ہے زندگی

خام ہے جب تک تو ہے مٹی کا اِک انبار تو

پختہ ہو جائے تو ہے شمشیرِ بے زنہار تُو!

ہو صداقت کے لئے جس دل میں مرنے کی تڑپ

پہلے اپنے پیکرِ خاکی میں جاں پیدا کرے

پھونک ڈالے یہ زمین و آسمانِ مستعار

اور خاکستر سے آپ اپنا جہاں پیدا کرے

زندگی کی قوّتِ پنہاں کو کردے آشکار

تا یہ چنگاری فروغِ جاوداں پیدا کرے

خاکِ مشرق پر چمک جائے مثالِ آفتاب

تابدخشاں پھر وہی لعلِ گراں پیدا کرے

سُوئے گردوں نالۂ شبگیر کا بھیجے سفیر

رات کے تاروں میں اپنے راز داں پیدا کرے

یہ گھڑی محشر کی ہے تو عرصۂ محشر میں ہے!

پیش کر غافل عمل کوئی اگر دفتر میں ہے!

             (علامہ اقبال)

 

فیصل غفور کو اس کی نصیحتیں سننے کی عادت تھی۔ اچھا بھائی۔۔۔ ٹھیک ہے، ایسا ہی ہوگا۔۔ کہہ کر اس کی ہاں میں ہاں ملاتا رہتا۔۔ مگرآج بھائی نے ایسی  باتیں کی تھیں جو اس کی سمجھ سے بالا تر تھیں۔ آج اس کی آواز میں ایک عجیب کشش اور سرشاری سی تھی جسے وہ کوسوں دور اپنے دل میں محسوس کررہا تھا۔ اس نے آنکھیں بند کیں تو بھائی کی آنکھوں کی چمک اس پر حاوی ہوگئی۔ وہ بے چین ہوگیا۔۔۔ اس کی دھڑکنیں بے ترتیب ہوگئیں۔ وہ اٹھ کھڑا ہوا تو دیکھا ماں جی کی حالت بھی اس سے مختلف نہ تھی۔ وہ زور زور سے اپنے جانباز بیٹے کی کامیابی اور حفاظت کے لئے دعائیں مانگ رہی تھیں۔ فیصل ان کے پاس جا بیٹھا۔۔۔ اس کے لب خاموش تھے مگر اس کا دل اپنے بھائی کی سلامتی اور کامیابی کی دعا مانگ رہا تھا۔ دل میں اٹھنے والے خیالات کو وہ باربار جھٹک رہا تھا۔ اس کے سامنے وہ منظر گھوم گیا جب دونوں بھائیوں نے اکٹھے ہی فوج میں بھرتی ہونے کا پروگرام بنایا تھا۔ دونوں کی عمر میں ایک ڈیڑھ سال کا فرق تھا۔ وہ سکول میں بھی ایک کلاس آگے پیچھے تھے۔ وہ بھائی تو تھے ہی، گہرے دوست بھی تھے۔ بھرتی آفس میں کاغذات جمع کروا کے آئے تو مستقبل کے خواب بننے لگے۔ ایک دن کال لیٹر آ گیا۔ لفافے پر قیصر غفور تحریر تھا۔ لفافہ وصول کرتے ہوئے بولا: میں ایک سال بڑا ہوں، اس لئے میری کال پہلے آ گئی۔ اگلے سال تم بھی منتخب ہوجائو گے۔ یہ سن کر فیصل کے اترے چہرے پر مسکراہٹ بکھر گئی۔اس وقت  قیصر کے لب ولہجے میں جو عزم اور آنکھوں میں جو چمک نمودار ہوئی تھی، فیصل نے آج اسے پھر محسوس کیا تھا مگر آج اس کے اترے چہرے پر مسکراہٹ کے بجائے بے چینی کے آثار نمایاں تھے۔

 

فورسزکے جوان دہشت گردوں پر نظر رکھے ہوئے تھے۔ وہ کئی دن سے ایک خطرناک گروہ کے پیچھے تھے جو کوئٹہ سمیت مختلف علاقوں میں دہشت گردی کی بڑی کارروائیوں میں ملوث تھا۔ وہ چاہتے تھے کہ دہشت گردی کے اس نیٹ ورک کو اس کے سرغنہ سمیت انجام تک پہنچایا جائے۔آج انہیں یہ موقع مل گیا تھا۔ اطلاع موصول ہوئی کہ دہشت گردوں کا اہم سرغنہ ایک ہوٹل میں اپنے ساتھیوں سے ملاقات کرنے والا ہے۔ آپریشن کے نگران آفیسر نے بھرپوراور فیصلہ کن کارروائی کا فیصلہ کیا۔ اس نے اپنے تمام آزمودہ کار جاںنثار چن لئے۔ حوالدار قیصر غفور تو تھوڑی دیر قبل ہی ڈیوٹی سے واپس آیا تھا۔ کمانڈر نے سوالیہ نظروں سے اس کی آنکھوں میں جھانکا۔ اس خطرناک نیٹ ورک کو کھوجنے اور بے نقاب کرنے میں اس کا  کردار کلیدی رہا تھا اور آج جبکہ اس پر کاری ضرب لگانے کا وقت آیا تھا تو وہ کیسے پیچھے رہ سکتا تھا۔ اس نے کسی تامل کے بغیر اپنی گن تھام لی۔ تھوڑی دیر میں سکیورٹی فورسز ہوٹل کو گھیرے میں لے چکی تھیں۔ دہشت گرد اس اچانک کارروائی پر بوکھلا گئے۔ فائرنگ کا تبادلہ ہوا۔ قیصر غفور اور ان کے ساتھی اپنی جان کی پروا نہ کرتے ہوئے دہشت گردوں کے خلاف ڈٹ گئے۔ اسی دوران گولیوں کی ایک بوچھاڑ قیصر غفور کا سینہ چیرتی ہوئی انہیں شہادت سے ہم کنار کر گئی۔ فورسز کا یہ اچانک حملہ دہشت گردوں کے لئے کاری  ضرب ثابت ہوا تھا۔ سرغنہ اپنے بہت سے ساتھیوں سمیت مارا گیا۔ اس حملے میں حوالدار قیصر غفور نے جس غیرمعمولی جرأت و بہادری کا مظاہرہ کیا تھا، اس کے تمام ساتھیوں کو اس پرناز ہے۔

فیصل غفور کے موبائل کی گھنٹی بج اٹھی۔ وہ ابھی تک ماں کی گود میں سر رکھے بیٹھا تھا۔ وہ پہلے ہی بے چین تھا۔ ڈسپلے پر بھائی کا نام دیکھ کر دل کی دھڑکنیں تیز ہوگئیں۔ ابھی تو بات ہوئی تھی۔۔۔ اب دوبارہ فون کیوں۔۔۔ فیصل کے دل و دماغ پر خدشات کی لکیریں بننے مٹنے لگیں۔ فون آن کیا توآواز بھی بھائی کی نہ تھی۔۔۔ ''جی، السلام علیکم''۔۔۔ پھر لمبی خاموشی، آواز دوبارہ ابھری۔۔۔  ''حوالدار قیصر غفور کے گھر سے بات کررہے ہیں؟''

''جی، میں ان کا بھائی ہوں۔۔۔'' فیصل کے منہ سے بمشکل نکلا۔

 

''میں قیصرغفور کا کمانڈر بات کررہا ہوں۔۔۔ وہ ایک آپریشن کے دوران شدید زخمی ہوگئے ہیں۔۔۔۔ اللہ انہیں صحت دے۔۔ بس یہی اطلاع دینا تھی، آپ ہمت رکھیں۔۔۔'' فون بند ہوگیا۔۔۔ فیصل کو یوں لگا جیسے اس کا دل بھی بند ہوگیا ہو۔۔۔ اس کے بھائی سے متعلق تمام خدشات حقیقت بن کر اس کے سامنے آ گئے تھے۔ ماں اس کی جانب سوالیہ نظروں سے دیکھ رہی تھی۔۔۔۔ فیصل کے چہرے پر نمودار ہونے والے تاثرات نے انہیں بھی سب کچھ بتا دیا تھا۔ ان کی آنکھوں سے آنسوئوں کی لڑی جاری ہوگئی۔۔۔  کوسوں دور ہونے کے باوجودبیٹے ماں سے جدا کیسے ہوسکتے ہیں، ماں کو معلوم ہو جاتا ہے کہ اس کے جگر گوشے کے ساتھ کیا بیت رہی ہے، کیا گزر رہی ہے۔۔۔ قیصر غفور کی اہلیہ اور دونوں بیٹیوں کو بھی خبر ہوچکی تھی۔۔۔۔ یہ صورتحال ان کے لئے کربناک اور ناقابل یقین تھی۔۔۔

 

تھوڑی دیر بعد ٹیلی فون کی گھنٹی دوبارہ بجی۔۔۔ ڈسپلے پر قیصر غفورنام پھر ابھرا۔۔ مگر آوازاس دفعہ بھی اجنبی تھی۔۔۔ ''جی، السلام علیکم۔۔۔ میں قیصرغفور کا کمانڈر بات کررہا ہوں۔۔۔ وہ شہید ہوگئے ہیں۔۔۔۔اِنَّالِلّٰہِ وَاِنَّآ اِلَیْہِ رَاجِعُوْن۔۔۔ اللہ تعالی آپ کو صبر اور ہمت عطا فرمائے ، وہ یقینا انتہائی بہادر سپاہی تھے، ہمیں ان پر فخر رہے گا۔'' یہ اطلاع گھر والوں کی تمام کچی پکی    آس و امید کو سیلابی ریلے کی طرح بہا لے گئی۔۔۔ فیصل، سعدیہ، نادیہ اور مریم کا بھائی شہید ہوگیا تھا۔۔۔ ننھی فائزہ اور زہرہ کے بابا وطن پر قربان ہوگئے تھے۔۔۔ اہلیہ نازیہ کو شوہر کی جدائی کا کرب ملا تو لانس نائیک (ریٹائرڈ) عبدالغفور کا سینہ شہید کا باپ ہونے پر تن گیا۔۔۔اور ماں، اس کی آنکھیں ہمیشہ کے لئے نمناک ہوگئیں۔۔۔

 

حوالدار قیصر غفور شہید 19 فروری 1977ء کو سمبڑیال (ضلع سیالکوٹ) میں پیدا ہوئے۔ گورنمنٹ عوامی ہائی سکول سمبڑیال سے میٹرک اور گورنمنٹ اسلامیہ کالج سمبڑیال سے ایف اے کیا۔ ان کے والد عبدالغفور پاک فوج سے بطور لانس نائیک ریٹائر ہوئے۔ انہی  سے متاثر ہوکر قیصر غفورکو بھی پاک فوج میں شمولیت کا شوق پیدا ہوا۔ وہ 26 اکتوبر 1998ء کو بھرتی ہوئے اورآرڈننس سنٹر ملیرکینٹ سے عسکری تربیت مکمل کرنے کے بعد کراچی، پشاور اور ملتان میں اپنے فرائض انجام دیتے رہے۔ مزید پیشہ ورانہ کورسز کے بعد انہیں نئی ذمہ داریاں سونپ کر پہلے ملتان اور پھر کوئٹہ تعینات کیا گیاجہاں وہ شہادت سے ہمکنار ہوئے۔ حوالدار قیصر غفور شہید کو ان کے آبائی علاقے سمبڑیال میں پورے فوجی اعزاز کے ساتھ سپردخاک کیا گیا۔ نماز جنازہ میں پاک فوج کے افسروں اور جوانوں کے علاوہ علاقے کے معززین اور شہریوں نے بھی کثیر تعداد میں شرکت کی۔ اہل علاقہ نے انہیں اپنا فخر قرار دیا۔23 مارچ 2016ء کو ان کی جرأت و بہادری کے اعتراف میں انہیں تمغہ ء بسالت کے اعزاز سے نوازا گیا۔

 

شہید کی اہلیہ نازیہ غفوربتاتی ہیں کہ شہادت سے کچھ عرصہ قبل وہ قیصر غفور کے ہمراہ ایک قبرستان کے قریب سے گزر رہی تھیں۔ کچھ قبروں پر پاکستان کا قومی پرچم لہراتا دیکھ کر میں نے اس بارے میں قیصر سے استفسار کیا تو وہ بولے کہ یہ پرچم اس بات کی نشانی ہے کہ یہاں ہمارے شہداء آرام کررہے ہیں۔ یہ انتہائی خوش نصیب لوگ ہیں۔ یہ کہتے ہوئے شہید کی آواز میں جتنی آرزو اور جتنی حسرت تھی شاید وہی قبولیت کا لمحہ تھا اور اللہ تعالٰی نے انہیں بھی بہت جلد شہادت کے مرتبے پر فائز کردیا۔ آج حوالدار قیصر شہید کی قبر پر بھی سبز ہلالی پرچم اسی شان سے لہرا رہا ہے جس کی انہوں نے کبھی آرزو کی تھی۔

 

وادیوں، جنگلوں، پربتوں پر لڑا۔۔۔ پاک پرچم تلے!

جنگ اور امن کے زخم کھاتا رہا، موت کے سامنے مسکراتا رہا

تاکہ یہ شہر یہ گائوں بستے رہیں

آج وہ مردمیدان۔۔۔ بے جان ہے

لیکن اے زندگی!

اس کا جسم اک علامت، اک عنوان ہے!

ایک ارمان ہے

ایک تہذیب ہے، ایک تاریخ ہے

یہ وہ انسان ہے!

مٹ کے جو اک انمٹ روشنی بن گیا

مر کے جو اک امر زندگی ہوگیا        (سید ضمیر جعفری)

 

Comments



Note: No comments!



Leave a Reply

Success/Error Message Goes Here
Note: Please login your account and then leave comment!
TOP