مقدس وردی کی محبت میں

کہا کچھ لکھو۔ پوچھا کیا لکھوں؟کہا گیا ستمبرآرہا ہے۔ عرض کیا حکم سرآنکھوں پر۔

بات جب ماہِ ستمبر کی ہو تو الفاظ خود بخود وارد ہوتے ہیں۔ افسانہ نگار اور لکھاری حضرات کے لئے عموماً ماہِ دسمبر رومانوی حیثیت رکھتا ہے۔ لیکن میرے لئے ماہِ ستمبر عقیدت کی آخری حد تک محترم حیثیت رکھتا ہے اور کیوں نہ رکھے بچپن سے ہی 6ستمبر والے دن اپنے ابا کا جوش و خروش دیکھتی رہی، ان سے اس جنگ کی کہانیاں سنتی تھی۔

میرے ابا جنگِ ستمبر سے بھی کافی عرصہ پہلے ایک عرصے تک مجاہد فورس کا حصہ  رہے اور ٹریننگ بھی دیتے رہے اور جنگ کے دوران پاک فوج کے ساتھ مل کر اس وطن کی حفاظت میں اور ساتھ ہی امدادی کارروائیوں میں پیش پیش رہے۔ وہ بلیک اینڈ وائٹ تصویروں والا البم آج بھی ان کی الماری میں سامنے ہی رکھا ہوا ہے۔

میرے ابا کے اندر حب الوطنی کا جنون باجوڑ کے سنگلاخ پہاڑوں والے علاقے سے تعلق رکھنے والا  اتمان خیل قبیلے کے سردار میرے دادا نور علی خان جو خود بھی 1948 میں کشمیر کو آزاد کروانے والے لشکرکا حصہ تھے،کی میراث تھا جنہوںنے اپنے بیٹے کو ڈیوٹی پر روانہ کرتے ہوئے خالص باجوڑی لہجے میں کہا''بیٹا! گولی بندوق کے اندر اچھی لگتی ہے، دشمن کے جسم پر یاپھر مجاہد کے سینے پر''  اور معصومیت سے بات آگے بڑھاتے ہوئے نصیحت کی ''نماز میں بھی دشمن کی طرف پیٹھ نہ کرنا۔ کہیں گولی پیٹھ پر نہ لگ جائے۔''

مملکتِ خدا داد پاکستان اور اپنی پاک فوج سے محبت میرے خون میں دوڑتی ہے تو پھر جب بات ماہِ ستمبر کی آجائے تو۔۔۔۔

بہت سوچا کہ اس بار اس مہینے کو کس طرح خراجِ عقیدت پیش کروں؟ جنگ ستمبر کے شہیدوں کے بارے میں لکھوں؟ پاک دھرتی کی حفاظت کے لئے اپنی جان کا نذرانہ پیش کرنے والوں کی داستان لکھوں یا بہادری کی نئی تاریخ رقم کرنے والی قوم کے عظیم غازیوں کے بارے میں لکھوں۔ پاک فوج کی داستانِ سرفروشی لکھوں یا اس مٹی کی حفاظت کے لئے سیسہ پلائی دیوار بن جانے والی قوم کے بارے میں لکھوں؟ صدر ایوب کی اس لہو گرما دینے والی تقریر کے بارے میں لکھوںیا عالی جی، صوفی تبسم اور رئیس امروہوی کے بارے میں لکھوں جنہوںنے ناقابلِ فراموش نغمے تحریر کئے یا ملکہ ترنم نور جہاں، مہدی حسن اور استاد امانت علی خان کے بارے میں لکھوں کہ جن کے گائے ہوئے جنگی ترانے :

                اے وطن کے سجیلے جوانو میرے نغمے تمہارے لئے ہیں

                ساتھیو، مجاہدو ۔۔ جاگ اٹھا ہے سارا وطن

                خطۂ لاہور تیرے جاں نثاروں کو سلام

                اومیرا ماہی چھیل چھبیلا ہائے نی کرنیل نی جرنیل نی

                ایہہ پتر ہٹاں تے نئیں وکدے

                اپنی جاں نذر کروں اپنی وفا پیش کروں

                اے دشمنِ دیں تو نے اس قوم کو للکارا

اور ایسے ہی کئی نغمے جو آج بھی پوری قوم میں جوش و ولولہ پیدا کردیتے ہیں۔

BRB نہر پر سینہ تانے میجر عزیزبھٹی کے بارے میں لکھوں یا سیالکوٹ سیکٹر میں ان کے نوجوان بھانجے لیفٹیننٹ شبیر شریف کی داستانِ شجاعت بیان کروں۔ خطۂ لاہور کے جاں نثاروں کا ذکر کروں جو مادرِ وطن کی حفاظت کے لئے لاٹھیاں، کلہاڑیاں اور ہاکیاں لے کر اپنی فوج کے شانہ بشانہ دشمن کو نیست و نابود کرنے دوڑ پڑے یا ہوا کے اس شہسوار جس کو سارا عالم محمدمحمود عالم کے نام سے جانتا ہے، اس کا ذکر کروں جس نے ایک منٹ سے بھی کم وقت میں دشمن کے پانچ جہازوں کو مار گراکر فضائی معرکے کی ایک نئی تاریخ رقم کردی۔ یا اپنی پاک نیوی کا تاریخی معرکہِ دوارکہ بیان کروں کہ جس کے لئے جون ایلیا نے لکھا تھا:

فرماں روائے بحیرئہ عرب پاک بحریہ

دنیا میں تیرا نام ہے بے باک بحریہ

پاکستان کی 71 سالہ تاریخ تو پاک فوج کی قربانیوں سے بھری ہوئی ہے ان قربانیوں کا احاطہ ایک آرٹیکل میں مشکل ہی نہیں ناممکن ہے۔ لیکن ہاں۔۔۔۔ اس ستمبر کے مضمون میں میں جواب دینا چاہتی ہوں  ان لوگوں کو جو بیرونِ ملک سے Operate ہونے والے کچھ سوشل میڈیا اکائونٹس پر دن رات پاک فوج کے خلاف مواد اَپ لوڈ کرتے رہتے ہیں اور ملک کے اندر بھی صحافت اور نام نہاد لبرلز کے نام پر پاک افواج کو مطعون کرنے میںلگے رہتے ہیں۔ دشمن ایجنسیز کے منظورِ نظر کچھ نوجوانوں نے سب سے پہلے پاک فوج کے خلاف ہرزہ سرائی کرتے ہوئے وردی کو نشانہ بناتے ہوئے نعرے لگائے کہ '' یہ جو دہشت گردی ہے اس کے پیچھے یہ وردی ہے۔'' آج ان سب کو میرا یہ پیغام ہے ۔ آج میں ان کو بتائوں گی :

 ''آئو تم کو میں یہ بتائوں کس کے پیچھے یہ وردی ہے؟

آزاد جو میری دھرتی  ہے، اس کے پیچھے یہ وردی ہے،،

 تم جیسے لوگ سوچ بھی نہیں سکتے کہ اس وردی کو پہن کر وطن کا دفاع اور شہادت کا نشہ کیسے دوآتشہ ہو جاتا ہے۔ ہماری زندگی، اس کی خوشیاں ،یہ بے فکر مسکراہٹیں، سکون کی نیندیں اور ایک تحفظ کا لاشعوری احساس، ایک بار دل پر ہاتھ رکھ کر اپنے آپ سے پوچھ تو سہی کہ ان سب کے پیچھے کون ہے؟ یہ سب کس کا مرہونِ منت ہے؟

یہ وجدانی درویش جب یہ وردی اپنے جسم پر پہن لیتے ہیں  تو پھر ان کو اس بات کی قطعی پروا نہیں ہوتی کہ کون ان کو کس نام سے پکاررہا ہے۔ ان کے بارے میں کیا منفی سوچ رکھ رہا ہے۔ یہ مٹی کے بندے چاہے جوان ہوں یا افسر، چٹیل میدانوں، ریگستانوں، دریائوں، پہاڑوں میں اپنی جوانیاں لٹا رہے ہوتے ہیں۔ ان لوگوں کی حفاظت کرتے ہوئے جو ان کے وجود سے قطعی ناواقف ہوتے ہیں۔ کیا آپ کسی ایسے انسان کو جانتے ہیں جو آپ کونہ جانتا ہو لیکن پھر بھی آپ کے دفاع کے لئے اپنی جان قربان کررہا ہو؟ یہ ہوتا ہے وہ عہد جو وردی پہنتے ہوئے ایک فوجی اپنے آپ سے کرتا ہے اور اس کی ماں جب اس کی خون آلود وردی وصول کرتی ہے تو اس کے لب پر یہ الفاظ ہوتے ہیں:

''صدقے جاواں تیتھوں، ماں کہن والیا،

 دے کے تو جان اپنی ملک بچالیا۔''

دشمن ہماری پاک فوج کی طاقت سے آگاہ بھی ہے اور اس کے جذبے سے خوفزدہ بھی۔ جو سرحدوں پر بیٹھ کر ان کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر للکار کر تنبیہہ کررہے ہوتے ہیں:

کبھی بھول کر نہ آنا میری سرحدوں کی جانب

میری سرحدوں کی جانب کبھی بھول کر نہ آنا

بڑی پاک سرزمیں ہے یہاں سنتری کھڑے ہیں

کوئی دشمنوں سے کہدے یہاں غزنوی کھڑے ہیں

یہاں بدر کا ہے عالم، یہاں حیدری کھڑے ہیں

میری سرحدوں کے اندر نہ قدم بڑھاسکو گے

میری سرحدوں تک آئے تو نہ بچ کے جاسکو گے

میری ضرب حیدری ہے کہاں تاب لاسکو گے

کبھی بھول کر نہ آنا میری سرحدوں کی جانب

ہمارا دشمن ہمارے خلاف نت نئے طریقوں سے سازشوں میں مصروف ہے جس کے لئے وہ اپنے تمام وسائل بروئے کار لارہا ہے۔ سوشل میڈیا کے ذریعے ہماری قوم کے نوجوانوں کو اپنی ہی فوج کے خلاف بھڑکا رہا ہے لیکن وہ یہ نہ بھولے کہ وہ جتنے بھی حربے آزمالے وہ پاکستانی قوم کے دلوں سے پاک فوج کی محبت کم نہیں کرسکتا۔

جب بھی اس دھرتی پر کوئی ناپاک عزائم لے کر آنے کی کوشش کرے گا تو یاد رکھے کہ یہ قوم اپنی بہادر افواج کے ساتھ کھڑی ہے۔ اس قوم کے بہادر سپوت آج بھی ملک دشمنوں سے برسرِ پیکار ہیں اور قربانیوں کا یہ سفر جاری رہے گا۔ پھر بھی اگر اس وردی کے خلاف کوئی آواز اٹھتی ہے تو سوشل میڈیا پر ہی ایک نوجوان نے اس کا منہ توڑ جواب بھی دیا ہے۔

       آئو تم کو میں یہ بتائوں کس کے پیچھے  وردی ہے۔

یہ جوسوہنی دھرتی ہے۔ اس کے پیچھے وردی ہے، مٹی خاطر خون دیا ہے، امن امان سکون دیا ہے۔

پوچھو دیس کی ان مائوں سے

جن کے بیٹے خون بہائیں

لاشیں دیکھ کر دل میں روئیں

تکیئے  رکھ تصویریں سوئیں

دیس پہ وارجوانی دی ہے

تم جو آج بھی صف آرا ہو

تم نے کیا قربانی دی ہے؟

تم دشمن کے ہاتھ میں کھیلو

ہم مٹی پہ جانیں دیں گے

پر پیغام ہمارا سن لو

کہہ دو اپنے آقائوں سے

چاہے جتنی چالیں چل لو

ہم تم کو پہچان گئے ہیں

اصل تمہاری جان گئے ہیں

اور بس اتنا یاد رکھو تم

یہ جو سوہنی دھرتی ہے

اس کے پیچھے یہ وردی ہے

اپنے اس مضمون کے اختتام پر یہ ہاتھ باندھ کے عرض کرنا چاہوں گی، خدا را دشمن کے بہکاوے میں آکر اس پاک فوج اور اس کی مقدس وردی کی توہین مت کرو کیونکہ

 وردی میں بہتا خون بھی ہے

اس وردی میں پشتون بھی ہے،

ہے قوم و ملک کی رکھوالی

وردی میں جوش ِجنون بھی ہے

اقبال کا شاہیں وردی میں

سرسیدکا مضمون بھی ہے

پنجاب، سندھ، بلوچ جوان

اس وردی میں مدفون بھی ہے

اس وردی کو نہ گالی دو

اس پر شہداء کا خون بھی ہے

پاک دھرتی زندہ باد

پاک وردی پائندہ باد


مضمون نگارمیڈیا سائیکالوجسٹ اور رائٹر ہیں۔

[email protected]

 

 

Comments



Note: No comments!



Leave a Reply

Success/Error Message Goes Here
Note: Please login your account and then leave comment!
TOP