معیشت کی مضبوطی میں ٹیکسوں کی اہمیت

 کسی بھی ریاست کو ٹیکسز لگانے کی ضرورت کیوں پیش آتی ہے؟ ٹیکسز سے جمع ہونے والے مالی وسائل حکومت کے روزمرہ امور کی انجام دہی کے لئے درکار ہوتے ہیں۔ مزید یہ کہ اقتصادی معاملات اور معاشرتی استحکام کے لئے بھی ٹیکسز کا اہم کردار ہوتا ہے ۔ ٹیکس لگانے یا اس کی چھوٹ، ٹیکس کی شرح، ٹیکس کی نوعیت اور ٹیکس کے نظام کا مختلف شعبہ ہائے معیشت پر اطلاق ایک اہم پالیسی طریقہ کار ہے جس کے معیشت اور سماج پر مثبت اور منفی اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔

 حال ہی میں اگلے مالی سال 2018-19کا سالانہ بجٹ منظور کیا گیا۔ سال ہا سال کی طرز پر اس سالانہ بجٹ کے نمایاں خدو خال بھی شناسا سے تھے۔ محاصل کی فراہمی دیکھیں تو اندازہ ہوتا ہے کہ پاکستان کے ٹیکس اور مجموعی قومی آمدنی یعنی جی ڈی پی کا تناسب بمشکل 11 % کے لگ بھگ رہا۔ گزشتہ کئی سالوں بلکہ دہائیوں سے یہ تناسب نو سے گیارہ فی صد کے درمیان ہی رہا ہے۔ یہ تناسب اس امر کا مظہر ہے کہ حکومت اپنی ضروریات کے مطابق وسائل اکٹھے کرنے میں دیگر ممالک کے مقابلے میں پیچھے ہے ۔ پاکستان کی ٹیکس کی جی ڈی پی کا تناسب گزشتہ سال 11 % کے لگ بھگ تھا، جبکہ سری لنکا میں یہ تناسب 12 % سے زائد، ترکی میں18 % اور جنوبی افریقہ میں 27% تھا۔ اس کے باوجود دوسری جانب وسائل کے حصول میں ان مشکلات کے باوجود ہمارے ہاں وفاقی حکومت کا اخراجات کا پلڑا اس قدر بھاری ہے کہ ہر سال ایک خوفناک بجٹ خسارہ معیشت کو مزید زیر بار کر جاتا ہے۔ یہ بجٹ خسارہ پورا کرنے کے لئے حکومت کو لا محالہ اندرونی اور بیرونی قرضوں پر انحصار کر نا پڑتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ پاکستان کی معیشت ہر گزرتے سال قرضوں ، ان کی ادائیگی اور سود کی واپسی کے پھیر میں پھنس کر رہ گئی ہے۔

 

وفاقی سطح پر اس خسارے کی کچھ مزید جہتیں بھی ہیں۔ برآمدات اور درآمدات کے فرق کو تجارتی خسارہ کہا جاتا ہے۔ پاکستان کی درآمدات میں برآمدات کی نسبت تیزی سے اضافہ ہو ا ہے جبکہ برآمدات میں جمود کی سی کیفیت ہے۔ گزشتہ چار سالوں میں تو برآمدات میں کمی کی وجہ سے یہ تجارتی خسارہ کل برآمدات سے بھی زیادہ رہا ۔وہ تو بھلا ہو بیرونِ ملک ترسیلاتِ زر کا کہ یوں زرِ مبادلہ کے ذخائرکا کچھ تھوڑا بہت بھرم رہ جاتا ہے۔ لیکن پھر بھی قرضوں کی واپسی اور سود کی ادائیگی اور دیگر عالمی تجارتی و مالیاتی امورکی انجام دہی کے بعدبھی معیشت کو خسارے کا سامنا رہتا ہے جسے کرنٹ اکائونٹ خسارہ کہا جاتا ہے۔ یہ خسارہ مروجہ معاشی معیار کے مطابق اگر جی ڈی پی کا تین سے چار فی صد ہو تو معیشت کی معمول کی سالانہ بڑھوتری اسے سنبھالنے میں کامیاب ہو سکتی ہے، البتہ اگر یہ تناسب چھ، سات یا آٹھ فی صد تک بڑھ جائے تو معیشت اس بوجھ تلے مزید پستی چلی جاتی ہے۔ پاکستان کا کرنٹ اکائونٹ خسارہ گزشتہ کئی سالوں سے پانچ سے سات فیصد تک رہا ہے۔ ایسے میں حکومت کے پاس یہی حل ہے کہ اپنے مالی وسائل کو ٹیکسز کے ذریعے بڑھا کر معیشت کو ایک مضبوط بنیاد فراہم کرے یا پھر خسارے کو اندرونی اور بیرونی قرضوں سے پور اکرے۔

اندرونی اور بیرونی قرضے بھی معیشت کے استحکام کے لئے کوئی پائیدار حل ہر گز نہیں بلکہ یہ ایک' ڈنگ ٹپائو' مہنگا اقدام ہے۔ ماضی میں کم و بیش ہر حکومت کو مجبوراًعالمی مالیاتی اداروں سے رجوع کرنا پڑا۔ آئی ایم ایف کی کڑی شرائط کی ناگواری اور ان شرائط کے منفی اثرات پر عوام بلبلا اٹھتے ہیں، مخالفین حکومت پر تنقید کے تیر برساتے نہیں تھکتے لیکن تلخ حقیقت یہ ہے پاکستان کی کم و بیش تمام حکومتیںایک غیر لچک دار ( Rigid ) ٹیکس سسٹم اور اس سسٹم میں براہِ راست ٹیکسوں سے زیادہ بالواسطہ ٹیکسوں پر انحصار کرتی رہی ہیں جس سے معیشت کی طویل مدت نشو و نما پر منفی اثرات مرتب ہوتے رہے ہیں۔

 

 زیادہ دور کیا جانا ، اسی لگے بندھے ٹیکس نظام کا کمال ہے کہ گزشتہ دس سالوں کا مجموعی ریکارڈ دیکھیں تو ماہرین کے مطابق محصولات کا ساٹھ فی صد بالواسطہ ٹیکسوں سے اکٹھا کیا جاتا رہاہے۔ ان بالواسطہ ٹیکسوں میں سب سے زیادہ انحصار ود ہولڈنگ ٹیکس یعنی ادائیگی کے مرحلے پر ہی وضع کر لئے جانے والے ٹیکسوں پر رہا ہے۔ ود ہولڈنگ ٹیکسوں کا نفاذ اور ان سے محصولات کی وصولی حکومتی مشینری کے لئے قدرے آسان ہوتی ہے لیکن اس کے معیشت، پیداوار اور کاروباری مسابقت( یعنی Competitiveness )پر بہت منفی اثرات مرتب ہوتے ہیں جو بالعموم مہنگائی اور پیداواری لاگت میں اضافے کی شکل میں سامنے آتے ہیں۔ اس کے باوجود ماضی میں جب بھی ٹیکس کے نظام اور ٹیکس مشینری میں اصلاحات کا ڈول ڈالا گیا ، اصلاحات کا خواب تشنہ ہی رہا۔

 

صوبوں کے مالی وسائل کا انحصار زیادہ تر وفاقی پول میں سے معینہ حصے پر رہا ہے۔ 18 ویں ترمیم کی منظوری کے بعد، اور نیشنل فنانس کمیشن کے مطابق وفاق کے پول کا غالب حصہ صوبوں میں تقسیم کر دیا جاتا ہے۔ اس ترمیم کے تحت صوبے اب خدمات یعنی سروسز پر جی ایس ٹی وصول کر رہے ہیں۔ صوبوں میں بھی اپنے وسائل اکٹھے کرنے کے لئے بالواسطہ ٹیکسوں پر انحصار کا وفاق جیسا چلن ہی غالب ہے۔ پنجاب میں بلا واسطہ ٹیکسوں کا تناسب سب سے زیادہ یعنی 21 % ہے جبکہ سندھ میں ٹیکس محصولات میں بلاواسطہ ٹیکسوں کا تناسب سات فی صد، کے پی میںسولہ اور بلوچستان میں آٹھ فی صد ہے۔

 

ٹیکسوں کے ہمارے نظام اوراس میں موجود خامیوں اور اسکی مشینری کی کوتاہیوں اور عمومی کرپشن نے معیشت کو ایک مسلسل حالتِ نزاع میں مبتلا کر رکھا ہے۔ ایک مؤقر معاشی رپورٹ کے مطابق پاکستان کی معیشت کے اندرونی قرضوں میں 2009 اور 2018کے درمیان پانچ گنا اضافہ ہوا یعنی 3,266 ارب روپے سے بڑھ 15,375 ارب روپے۔ اسی طرح بیرونی قرضوں میں اسی عرصے کے دوران ڈیڑھ گنا اضافہ ہوا۔ یہی وجہ ہے کہ سالانہ بجٹ میں اخراجات کا سب سے بڑا آئٹم بدستور قرضوں اور سود کی ادائیگی ہے۔ دفاع، حکومتی نظام کو چلانے اور دیگر ترقیاتی امور کے لئے مختص حجم اس کے بعد آتے ہیں۔ یہ صورتحال ہر گزرتے سال مزید معاشی مشکلات اور اقتصادی چیلنجز کا باعث بن رہی ہے۔

 

ترقی یافتہ ممالک ہوں یا ہم جیسے ترقی پذیر ممالک، خال ہی کوئی خوشی خوشی ٹیکس دینے پر آمادہ ہوتا ہے،چنانچہ کسی بھی مضبوط معیشت کے لئے ضروری ہے کہ ٹیکسوں کا ایک ایسا جامع نظام ترتیب دیا جائے جس میں اس کی شرح، بالواسطہ اور بلاواسطہ ٹیکس تناسب میں توازن ، ٹیکس نیٹ کی وسعت اور ناگزیر سیکٹرز کے لئے عارضی رعایت یا مکمل استثنیٰ جیسے اقدامات کے ذریعے معاشی نشو ونما، ملازمتوں، سرمایہ کاری اور بچتوں کو فروغ دے۔ ایسے نظام کے ذریعے حکومت نہ صرف ٹیکسوں کو فقط اپنے مالی وسائل کے اضافے کے لئے استعمال کر نے کے قابل ہوتی ہے بلکہ ٹیکسوں کے طریقہ کار کے ذریعے اقتصادی نا ہمواری کو کم کرنے، علاقائی عدم توازن دور کرنے، سرمایہ کاری میں فروغ، ملازمتوں کے امکانات میں وسعت، وسائل کی تقسیمِ نو اور  معیشت کے کئی شعبوں میں منفی رجحانات مثلاً سٹہ بازی ، قیمتوں پر مصنوعی ایکا، طلب و رسد کے توازن کو درہم برہم کرنے، ذخیرہ اندوزی وغیرہ کی حوصلہ شکنی کے لئے بھی استعمال کر سکتی ہے۔

 

معیشت کی مضبوطی میں ٹیکس کے ڈھانچے کے لئے یہ بھی ازحد ضروری ہے کہ ٹیکس نظام ہمہ گیر ہو، ٹیکس نیٹ وسیع ہو، اس کے تناسب میں consumption  کی بنیاد پر اور بلاو اسطہ ٹیکسز کا تناسب زیادہ ہو تاکہ زیادہ کمانے اور وسائل کے حامل ٹیکس بھی اسی حساب سے ادا کریں نہ کہ بالواسطہ ٹیکسوں کی آڑ میں بہت کم ٹیکس دے کر بچ نکلیں۔

 

یہ بھی ایک تلخ حقیقت ہے کہ ہمارے ہاں ٹیکس نظام میں کرپشن ، غیر دستاویزی معیشت کے پھیلتے ہوئے حجم ، ٹیکس گریز رجحانات اور بنیادی اصلاحات سے مسلسل چشم پوشی نے یہاں تک پہنچا دیا ہے کہ بائیس کروڑ کی آبادی میں ٹیکس گزار افراد اور اداروں کی تعداد دس لاکھ سے بھی کم ہے۔ پاکستان کو مضبوط معیشت کے لئے ٹیکسوں کو متوازن انداز میں نئے سرے سے ترتیب دینے ، بے لاگ انداز میں اس کے اطلاق ، ہمہ گیر ، شفاف اور کرپشن سے پاک نظام کی طرف پیش رفت ایک اختیاری فیصلہ نہیں بلکہ اب یہ معاشی استحکام کی ناگز یر ضرورت ہے۔ ملک کو درپیش معاشی چیلنجز سے نمٹنے کے لئے ٹیکس کی نظامت کو دیگر ترقی یافتہ اور ترقی پذید ممالک کی طرح ایک مؤثر ہتھیار کے طور پر استعمال کرنے کا ہنر سیکھنے اور اسے رو بہ عمل لانے کے لئے سیاسی و انتظامی پختگی اختیار کرنے کے سوا ہمارے پاس کوئی اور چارہ نہیں۔


 مضمون نگار ایک قومی اخبارمیں سیاسی ' سماجی اور معاشی موضوعات پر کالم لکھتے ہیں۔

khalidmrasool@gmail.com

Comments



Note: No comments!



Leave a Reply

Success/Error Message Goes Here
Note: Please login your account and then leave comment!
TOP