مشرقی پاکستان کا آخری شہری

اپریل کے مہینے میں گرمی ، بہار اور ہلکی خنکی ، موسموں کی یہ آمیزش لندن میں ملے جلے رنگ بکھیر رہی تھی۔ میں نے علی الصبح پہلے واک اور پھر برٹش میوزیم کی خاک چھاننے کا ارادہ کیا۔ رہائش سینٹرل لندن ہی تھی اس لئے بیس منٹ کی دوری پر موجود میوزیم دیکھا میں نے اس میوزیم میں کیا کیا دیکھا اور دیکھ دیکھ کر کیسے جی جلا، یہ کہانی پھر کبھی سہی، مگر یہ تحریر اس شخص کے نام ہے جو مجھے لندن کے ایک چوراہے پر ملا اور ایک گھنٹے کی ملاقات میں مٹی سے وفا نبھانے کا سبق سکھا گیا۔

 

تین گھنٹے برٹش میوزیم میں سر دُھننے کے بعد میں خاصی دیر تک سینٹرل لندن کی گلیوں میں یہاں وہاں گھومتی رہی۔ تیزی سے چلتے قدموں کی چاپ اور یکسر اجنبی افراد کے ہجوم کے بیچ کچھ دیسی اور بہت سے بدیسی چہرے نظر آئے ۔ مزے کی بات یہ کہ کوئی اپنا بندہ یعنی جنوبی ایشیائی شہری بلکہ یوں کہہ لیں کہ کوئی پاکستانی ، بنگلہ دیشی یا بھارتی قریب سے گزر جائے تو ایک عجیب سی جھینپ بیچ میں ہوتی ہے۔ اللہ جانے یہ مجھے ہی محسوس ہوا کہ سب کے ساتھ ایسا ہوتا ہے، خاص کر ہم گندمی رنگت والے تو ایک دوسرے کو دیکھ کر کنی کترانے میں ہی عافیت محسوس کرتے ہیں۔

 

چلتے چلتے چیئرنگ کراس روڈ آگیا تو میں نے گرمی توڑ گنڈا گولا لیا اور ٹوٹینم اسکوائر پر کچھ دیر سستانے کو بیٹھ گئی۔ یہ بڑا مشہور چوک ہے جہاں زیر زمین چلنے والی ٹرین اسٹیشن کے مرکزی دروازے پرسٹریٹ  آرٹسٹ  پرفارم کرتے رہتے ہیں۔ جسے پسند آجائے وہ فنکار کے آگے رکھے ڈبے میں ایک پاؤنڈ کا سکہ اچھال جاتا ہے۔

 

دوپہر کے دو بج رہے تھے کھانے کا وقت تھا مگر میں اسٹرابیری کا برفیلا سلش لئے بیٹھی ایک آرٹسٹ کو پرفارم کرتے دیکھ رہی تھی ۔ گہرے نیلے رنگ کی قمیض شلوار اور سلیٹی واسکٹ میں ملبوس ایک بابا جی میرے ساتھ آکر بیٹھ گئے۔ شکل سے اپنے اپنے لگے مگر چونکہ میں دیسیوں کے پھولے ہوئے منہ اور بیزاری کا تجربہ کرچکی تھی اس لئے ان انکل کو مخاطب کرنا مناسب نہ سمجھا۔

 

میں ٹھنڈے مشروب کی چسکیاں لینے میں مصروف تھی کہ جینز کی جیب میں پڑا فون تھر تھرانے لگا۔ بہن تھی اور وہی عمومی باتیں پوچھ رہی تھی اور حلال حرام کے وہی پرانے قصے،میں چوراہے پر بیٹھی تھی اس لئے معمول سے ذرا اونچا ہی بول رہی تھی،باتوں باتوں میں بہن کو بتانے لگی کہ میں اگر شک میں پڑ جاؤں تو کھانا نہ کھانے میں عافیت سمجھتی ہوں، اس لئے اکثر لندن میں یہاں وہاں گھومتے ہوئے بھوکی ہی رہ لیتی ہوں۔ دو چار قصے سنائے اور فون بند ہوگیا۔

 

میری نظریں پھر اسی سٹریٹ آرٹسٹ پر ٹک گئیں تو ساتھ بیٹھے بابا جی نے متوجہ کیا : موشلمان ہو؟ ہوم بھی موشلمان ہے؟  میں نے خوشی سے بابا جی کی جانب دیکھا کہ چلو کوئی تو خوش مزاج دیسی ملا۔

بابا جی نے جیب سے سٹیل کی ننھی سی ڈبیا نکالی جس میں پڑی تازہ پان کی گلوری کو بڑے انداز سے منہ میں رکھا اور بات آگے بڑھاتے ہوئے  سینٹرل لندن کے حلال فوڈ ریسٹورنٹ بتانے لگے۔میں نے پوچھا کہاں سے تعلق ہے تو جواب ملا مشرقی پاکستان ۔مشرقی و مغربی پاکستان ، میرے کانوں نے یہ نام تاریخ کی چند کتابوں کی حد تک پڑھ رکھے تھے ، یا پھر سقوط ڈھاکہ کی یاد منانے والے دن مشرقی پاکستان کا نوحہ پڑھ لیا جاتا ہے، مگر آج تک کسی کی شناخت کے طور پر کبھی نہیں سنا تھا۔ میں نے ایک بار پھر پوچھا: بابا جی مشرقی پاکستان کو تو ختم ہوئے مدت ہوئی، آپ کا تعلق کہاں سے ہے ؟ جواب پھر وہی ملا:  مشرقی پاکستان۔

 

اسٹرابیری کا ٹھنڈا مشروب پگھل گیا تھا، یہی وقت تھا کہ میں نے ڈسپوزیبل گلاس کو ایک طرف رکھا اور بابا جی سے پوچھا کہ کیوں ماضی میں جی رہے ہیں ،نقشے بدل گئے ہیں ، سرحدیں تو پہلے ہی جدا تھیں راستے بھی بدلے عرصہ ہو چلا ہے، دوری اتنی ہے کہ اب تو شکلیں بھی پہچان نہیں پاتے، مغربی ٹکڑے کا نام پاکستان اور مشرقی ٹکڑے کا نام بنگلہ دیش ہوگیا ہے۔ میرے سوالات گھمبیر ہوتے جارہے تھے، بات شروع ہوئی تو چیئرنگ کراس کے ایک بنگالی ریسٹورنٹ کی ٹیبل تک جا پہنچی۔

 

دو ہزار اٹھارہ میں بھی خود کو مشرقی پاکستان کا کہنے والے اس بزرگ کا نام عبدالجبار ہے۔ عبدالجبار نے انیس سو اکسٹھ میں نوجوانی کی عمر میں پاکستانی پاسپورٹ بنوایا اور برطانیہ آگئے، پھر یہیں کے ہو رہے۔ وہ اس وقت کے مشرقی پاکستان کے علاقے سلہٹ سے تھے۔ بابا جی پیشے کے لحاظ سے ٹیلر ماسٹر ہیں ،  تمام عمر انگلش کوٹ پینٹ کی سلائی کی، اب ریٹائرڈ ہیں اور برطانوی سرکار کی ہفتہ وار پنشن لے کر بہت مطمئن ہیں۔

 

چئیرنگ کراس پر واقع ایک مغلیہ طرز پر بنے ریسٹورنٹ میں بابا جی مجھے لائے جہاں کا بنگالی کھانا بڑا مشہور تھا۔ بابا جی نے میرے لئے جھینگا بریانی اور اپنے لئے چائے منگوائی ۔ بنگالی کھانوں کا ذکر چل نکلا ، مگر میری تان انہی سوالوں پر آکر ٹوٹی جہاں سے بات شروع ہوئی تھی۔ ماضی کے اندھیروں میں دھندلائی بابا جی کی قومی شناخت ایک سوال تھی ، چہرے پر برسوں کی حیرت سجائے وہ جواب دینے لگے انیس سواکسٹھ میں پاکستانی پاسپورٹ پر لندن آیا۔  کتنے سال تک یہاں کام کیا اور لوگوں کو فخر سے بتایا کہ ایسٹ پاکستانی ہوں ۔ یہیں لوکل کمپنی میں کام کر رہا تھا کہ ایک دن پتہ چلا ''ہم پاکستانی نہیں رہا، بنگلہ دیشی بن گیا ہوں۔'' میں نے وہ فیصلہ کبھی قبول نہیں کیا، یہ خبر سنی تو سب سے پہلے میں بولا کہ یہ ضرور بھارت کی شرارت ہے۔ آج بھی کہتا ہوں یہ بھارت کی شرارت ہے بابا جی بولے جا رہے تھے اور میں ان کے لہجے کی کڑواہٹ اپنے حلق میں اترتی محسوس کررہی تھی۔

 

ہماری ٹیبل پر کھانا تھا اور باتیں بے انتہا کڑوی ہونے لگیں تو بابا جی اپنی آستین اوپر کرکے اپنی کلائی پہ دوڑتی نبض دکھا کر کہنے لگے: اس کا اندر خون جو چل رہا ہے وہ بھی ایک ہے،اوپر کا چمڑی بھی ایک رنگ کا ہے اور کلمہ بھی ایک ہے پھر دو ملک کیسے ہوا؟ میں نے اثبات میں سر ہلایا اور سیاست کی آنکھ مچولی کا رونا رونے لگی۔ کافی دیر تک سقوط ڈھاکہ پر بحث چلتی رہی ۔

 

ٹیبل پر سجی جھینگا بریانی اور چائے ختم ہوچکی تھی، مگر بابا جی بس اسی نکتے پر اڑے رہے کہ پاکستان بنانے کا خواب تو ہم پنجابی، کشمیری، پٹھان، بلوچی، اردو اور بنگالی بولنے والوں نے مل کر دیکھا تھا، اسی پاکستان کو بنانے میں کتنے ہی بنگالیوں کا خون شامل رہا پھر وہ کیسے مان لیں کہ وہ مشرقی پاکستان کے نہیں ہیں۔

 

ایک گھنٹے کی اس ملاقات میں بابا جی نے مجھے یہ ماننے پر مجبور کردیا کہ وہ اب بھی مشرقی پاکستان کے شہری ہیں، میں نے مسکرا کر ان کی مٹی سے وفا داری اور عزم کو داد دی۔ اس سے پہلے کہ ملاقات ختم ہوتی، بابا جی نے ایک سوال میری طرف داغا :''ہو میںمجیب کا بیٹی برباد کیا، تو مے کون کرتا اے''؟( ہمیں(بنگلہ دیشیوں کو) مجیب کی بیٹی نے برباد کیا،تمہیں (پاکستانیوں کو) کس نے کیا؟)  جواب میں میرے پاس پھر وہی سقوط ڈھاکہ والی کہانی تھی۔


مضمون نگار صحافی ،  بلاگر اور کالم نگار ہیں، ویسٹ منسٹر یونیورسٹی برطانیہ ، انٹرنیشنل سینٹر فار جرنلسٹس امریکا ، نیشنل ڈیفنس یونیورسٹی اسلام آباد کی فیلو ہیں۔

  iffatrizvipk@hotmail.com

 

Comments



Note: No comments!



Leave a Reply

Success/Error Message Goes Here
Note: Please login your account and then leave comment!
TOP