مسئلہ کشمیر۔۔۔۔عا لمی ضمیر کی بیداری

                                  کشمیری حریت پسند عوام کی جہد مسلسل او رپاکستان کی بھر پور حمایت بالآخر رنگ لے ہی آئی۔ستر دہائیوںکی کوششوں کے نتیجے میں بالآخر عالمی ضمیربیدار ہو ہی گیا۔ عالمی برادری نے مسئلہ کشمیرکے حوالے سے اپنی پہلی سالانہ رپورٹ میں اس حقیقت کا اعتراف کر ہی لیا کہ درندہ صفت قابض و غاصب بھارتی مسلح افواج نے مظلوم کشمیری عوام پر عرصۂ حیات تنگ کر رکھا ہے اور ان کو بد ترین ریاستی دہشت گردی کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ اقوام متحدہ کی اس رپورٹ نے بھارت کے مکروہ چہرے کو پوری طرح بے نقاب کر دیا ہے۔اقوام متحدہ کی طرف سے پہلی بار متنازعہ ریاست جموں و کشمیر کے بارے میں ایک رپورٹ شائع ہوئی ہے جس سے مسئلہ کشمیر کے پرامن اور منصفانہ حل کی ضرورت کا عالمی سطح پراظہار ہوا ہے۔ یہ رپورٹ 14 جون 2018ء کو جاری کی گئی ہے۔ اقوام متحدہ کے ہیومن رائٹس کمیشن کی تیار کردہ اس رپورٹ میںمقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں کی صورتحال کی تفصیلات بتاتے ہوئے مسئلہ کشمیر کو ایک سیاسی مسئلہ قرار دیتے ہوئے پاکستان اور بھارت سے کہا گیا ہے کہ وہ کشمیری عوام کی شمولیت سے بات چیت کے ذریعے یہ مسئلہ حل کریں اور عالمی قانون کے تحت کشمیریوںکے حق خودارادیت کا احترام کیا جائے۔بھارت نے روایتی ہٹ دھرمی سے کام لیتے ہوئے اس رپورٹ کو مسترد کر دیا ہے ، دوسری طرف تنازعے کے بنیادی فریق کشمیری حلقوں کی طرف سے اس رپورٹ کو خوش آئند قرار دیا گیا ہے۔پاکستان کے دفتر خارجہ نے رپورٹ  میں بھارت کے  زیرانتظام کشمیر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کی تحقیقات کے لئے کمیشن بنانے کا خیر مقدم کیا ہے ۔رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ جولائی2016سے ہائی کمشنر برائے انسانی حقوق نے کئی بار بھارت اور پاکستان کی حکومتوںسے درخواست کی کہ انسانی حقوق کی صورتحال کا جائزہ لینے کے لئے ریاست میں غیر مشروط رسائی دی جائے،لیکن بھارت نے اس کو مستردکیا جبکہ پاکستان نے رسائی دینے کی پیشکش کے ساتھ کہا کہ بھاتی زیر انتظام کشمیر میں لازمی طور پر رسائی حاصل کی جائے۔اس رپورٹ کا بڑا حصہ بھارتی زیر انتظام کشمیر سے متعلق ہے جو کہ جولائی 2016سے اپریل 2018ء تک وسیع پیمانے پر  ہونے والی انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں سے متعلق ہے۔

 

 مسئلہ کشمیر بر صغیر کی تقسیم کا ادھورا ایجنڈا ہے۔ عالمی قوتوں نے اپنے مخصوص مفادات کے پیش نظر اسے دو آزاد اور خود مختار ملکوں کے درمیان متنازعہ بنا دیا۔بھارت نے اپنی مکاری ؛چالبازی اور عیاری سے اسے اس قدر الجھا دیاکہ سات دہائی سے زائد کا عرصہ گزرنے کے باوجود اس کے پرامن حل کی کوئی صورت نظر نہیں آتی۔کشمیری حریت پسند عوام کی بے مثال اور لازوال قربانیوں نے اسے نظروں سے اوجھل نہیں ہونے دیا ۔انہی قربانیوں کانتیجہ ہے کہ عالمی ادارہ ستر برس گزرنے کے باوجود مسئلے کی سنگینی کا اعتراف کرنے پر مجبور ہوا ہے۔ سابق امریکی صدر بل کلنٹن نے بھی اس مسئلے کی سنگینی کا اعتراف کرتے ہوئے کہا تھاکہ سو ویت یونین(موجودہ روس)اور امریکہ کے درمیان سرد جنگ کے خاتمے کے بعدجو سلگتے مسائل موجود ہیںان میں مسئلہ کشمیر بھی شامل ہے۔یقیناکشمیر کا مسئلہ ایک ایسا فلیش پوائنٹ ہے جو کسی بھی لمحے پوری دنیا کے امن کو اپنی تبا ہ کاریوں کی لپیٹ میںلے سکتا ہے۔اس مرتبہ مسئلہ کشمیر ایک نئے انداز سے اچھالا جا رہا ہے۔ یورپ اور مغربی دنیا کی اس مسئلے کے حل کی ضرورت سے زیادہ دلچسپی اور بے چینی اس امر کی مظہر ہے کہ مغرب اسے اپنے نکتہ نظر اور مفاد میں دیکھتا اور حل کرنا چاہتا  ہے۔  اس وقت جبکہ کشمیری عوام کو بیعنامہ امرتسر(1846)کے بعد سے اب تک ظلم و ستم کی چکی میں پستے ہوئے ڈیڑھ صدی سے زائد کا عرصہ بیت چکا ہے ،یورپ کے دل میںاچانک ہمدردی کے جس جذبہ نے کروٹ لی ہے اور اس مسئلے کو ڈیڑھ کروڑ عوام کی آزادی کے بجائے انسانی حقوق کے جس تناظر میں دیکھا اور پرکھاجانے لگاہے اس سے مغرب کے کچھ اور ہی عزائم نظر آتے ہیں۔بنیادی طور پر اس مسئلے کا تعلق کشمیری عوام سے ہے۔ لیکن بیرونی دنیا بالخصوص ا مریکہ کے حکمران اور دانشور اس مسئلے کے حل کے لئے نئی نئی تاویلیں، تجزیے، نظریات اور تجاویز پیش کرتے رہتے ہیںجبکہ کشمیری عوام کے بنیادی مطالبے'' حق خود ارادیت'' پر توجہ دینے کے لئے کوئی تیار نہیں۔ امریکہ برصغیر میں اپنے ڈولتے قدموں کو سہارا دینے کے لئے ایک نئی کالونی کی تلاش میںہے اور اس مقصد کے لئے مقبوضہ وادی سے بڑھ کر کوئی بہتر جگہ نہیں ہو سکتی۔ یہی وجہ ہے کہ امریکہ کشمیری عوام کو مختلف گروپوںمیں تقسیم کر کے اور بھارت پر دبائو ڈال کراس مسئلے کو اپنے مفاد میں حل کرنے پر تلا ہوا ہے۔ادھر بھارت امریکہ کے بغل بچے اسرائیل سے گٹھ جوڑ کر کے کشمیری عوام کی جدوجہد آزادی کو بزور طاقت کچلنے کی جو مذموم کوششیں کر رہا ہے، پرعزم کشمیری حریت پسند اس سے قطعی مرعوب نہیں ہیں۔امریکہ جہاں بحر ہند میں بھارت اور چین کی بالا دستی اور بڑھتے ہوئے اثرورسوخ کو روکنا چاہتا ہے  وہاں اس خطے پر اپنی چودھراہٹ قائم رکھنے کے بھی خواب دیکھ رہا ہے کیونکہ بھارت کے توسیع پسندانہ عزائم کے پیش نظر امریکہ کو یہ خطرہ لا حق ہے کہ روس کے بعد اب چھوٹے پیمانے پر بعض قوتیں اس کے لئے کسی حد تک خطرے کا باعث بن سکتی ہیں۔ یہ ایک حقیقت ہے کہ یورپ بالخصوص امریکہ کبھی عالم اسلام کے مفاد میں ہرگز نہیں سوچتا۔افغانستان کے بعد اب امریکہ اور اس کے حواریوں کی نظریںکشمیر پر لگی ہوئی ہیں۔ اس مسئلے کا سیدھا سادہ حل تو یہی ہے کہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں اس مسئلے کو پیش کر کے بھارت کو وارننگ دی جائے کہ وہ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی اور سلامتی کونسل کی قراردادوں کی روشنی میںاس مسئلے کے حل پر آمادہ ہو جائے لیکن یورپ بالخصوص امریکہ کو مسلمانوں سے زیادہ بھارت کا اور اپنا مفاد عزیز ہے۔یہی وجہ ہے وہ مسلمانوں کا خیر خواہ بن کراس کے دشمنوں کو فائدہ پہنچانے کی پالیسی پر عمل پیرا ہے۔

 

کشمیر کا تنازعہ اب کشمیری عوام اور بھارت و پاکستان کا ہی مسئلہ نہیں بلکہ یہ ایک بین الاقوامی مسئلہ بن چکا ہے جس دن بھارت اس مسئلے کو اقوام متحدہ میں لے کر گیا تھا اسی روز سے اس نے بین ا لاقوامی رخ اختیار کر لیا تھا۔ کشمیری عوام کو بین الاقوامی طور پر یہ یقین دہانی کرائی گئی ہے کہ ریاست کے مستقبل کا فیصلہ آزادانہ اور غیر جانبدارانہ رائے شماری کے ذریعے ہو گا۔یہ اقوام متحدہ کا متفقہ فیصلہ ہے اس فیصلے کو ٹالنے کا نتیجہ یہ ہو سکتا ہے کہ دنیا کی امن پسند قوموں کا اعتماد اقوام متحدہ سے اٹھ جائے،جس سے اس کا سارا وقار خطرے میں پڑ جائے گا۔ اس لئے اقوام متحدہ اور عالمی برادری پر بھی یہ فرض عائد ہوتا ہے کہ وہ جمہوری روایات اور اس ادارے کے وقار کو برقرار رکھنے کے لئے فوری طور پر ایسے اقدامات کرئے جو کشمیری عوام کی حق رسی پر منتج ہوں۔یہ امر حیرت انگیزہے جوعالمی ادارہ1945ء میں صرف اس نظریے کے تحت قائم کیا گیا تھاکہ دنیا میں جنگ و جدل کی تباہ کاریوں سے بچا جائے اور متنازعہ امور کا تصفیہ گفت و شنید سے کیا جائے، وہی ادارہ بعض صورتوں میں اپنے فیصلوں پر عملدرآمدسے پہلو تہی کر رہا ہے اور بعض صورتوں میں اقوام متحدہ کے منشور کا سہارا لے کرآناً فاناً عمل کرایا جاتا ہے۔   


 [email protected]

Comments



Note: No comments!



Leave a Reply

Success/Error Message Goes Here
Note: Please login your account and then leave comment!
TOP