قیامِ پاکستان ناگزیر تھا

رات گئے جب گھوم پھر کر مختلف بھارتیوں سے مل ملاکر میں ہوٹل کے بستر پر دراز ہوتا تو مجھے قائد اعظم کے تدبر، ادراک اور بصیرت پر رشک آتا اور کوئی انجانی طاقت سرگوشی کرتی کہ پاکستان ناگزیر تھا۔ پاکستان نہ بنتا تو سارے مسلمانوں کو ہندو اکثریت اسی طرح اپنے دبائو میں رکھتی۔ مسلمان کبھی بھی اپنی خداداد صلاحیتوں کا اظہار نہ کرپاتے۔ مسلمانوں کا قتل عام ہوتا رہتا۔

'' میں دہلی میں وزیر اعظم کے انٹرویو کے لئے آیا ہوں۔

بھارتی حکومت ازراہِ لطف مجھے محکمۂ خارجہ سے ایک افسر بھیج دیتی ہے۔ جو میرے ساتھ مختلف دفاتر اور مقامات پر جاتا ہے۔ رہنمائی بھی کرتا ہے۔ بعض رہنمائوں اور افسروں سے گفتگو بھی کرواتا ہے۔یہ پروٹوکول افسر ہر روز مختلف ہوتے ہیں۔ کسی روز ہندو کسی روز مسلمان کسی روز سکھ۔ کوشش تو میرے میزبانوں کی یہ ہوتی ہے کہ اپنا سیکولر ازم مجھ پر ظاہر کریں۔ لیکن سیکولر ازم نافذ کرنے سے تو ثابت نہیں ہوجاتا۔ یہ تو رویوں اور مختلف مذاہب کے پیروکاروں سے سلوک پر منحصر ہے۔

 

میرے ساتھ تین چار بار ایک مسلمان محمد اشفاق کی ڈیوٹی لگائی جاتی ہے۔ وہ اگر نہ بھی بتاتے کہ وہ مسلمان ہیں ان کی شکل پر درج محرومیاں یہ بتائے دیتی ہیں۔ ان کی آنکھوں میں حسرت و یاس کی پرچھائیاں، ان کا بہت ہی کم قیمت لباس۔ حالانکہ تنخواہ ان کو بھی دوسرے پروٹوکول افسر کی طرح ملتی ہوگی۔ سرکاری گاڑیوں کے ڈرائیوروں کا ان سے برتائو بھی چیخ چیخ کر کہتاتھا کہ وہ اقلیت سے ہیں اس لئے ان کو دبائو میں رکھنا ضروری ہے۔میں کئی بار کوشش کرتا ہوں کہ وہ اپنے بارے میں تفصیلات سے آگاہ کریں۔ مگر وہ شعوری طور پر گریز کرتے ہیں۔ ایک دن کھل ہی جاتے ہیں۔ وہ مسلمانوں کے بارے میں المناک کہانیاں بیان کرتے ہیں۔ سرکاری دفتروں میں ان سے امتیازی سلوک، ملازمت کے امتحانوں میں حوصلہ شکنی بازاروں میں دکانداروں کے رویے۔''

 

کچھ مسلمانوں کے گھروں میں بھی جانے کا اتفاق ہوتا ہے۔

اس دورے میں پہلی بار دو قومی نظریے کے نمو کے اسباب حقیقت میں میرے سامنے آئے۔ یہ میرا پہلا دورہ بھارت تھا۔ میں حکومت ہند کا باضابطہ مہمان بھی تھا۔ راجدھانی دلّی میں سرکاری افسر مسلمانوں، تاجر مسلمانوں، ادیب، شاعر مسلمانوں، پروفیسرز مسلمانوں کے چہروں پر پھیلی یاسیت،ان کے محلّوں میں بکھری گندگی۔ ان سے تیسرے درجے کے شہریوں کاسا سلوک دیکھ کر میں اندازہ کرسکتا تھا کہ دور دراز کے شہروں، چھوٹے قصبے کے مسلمانوں پر کیا گزرتی ہوگی۔

 

رات گئے جب گھوم پھر کر مختلف بھارتیوں سے مل ملاکر میں ہوٹل کے بستر پر دراز ہوتا تو مجھے قائد اعظم کے تدبر، ادراک اور بصیرت پر رشک آتااور کوئی انجانی طاقت سرگوشی کرتی کہ پاکستان ناگزیر تھا۔ پاکستان نہ بنتا تو سارے مسلمانوں کو ہندو اکثریت اسی طرح اپنے دبائو میں رکھتی۔ مسلمان کبھی بھی اپنی خداداد صلاحیتوں کا اظہار نہ کرپاتے۔مسلمانوں کا قتل عام ہوتا رہتا۔

 

جب کبھی اخبار میں کہیںہندو مسلم فساد کا ذکر پڑھتا، میں سوچتا کہ اگر ہمارے بزرگوں نے پاکستان کا قصد نہ کیا ہوتا تو میں کبھی اس منصب تک نہ پہنچتا، کہ بھارت کے وزیر اعظم کے انٹرویو کے لئے سرکاری مہمان کے طور پر موجود ہوں۔ میں یہیں طالب علمی کے دوران کسی ہندو مسلم فساد میں کسی بازار میں مارا گیا ہوتا۔

 

حضرت قائد اعظم یاد آتے ہیں۔ قیامِ پاکستان سے 3روز پہلے کراچی میں دستور ساز اسمبلی پاکستان کے اجلاس سے خطاب کررہے ہیں۔ وہ فرمارہے ہیں:

'' تقسیم عمل میں آچکی ہے۔ سرحد کے دونوں جانب ہندوستان میں بھی اور پاکستان میں بھی ایسے لوگ ہوسکتے ہیں جو اس سے اتفاق نہ کریں اور اسے پسند نہ کریں۔ لیکن میری رائے میں اس مسئلے کا اس کے علاوہ اور کوئی حل نہیں تھا اور مجھے یقین ہے کہ تاریخ اس کے حق میں فیصلہ صادر کرے گی۔ مزید برآں جوں جوں وقت گزرتا جائے گا تجربے سے یہ بات ثابت ہوتی جائے گی کہ ہند کے دستوری مسئلے کا صرف یہی واحد حل تھا۔متحدہ ہند کا تخےّل قابل عمل نہیں تھا۔ اور میری رائے میں یہ ہمیں ایک خوفناک تباہی کی طرف لے جاتا۔ ہوسکتا ہے کہ یہ رائے درست ہوا ور یہ بھی کہ درست نہ ہو۔ لیکن اس کا فیصلہ بھی وقت ہی کرے گا۔''

 

جناب قائد اعظم ۔ آپ کے ان بصیرت افروز الفاظ کو 71سال گزر گئے ہیں۔ ان 71سال کے ایک اک لمحے نے آپ کی رائے کی توثیق کی ہے۔ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ اس تقسیم کی تاریخی اور جغرافیائی صداقت پر زمانہ مہرتصدیق ثبت کررہا ہے۔ ہندوستان کی اکثریت اور یکے بعد دیگرے آنے والی حکومتوں نے ہندو اکثریت کے تعصبات کے بارے میں آپ کے تاثرات کو تقویت پہنچائی ہے۔بہت سے ایسے ممتاز مسلمان بزرگ جو مسلم لیگ کا ساتھ نہیں دے رہے تھے، متحدہ ہندوستان کو ہی حقیقی آزادی تصوّر کرتے تھے، تحریک پاکستان میں عملاً شریک نہیں ہوئے تھے۔ اور ہندوستان میں رہنے کو ہی ترجیح دے رہے تھے۔ ان کے عملی تجربات اور مایوسیوں نے بھی اس حقیقت کو تسلیم کرنے پر مجبور کیا کہ پاکستان ناگزیر تھا۔

 

ملّا واحدی دہلوی اپنے زمانے کے مقبول انشا پرداز تھے۔ حال ہی میں ان کی شہرہ آفاق تصنیف 'میرے زمانے کی دلّی' دوبارہ پڑھنے کا اتفاق ہوا۔ ان کی اُردو تو ہمیشہ سے دل میں اُتر جاتی تھی۔ الفاظ کی اٹھان۔ جملوں کی تراش۔ تراکیب کا استعمال۔ میرے لئے ہمیشہ قابل رشک رہا۔اس بار اس کتاب کی ورق گردانی کی تو کچھ اور ہی کیفیت تھی۔ بعض اوقات ہم بھی اس لہر کی زد میں آجاتے ہیں۔'پاکستان کیوں بنا تھا؟' ہوتا تو در اصل یہ ہے کہ بعض حلقوں اور طبقوں کی ہوس اقتدار، زر و مال کا لالچ، انہیں پاکستان کے مقاصد سے دور لے جاتا ہے لیکن ہم اس روش میں بہک جاتے ہیں کہ پاکستان بنا ہی غلط تھا۔ لیکن یہ احساس باطل ہوگیا۔ میں جب 'میرے زمانے کی دلّی'کے صفحہ14پر پہنچا۔ وہ تقسیم ہند اور ہندوستان کی آزادی کے بعد  جن تصوّرات کو لئے بہت خوش اور مطمئن تھے۔ ان کے ان تاثرات کو واقعات و حقائق نے کس طرح تبدیل کیا، ان کی زبانی ہی سنئے: ''15اگست کو میں نے سچ مچ اپنے تئیں آزاد تصور کیا تھا۔ میں پھولا نہیں سماتاتھا کہ مجھے بھی اللہ تعالیٰ نے مرنے سے پہلے آزادی کی صورت دکھادی۔ میں خیال کرتا تھا کہ پاکستان میں صرف مسلمان اور ہندوستان میں صرف ہندو اور سکھ آزاد نہیں ہوئے ہیں۔ دونوں سلطنتوں کے کل باشندے آزاد ہوئے ہیں۔ مگر اگست کا مہینہ گزرنے نہ پایا تھا جو محسوس ہونے لگا کہ میں تو اور بند ھ گیا۔ میری محکومی اور غلامی تو اور اُبھر آئی۔ انگریز کے دَور میں اس قدر احساس کمتری نہ تھا جس قدر آزادی کے زمانے میں ہورہا تھا۔''

 

یہ احساس کمتری صرف ملا واحدی کا ہی نہیں بلکہ دور دور تک پھیلے ہوئے بھارت کے کونے کونے میں اقلیتوں بالخصوص مسلمانوں کو لاحق رہا ہے۔ قائد اعظم کی بصیرت نے کانگریس کی رُکنیت کے دوران ہندو لیڈروں کی ذہنیت بھانپ لی  تھی اور ان کے ارادے بھی۔ حقیقت یہ ہے کہ مغل دَور حکومت کے دوران ہندوستان کی ہندو اکثریت یہ محسوس کرتی رہی کہ ان پر غیر ملکی اور دوسرے مذہب کے لوگ حاوی اور مسلّط ہوگئے ہیں۔ ان سے حق حکمرانی چھین لیا گیا ہے۔ انگریز کے تسلّط کے بعد ہندوئوں نے انگریزوں سے مل کر مغل دَور کا انتقام لینے کی مسلسل کوششیں بھی کیں اور سازشیں بھی۔ 1857کی جنگِ آزادی میں مسلمان پیش پیش تھے۔ ہندو اکثریت نے اس حقیقت کو بھی خوب اچھالا اور انگریز کے دل جیتنے میں لگے رہے۔ سر سیّد احمد خان اگر علی گڑھ کی تحریک شروع کرکے مسلمانوں کو انگریزی زبان اور دوسرے جدیدعلوم کی تحصیل کی طرف راغب نہ کرتے تو ہندو اپنی سازشوں میں کامیاب ہوجاتے اور مسلمانوں کو دینی مدارس تک محدود کردیا جاتا۔اسی لئے بجا طور پر یہ کہا جاتا ہے کہ 'علی گڑھ نہ ہوتا تو پاکستان نہ ہوتا۔' لیکن اس کے ساتھ ساتھ یہ بھی سچ ہے کہ بر صغیر میں چھوٹے چھوٹے سر سیّد ہر علاقے میں موجود تھے جو اس قسم کی معروضی کوشش کررہے تھے اور مقامی طور پر مسلمانوں کو خواب غفلت سے بیدار کررہے تھے اور جب مسلمانوں کو بالآخر قائد اعظم محمد علی جناح کی قیادت میسر آگئی تو اپنے حقوق کے حصول، اپنی جُداگانہ حیثیت کوتسلیم کروانے کی جدو جہد کوئٹہ سے راس کماری تک پھیل گئی۔ مسلمانوں میں سیاسی شعور اور عصری بیداری پھیلنے لگی۔

 

کبھی اے نوجواں مسلم! تدبّر بھی کیا تونے؟

وہ کیا گردوں تھا توجس کا ہے اِ ک ٹوٹا ہوا تارا ؟

 

زندگی

برتر از اندیشۂ سُود و زیاں ہے زندگی

ہے کبھی جاں اور کبھی تسلیمِ جاں ہے زندگی!

تواسے پیمانہ امروز و فردا سے نہ ناپ

جاوداں پیہم دواں، ہر دم جواں ہے زندگی!

اپنی دنیا آپ پیدا کر اگر زندوں میں  ہے

سِرِّ آدم ہے ضمیرِ کن فکاں ہے زندگی!

زندگانی کی حقیقت کوہکن کے دل سے پوچھ

جوئے شیرو تیشہ و سنگِ گراں ہے زندگی!

بندگی میں گھٹ کے رہ جاتی ہے اِک جوئے کم آب

اور آزادی میں بحرِ بیکراں ہے زندگی!

آشکارا ہے یہ اپنی قوّتِ تسخیر سے

گرچہ اِک مٹی کے پیکر میں نہاں ہے زندگی

قلزمِ ہستی سے تو اُبھرا ہے مانندِ حباب

اس زیاں خانے میں تیرا امتحاں ہے زندگی

خام ہے جب تک تو ہے مٹی کا اِک انبار تو

پختہ ہو جائے تو ہے شمشیرِ بے زنہار تُو!

ہو صداقت کے لئے جس دل میں مرنے کی تڑپ

پہلے اپنے پیکرِ خاکی میں جاں پیدا کرے

پھونک ڈالے یہ زمین و آسمانِ مستعار

اور خاکستر سے آپ اپنا جہاں پیدا کرے

زندگی کی قوّتِ پنہاں کو کردے آشکار

تا یہ چنگاری فروغِ جاوداں پیدا کرے

خاکِ مشرق پر چمک جائے مثالِ آفتاب

تابدخشاں پھر وہی لعلِ گراں پیدا کرے

سُوئے گردوں نالۂ شبگیر کا بھیجے سفیر

رات کے تاروں میں اپنے راز داں پیدا کرے

یہ گھڑی محشر کی ہے تو عرصۂ محشر میں ہے!

پیش کر غافل عمل کوئی اگر دفتر میں ہے!

                                (علامہ اقبال)

 

الطاف حسین حالی بھی مسدس حالی کے ذریعے مسلمانوں کے حوصلے بلند کررہے تھے۔ پورے ہندوستان میں یہ نظریہ راسخ ہوچکا تھاکہ بر صغیر کے مسلمان الگ وطن حاصل کرکے ہی زندگی بہتر گزار سکتے ہیں۔ اقتصادی ترقی کرسکتے ہیں۔ تجارت اور صنعت میں آگے بڑھ سکتے ہیں۔ اگر یہ راستہ اختیار نہ کیا گیا تو انگریز کی غلامی کے بعد ہندو کی غلامی اختیار کرنا پڑے گی۔ اس طرح ہندوستان کی آزادی مسلمانوں کے لئے بے معنی ہوکر رہ جائے گی۔تحریک آزادی کے دوران ہندو لیڈروں، افسروں، حتیٰ کہ ہندو اساتذہ اور پروفیسرز کا رویہ بھی علیحدگی کی طرف زیادہ مائل کرتا تھا۔

 

جسٹس(ر) حاذق الخیری بہت ہی درد مند پاکستانی ہیں۔ ان کے خیالات بہت صاف شفاف اور گفتگو دلائل پر مبنی ہوتی ہے۔ ان کے خاندان نے اُردو ادب کی آبیاری میں کئی نسلوں تک نمایاں کردار ادا کیا ہے۔ ان کی خود نوشت    'جاگتے لمحے' بہت ہی دل گداز و ذہن ساز ہے۔ یہ ان کی اپنی کہانی نہیں بلکہ پاکستان کی کہانی ہے۔ ہندوستان میں مسلمانوں کے ادبار زوال اور پھر عروج کی داستان ہے۔ اس کتاب کے آخری ابواب میں وہ ماضی پر ایک طائرانہ نظر ڈالتے ہوئے بجا طور پر یہ تجزیہ کرتے ہیں کہ'' دَورِ مغلیہ ختم ہوجانے کے بعد مسلمانان ہند کا رویہ ایک طرف انتہائی منفی رہا اور دوسری طرف انتہائی جذباتی ہوگیاتھا۔ محکوم قوم میں تو ہندو بھی شامل تھے لیکن انہوں نے ہوا کا رُخ دیکھ کر ساتھ دیا۔ مسلمان عہد رفتہ کو یاد کرتا رہا ۔ کئی دہائیاں ایسے ہی نکل گئیں۔ اس عرصے میں سر سیّد کی تحریک علی گڑھ کالج اور مسلم لیگ جنم نہ لیتی تو مسلمان ہریجنوں سے بھی بد تر زندگی گزار رہے ہوتے۔ مغربی علوم کا حصول اور آپس کا اتحاد وقت کی ضرورت تھی۔''

 

بہت معروضی تجزیہ کرتے ہوئے جسٹس(ر) حاذق الخیری تحریک خلافت کا ذکر کرتے ہیں اور بہت ہی اہم پیشرفت کی طرف اشارہ کرتے ہیں:''مسلمانانِ ہند نے خلافت کی تحریک شروع کی تھی کہ ' جان بیٹا خلافت پر دے دو'  خلافت تو واپس نہ آئی لیکن اس کا مثبت پہلو یہ نکلا کہ مسلمانانِ ہند کو ہندو ذہنیت اور کانگریس کو سمجھنے کا موقع مل گیا۔ اور اس مایوسی نے انہیں یکجا ہونے کی ترغیب ضرور دی۔''

 

تحریکِ آزادی کا یہ پہلو دوسرے اکابرین نے اُجاگر نہیں کیا ۔ حاذق الخیری یہ بھی کہتے ہیںکہ ''محمد علی جناح اور اقبال نے اپنے آپ کو تحریک خلافت سے الگ تھلگ رکھا۔ جناح کے سیاسی تدبّر معاملہ فہمی اور قیادت نے تحریکِ پاکستان کو جنم دیا۔''

 

اس تجزیے سے یہ حقیقت بھی سامنے آتی ہے کہ پاکستان کا قیام بر صغیر کے مسلمانوں کے لئے ہی نہیں بلکہ عالم اسلام کی تقویت کے لئے بھی ناگزیر تھا۔پاکستان کے 71سال میں پاکستان کے قائدین کی کارکردگی اتنی قابلِ رشک نہیں ہے لیکن خطّے میں انتہائی مخالفانہ فضا، بڑی طاقتوں کی طرف سے جانبدارانہ رویّوںاور ہندوستان کی مسلسل سازشوں کے باوجود پاکستان اپنی جگہ قائم ہی ہے اور عالم اسلام کو متحد رکھنے کے لئے بھی اپنے تئیں کوششیں کرتا رہا ہے۔ 1974میں لاہور میں اسلامی سربراہ کانفرنس کا انعقاد ایک تاریخ ساز قدم تھا۔پاکستان کو اسلامی دُنیا کی پہلی اور اب تک واحد ایٹمی طاقت ہونے کا اعزاز بھی حاصل ہے۔ عالمگیریت، سرد جنگ کے واقعات، چین کی اُبھرتی ہوئی طاقت، سوویت یونین کے انہدام میں پاکستان کی کلیدی کارکردگی نے ثابت کیا ہے کہ پاکستان صرف بر صغیر کے مسلمانوں کے لئے ہی نہیں، دُنیا کے لئے بھی ناگزیر تھا۔ موجودہ پاکستان کی جغرافیائی حیثیت نے دُنیا کو تبدیل کرنے میں جو کردار ادا کیا ہے اس سے قائد اعظم کی بصیرت کے جواہر اور زیادہ مسلم ہوجاتے ہیں کہ اگر دُنیا کے اس حساس مقام پر پاکستان کے الگ تشخص کی جگہ متحدہ ہندوستان ہوتا تو یہاں دہلی کی گرفت کمزور ہوتی۔ خود سر قوتیں زیادہ طاقت ور ہوجاتیں۔ کبھی سوویت روس کو یہاں اپنے منصوبے مکمل کرنے کا موقع ملتا، کبھی برطانیہ، کبھی ریاست ہائے متحدہ امریکہ یہاں تسلط جماتااورچین کو کبھی موقع نہ ملتا کہ وہ اپنے اس ہمسائے میں اپنے اقتصادی اور سماجی منصوبوں کے بارے میں سوچ سکتا اور سی پیک جیسے منصوبے شروع کرکے وہ جنوبی ایشیا کے تمام ممالک کو اقتصادی استحکام دے سکتا۔

 

بعض شعبوں میں پاکستان کی ناکامیاں اور پس ماندگی اپنی جگہ، لیکن وقت کی گردشوں نے یہ ثابت کردیا ہے کہ دریائے سندھ کے کنارے آباد گلگت، کشمیر، فاٹا، کے پی، بلوچستان، پنجاب اور سندھ صدیوں سے ایک الگ مثالی وحدت رہے ہیں جس کی اپنی تہذیب اپنا تمدّن اور اپنی روایات ہیں۔ انگریز نے اسے ہندوستان میں شامل کرلیا تھا اور دلّی کے زیرنگیں رہا، لیکن اس کا مقدر ایک علیحدہ خود مختار اور آزاد حیثیت ہی تھی جو قائد اعظم کی قیادت میں اسے مل گئی۔ اپنوں کی سازشوں ناقص منصوبہ بندیوں کے باوجود پاکستان آگے بڑھ رہا ہے۔ دُنیا کے مختلف ممالک میں امن کے قیام کی کوششوں میں اقوام متحدہ کے زیر انتظام پاکستان کی مسلّح افواج کے دستوں کی شاندار کارکردگی بھی عالمی اُفق پر ثابت کرتی ہے کہ پاکستان ناگزیر تھا۔

 

 

 

 


مضمون نگار نامورصحافی' تجزیہ نگار' شاعر' ادیب اور متعدد کتب کے مصنف ہیں۔

[email protected]

 

Comments



Note: No comments!



Leave a Reply

Success/Error Message Goes Here
Note: Please login your account and then leave comment!
TOP