قائداعظم کے آخری ایام سے وابستہ سازشی افسانے

ہمارے معاشرے کی نفسیات اور مزاج کا یہ پہلو نہایت دلچسپ ہے کہ ہمیں سازشی تھیوری بہت اچھی لگتی ہے اور ہم اسے چسکے لے لے کر بیان کرنے کے علاوہ اس پر فوراً یقین بھی کر لیتے ہیں۔ بلکہ حقیقت تو یہ ہے کہ ہمیں سچ اور حقیقت اتنی اچھی نہیں لگتی جتنی سازش۔۔۔۔ جس واقعے میں تھوڑا سا سازش کا رنگ بھر دیا جائے وہ برق رفتاری سے پھیلتا اور لوگوں کی ذہنی غذا کا حصہ بن جاتا ہے۔ تحقیق میں ہم دلچسپی نہیں رکھتے چنانچہ اس کی زحمت بھی نہیں کرتے۔ اگر کوئی تحقیق کر کے سازشی پہلو کو غلط ثابت کر دے تو ہم بے مزہ ہوتے ہیں اور اسے قبول کرنے میں ہچکچاتے ہیں۔ میرے مشاہدے کے مطابق پڑھے لکھے ترقی یافتہ اور روشن خیال معاشروں میں بھی ایسا ہی ہوتا ہے لیکن وہاں عام طور پر لوگوں کو سوال کرنے، سچ جاننے اور معاملے کے دودسرے پہلوئوں پر غور کرنے کی عادت ہوتی ہے۔ اس لئے اُن پر سازش تھیوری کا جادو اتنا اثر نہیں دکھاتا جتنا ہمارے ہاں۔

 

آپ اپنی 71سالہ قومی تاریخ پر نظر ڈالیں قیام پاکستان سے لے کر آج تک ہر بڑے واقعے ، حادثے، المیے اور تاریخی فیصلے کے ساتھ سازشوں کی کہانیاں وابستہ ہیں اور ہمارا مزاج کچھ اس طرح کا ہے کہ ہم سچ کے بجائے سازش پر زیادہ اعتبار کرتے ہیں اور جہاں کہیں ان موضوعات پر بحث کے دروازے کھلیں ہم سازشی کہانیوں کے افسانے لے کر چڑھ دوڑتے ہیں۔ معاف کیجئے گا میں تو صرف 71سالہ تاریخ کی بات کر رہا ہوں۔ ورنہ ہمارے ہاں ایسے مورخین اور معروف لکھاریوں کی بھی بٹالین موجود ہے جو 1940سے لے کر اگست 1947 تک ہر اہم پیش رفت اور تاریخی موڑ کے ساتھ سازش وابستہ کر چکی ہے۔ اُنہیں ہر تاریخی مقام پر کبھی انگریز حکومت تو کبھی کسی اور کا ہاتھ نظر آتا ہے۔ ان تاریخی مقامات میں قرارداد پاکستان بھی شامل ہے۔ ہزار تردید کیجئے ہزار شواہد اور ڈاکومنٹس دکھایئے وہ اپنے مؤقف سے ہٹنے کے لئے تیار نہیں چنانچہ بہت سے محققین کو اُن کی اس ہٹ دھرمی میں بھی کسی مخصوص ایجنڈے کی کارفرمائی دکھائی دیتی ہے۔

 

اس سال 11ستمبر کو مضامین اور دوسرا مواد پڑھتے ہوئے مجھے ایک بار پھر حیرت بروزنِ صدمہ ہوا کہ ہمارے بعض دانشوروں نے قائداعظم کی زندگی کے آخری ایام کے ساتھ بھی کئی سازشی کہانیاں جوڑرکھی ہیں اور ان کہانیوں کو قبول عام کا درجہ حاصل ہو چکا ہے۔ چنانچہ بڑے بڑے پڑھے لکھے لوگ ان پر غور یا تحقیق کئے بغیر یقین رکھتے ہیں۔

 

ان مقبول کہانیوں میں ایک کہانی لیاقت جناح تعلقات کے حوالے سے حددرجہ مقبول ہے۔ کہا جاتا ہے کہ جب قائداعظم شدید علالت کے سبب زیارت میں زندگی کے آخری ایام گزار رہے تھے تو وزیراعظم لیاقت علی خان اور گورنر جنرل قائداعظم محمد علی جناح کے درمیان دہائیوں پرانے تعلقات سرد مہری کا شکار ہو چکے تھے۔ میں نے جب یہ کہانی کئی بار پڑھے لکھے حلقوں میں سنی تو مجھے حیرت ہوئی۔ یہ حقیقت توتاریخ کا حصہ ہے کہ قیام پاکستان کے چند ماہ بعد ایک بار وزیراعظم لیاقت علی خان نے گورنر جنرل کو استعفیٰ بھجوا دیا تھا اور اس میں اپنی بیگم کے حوالے سے کچھ اختلافات کا ذکر کیا تھا۔ بنیادی طور پر یہ اختلافات بیگم رعنا لیاقت اور مادر ملت فاطمہ جناح کے درمیان تھے چنانچہ قائداعظم نے نہایت محبت بھرے انداز میں وزیراعظم لیاقت علی خان کا ذہن صاف کیا اور اُنہیں یقین دلایا کہ وہ وزیراعظم پر مکمل اور بھرپوراعتماد کرتے ہیںاور انہیں لیاقت علی خان سے طویل رفاقت پر فخر ہے۔ قائداعظم نے لیاقت علی کو یہ بھی نصیحت کی کہ وہ آئندہ ایسی کوئی بات ذہن میں نہ لائیں اور دوستی کے دیرینہ ناتے پرمضبوطی سے قائم رہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ ''محترمات'' کی سردمہری کے باوجود قائداعظم اور لیاقت علی خان کے تعلقات نہایت دوستانہ اور قابل رشک تھے اور لیاقت علی خان دل کی گہرائیوں سے قائداعظم کا احترام کرتے اور اُن کی قیادت پر فخر کرتے تھے۔ اس پس منظر کے حوالے سے ایک بار میری بریگیڈیئر نور حسین مرحوم سے تفصیلی بات ہوئی۔ بریگیڈیئر نورحسین مرحوم بحیثیت کیپٹن نور حسین گورنر جنرل قائداعظم محمد علی جناح کے اے ڈی سی تھے اور زیارت سے لے کر قائداعظم کے کراچی میں انتقال اور جنازے تک کے مستند عینی شاہد تھے۔ قائداعظم کے آخری ایام کی تفصیل اُن کے ذہن میں فلم کی مانند محفوظ اور تازہ تھی اور جب وہ بات کرتے تو تفصیلات یوں بیان کرتے جیسے ابھی کل کی بات ہو۔ میرے لئے یہ خوشگوار حیرت تھی کہ دہائیاں گزرنے اور علالت کے باوجود بریگیڈیئر صاحب کو زیارت میں وزیراعظم کی آمد کی ایک ایک تفصیل کے علاوہ قائداعظم کے بازو اٹھانے اور چہرے سے چادرکا پلو ہٹانے تک کی باریک باتیں بھی یاد تھیں۔ بریگیڈیئر صاحب نے مجھے بتایا کہ کراچی سے ٹیلی گرام موصول ہوا جس میں وزیراعظم اور سیکرٹری جنرل حکومت پاکستان چودھری محمد علی کی زیارت میں آمد اور قائداعظم کی عیادت اور بیمار پرسی کی اطلاع دی گئی تھی۔ چنانچہ میں وہ ٹیلی گرام لے کر قائداعظم کی خدمت میں حاضر ہوا۔ وہ یہ خبر سن کر خوش ہوئے۔ انہوں نے وزیراعظم کی آمد میں اتنی گہری دلچسپی لی کہ ان کے دوپہر کے کھانے کا مینو خود منظور کیا اور جس دن انہوں نے  آنا تھا وہ مجھ سے پوچھتے رہے کہ وزیراعظم کوئٹہ پہنچ گئے ہیں۔وہ بذریعہ کار کوئٹہ سے زیارت کے لئے چل پڑے ہیں۔ وزیراعظم اور سیکرٹری جنرل کی آمد کی اطلاع میں نے ہی قائداعظم کو دی اور انہوں نے فوراً ان کو اوپر اپنے بیڈ روم میں لانے کے لئے کہا۔بریگیڈیئر صاحب نے مجھے بتایا کہ جب میں وزیراعظم کو لے کر قائداعظم کے کمرے میں داخل ہوا تو قائداعظم نے نہ صرف مسکرا کر اُن کا استقبال کیا بلکہ ڈاکٹر کی ہدایت کی خلاف ورزی کرتے ہوئے گرم جوشی سے اپنا بازو بھی اوپر اٹھایا۔ میں اُنہیں چھوڑ کر نیچے دفتر میں آ گیا۔ تقریباً نصف گھنٹہ بعد چودھری محمد علی بھی قائداعظم کے کمرے سے نیچے ہمارے پاس آ گئے اور گورنر جنرل اور وزیراعظم ''ون ٹو ون'' کمرے میں رہ گئے۔ جب وزیراعظم قائداعظم سے مل کر نیچے آئے تو انہوں نے ہمارے دفتر سے دو معزز حضرات کو فون کئے اور دونوں سے کراچی میں موجود رہنے کی استدعا کی اول خواجہ ناظم الدین ، دوم مولانا شبیراحمدعثمانی۔۔۔۔ بریگیڈیئر صاحب نے تفصیلات میں اترتے ہوئے بتایا کہ مجھے ان فون کالوں کی سمجھ اس روز آئی اور اس روز ان کی حکمت سے پردہ اٹھا جب قائداعظم کی نماز جنازہ مولانا عثمانی مرحوم نے پڑھائی اور خواجہ ناظم الدین قائداعظم کی جگہ پر گورنر جنرل منتخب ہو گئے۔ تب میں نے اندازہ لگایا کہ قائداعظم نے وزیراعظم لیاقت علی خان کو ون ٹو ون ملاقات میں کیا ہدایات دی ہوں گی۔ ظاہر ہے کہ بریگیڈیئر صاحب قائداعظم کے کمرے میں موجود نہیں تھے اس لئے وہ زمینی حقائق کی روشنی میں اندازہ ہی لگا سکتے تھے۔

 

بریگیڈیئر صاحب کے بقول وزیراعظم لیاقت علی خان قائداعظم کی صحت کے بارے میں انتہائی متفکر تھے اور دوپہر کے کھانے پر کرنل الٰہی بخش سے علاج معالجے کا پوچھتے ہوئے بیرون ملک سے ماہر ڈاکٹر بلوانے کا کہتے رہے۔ لیکن اس پر قائداعظم راضی نہ تھے۔ اُنہی دنوں قائداعظم کے دیرینہ دوست اور امریکہ میں پاکستان کے سفیر اصفہانی صاحب بھی بیمار پرسی کے لئے آئے اور امریکہ سے ماہرین بھجوانے کی تجویز دی لیکن قائداعظم نے شکریے کے ساتھ انکار کر دیا۔

اسی سازشی افسانے کا دوسرا حصہ یہ ہے کہ جب گیارہ ستمبر 1948 کو قائداعظم اپنی زندگی کے آخری دن زیارت سے کراچی پہنچے تو وزیراعظم یا کابینہ کے اراکین ان کا ہوائی اڈے پر استقبال کرنے کے لئے موجود نہ تھے۔ اس افسانے کا پردہ چاک کرتے ہوئے بریگیڈیئر صاحب نے بتایا کہ میں نے ہی کراچی میں گورنر جنرل کے انگریز ملٹری سیکرٹری کرنل نوفل کو قائداعظم کے لئے طیارہ بھجوانے اور دوسرے انتظامات کرنے کی ٹیلی گرام بھجوائی تھی۔ مادر ملت محترمہ فاطمہ جناح کی ہدایت پر ملٹری سیکرٹری کو گورنر جنرل کی آمد کو غیرسرکاری اور

Confidential

رکھنے کی ہدایت کی تھی۔ غیرسرکاری وزٹ کی اطلاع نہ وزیراعظم کو دی جاتی ہے نہ کابینہ یا اعلیٰ افسران کو۔ منیر احمد منیر کی کتاب دی گریٹ لیڈر(II) میں سردار عبدالرب نشتر کا انٹرویو شامل ہے جس میں وہ کہتے ہیں کہ اُنہیں قائداعظم کی زیارت سے آمد کا ہرگز علم نہیں تھا۔ کابینہ کے اراکین کو ایک دم قائداعظم کی وفات کی خبر دی گئی اور وہ صدمے سے نڈھال ہو گئے۔ بریگیڈیئرنورحسین مرحوم قائداعظم کے ساتھ طیارے میں کراچی آئے اس لئے وہ آخری لمحوں کے عینی شاہد ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ یہ محض افواہ اور جھوٹ ہے کہ لیاقت علی خان قائداعظم کے استقبال کے لئے ہوائی اڈے پر نہیں آئے۔ سازشی تھیوری میں رنگ بھرنے کے لئے یہ ہوائیاں اڑائی گئی ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ وزیراعظم کو جونہی پتہ چلا وہ فوراً ایئرپورٹ پر آئے اور جب راستے میں ایمبولینس خراب ہو گئی تو لیاقت علی خان سارا وقت ہمارے ساتھ وہاں موجود رہے۔ وہ قائداعظم کی ایمبولینس کو گورنر جنرل ہائوس پہنچا کر اپنے گھر گئے۔

 

اس سلسلے کی ایک اہم کڑی ایمبولینس کی کہانی ہے جس نے باقاعدہ ایک سازش کا روپ دھار لیا ہے۔ بریگیڈیئر صاحب نے ان افواہوں کو رد کرنے اور حقائق  کو واضح کرنے کے لئے ''دی نیوز'' میں دو مضامین بھی لکھے تھے۔ جو میری کتاب ''اقبال، جناح اور پاکستان''  میں بطور ضمیمہ شامل ہیں۔ بریگیڈیئر صاحب نے صورت حال واضح کرتے ہوئے بتایا کہ اس دور میں کراچی ایک پسماندہ شہر تھا جس میں آج کی زندگی کی سہولیات موجود نہیں تھیں۔ ایمبولینس کا انتظام کراچی میں موجود گورنر جنرل کے ملٹری سیکرٹری کرنل نوفل کو کرنا تھا۔ اس نے کراچی کے بہترین ہسپتالوں سے ایمبولینس گورنر جنرل ہائوس منگوائیں اور ان کا معائنہ کرنے کے بعد جو سب سے بہتر لگی اسے منتخب کیا۔ بدقسمتی سے وہ ایئرپورٹ سے گورنر جنرل ہائوس آتے ہوئے راستے میں خراب ہو گئی۔ زیادہ سے زیادہ نصف گھنٹہ لگا اور دوسری ایمبولینس آ گئی۔ ظاہر ہے کہ شدید علیل قائداعظم کے لئے کراچی کی گرمی کے یہ لمحات تکلیف دہ تھے۔ لیکن نہ یہ سازش تھی اور نہ ہی کسی کی بدنیتی۔ یہ محض اتفاق تھا جسے موجودہ کراچی کو سامنے رکھتے ہوئے سازش کا شاخسانہ قرار دیا جا سکتا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ چند روز قبل ڈاکٹر الٰہی بخش مادر ملت کو بتا چکے تھے کہ قائداعظم چند دنوں کے مہمان ہیں۔ انہیں اب کراچی لے جانا چاہئے۔ان کی ہدایت پر یہ فیصلہ ہوا تھا۔ اس  صورت میں جب کہ قائداعظم کسی لمحے بھی عالم فانی سے رخصت ہو سکتے تھے۔ کسی کو سازش کرنے کی کیا ضرورت تھی اور سازش بھی قائداعظم جیسی عظیم ہستی کے خلاف جن کا سبھی دل سے احترام کرتے تھے۔ افسوس تو یہ ہے کہ اڑانے والے تو اڑا دیتے ہیں لیکن سننے والے بھی تجزیہ کرنے کے بجائے آنکھیں بند کر کے سازش تھیوری کو مان لیتے ہیں اور ہر محفل میں چسکے لے لے کر بیان کرتے ہیں۔ ہمارے بہت سے دانشور، لکھاری اور کالم نگار تحقیق کرنے کے بجائے اب بھی اس جھوٹ کو بڑے خلوص سے پھیلانے میں مصروف ہیں اور بار بار ایمبولنس کی اتفاقیہ خرابی اور لیاقت علی خان کی فرضی غیرحاضری کے افسانے کا اعادہ کر کے قارئین کو گمراہ کرتے رہتے ہیں۔ چند روز قبل میں گاندھی کے پوتے کی ایک وڈیو کلپ سن رہا تھا۔ اس نے ایک ہندوستانی ٹی وی چینل کے انٹرویو کے دوران یہ دعویٰ کیا تھا کہ قیام پاکستان کے بعد قائداعظم کو گھر میں قید کر دیا گیا تھا۔ لاحول ولاقوة۔۔۔ کیا اس سے بڑا کوئی جھوٹ ہو سکتا ہے؟ پھر بھی یہ اس صدی کا سب سے بڑا جھوٹ نہیں۔ کیا کبھی وہ وقت آئے گا جب ہم جھوٹ اور سچ میں تمیز کر سکیں گے۔ ابھی تک تو ہم سازشی افسانے سنا کر نوجوان نسلوں کے ذہنوں میں بدگمانیوں کا زہر گھول رہے ہیں۔ اس لئے میں یہ گزارش کرنا ضروری سمجھتا ہوں کہ خدارا ان سازشی کہانیوں پر یقین کرنے کے بجائے غور کرنے یا تحقیق کرنے کی عادت ڈالئے۔ ان کی حوصلہ شکنی کیجئے۔


 

Comments



Note: No comments!



Leave a Reply

Success/Error Message Goes Here
Note: Please login your account and then leave comment!
TOP