غیر مشروط محبت کا لافانی حوالہ ۔۔۔گلگت  بلتستان

ملک کے شمال میں واقع گلگت بلتستان اپنے دامن میں بے پناہ وسائل، قدرتی حسن اور مٹی سے گہری عقیدت رکھتا ہے۔اس خطے کے باسیوں نے اپنی مدد آپ کے تحت ڈوگرہ راج کو شکست دے کر 28ہزار مربع میل کے علاقے کو آزاد کرایا۔ 16نومبر 1947تک ریاست گلگت بلتستان ایک آزاد حیثیت سے دنیا کے نقشے پر موجود رہی اور اسی ماہ پاکستان کے ساتھ غیر مشروط الحاق کیا گیا جبکہ 14اگست1948 کو بلتستان آزاد ہوا اور 1952میں دیامر ڈویژن کا باقاعدہ اضافہ اور دستاویزی الحاق ہوا،یوں تین مختلف ٹائم فریم کے دوران تین علاقے ون یونٹ بن گئے جسے اب گلگت بلتستان کہا جاتا ہے۔یہ خطہ ہر دور میں نت نئی سیاسی و سماجی اصلاحات کا سفر طے کرتا رہا ہے۔ 1960کی دہائی میں جنرل (ر)ایوب خان کی مقامی حکومتوں کو تقویت دے کر مربوط بنانے کی پالیسی سے لے کر 2009کے سابق صدر آصف علی زرداری کے دستخطوں سے جاری گورننس آرڈر 2009تک لاتعداد اصلاحاتی مراحل طے کرتا ہوا آیا ہے۔1947سے لے کر 2009تک یہ علاقہ سیاسی رویوں کی ناپختگی کا شکاررہا اور یہاں سیاسی رحجانات کے فروغ کے بجائے مذہبی اور مسلکی جڑیں اپنی پوری طاقت کے ساتھ اپنے ہونے کا یقین دلاتی رہیں جس کی وجہ سے وفاقی سیاسی جماعتوں کو مضبوط ہونے نہیں دیا گیا۔ یہاں تک کہ مختلف سیاسی چناؤ کے لئے وہ اُمیدوار ہر دور میں سب سے مضبوط اور پُراثر رہا جس کو مسجد و مولوی اور آغا کی حمایت حاصل تھی۔ 2000ء کی دہائی میں جنرل (ر) پرویز مشرف نے پہلی مرتبہ گلگت بلتستان کو سیاسی دھارے میں لانے کا فیصلہ کیا اور ایک سیاسی پیکیج دینے کی حکمتِ عملی طے کرتے ہوئے گلگت بلتستان کے لئے ترقیاتی گرانٹ کا خصوصی اضافہ کیا ۔ آج خطے میںجتنے بھی میگا پراجیکٹ موجود ہیں وہ سب مشرف دور کے ہیں۔ مشرف دورِ حکومت میں خطے کو دوبارہ شناخت دی گئی اس خطے کا نام جو ناردرن ایریا ز تھا اُس کو گلگت بلتستان میں بدل دیا گیا۔ مشرف حکومت میں تیار سیاسی پیکیج کا اعلان ہونا باقی تھا۔ ادھر جنرل (ر) پرویزمشرف کی حکومت کا خاتمہ ہوا،مرکزی سطح پر الیکشن ہوئے اور پاکستان پیپلز پارٹی ایک مرتبہ پھر برسر اقتدار جماعت بن کر سامنے آئی۔ اسی دوران مشرف حکومت کا گلگت بلتستان کے حوالے سے تیار شدہ سیاسی اصلاحاتی پیکیج کا مسودہ سامنے آیا اور بعض ضروری ترامیم کے بعد مذکورہ سیاسی پیکیج کا اعلان کیا گیا، جس میں خطے کو پہلی مرتبہ صوبائی سَیٹ اَپ دیا گیا جبکہ وزیر اعلیٰ اور گورنر جیسے مناصب بھی متعارف کرائے گئے۔ ناردرن ایریاز اسمبلی اب گلگت بلتستان اسمبلی کہلائی جانے لگی اس سیاسی پیکیج کی کوکھ سے وفاقی سطح پر گلگت بلتستان کونسل کے نام سے ایک اور ادارے نے جنم لیا جس کے چیئرمین ملک کے وزیراعظم قرار پائے۔ اس اصلاحاتی پیکیج کو گلگت بلتستان کی سیاسی تاریخ کا سب سے بڑا قدم قرار دیا جارہا ہے کیونکہ پہلی مرتبہ اس نوعیت کی اصلاحات نافذ ہوئیں۔ اس پیکیج سے گلگت بلتستان کی سیاسی قیادت اور وفاقی قیادت کے مابین خلیج ختم ہوئی اور وہ ایک دوسرے کے قریب آگئے جس کا علاقے کو بہت فائدہ ہوا،چونکہ یہ سیاسی پیکیج بھی ایک آرڈر تھا اور اسے آئینی تحفظ حاصل نہ تھا۔ بنیادی طور پر گلگت بلتستان اقوام متحدہ کی قراردادوں میں متنازعہ حیثیت کا حامل علاقہ ہے اور تنازعہ کشمیر کا ایک فریق بھی ہے جس کی وجہ سے گلگت بلتستان کو مکمل طور پر آئینی پوشاک پہنانا ایک مشکل امر ضرور ہے،مگر یہ بات بھی نہایت اہم ہے کہ متنازعہ حیثیت کے حامل علاقے کے حقوق متنازعہ کیسے ہوئے۔ گلگت بلتستان کی پاکستان کے ساتھ وابستگی انمٹ ہے کیوں کہ یہ تعلق ایک نظریے کا ہے اور نظریہ کسی آئینی مسودے یا جغرافیے کا محتاج نہیں۔ یہ وہ بنیاد ہے جس پر سالانہ درجنوں جوان ملک کی نظریاتی و اساسی سرحدوں کی حفاظت کے لئے اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کررہے ہیں۔1965کی جنگ ہو یا 1971کا معرکہ،کارگل کی جنگ ہو یا آپریشن ضرب عضب ہر مرحلے پر گلگت بلتستان کے خوبرو اور کڑیل جوان اپنے خون کی سُرخی سے داستان وفا لکھ رہے ہیں۔ سوات، وزیرستان اور بلوچستان کے پہاڑ آج بھی ان جوانوں کی ناقابل فراموش قربانیوں کے گواہ ہیں۔افسوس ناک پہلو یہ ہے کہ دشمن بدلتے ہوئے عالمی حالات کے تناظر اور گلگت بلتستان و بلوچستان کی بڑھتی ہوئی اہمیت کے پیش نظر اپنی حکمت عملی کو نئے انداز میں آگے بڑھا رہا ہے اور ہمارے حکمرانوں کو ہوش تک نہیں ۔گلگت بلتستان کی نوجوان نسل خود کو ملک پاکستان کے ساتھ آئینی طور پر شامل دیکھنا چاہتی ہے جو کہ ایک جائز مطالبہ ہے مگر ہر دور کے حکمرانوں نے اس خطے کو آئین کے بجائے آرڈر دینے پر اکتفا کیا ہے جس سے نہ چاہتے ہوئے بھی ایک محرومی علاقے میں سرایت کررہی ہے۔یہ محرومی نوجوانوں کی ذاتی صلاحیتوںکی نہیں بلکہ جس ملک سے بے پناہ محبت کی جا رہی ہے اس کے حکمرانوں کے رویوں کی ہے جبکہ دوسری جانب دشمن طاقتیں ہماری اس باطنی کمزوری سے فائدہ اُٹھانے کی کوششوں میں لگی ہوئی ہیں۔ یہ طاقتیں پانچویں جنریشن وار کے ذریعے اپنے مطلب کی بات ہم سے کہلوا رہی ہیں جو کہ تشویش ناک ہے۔ اس میں دو رائے نہیں کہ گلگت بلتستان کا بچہ بچہ ملک کے دفاع کا (بغیر وردی کے) سپاہی ہے اور گلگت بلتستان پاکستان کے ساتھ محبت کا غیرمشروط حوالہ ہے، جس سے دنیا کی کوئی طاقت انکار نہیں کرسکتی ہے۔ اربابِ اختیار کو چاہئے کہ ملک کے شمال میں واقع پہاڑوں کی زمین، دیوسائی کی وارث، نانگا پربت کے دیس،(کے ٹو )کے دامن اور دریائے سندھ کے منبع پر بھی ایک نظر کرم کریں اور یہاں کے مکانوں کے بجائے مکینوں کے اُس مطالبے کے لئے بھی چند منٹ نکالیں جس میں ٹوٹنے کی نہیں جڑنے کی بات ہے،نفرت نہیں محبت کا مطالبہ ہے، عارضی نہیں ملک کی محبت میں مستقل ہونے کی التجا ہے اور اس سے بڑھ کر مسئلہ کشمیر کو متاثر کئے بغیر عبوری نمائندگی کی فریاد ہے۔ ملک کے درودیوار سے جڑنے کی آس لگائے گلگت بلتستان کی عوام آج بھی پُراُمید ہے اور دشمن طاقتوں کو یہ پیغام دیتی ہے کہ گلگت بلتستان کا ہر جوان چلتا پھرتا پاکستان ہے، یہاں کے مکینوں کے اپنے ملک سے گلے شکوے اس طرح ہیں جس طرح ایک بچے کو اپنی ماں سے ہوتے ہیں۔


[email protected]

 

Comments



Note: No comments!



Leave a Reply

Success/Error Message Goes Here
Note: Please login your account and then leave comment!
TOP