عہد ِیوسفی

کسے خبر تھی کہ 4 ستمبر 23 19 ء کو شمال مغربی بھارتی ریاست راجستھان کے شہر جے پور میں عبدالکریم یوسفی کے گھر سے آنے والی ننھی آوازیں ایک ایسے عہد کی ابتداء ہوں گی جو بعد میں عہد ِیوسفی کے نام سے اردو ادب کی تاریخ میں ہمیشہ کے لئے امر ہوجائے گا۔ راجستھان کا شمار برصغیر کے ان علاقوں میں ہوتا ہے جہاں کی مٹی علم و ادب اور فنون لطیفہ کے حوالے سے زرخیز مانی جاتی ہے اور شائد یہی وجہ تھی جس نے مشتاق یوسفی کو ابتداء سے ہی باقی ادیبوں اور دانشوروں میں ممتاز کئے رکھا۔ اردو ادب کا یہ پچانوے سال پر محیط عہد کچھ دن پہلے جب اپنے دنیاوی اختتام کو پہنچا تو پیچھے سوگوارن میں کروڑوں قہقہوں اور مسکراہٹوں کو غمزدہ چھوڑ گیا۔

 

جے پور سے ابتدائی تعلیم حاصل کرنے کے بعد علی گڑھ مسلم یونیورسٹی میں داخلہ لیا جہاں سے نمایاں پوزیشن میں فلسفے میں ایم۔اے کیا اور بعدازاں سول سروسز میں بطور ڈپٹی اور ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر کی ذمہ داریاں نبھاتے رہے۔ آزادیئِ پاکستان کے بعد کراچی آگئے جہاں مختلف بینکوں میں اعلیٰ عہدوں پر فائز رہے۔ مشتاق احمد یوسفی کا پہلا باقاعدہ مضمون''صنف لاغر''کے نام سے ترقی پسند رسالے ''سویرا '' میں شائع ہوا تھا۔ اس کے بعد مضامین کا سلسلہ چل نکلا اور پھر مشتاق احمد یوسفی کی پہلی کتا ب ''چراغ تلے'' 1961 ء میں شائع ہوئی۔ دوسری تخلیق ''خاکم بدہن'' 1970 ء میںشائع ہوئی۔ تیسری کتاب ''زرگزشت '' کے عنوان سے 1976 ء میں اشاعت کے مراحل سے گزری اور اس کے بعد ''آبِ گم '' 1990 ء میں منظرعام پر آئی۔ ویسے تو یہ ساری کتابیں اپنی تمام تر مزاحیہ چاشنی کے ساتھ اردو زبان و ادب کے قارئین کو مسحور کئے ہوئے ہیں لیکن''زرگزشت''مشتاق احمد یوسفی کی زندگی کے ان 25 برسوں کا احاطہ کئے ہوئے ہے جو ان کی بینک کی پیشہ ورانہ زندگی سے متعلق ہیں۔

 

مشتاق یوسفی کی تحریر میں روانی اور جملہ سازی پر گرفت بے حد مضبوط تھی۔ ان کی منفرد نثر اردو زبان کی تمام اہم کلاسک نثری اسالیب کی بنیادوں پر استوار ہے جو کہ اب جدید کلاسک کا درجہ اختیار کر چکی ہے۔ انہیں مزاح لکھنے کے لئے تصوراتی منظر کشی یا کردار نگاری کی محتاجی بالکل بھی نہیں تھی۔ وہ خالص واقعات اور فلسفیانہ گفتگو کے ذریعے طنزیہ تبصروں سے مزاح پیدا کرتے تھے۔اسی لئے ڈاکٹر ظہیر فتح پوری کہتے ہیں کہ ہم وہ خوش نصیب ہیں جو عہد یوسفی میں زندہ ہیں۔مشہور مزاح نگار ابن انشاء لکھتے ہیں کہ اگر مجھ سے پوچھا جائے کہ اپنے دور کے بہترین مزاح نگار کا بتائو تو فوری طور پر مشتاق یوسفی کا نام ذہن میں آتا ہے۔

 

ان کی تحریروں کا بغور جائزہ لیا جائے تو مزاح کا لبادہ اوڑھے ماضی کی یادوں کا ایک ایسا اداس منظر دیکھنے کو ملے گا جس سے قاری کو ایک مہاجر کی ذہنی کیفیت سمجھنے کا موقع ملے گا۔ ان کی تحریروں میں جا بجا اپنے آبائی علاقے راجستھان کی جھلکیاں کسی نہ کسی صورت دیکھنے کو ملتی ہے۔ایک جگہ لکھتے ہیں ''راجستھان کے راجپوتوں میں الٹا دستور ہے۔ اونٹ پر بیٹھی عورت کے انداز نشست کو دیکھ کر ایک میل دور سے بتلا سکتے ہیں کہ وہ سوار کی بہن ہے یا بیوی۔ بہن کو راجپوت سردار ہمیشہ آگے بٹھاتے ہیںتاکہ خدانخواستہ گرے تو فوری پتہ لگ جائے۔بیوی کو پیچھے بٹھاتے ہیں اور محبوبہ کو اغوا کرنے کے لئے دیس میں ہمیشہ گھوڑے استعمال ہوتے ہیں۔'' اس اقتباس میں مزاح کا مادہ اپنی جگہ لیکن یوسفی صاحب کے لاشعور میں بیٹھی ماضی کی یادوں کو شعوری طور پر قلمبند کرنے کی کوشش واضح انداز میں دیکھی جاسکتی ہے کیونکہ انسان سب بھول سکتا ہے لیکن وہ جگہ نہیں جہاں اس نے بچپن اور لڑکپن گزارا ہو۔

 

یوسفی صاحب نے بعض جگہوں پر معاشرتی ناہمواریوں اور انسانی رویے پر بہت بے دردی کے ساتھ تبصرہ کیا ہے۔ اگر مشتاق یوسفی کی ظرافت نگاری کا جائزہ لیا جائے تو انہوں نے سیاست ، مذہب ، ادب اور سماج کی برائیوں اور خامیوں کو کھل کر طنز کا نشانہ بنایا ہے۔ ایک جگہ لکھتے ہیں کہ سانپ کا زہر کینچلی میں، بچھو کا زہر دم میں، بھڑ کا زہر اس کے ڈنک میں اور پاگل کتے کا زہر زبان پر ہوتا ہے لیکن انسان وہ واحد جانور ہے جو اپنا زہر دل میں رکھتا ہے۔ مشتاق یوسفی نے معاشرتی تاریکیوں پر اس طرح قلم کے ذریعے روشنی ڈالی ہے کہ بقول ان کے آگ بھی لگے اور کوئی انگلی بھی نہ اٹھا سکے کہ یہ دھواں سا کہاں سے اٹھتا ہے؟ یہی وجہ تھی کہ وہ خاص و عام میں برابر مقبول تھے کیونکہ انہوں نے خاص باتیں بھی عام الفاظ میں لکھی اور عام باتوں کو اس طرح لکھا کہ قاری ایک بار سوچنے پر مجبور ہو جائے۔ مشتاق یوسفی نے ہمارے پاکستانی معاشرے کی ان سچائیوں کو اجاگر کیا جو ہمارے معاشرے کو آلودہ کئے ہوئے ہیں۔

جس دَور میں انسان کو حقوق کے حصول کے لئے جہاد کرنا پڑے، اسے 'جبر' کا دور کہتے ہیں اور اگر حقوق کے لئے صرف دُعا کا سہارا ہی باقی رہ جائے تو اِسے 'ظلم' کا زمانہ کہتے ہیں۔

واصف علی واصف       

 

یوسفی صاحب اس صدی میں مزاح نگاری کر رہے تھے جس صدی میں پہلے سے ہی بڑے نام موجود تھے لیکن یوسفی صاحب ان میں بھی ایک قد آور مزاح نگار کے طور پر ابھرے۔ان کی ادبی خدمات کے اعتراف میں حکومت پاکستان نے انہیں 1999 ء میں سب سے بڑے سول اعزاز ہلال امتیاز اور نشان امتیاز سے نوازا۔ مشتاق احمد یوسفی نے ''خاکم بدہن'' کے مضمون ''دست زلیخا'' میں لکھا ہے کہ حسِ مزاح دراصل انسان کی چھٹی حس ہے۔ یہ ہو تو انسان ہر مقام سے بآسانی گزر جاتا ہے۔ مشتاق احمد یوسفی میں حسِ مزاح بدرجہ اتم موجود تھی اور یقیناً وہ اپنی زندگی کے آخری مقام سے بآسانی گزر گئے ہوں گے اوردعا ہے کہ اللہ تعالیٰ یوسفی صاحب کی اب آنے والی تمام منزلیں بھی آسان کردے۔ آمین۔


مضمون نگار فری لانس صحافی ہیں۔

hammaschaudhry@gmail.com

Comments



Note: No comments!



Leave a Reply

Success/Error Message Goes Here
Note: Please login your account and then leave comment!
TOP