عورتیں

کچھ منظر ذہن سے چپک کر رہ جاتے ہیں،ایسا ہی ایک منظر مجھے کبھی نہیں بھولتا۔ایک بس سٹاپ پر بھیڑ لگی ہے،چلچلاتی دھوپ ہے ،لگ بھگ دو درجن لوگ شدت سے بس کا انتظار کر رہے ہیں ،تھوڑی دیر بعد سواریوں سے لدی ہوئی ایک ویگن آ کر رکتی ہے،بس سٹاپ پر کھڑے لوگوں میں کھلبلی مچ جاتی ہے، تمام لوگ ایک دوسرے کو دھکیلتے ہوئے ویگن میں سوار ہونے کی کوشش کرتے ہیں ،ان لوگوں میں تیس بتیس سال کی ایک عورت بھی ہے جو بیساکھیوں پر ہے،وہ بھی ان مردوں کے ''شانہ بشانہ'' اس دھکم پیل میں شامل ہونے کی کوشش کرتی ہے تاکہ اسے بھی ویگن میں جگہ مل سکے مگر ویگن کا کنڈکٹردو چار تگڑے قسم کے لوگوں کو ''کُبّا'' کر کے ویگن میں ٹھونستا ہے اور ایک نعرہ مستانہ بلند کر کے ڈرائیور کو چلنے کا اشارہ کرتا ہے ۔اس سارے عمل میں زیادہ سے زیادہ پینتالیس سیکنڈ لگتے ہیں ،ویگن فراٹے بھرتے ہوئی نکل جاتی ہے۔بیساکھیوں والی عورت گھسٹتی ہوئی اپنی جگہ پر واپس آ جاتی ہے ،شائد یہ سوچ کر کہ جو حقوق اسے چودہ سو سال پہلے دئیے گئے تھے آ ج کا معاشرہ اسے وہ حقوق دینے میں مزید چودہ سو سال لگائے گا۔

 

بے چین بہت پھرنا، گھبرائے ہوئے رہنا

اِک آگ سی جذبوں کی دہکائے ہوئے رہنا

چھلکائے ہوئے چلنا خوشبوئے لبِ لعلیں کی

اِک باغ سا،ساتھ اپنے، مہکائے ہوئے رہنا

اُس حسن کا شیوہ ہے جب عشق نظر آئے

 پردے میں چلے جانا، شرمائے ہوئے رہنا

اِک شام سی کر رکھنا کاجل کے کرشمے سے

اِک چاند سا آنکھوں میں، چمکائے ہوئے رہنا

عادت ہی بنالی ہے، تم نے تو منیر اپنی

جس شہر میں بھی رہنا، اُکتائے ہوئے رہنا

منیر نیازی

 

 

اِک بات آگئی ہے بہت کھل کے سامنے ،

ہم نے مطالعہ جو کیا ہے سماج کا !!!

اِک مسئلہ ہے سارے گھرانوں میں مشترک

 ہر گھر میں ایک فرد ہے ٹیڑھے مزاج کا

انور مسعود

 

 قدرت یاتو مختلف ریاستوں کے حکمرانوں کو دانا اور ایماندار یعنی فلسفی بنا دے یا پھر دانا اور ایماندار فلسفیوں کو ریاستوں کا حکمران بننے کا موقع عطا کردے۔۔ جب تک ان دونوں میں سے کوئی ایک کام نہیں ہوگا، ریاست کی سماجی زندگی اور اقتصادی و سیاسی حالات کبھی درست نہیں ہوں گے۔۔۔ (افلاطون)

 غلامی کی ایک قسم ایسی ہے جو صرف عورت کا مقدر ہے ۔یہ وہ غلامی ہے جو اس خطّے کی عورتوں کا نصیب تھی (ہے)۔ اس غلامی کے ٹی او آریہ ہیں کہ ''اس گھر سے تمہاری ڈولی جار ہی ہے ،اب تمہارا جنازہ ہی یہاں آئے گا۔'' ایک طویل عرصے تک ہم نے اس جذباتی بیان کی بنیاد پرخاندان میں عورتوں کو مردوںکا غلام بنا ئے رکھا۔ہم نے گھر میں مرد کی آمریت کا ماڈل متعارف کروایا جس کے تحت گھر کے تمام فیصلے مرد کے ہاتھ میں تھے کیونکہ وہ کماتا تھا اور عورت'' کچھ نہیں'' کرتی تھی ۔یہ بھی خوب لطیفہ ہے ۔ہمارے ہاں جو عورتیں گھر بار سنبھالتی ہیں ،بچے پالتی ہیں ،انہیں پڑھاتی ہیں،ہانڈی روٹی کرتی ہیں، غرض صبح سے شام تک کولہو کے بیل کی طرح کام کرتی ہیں وہ ''ہائوس وائف '' کہلاتی ہیں جن کے بارے میں ان کے خاوند کہتے ہیں کہ ''میری بیوی جاب نہیں کرتی ،گھر پر رہتی ہے۔''اور جو عورتیں ملازمت کرتی ہیں وہ مزید پس جاتی ہیں کیونکہ مرد تو ایک ملازمت کے بعد گھر آ کر لیٹ جاتا ہے اور رات تک ٹی وی کے چینل بدل بدل کر دیکھتا رہتا ہے جبکہ عورت کی ڈیوٹی گھر آ کر بھی ختم نہیں ہوتی۔عورت ہونے کے ناتے سا س سسر کے کھانے کا خیال رکھنے سے لے کر بچوں کے دودھ تک تمام ذمہ داری اسی کی ہے ۔پوری دنیا میں کام کرنے کے اوقات میں عورتوں کا حصہ دو تہائی جبکہ مرد کا صرف ایک تہائی ہے اور اس کام کے مقابلے میں عورتوں کو ملنے والی اجرت پوری دنیا کی کل اجرت کا صرف دسواں حصہ ہے۔

 

ہمارے معاشرے کے تضادات بھی نرالے ہیں ۔کبھی ہم عورتوں کے گھر سے نکلنے کے سخت خلاف تھے ۔اس کے بعد جوں جوں معاش کا مسئلہ شدت اختیار کرتا گیا توں توں معاشرے میں عورت کا گھر سے باہر نکل کر کام کرنا ضرورت بن گیا ۔اب عورت مردپر انحصار کرنے کے بجائے خود کام کرکے گھر چلا سکتی ہے لیکن جن گھرانوں میں یہ سوچ پروان نہیں چڑھی وہاں اب بھی بیٹے پر ''انویسٹمنٹ '' کی جاتی ہے کہ بڑھاپے کا سہارا بنے گا جبکہ بیٹیاں تو پرایا دھن ہوتی ہیں ۔اس سوچ کی وجہ سے ہم اپنی بیٹیوںکو اعلیٰ تعلیم یا ہنر نہیں سکھاتے کہ انہوں نے تو شادی کرکے پیا دیس سدھار جانا ہے جبکہ اس سفاک معاشرے میں اگر کسی کو تعلیم ،ہنر اور ملازمت کی سب سے زیادہ ضرورت ہے تو وہ عورت ہے تاکہ اسے اپنی ضرورتوںکے لئے کسی خبیث مرد پر انحصار نہ کرنا پڑے ۔ہم اپنے تئیں عورت کو یہ کہہ کر عزت دینے کی کوشش کرتے ہیں کہ عورتیں مائیں ہیں، بیٹیاں ہیں ،بہنیں ہیں ،بیویاں ہیں مگر در حقیقت یہ تمام رشتے اس کی شناخت نہیں بلکہ مرد سے اس کے تعلق کی بنا پر ہیں ۔عورت کی اپنی ایک آئیڈنٹٹی ہے جسے کسی مرد کے ساتھ جوڑنا ضروری نہیں ۔

 

مغرب میں عورت کو ہراساں کرنے کے حوالے سے اس قدر سخت قوانین ہیں کہ بعض اوقات یوں لگتا ہے کہ مردوں کے ساتھ زیادتی ہو رہی ہے ۔مگر یہ ''زیادتی'' ضروری ہے تاکہ عورتوں کے ساتھ ہونے والی ''زیادتی'' کو روکا جا سکے۔میرے دوست راشد محمود نے ہاورڈ یونیورسٹی میں داخلہ لیا تو پہلے دن اس کی کلاس کو جو باتیں بتائی گئیں ان کا خلاصہ یہ تھا کہ پیارے بچو، یہ کورس بھلے کتنا بھی مشکل ہو اور تم چاہے کتنے بھی نالائق ہو،ہم تمہیں یہاں سے ڈگری دے کر ہی بھیجیں گے، چاہے اس کے لئے ہمیں تمہیں ان گنت مواقع ہی کیوں نہ دینے پڑیں مگر…صرف دو صورتوں میں تمہیں یہ ڈگری نہیں دی جائے گی …پہلی،اگر تمہارے کسی بھی مقالے پر سرقے کا الزام ثابت ہو گیا اور دوسری،اگر کسی عورت نے تمہارے خلاف جنسی طور پر ہراساں کرنے کی شکایت کی۔الحمدللہ ، راشد اب ہاورڈ گریجویٹ ہے ۔

 

مغربی ممالک میں اگر کوئی عورت فقط فون حتیٰ کہ ایس ایم ایس کے ذریعے پولیس کو یہ کہہ دے کہ کوئی شخص اسے جنسی طور پر ہراساں کررہا ہے تو پولیس سب سے پہلا کام یہ کرے گی کہ بغیر کسی تحقیق کے اس شخص کو تھانے لے جائے گی اور وہاں اس سے پوچھ گچھ کرے گی کہ بیٹا اب تم ثابت کرو کہ تم نے یہ کام نہیں کیا۔ہمارے ہاں پہلے تو یہ حالات تھے کہ جس عورت کا ریپ ہو جاتا اسے کہا جاتا کہ گواہ لے کر آئو جو تمہارے ریپ کی شہادت دے سکے ،پھر اگلی بات ہوگی۔اب Women Protection Billکے بعد صورتحال بہتر ہو گئی ہے۔اسی طرح  Prevention of Harassment at Workplace Act, 2008 بھی ایک اچھی شروعات ہے مگر صرف خاتون محتسب مقرر کرنے سے کام نہیں چلے گا بلکہ اسے ایک سنگین جرم قرار دے کر محتسب کے ادار ے کو وہ تمام اختیارات دینے ہوں گے جن کے تحت وہ انکوائری کر سکے ،پولیس کو حکم جاری کر سکے اور براہ راست سزا سنا سکے ۔

 

سیاسی طور پر بھی عورتوں کو خود مختار بنانے کا ایک حل ہے۔ بجائے اس کے کہ پارلیمنٹ میں عورتوںکے لئے ایک تہائی نشستیں مخصوص کی جائیں ،کیوں نہ ایسا کیا جائے کہ ایک تہائی نشستوں پر براہ راست انتخاب کروایا جائے جن میں صرف عورتیں ہی مد مقابل ہوں ۔ایسی ایک تہائی نشستیں قرعہ اندازی کے ذریعے چنی جا سکتی ہیں اور پھر انہیں rotateبھی کیا جا سکتا ہے ۔مثلاً لاہور میں اگر قومی اسمبلی کی تیرہ نشستیں ہیں تو دو نشستیں عورتوں کے براہ راست انتخاب کے لئے مختص کر دی جائیں ،تمام پارٹیاں وہاں سے صرف عورتوں کو ہی ٹکٹ دینے کی پابند ہوں اور جب وہاں سے دو عورتیں جیت کر آ جائیں تو اگلے انتخابات میں دو نئی قومی اسمبلی کی نشستیں عورتوں کے برا ہ راست انتخاب کے لئے مختص کی جائیں ۔اس سے تین فوائد حاصل ہوں گے ،ایک ،عورتیں براہ راست منتخب ہو کر اسمبلی میں آئیں گی ،دو،جن نشستوں پر ایک دفعہ عورت منتخب ہو جائے گی وہاں سے اگلی مرتبہ بھی عورت کی جیت کے امکان ہی روشن ہوں گے،تین،مخصوص نشستوں کو حاصل کرنے کی خاطر عورتوں کو پارٹی لیڈران پر انحصار نہیں کرنا پڑے گا ۔

 

ایک زمانہ تھا جب معاشرے میں مردوںکی برتری ان کی جسمانی طاقت کے بل بوتے پر تھی ،اب زمانہ بدل گیا ہے ،اب طاقت جسم میں نہیں دماغ میں ہوتی ہے ۔اگر ایسانہ ہوتا تو جھارا پہلوان پنجاب کا چیف سیکریٹری ہوتا۔


مضمون نگار معروف کالم نویس اور تجزیہ نگار ہیں۔

 [email protected]

Comments



Note: No comments!



Leave a Reply

Success/Error Message Goes Here
Note: Please login your account and then leave comment!
TOP