عسکری زندگی کا پہلا سبق

 

وفا کے محاذ پر

 

وفا کے محاذ پر

سلامِ فنگ سے بے خبر

جاڑے کی سیاہ رات کو

آسماں سے قریب تر

برف سے ڈھکی چوٹیاں

وفا کے محاذ پر

مورچے میں بیٹھا تان کر

اپنے گھر سے بے خبر

آنکھوں میںآنکھیں ڈال کر

دشمن کے انتظار میں۔۔۔

یا پھر ایک خط کے انتظار میں

یہ خط ملے گا اس کو شاید

جب برف پگھلے گی

اترے گا چوٹیوں سے وہ

وادی میں اپنے کیمپ میں

نہ جانے خط میں اس کے لئے

کیا خبر ہوگی بند لفافے میں

کھلے گا جو ایک موسم کے بعد

جو یقیں نہ ہو تو آئو چلیں

تمہیں اُن چوٹیوں پہ لے چلوں

 

جہاں وقت رُک جاتا ہے

بلا کی سردی سے

شدتِ تنہائی سے

لیکن رکتی نہیں دل کی دھڑکن

شدتِ گرمیِ وفا سے

اعضائِ انسانی جل جاتے ہیں

بلا کی سردی سے

لیکن بیدار رہتی ہیں آنکھیں

تیرے اور میرے گداز بستر پر

چین کی نیند سونے کے لئے

یا پھر کسی دہشت گرد کی تاک میں

نکلا تھا اپنے کیمپ سے وہ

ہتھیلی پر جان رکھ کر وہ

سر پر کفن باندھ کے

شہیدوں میں اب کھڑا ہے وہ

تاکہ رواں رہے یہ زندگی

میرے اور تیرے شہر میں

وفا کے محاذ پر

سلام فنگ سے بے خبر

لیفٹیننٹ کرنل عبدالقدوس قریشی  (ر) تمغۂ امتیاز ملٹری

ایک فوجی کو اپنی قوم کی خدمت اور شہید یا غازی بننے کے موقعے کے علاوہ ایک ہمہ جہت اور بھرپور زندگی گزارنے کو ملتی ہے۔ شاید یہی وجہ ہے کہ فوجیوں کی زندگی دلچسپ واقعات سے بھری ہوتی ہے۔ فوجی افسر ہو یا جوان، سب کی سوانح میں ایک انتہائی اہم عنصر فوجی جذبۂ یگانگت ہوتا ہے جو ان کی پیشہ ورانہ زندگی سے شروع ہو کر ذاتی زندگی اور پھر ان کے خاندان تک پر گہرا اثر چھوڑتا ہے۔میںنے فوجی جذبہِ اخوت کا پہلا سبق بطور سیکنڈ لیفٹیننٹ یعنی اپنی پیشہ ورانہ زندگی کے آغاز ہی میںاپنی پلٹن کے درزی ٹھیکیدار سے سیکھا تھا۔ جی ہاں! وہ میری'' ڈیڑھ سو سالہ پلٹن'' کے ساتھ تین جنگیں لڑنے والے سپوت محمدنواب خان تھے۔

 

میں وہ دن کبھی فراموش نہیں کرسکوں گا جب میں یونٹ سے شناسائی حاصل کرتے ہوئے درزی کی دکان میں داخل ہوا۔ سلام دُعا کے بعد میں نے روایتی گفتگو شروع کرتے ہوئے روایتی سوال کیا۔

''آپ کتنے عرصے سے چٹک پچ وَنجا کی پلٹن سے وابستہ ہیں؟''

 

جواب ملا:  ''65 برس سے'' میںنے سوچا لگتا ہے بابا جی اونچا سنتے ہیں اور دوبارہ گویا ہوا ''بزرگو! میںنے آپ کی عمر نہیں پوچھی،، باباجی دھیرے سے مسکرائے اور کمال شگفتگی سے بولے: ''بیٹا ! میں نے اپنی عمر نہیں بتائی بلکہ اس پلٹن سے اپنا تعلق بتایا ہے۔ میری عمر تو 85 برس ہونے کو آئی ہے۔''

نواب صاحب نے 1932 میں چٹک پچ وَنجا میں شمولیت اختیار کی تھی۔ اعلیٰ پائے کی اہلیت اور فٹ بال کے کھلاڑی ہونے کی وجہ سے وہ شروع ہی سے نمایاں تھے۔ 1935 میں لندن میں منعقدہ دولتِ مشترکہ کھیلوں میں متحدہ ہندوستان کی نمائندگی کرنے اور1600 میٹر ریس میں چاندی کا تمغہ حاصل کرنے کے بعد ان کی پذیرائی مزید بڑھ گئی۔

 

دوسری جنگِ عظیم کے دوان شروع میں شمالی افریقہ اور پھر برما کے محاذ پر کٹھن جنگی حالات کا سامنا کیا اور بے تحاشہ صعوبتیں برداشت کیں۔ لیکن نواب صاحب  اگست1947کا وہ منظر نہیں بھلا پائے جب پوری پلٹن کو تربیتی میدان میں جمع کیا گیا اورایڈجوٹنٹ کیپٹن (بعد میں لیفٹیننٹ جنرل) آغا علی ابراہیم اکرم نے خطاب کیا اور پاکستان بننے کی نوید سنائی۔ چنانچہ پلٹن کے ہندو اور سکھ سپاہی مستقل طور پر ہندوستان کی یونٹوں میں ٹرانسفر ہوگئے۔ البتہ یہ اور بات تھی کہ اگلے ہی سال کشمیر کے محاذ پر اُنہی میں سے کچھ لوگ دشمن کی فوج کی طرف سے لڑتے ہوئے پائے گئے۔نواب صاحب نے1948کے علاوہ1965 کی لڑائی میں بھی حصہ لیا۔

 

34 برس کی طویل المدت ملازمت کے دوران انہیں اپنی یونٹ سے ایسا اُنس پیدا ہوا کہ ریٹائرمنٹ کے بعد اپنے گھر میں جی نہ لگا۔بہانے بہانے سے یونٹ واپس آتے اور پرانے ساتھیوں کے ساتھ وقت گزارتے۔ اسی دوران یونٹ میں درزی کی ضرورت محسوس ہونے پر انہوںنے بطورِ درزی اپنی خدمات یونٹ کو پیش کرنے کا فیصلہ کیا۔ چنانچہ آنے والے سالوں میں انہوںنے یونٹ کے ساتھ اپنا رابطہ قائم رکھا۔ بس اب فرق صرف اتنا تھا کہ وہ فوج کی قانونی پابندیوں سے آزاد تھے۔ چونکہ وہ یونٹ کو ہی اپنا گھر سمجھتے تھے اس لئے انہوں نے اپنے آپ کو کبھی یونٹ سے علیحدہ نہ سمجھا۔

 

اس دوران ان کے بچوںنے چھائونی کے سکولوں میں ہی تعلیم حاصل کی۔ بچوں کی عمر کے مطابق لڑکیوں کی شادیاں اور لڑکوں کی ملازمت اور روزگار طے ہوتے چلے گئے۔ لیکن ان کی زندگی میں سب سے بڑا خلا ان کی بیوی کے فوت ہونے پر آیا۔ خوشی اور غم کی ساتھی کے بچھڑنے کے بعد تو ان کا دل کہیں بھی نہ لگتا تھا۔ یونٹ میں روزمرہ کا معمول ہو یا چھٹی پر گائوں جانا ہو، زندگی کے رنگ ہی ختم ہوگئے۔

 

2009 میں جب یونٹ آپریشن راہِ نجات کے لئے قبائلی علاقہ جات کو روانہ ہوئی تو نواب صاحب یونٹ سے بچھڑنے کے غم میں علیل ہوگئے۔ آخر کار اپنے بچوں ، پوتوںاور نواسوں کے اصرار پر اپنے گائوں چلے گئے لیکن اس کے باوجود انہوںنے یونٹ سے اپنا رابطہ ہمیشہ قائم رکھا۔ بالآخر جولائی2016 میں 107 سال کی عمر میں خالقِ حقیقی سے جاملے۔ بظاہر چٹک پچ وَنجا سے ان کا 86 برس پر محیط رشتہ ختم ہوگیا لیکن پاک فوج میںجذبہِ اخوت کی ایسی مثال قائم کرگئے کہ آئندہ آنے والی نسلوں کے لئے زندہ رہے گی۔

 

پاک فوج کے اَن گنت افسروں اورجوانوں کی زندگیاں اور قربانیاں اپنے اپنے انداز میں اپنی قوم کو خراجِ عقیدت پیش کرتی نظر آتی ہیں۔ اسی لئے توکہتے ہیں کہ فوج میں شمولیت محض ایک پیشے سے منسلک ہونا نہیں بلکہ ایک مکمل طرزِ زندگی میں ڈھل جانا ہے۔

Comments



Note: No comments!



Leave a Reply

Success/Error Message Goes Here
Note: Please login your account and then leave comment!
TOP