عسکری تربیت اور فلسفہ اخلاق

یہ اس زمانے کی بات ہے جب میں 2016میں طبی و حیاتیاتی اخلاقیات کی تعلیم حاصل کر رہا تھا کہ ایک تحقیق کے دوران انکشاف ہوا کہ افلاطون کا مشہور مقالمہ'' کریٹو'' (Crito)امریکہ کی ویسٹ پوائنٹ میں قائم ملٹری اکیڈمی کے نصاب کا باقاعدہ حصہ ہے۔اگرچہ اس وقت میرا مطمع نظر تو طبی و حیاتیاتی میدان میں کام کرنے والے تمام افراد خصوصاً اطباء کے مجموعی کام میں اخلاقی اصولوں کا جائزہ لینا تھالیکن یہ ایک حیرت انگیز بات تھی۔ کیونکہ فلسفہ اور عسکری شعبے بظاہر ایک دوسرے سے جدا معلوم ہوتے ہیں۔ سوال یہ تھا کہ کیا جنگ کے اصول اور مسابقہ کے عوامل اس کی مدد سے بہتر سمجھتے جا سکتے ہیں؟ اور کیا ایک سپاہی کو عین محاذ پر درپیش لڑائی میں فوراً فیصلہ کرتے وقت ان چیزوں کی سمجھ کسی طور کوئی مدد فراہم کر سکتی ہے؟ یہ وہ تمام سوالات ہیں جو اس بات کے علم میں آنے کے بعد فوری طور پر ذہن کے اُفق پر نمودار ہو کر تشفی چاہتے ہیں۔

 

دنیا میں بسنے والا ہر انسان ایک اخلاقی وجود رکھتا ہے۔ جس کی تخلیق انسانی پیدائش کے ساتھ ہی ہو جاتی ہے۔ یہ اخلاقی وجود زندگی کے مراحل کے ساتھ ساتھ اپنے جذبات طے کرتا ہے۔ بلکہ اگر آپ بغور جائزہ لیں تو معلوم ہو گا کہ کائنات کی ساخت اپنے بنیادی ڈھانچے میں ہی اخلاقی ہے۔ اب چونکہ یہ ایک مابعد طبیعاتی تصور زندگی ہے اس لئے اس رخ پر نظر نہیں جاتی اور کائنات کا سائنسی تصور (طبیعاتی و حیاتیاتی)جو کہ حسی ہے بالعموم بآسانی سمجھ میں آ جاتا ہے۔ یہی وہ مشکل ہے جس کی وجہ سے ہماری عمومی زندگی اور خاص طور پرعسکری زندگی اس تصور حیات سے دوری پر واقع ہے اور جزو کو کل مان لیا جاتا ہے۔ لیکن درحقیقت کائنات کی اخلاقی ساخت کا قریب سے جائزہ لئے بغیر اور کائنات کے اس پہلو کو مکمل طور پر سمجھے اور عمل میں لائے بنا ہمارا تصور انسان اور تصورِ حیات نامکمل رہتے ہیں۔ اگرچہ عسکری زندگی میں باقاعدہ علمی اور عملی سطح پر پر اخلاقیات کی اس طرز کی تعلیم کا تصور ایک اچھوتا زاویہ محسوس ہوتا ہے لیکن امر واقعہ یہ ہے کہ ایسا نہیں ہے۔ آیئے اس کا تفصیلی جائزہ لیتے ہیں۔

 

اگر ہم اخلاقی فلسفے کے وجود سے صرف افلاطون کے اسی مکالمے ''کریٹو''کا ہی جائزہ لیں تو معلوم ہو گا کہ یہ مکالمہ افلاطون کے استاد سقراط اور اس کے ایک بہت قریبی اور امیر دوست کریٹو کے مابین ہے۔ یہ سارا مکالمہ سقراط کی جیل کی کال کوٹھری میں ہوتا ہے جہاں سقراط پھانسی کی سزا کے انتظار میں ہے۔ کریٹو رات کے آخری پہر سقراط سے ملتا ہے اور سقراط کو زندان سے بھاگنے کے لئے قائل کرنے کی ہر صور ت کوشش کر رہا ہے۔ جیل سے فرار کا تمام بندوبست کریٹو پہلے سے کر چکا ہے۔ یہ مقالہ اس وقت ہونے والی بات چیت پر مشتمل ہے۔ سقراط اور کریٹو کا یہ دلچسپ مکالمہ انصاف اور ناانصافی کے تصورات کا تفصیلی احاطہ کرتا ہے۔ جس میں اجمالاً سقراط کا مؤقف یہ ہے کہ اگر کریٹو اسے قائل کرنے میں کامیاب ہو جاتا ہے کہ اس کا یہ عمل انصاف کے اصولوں کے معیار پر پورا اترتا ہے تو وہ جیل سے فرار کی راہ اختیار کرے گا اور اگر معاملہ اس کے برعکس ہوا تو وہ جیل نہیں چھوڑے گا اور اطمینان سے پھانسی کا انتظار کر کے اسے گلے لگا لے گا۔ بالآخر طویل دلائل کے بعد بھی سقراط کریٹو کی منطق کا قائل نہیں ہوتا اور جیل نہیں چھوڑتا۔ تقریباًدس صفحات پر مشتمل یہ انتہائی دلچسپ تحریر ہے۔ اس میں سقراط کا بنیادی نکتہ یہ ہے کہ انسان کو کسی بھی حالت میں غلط کام نہیں کرنا چاہئے کیونکہ غلط کام ہرحالت میں غلط ہی ہوتا ہے۔

 

افلاطون کا ایک اور دلچسپ اور مشہور مکالمہ 'ریپبلک' ہے۔ جس میں شجاعت و جوان مردی کے طویل مکالمات ہیں اور اجمالاً یہ مکالمہ بتاتا ہے کہ کیسے اور کیوں انسان کو صحیح کام کرنا چاہئے۔ ایک سپاہی کی راست بازی اور اخلاقی معیار عام شہری سے بلند ہونا چاہئے۔ اس مقالہ کی روح سے عسکری اخلاقیات، عدل اور احترام آدمیت کی بنیادوں پر کھڑی ہے۔ ریپبلک میں ہی افلاطون کی مشہور 'غار کی تمثیل' کا بیان ہے جوکہ اس دنیا میں علم وجہالت ،سچ اور جھوٹ اور ان چیزوں کی اصل کے بارے میں انسانی بساطِ فہم کے درجات کو بہت اچھی طرح سمجھاتی ہے۔ سمپوزیم، پتھپیرو، اپولوجی اور فیڈو افلاطون کے دوسرے اہم مکالمات ہیں۔

 

اب اگر افواجِ عالم پر ایک سرسری نظر ڈالی جائے تو معلوم ہو گا کہ افواج میں انسانوں کا اجتماع معاشرے کے مختلف طبقات سے ہوتاہے۔ جس میں ہر فرد اپنا منفرد اخلاقی وجود ساتھ لاتا ہے۔ اس بنا پر یہ لازم ٹھہرتا ہے کہ عسکری خدمت کے لئے ایک معیاری، جامع اور بھرپور تصورِ اخلاق ایک سپاہی کے پیش نظر ہو۔ مثلاً یہ کہ حقیقی تصور انسان کیا ہے؟ علم کی اہمیت اور اعلیٰ وجود علم کی پہچان کیسے ہو سکتی ہے؟ جنگی حکمت عملی میں بہتر فیصلہ سازی کے عوامل اخلاقی سطح پر کیا ہوں گے؟ اور سب سے بڑھ کر یہ کہ حقیقی تصورِ حرب و محاذ کو اخلاقی آئینے میں دیکھ پانے کی صلاحیت وغیرہ وغیرہ۔

 

افلاطون کے یہ بیانیے اگرچہ قدیم یونانی دور کے ہیں لیکن میرے نزدیک دورِجدید کے عسکری شعبے بھی اس سے خوب فائدہ اٹھا سکتے ہیں۔ شاید ویسٹ پوائنٹ کی ملٹری اکیڈمی بھی ان مقالمات کے انہی پہلوئوں سے فائدہ اٹھانے کی کوشش میں ہے اور اسی لئے اس کو نصاب کا حصہ بنایا ہے۔ امریکہ میں نہ صرف یہ بلکہ فلسفے کے دوسرے بنیادی تصورات بھی عسکری تربیت کا حصہ ہیں جس سے اس بات کو تقویت ملتی ہے کہ یہ کس قدر ضروری مضمون ہے جو کہ سوچ کے زاویے اور کسی معاملہ کے تمام تر پہلوئوں کا احاطہ کرنے کی صلاحیت پیدا کر سکتا ہے۔ افراد کا ان موضوعات سے تربیت کے ابتدائی عرصے میں روشناس ہو جانا، میرے خیال میں ایک سپاہی کو توازن کے ساتھ سوچنے کے عوامل فراہم کرتا ہے۔ ذہن اور بیانیے میں وسعت پیدا کرتا ہے۔ اخلاقیات کے دقیانوسی تصورات کو اچھے اور اعلیٰ تصورات سے بدلتا ہے۔ معاملات کے پس منظر کی وضاحت کرتا ہے۔ اس کا انداز کیوں کہ تبلیغی اور مذہبی نہیں ہوتا اس لئے سوچ کے بے حد اہم زاویے کھولتا ہے۔  جیسا کہ طاقت کا درست اندازہ اور اس کے سائیڈ ایفیکٹس کی پہچان' خطرے کی صحیح پہچان اور روک تھام اور تہذیبِ نفس کے اخلاقی پہلو وغیرہ وغیرہ۔

 

جیسا کہ میں نے پہلے عرض کیا ہے کائنات اپنی ساخت اور اپنے سٹرکچر کے انتہائی بنیادی درجے میں اخلاقی ہے۔ اس لئے اس پہلو کو نظر میں رکھے بنا کائنات کا وجود اور افعال غیریقینی اور خطرناک رخ اختیار کر سکتے ہیں ۔اس کائنات کے احاطے میں جہاں بھی دو سے زائد افراد ملتے ہیں وہاں اخلاقیات کا دائرہ خود بخود کھنچ جاتا ہے۔ جس کو بدقسمتی سے اکثر نظر انداز کیا جاتا ہے اور قانون کے فزیکل وجود کو اس کا نعم البدل سمجھ لیا جاتا ہے۔ جس کے نتیجے میں ہم اپنی ذات، اپنے گھر، اپنے ماحول اور ادارے کے خدوخال کا توازن بدل دیتے ہیں۔ دورِ جدید میں اگرچہ قانون کی لکیر، وضاحت اور انصاف پسندی کے تصور و ضرورت کے تحت کھنچتی ہے لیکن حقیقت یہی ہے کہ قانون کی ظہور پذیری اصل میں اخلاقیات کے فقدان کا نتیجہ ہوتی ہے۔ جب ادارہ جاتی سطح پر تصورِ اخلاق کی تعلیم کو اہمیت دی جائے گی اور تربیت کے تمام اداروں کے نصاب کا جزو بنایا جائے گا تو یقینا اعلیٰ انسان و ادارے کی تخلیق میں کلیدی مدد ملے گی۔ اور درجہ بدرجہ قانون اپنے ضروری دائرے میں محدود ہوتا جائے گا۔ زندگی کو انسانوں اور اداروں میں بھرپور پھلنے پھولنے کا موقع ملے گا۔

 

عسکری زندگی کا ایک اور اہم پہلو یہ ہے کہ فرد میں مورل انجری (Moral injury) یعنی ذاتی اقدار کے زخم کو پیدا نہ ہونے دیاجائے اور اگر ایسا ممکن نہ ہو تو اس کی بیخ کنی کے عوامل پیدا کئے جائیں۔ مورل انجری کا یہ نظریہ موجودہ دنیا میں ماہرینِ نفسیات اور فلسفہ میں دوبارہ پروان چڑھا ہے جو کہ ایک پیشہ ورانہ سپاہی کی صورت حال کو بہت اچھی طرح واضح کرتا ہے۔ کسی بھی عمل کا سب سے زیادہ اثر اس کے عامل پر ہوتا ہے۔ خاص طور پر اگر وہ عمل اخلاقی پہلو بھی رکھتا ہو۔ اخلاقی پہلو کیونکہ اچھے اور برے سے جڑا ہوتا ہے تو اس کا اثر رُوح تک جاتا ہے۔ اقدار کے مجروح ہونے اور زخم کھانے کا عمل لاشعور میں پلتا چلا جاتا ہے اور اس کو وہ فرد تمام زندگی لے کر چلتا ہے۔ نتیجہ یہ کہ اپنی ذات کے علاوہ گردوپیش کو بھی متاثر کرتا ہے۔ عسکری تربیت میں اخلاقی تصور کی تعلیم اس خطرے کو بھانپنے، اندازہ لگانے اور کنٹرول کرنے میں اہم کردار ادا کر سکتی ہے۔

 

جنگی حکمتِ عملی میں بین الاقوامی اصول و ضوابط ، جنیوا انسانی حقوق کا معاہدہ، جنگوں اور قیدیوں کے ساتھ سلوک اور مذہب کی طرف سے دیئے گئے مزاحمت و جنگ کے اصولوں کا احاطہ باقی علوم عسکری کے ساتھ ساتھ ایک مکمل تر اور اعلیٰ سپاہی کے وجود کا سبب ہوں گے۔ مزید یہ کہ جدید دنیا میں خود کار اسلحہ بہت تیزی سے بڑھ رہا ہے۔ اس لئے اسلحہ ساز کے اپنے اخلاقی اصول ہی خود کار ہتھیار کے الگوریتھم (Algorithem) کا حصہ ہوں گے۔ اسی طرح غیرروائتی جنگیں آج کی ایک حقیقت ہیں اور ان میں افواج کی بنیادی قیادت اور افراد کے فوری فیصلوں کی نہ صرف ضرورت ہوتی ہے بلکہ وہ پانسہ پلٹنے کی صلاحیت بھی رکھتے ہیں۔ غیر روائتی جنگوں کی ٹیکنیکل تربیت کے ساتھ ساتھ اخلاقیات کے بنیادی تصورات سے آراستہ سپاہی حقیقی معنوں میں بہتر اور مکمل فیصلہ کرنے کے حامل ہوں گے۔


fayyazdr@hotmail.com

Comments



Note: No comments!



Leave a Reply

Success/Error Message Goes Here
Note: Please login your account and then leave comment!
TOP