شعر اور زندگی

آرٹ اور شاعری کی اجتماعی تعریف و تنقید کرنے کی کوشش میںذہنی و فکری تصورات اس طرح غالب آ جاتے ہیں کہ انفرادی جذبے اور تخیل کی کارفرمائی نظراندازسی ہو جاتی ہے۔ مثلاً غالب کے کلام کو اگر اس نقطۂ نظر سے سمجھنے کی کوشش کی جائے کہ وہ مغلیہ سلطنت کے زوال آمادہ جاگیری نظام سے وابستہ تھے تو یہ خیال یک طرفہ ہے۔ غالب کی شخصیت اور اُن کی شانِ امارت طبقاتی زندگی کا حصہ سہی مگر جونہی میر صاحب کی انانیت پر نگاہ ڈالی جائے تو وہ اسدﷲ غالب سے کہیں زیادہ دکھائی دیتی ہے حالانکہ حضرت میر ایک متوسط طبقے کے فرد تھے۔ اس طرح کی سائنسی اور مشینی وجوہات زندگی کی پیچیدگیوں کو واضح کرنے میں ناکام سی رہتی ہے اور پھر ان وجوہات کی بناء پر کسی صحیح اور مستند نتیجے تک پہنچنا ممکن نہیں۔ بلاشبہ جذبہ و تخیل پر خارجی (بیرونی) حالات کا اثر ہوتا ہے اور اگر کسی شاعر کے گردوپیش کے حالات کا علم ہو تو اس کے کلام کو سمجھنے کی ایک حد تک مدد بھی ملے گی اور تبدیلی حالات شاعر کے تجربوں پر اثر انداز ہوتا ہے۔ قحط سالی کے زمانے میں عشق و عاشقی کے مشغلے میں اگر کمی آ جائے تو اس پر تعجب نہیں ہونا چاہئے کہ یار لوگ عشق کو فراموش کر دیں۔ لیکن قحط کے کم ہوتے ہی دبی ہوئی خواہشوںکے چشمے ابل پڑیں  گے اور ان کی شدت معمول سے بھی زیادہ ہوگی اور غالب کا تو یہ خیال تھا کہ جذبہ بیرونی احوال کے آگے سر نہیں جھکاتا۔ اس کے اسباب خود اس میں پوشیدہ ہوتے ہیں۔ بقول علامہ اقبال

 

زندگانی کی حقیقت کو ہکن کے دل سے پوچھ

فارسی اور اردو شاعری میں فرہاد ایک علامتی کردار ہے جو پیٹ کے لئے نہیں عشق کے لئے مزدوری کرتا ہے۔ جس سے معاشیات کا پہلو عملی زندگی میں معطل دکھائی دیتا ہے۔ یہ سب کچھ غالب کے لئے غیرمناسب ہے۔ مندرجہ ذیل شعر میں غالب نے فرہاد کی مزدوری پر ایک چوٹ رسید کرتے ہوئے یہ بتایا ہے کہ غالب کا عشق فرہاد کے عشق کی نسبت بے لوث ہے۔

 

عشق و مزدوری عشرت گہ خسرو کیا خوب

ہم کو تسلیم نکو نامٔ مزدور نہیں غالب

 

غور کیا جائے تو غالب اور سعدی کے خیالات میں بھی تضاد نہیں دونوں اپنی جگہ پر اصلیت اور صداقت کے ساتھ موجود ہیں۔ بڑا مفکر یا حساس فن کار اپنے تجربے کی صداقت سے زندگی کے خاص رحجان کو روشن کرتا ہے جو ایک اضافی حیثیت رکھتی ہے۔ جب یہی صداقت کسی سطحی عالم کے کان تک پہنچتی ہے تو وہ اسے مستقل نظریہ بنانے اور قانون فطرت کی طرح اٹل قرار دینے پر بضد رہتا ہے۔

 

گزشتہ کئی سالوں سے اردو شاعری میں سیاسی اثر کے تحت ایک خاص قسم کی حقیقت نگاری نے راہ پائی ہے۔ عشق بتاں کے ساتھ فکر معاش بھی زندگی کا بنیادی مسئلہ ہے۔ غم عشق اور غم روزگار دونوں اپنی اپنی جگہ اہم ہیں۔ شعر زندگی کی آئینہ داری اسی وقت کر سکتا ہے جب کہ اس میں تمدنی زندگی کے تمام پہلو سمونے کی صلاحیت ہو، پھر یہ بھی ممکن ہے کہ غزل کے مقابلے میں نظم میں معاشی نوعیت کے مضمون زیادہ روانی اور خوبی سے ادا ہو سکیں۔ لیکن غزل میں بھی ان کی نسبت اشارے آ جائیں تو کوئی قباحت نہیں لیکن خیال رہے کہ شعریت مجروح نہ ہو۔ شعریت برقرار رہنے سے کام بلند پایہ رہے گا۔ شاعری میں نہ تو کوئی لفظ حقیر ہے نہ ہی موضوع جسے شاعر برت نہ سکے۔ زبان کی توسیع اور ترقی غزل کی نسبت نظم کو زیادہ کارفرما اور اثر پذیر کر سکتی ہے۔

 

بعض اوقات زندگی کو سمجھنے کے لئے غیرعقلی اور جبلتی رحجانات کا کھوج لگانا ضروری ہوتا ہے۔ جو کسی خاص زمانے میں اجتماعی یا انفرادی زندگی کا محرک ہوتے ہیں۔ خارجی احوال کے علاوہ فن کار کی روحانی آزادی کو بھی ماننا ضروری ہے۔ اعلیٰ درجے کی آرٹ کی تخلیق کسی لگے بندھے خیال یا اجتماعی پروگرام کے تحت عمل میں نہیں آتی۔ جن قوموں میں تعلیم کا معیار نسبتاً بہتر ہے اُن معاشروں میں بھی فن کار اپنے آرٹ کو عوام کی ذہنی اور جذباتی سطح پر نہیں لاتا بلکہ عوام کو اپنے بلند معیار تک لے جانے کی کوشش کرتا ہے۔ دنیابھر کے بڑے فنکار یا شاعروں نے اپنا رشتہ عوام سے رکھتے ہوئے بھی اپنے معیار کو اُن کی ذہنی سطح سے بلند رکھا ہے۔ دانتے، شکسپیئر، گوئٹے اور غالب اپنے اپنے ماحول سے تعلق رکھتے ہوئے بھی اس سے ہر طرح بلند ہیں اور گردوپیش کے اثر کے باوجود اُن کے کلام میں عالمگیریت ہے۔ جس طرح سیاست و معیشت میں بنیادی سوال یہ ہے کہ فرد کا سوسائٹی سے کیا تعلق ہے، اسی طرح آرٹ کا بھی بنیادی مسئلہ یہی ہے۔ جدید تہذیب میں بھی فن کار سے توقع کی جاتی ہے کہ وہ گھوم پھر کے بنے بنائے سانچوں کے مطابق تخلیق کرے تاکہ پہلے سے مقرر کی ہوئی سماجی ضروریات کی تکمیل ہو سکے۔ یہ سانچے فرسودہ معاشرتی قدروں پر مبنی ہوتے ہیں جن سے فنکار چھٹکارا حاصل نہیں کر سکتا۔ وہ معاشیات کی رسد و طلب کے قانون کی پابندی اپنے فکر و فن میں کرنے پر بھی مجبور ہوتا ہے۔ سرمایہ داری کی دنیا میں کام کی نوعیت ایسی ہے کہ وہ انسان کی روح سے کوئی تعلق نہیں رکھتی۔ اسی لئے آج کا انسان اپنے کام میں کوئی تخلیقی لطف اور جوش محسوس نہیں کرتا اس سے انسان کی روح کی پیاس نہیں بجھتی اور یہی وجہ فرار کی صورت اور بہانے ڈھونڈتی ہے۔ جدید تہذیب کی مشقت انسانی صلاحیتوں پر ظلم ہے جو نت نئے انقلاب کا روپ دھار لیتی ہے۔ ادب کو یقینا سماج سے بے تعلق نہیں ہونا چاہئے لیکن اگر سماج میں فن کار کو پوری آزادی میسر نہیں تو وہ جمالیاتی قدروں کی تخلیق نہیں کر سکتا۔ فن کار کا انتہائی نظریہ موسیقی تھا جو اب دوسرا نظریہ صحافت بن گیا ہے۔ جدید فن کاری کو ان دونوں انتہائوں کے درمیان سے راہ نکالنی پڑے گی تاکہ انسانی قدروں کو فروغ دیا جا سکے۔ مذہب کے دامن میں اس نے ابتدائی نشوونما پائی عقل اور شائشتگی نے اس کے جوبن کو نکھارا اور عشق نے اسے مستی اور سپردگی کا مواد فراہم کیا اور اب پراپیگنڈہ سے اس کی جان پر بن آئی ہے جس سے اس کو بچانا ضروری ہے۔ جدید تمدن کا اوچھا پن  شاعر اور ادیب کو بھی متاثر کر رہا ہے۔ ان کے خارجی ہیجانات میں افیون کی سی خاصیت ہے۔ جس کے سبب ذہن اور شعور مائوف ہو رہے ہیں جدید انسان تمدن کے خالق کی حیثیت سے خود اپنے آپ سے فرار چاہتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ مغربی ادب میں کلاسیکی ہیومن ازم سے لے کر امیجنسٹ، سمبولسٹ اور سول ریئلیسٹ فن کار کوئی بھی مکمل فلسفہ حیات نہیں پیش کر سکے اور یہ خلا روز بروز بڑھتا چلا جا رہا ہے۔ لیکن ان کی داستانوں میں بعض ایسی صداقتیں موجود ہیں جن سے ہمارا ادب بھی فائدہ اٹھا سکتا ہے۔ بشرطیکہ ذوق کی رہنمائی شامل رہے۔ ان تحریکوں کا انتخاب ضروری ہے۔ پیروی نہیں۔ سائنسدان اور شاعر دونوں ہی اسی مسئلے اور سوال کے جواب کی دشواری میں گھرے ہوئے ہیں کہ بھوک  زیادہ اہم ہے یا روٹی۔۔۔ محبوب کی خواہش اہم ہے یا محبوب خود؟ بہرحال غزل ہو، نظم، قصیدہ ہو یا نوحہ، بیت ہو یا قطعہ تمام میں حکیمانہ نکات شامل کئے جا سکتے ہیں۔ زندگی کی مسرت اور فراوانی، بصیرت کی روشنی، انسانی قدروں کی ہم آہنگی اور ربط، زندگی کے لامحدود امکانات کا ذکر، خواہشوں کا رنگ آرزوئوں کی صورت گری، حسن آفرینی، قدر آفرینی، فکری تخیل و جدانی چاشنی شاعری کے جزو ہیں۔ شاعری اور شعر کی خوبی کا معیار اسلوب اور  موضوع نہیں بلکہ شعریت ہے جو کہ دونوں سے اہم اور بالاتر ہے۔ اور شعریت تخیلی فکر اور جذبے کی آمیزش کے بغیر پیدا نہیں ہو سکتی۔ یہ دونوں جزو حسن ادا کو جلوہ گری بخشتے ہیں جو ادب کی بنیادی قدر ہے۔

 

کھلتا کسی پہ کیوں میرے دل کا معاملہ

شعروں کے انتخاب نے رسوا کیا مجھے!


[email protected]

 

Comments



Note: No comments!



Leave a Reply

Success/Error Message Goes Here
Note: Please login your account and then leave comment!
TOP