سینہ داری اگر در خورد تیر

لیفٹیننٹ کرنل عامر واحد شہید کے حوالے سے کرنل نعمان صدیق کی تحریر

انسانی تاریخ گونا گوں مناظر کا ایک عجیب مجموعہ ہے۔ کچھ مناظر تلخ جبکہ کچھ خوش گوار اور پر امید ہوتے ہیں۔ لیکن کچھ مناظر ان دونوں اقسام سے بہت مختلف ہوتے ہیں کیونکہ یہ دیکھنے والوں کے اعصاب کو کچھ اس طرح سے متاثر کرتے ہیں کہ انہیں کوئی  نام دینا مشکل ہو جاتا ہے۔

 

وہ بھی کچھ ایسا ہی منظر تھا۔ ستمبر کی ایک دھندلکی صبح، جب سورج ابھی جنوبی بلوچستان کے صحراؤں کو اپنی سنہری روشنی سے روشناس کرنے کی تیاری کر ہی رہا تھا، پنجگور کے ویران ائیر پورٹ پر ایک فوجی جہاز اڑنے کے لئے پر تول رہا تھا۔ عام دنوں کے برعکس، اس صبح جہاز کے عملے کے چہروں پر عزم و حوصلے کی روشنی کے ساتھ ساتھ، ایک بے نام اداسی ڈیرے ڈالے ہوئے تھی۔ فوجی زندگی کے کچھ مشن ایسے ہی ہوتے ہیں جب وردی میں ملبوس کندھے، دشمن کے خلاف ہتھیار اٹھانے کے لئے نہیں بلکہ دوستوں اور بھائیوں کے جنازوں کا بوجھ  اٹھانے کے لئے استعمال ہوتے ہیں۔

 

کچھ لمحوں کے انتظار کے بعد ایف سی کی گاڑیوں کا ایک مختصر سا قافلہ ائیر پورٹ کی حدود میں داخل ہوا اور رینگتا ہوا جہاز کے پاس آکر رک گیا۔ ایک گاڑی سے باوردی جوانوں نے بڑے احترام اور احتیاط سے، سبز ہلالی پرچم میں لپٹا ہوا ایک تابوت اتارا۔ تھوڑی دیر کے بعد، دوسری گاڑی سے سادہ کپڑوں میں ملبوس ایک خاتون نے باہر قدم رکھا۔ خاتون کی گود میں چند ماہ کی ایک بچی تھی اور ایک چھوٹے سے بچے نے ماں کی انگلی تھام رکھی تھی۔ تابوت سے زیادہ بچے کی توجہ جہاز پر مرکوز تھی۔ وہ اس بات سے مکمل طور پر بے خبر تھا کے تابوت میں ایک شہید کی میّت نہیں بلکہ اس کی زندگی اور مستقبل کا نگہبان بند تھا۔

 

جوانوں نے تابوت کو جہاز میں لوڈ کیا اور ایک طرف قطار بنا کر کھڑے ہوگئے۔ لیفٹیننٹ کرنل عامر کی اہلیہ نے جہاز میں سوار ہونے سے پہلے مڑ کر آخری دفعہ پنجگور کے نیم صحرائی میدانوں اور سیاہ چٹانوں پر ایک نظر ڈالی۔ کچھ ماہ قبل جب انہوں نے پنجگور کی زمین پر پہلی دفعہ قدم رکھا تھا تو لق ودق صحرائی علاقے کو دیکھ کر پریشان ضرور ہوئی تھیں مگر پھر جب ان کے میاں نے محبت سے ان کا ہاتھ تھاما تھا تو تمام پریشانی غائب ہوگئی تھی۔ ہمسفر تو اب بھی ساتھ تھا مگر اب کی بار اس کے ہاتھوں کی گرمی کی جگہ صرف موت کا سرد لمس تھا۔

 

''امی! چلیں نا۔ ہم کب اڑیں گے؟'' بچے نے ماں کی انگلی کھینچی۔

''بس چلتے ہیں بیٹا' 'ماں نے ایک افسردہ نظر اپنے یتیم بیٹے پر ڈالی۔

 

''امی ابو بھی ہمارے ساتھ جائیں گے؟ وہ کہاں ہیں؟ اب تک آئے کیوں نہیں؟ ''بچے نے مچل کر پوچھا۔

بچے کے ان الفاظ پر ماں اپنے آپ پر قابو نہ رکھ سکی اور نہ چاہتے ہوئے بھی اس کی آنکھوں سے آنسو جاری ہوگئے۔ اس سے پہلے کہ الوداع کہنے کے لئے آئے لوگوں کی نظر اس کے آنسوؤں پر پڑتی، اس نے سر جھکایا اور بچے کا ہاتھ تھامے تھکے تھکے قدموں کے ساتھ جہاز میں سوار ہوگئی۔

 

جہاز کا وہ سفر کیسے گزرا ہوگا؟ بچے نے ماں سے جب تابوت کے بارے میں سوال کیا ہوگا تو اس بہادر اور صابر عورت نے کیا جواب دیا ہوگا؟ ماں کے گرم آنسو جب گود میں پڑی بچی کے چہرے پر گرے ہوںگے تو کیا وہ معصوم گھبرا کر جاگ گئی ہوگی؟ یہ سب وہ سوالات ہیں کہ جن کا احاطہ کرنے سے میرا تخیّل معذور ہے۔

 

بحیثیت کمانڈنٹ پنجگور رائفل کے، لیفٹیننٹ کرنل عامر کے ساتھ میں تقریباً ایک سال ہی گزار سکا تھا لیکن اس مختصر عرصے میں ہی مجھے اس افسر کی شخصیت کی عظمت اور اس کی ذہنی پختگی کا اچھی طرح احساس ہوچکا تھا۔ اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ لیفٹیننٹ کرنل عامر واحد پاکستان آرمی کا ایک نہایت قیمتی اثاثہ تھے جن کی زندگی کا ایک ایک لمحہ فرض شناسی اور حب الوطنی کے جذبات سے عبارت تھا۔ ابھی انہوں نے اپنی محنت اور ماتحتوں کی  دعاؤں کی بدولت یقیناً ترقی کی بہت سی منزلیں طے کرنا تھیں مگر افسوس وقت نے وفا نہ کی۔

 

شہید لیفٹیننٹ کرنل عامر واحد 10 اکتوبر1975 کو لاہور میں پیدا ہوئے۔ ابتدائی تعلیم حاصل کرنے کے بعدپاکستان آرمی میں شمولیت اختیار کی اور 14 اپریل 1995 کو 91 پی ایم اے  لانگ کورس کے ساتھ کمیشن حاصل کیا۔ شہید نے سیالکوٹ، شنکیاری، راولپنڈی، بہاولپور، اسلام آباد، پشاور اور پنجگور کے مقامات پر اپنے فرائض سر انجام دینے کے ساتھ ساتھ اقوامِ متحدہ کے امن مشن کی طرف سے لائبیریا میں بھی ملک وقوم کا نام روشن کیا۔

 

22 اگست 2016 کو لیفٹیننٹ کرنل عامر واحد ایف سی بلوچستان میں پوسٹ ہوئے اور انہوں نے ڈسٹرکٹ پنجگور اور واشک کے خطرناک علاقوں میں دہشت گردوں کے خلاف لا تعداد آپریشن کئے۔ اپنی ذاتی خوبیوں کی بنا پر ان کے دوست احباب، سینیئراور جونیئر سب ان سے بے پناہ محبت کرتے تھے۔ وہ نہایت حوصلہ مند، ذمے دار اور بہادر افسر تھے۔ اپنے علاقے کے لوگوں سے ملتے اور ان کی ہر چھوٹی بڑی مشکل حل کرنے کی کوشش کرتے تھے جس کی وجہ سے انہوں نے جلد ہی لوگوں کے دل جیت لئے تھے۔

 

شہادت سے ایک ماہ قبل ہی اللہ نے انہیں بیٹی کی نعمت سے نوازا۔ ننھی حفصہ عامر جب ہوش سنبھالے گی تو اس کی آنکھ میں ایک ہی سوال ہوگا کہ میرے والد کہاں ہیں؟ اور اس کی معصوم زبان سے یہ الفاظ نکلیں گے کہ '' بابا جانی آپ کہاں ہو؟ مجھے اپنی گود میں لے کر لوری سناؤ۔''

 

اس میں کوئی شک نہیں کہ وطن کے وہ سپاہی جو اپنے ہم وطنوں کے دفاع کی ذمے داری کندھوں پر اٹھائے اور سینہ تانے دشمن کے سامنے ڈٹ جاتے ہیں، تاریخ ان کے نام کبھی نہیں بھولتی۔ بلکہ آنے والی نسلوں کے لہو میں ایسے ہی جذبے کو پروان چڑھانے کی خاطر، ان جانبازوں کے نام عقیدت اور فخر سے دہراتی ہے۔

 

شہید لیفٹیننٹ کرنل عامر واحد بھی پاکستان کی تاریخ کے ان کرداروں میں سے ایک ہیں جو وطن کی غیرت و ناموس کی خاطر جان قربان کرکے، اپنے آباء کی تاریخ کو ہر بار ایک نئے رنگ سے دہراتے ہیں۔ ان پُر اسرار لوگوں کی آنکھوں میں بھی سنہرے خواب مچلتے ہیں۔ ان کو بھی اپنے بچوںکے حقوق و فرائض کی فکر ستاتی ہے مگر وہ یہ بات کبھی نہیں بھولتے کہ سپاہی جب بھی یونیفارم پہنتا ہے تو اسے ہر لمحہ دنیا اوراپنی ذات کو فراموش کرکے اپنے آپ کو شہادت کے لئے تیار رکھنا پڑتا ہے۔

 

4 ستمبر 2017 کو صبح تقریباً آٹھ بج کر پینتالیس منٹ پر شہید نے نئے آنے والے کمانڈنٹ کے ساتھ اپنے جوانوں کو عید کے موقع پر ملنے اور ان کے حوصلے بلند کرنے کا پروگرام بنایا۔ اس سلسلے میں انہوں نے ایک ایسی پوسٹ پر جانے کا فیصلہ کیا جو ایک نہایت خطرناک وادی میں واقع ہے۔ شہید پہلے بھی اس علاقہ میں بے شمار آپریشن کر چکے تھے۔ جنوری 2017 میں یہاں آپریشن کرتے ہوئے ان کے چھ جوان شدید زخمی بھی ہوئے تھے۔ شہید کی بر وقت مداخلت کی وجہ سے بہت سی قیمتی جانیں بچ گئی تھیں اور دہشت گردوں کے ناپاک عزائم خاک میں مل گئے تھے۔

 

پوسٹ پر جوانوں سے ملنے کے بعد جب وہ واپس پنجگور کی طرف روانہ ہوئے تو راستے میں دہشت گرد گھات لگائے بیٹھے تھے۔ جیسے ہی لیفٹیننٹ کرنل عامر واحد کی گاڑی ان کے ہدف کے قریب پہنچی تو انہوں نے چھوٹے اور بھاری ہتھیاروں سے فائر کرنا شروع کر دیا۔ گولیوں کی سخت بوچھاڑ کی پروا نہ کرتے ہوئے انہوںنے گاڑی سے فوری طور پر نکل کر دشمن کا مقابلہ کرنے کی کوشش کی اور اسی اثناء میں دہشت گردوں کی گولیاں ان کے چہرے اور پیٹ پر لگیں اور وہ زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے موقع پر ہی جام شہادت نوش کر گئے۔ شہید کی جرأت اور شجاعت کی وجہ سے ان کو بعد از شہادت تمغہ بسالت سے نوازا گیا۔

 

یقیناً فرشتوں نے شہید کے جسم کو ذرا بھی تکلیف نہیں ہونے دی ہوگی اور اﷲ کے حکم سے ان کی روح کو پھولوں میں لپیٹ کر بارگاہ عالیہ میں پیش کیا ہوگا اور کہا ہوگا کہ : '' اے اللہ یہ تیرا وہ بندہ ہے جس نے اپنے وطن کی عزت اور ناموس پر قربان ہوکر اپنی قوم کا سر فخر سے بلند کر دیا ہے''۔ یقیناً قابل فخر ہیں وہ مائیں جو شہید بیٹوں کے تابوت چومتی ہیں؛ قابل تحسین ہیں وہ بہنیں جو اپنے شہید بھائیوں کے جسد خاکی کو اپنے آنچل کا کفن پہنا کر مسکراتی ہیں، قابل فخر ہیں وہ باپ جو اپنے شہید بیٹوں کے جنازے اٹھا اٹھا کر تھکتے نہیںاور سب سے بڑھ کر  آفرین ہے ان بیواؤں پر جو اپنی متاع حیات لٹ جانے پر بھی صبر کا دامن ہاتھ سے نہیں چھوڑتیں اور ماںاور باپ دونوں کی حیثیت سے اپنی اولاد کی پرورش میں کوئی کسر نہیں چھوڑتیں۔

 

سینہ داری اگر در خورد تیر

در جہاں شاہین بزی، شاہین بمیر

علامہ اقبال از جاوید نامہ

(اگر تیرا سینہ تیر کھانے کے قابل ہے تو دنیا میں شاہین کی طرح زندگی بسر کر اور شاہین بن کر مر)

Comments



Note: No comments!



Leave a Reply

Success/Error Message Goes Here
Note: Please login your account and then leave comment!
TOP