سہاگن مٹی

چودہ اگست انیس سو سینتالیس والے دن کٹے پھٹے جسموں کے ساتھ پاکستان کی سرزمین پر قدم رکھنے والے سب پاکستانی ہو گئے تھے ۔متعصب ہندوئوں نے جو ظلم کا بازار گرم کرناتھا کر لیا ۔ جتنی عصمت دری کرنی تھی کرلی ۔ جتنے سر قلم کرنے تھے کر لئے ، جتنی مائوں کی گودیں اجاڑنا تھی اجاڑ دیں ،بچے بچیاں اپنے والدین سے بچھڑ گئے والدین اپنی اولادوں سے محروم ہو گئے۔ عزت، جان، مال، اولاد حتٰی کہ اپنا تن من دھن سب کچھ اس پاک دھرتی کے لئے قربان کر کے اس کی مٹی کو جو پہلی بار بوسہ دیا تھا وہ بوسہ اس مٹی کو سہاگن کر گیا تھا ۔

 

ہندوستان کے بڑے بڑے پنڈتوں نے یہ تک کہہ دیا تھا کہ چند مہینے گزارنے کے بعد پاکستان کا بھوت جب سروں سے اترجائے گا تب یہ قوم ایک بار پھر ہندوستان میں شامل ہونے کے لئے بے چین و بے قرار ہو جائے گی اور پاکستان کا نام و نشان بھی صفحہ ہستی سے مٹ جائے گا اور ہم اس مسلم قوم کو اپنا غلام بنا کر رکھیں گے اور ساری زندگی ان پر حکمرانی کریں گے ۔ لیکن افسوس  ان کے سب خواب مٹی میں مل کر خاک بھی ہوگئے اورراکھ بھی ہوگئے کیونکہ پاکستان کی حفاظت اللہ تعالیٰ نے انسانوں سے لے کر انسان نما فرشتوں کو سونپ دی تھی جو دن رات سرحدوں پر جاگ کر اپنی قوم کو پر سکون نیند سونے کی تلقین کرتے رہے اور نتیجہ یہ نکلا کہ پاکستان دنیا کے نقشہ پر اسلامی جمہوریہ پاکستان بن کر اس طرح ابھرا کہ ہر شعبہ ہائے زندگی میں نمایاں کارکردگی دکھاتا چلا گیا۔ ہندوستان کے پنڈتوں نے سر جوڑے اور پاکستان پر حملے کی جرأت کرنے کی ناپاک جسارت کی جو نہ صرف بری طرح ناکام ہوئی بلکہ دشمن کو منہ کی کھانا پڑی اور پاک فوج کے جوانوں کے جذبے کے سامنے ان کی ایک نہ چلی۔ وہ اپنی لاشیں تک چھوڑ کر واپس بھاگنے پر مجبور ہوگئے کیونکہ دشمن کے ٹینکوں کے سامنے سیسہ پلائی دیوار بن کر کھڑے ہونا صر ف اور صرف اللہ کے ان شیروں کا ہی کام تھا جن کو اللہ نے شہادت کے بلند ترین مرتبے کے لئے چن لیا تھا ۔

 

 

غزل

 

برق گلزار پہ پھر صورتِ ادبار گری

کتنی نازک سی یہ تتلی سرِ گلزار گری

مری جاں، اِس کو ہیں، تعظیمِ محبت کہتے

آپ کے پائوں پہ گَر آپ کی سَرکار گِری

مجھ کو دیوار کے سائے سے بھی خوف آنے لگا

جب سے دیوار کے سائے پہ ہے دیوار گری

سیرِ گلشن کو جو اِک روز وہ گُل رُو نکلا

خواہشِ سیرِ چمن برسرِ بازار گری

دیکھنا شہر میں طوفان نہ آجائے کہیں

میرے دامن پہ اگر اشکوں کی بوچھار گری

ریگِ صحرا پہ کِیا کس نے ادا یوں سجدہ

سر تو سجدے میں تھا اور سر پہ تھی تلوار گری

جعفری موت سے پہلے اُسے موت آجاتی

جس کی دستار یہاں پر سرِ دربار گری

ڈاکٹر مقصود جعفری

اب اپنی ناپاک حرکتوں سے باز نہ آنے والے دشمن نے پاکستان کو اندر سے نقصان پہنچانے کے لئے گھنائونا کھیل کھیلناشروع کیااور کافی حد تک اس میں کامیاب بھی ہو گیا۔ ملک پاکستان کی ہر گلی، کوچہ اور بازار میں خون کی ندیاں بہا دی گئیں ۔ ایک جماعت کو خرید کر ملک میں خون کا بازار گرم کیا گیا۔ طالب علموں ، مدرسوں، مسجدوں ، امام بارگاہوں، عبادت گاہوں کو اپنی ظالمانہ پالیسی کے تحت تباہ و برباد کر دیا گیا۔ بہت سے اندرونی دشمنوں کو خریدا گیا ان کو روپے پیسے کا لالچ دے کر ملک میں افرا تفری پھیلا دی گئی۔ تعلیمی اداروں کے اندر معصوموں کے جسموںکو آتشیں گولہ بارود سے ٹکڑے ٹکڑے کیا گیا ، نمازیوں کے سجدوں میں پڑے ہوئے سروں کو گولیوں سے اڑایا گیا،خود کش جیکٹس پہن کر شہروں کے معروف ترین بازاروں اور فورسز پر حملوں سے پاکستانیوں کو ڈرانے دھمکانے کی کوشش کی گئی لیکن قربان جائوں اس پاک پرور دگار کے جس کے قبضہ قدرت میں ہم سب کی جان ہے، اس کے چنے ہوئے بندوں نے ان سب پر اس طرح قابو پایا کہ دشمن کو ایک بار پھر منہ کی کھانا پڑی اور اس کا سارا پلان ہی چوپٹ ہو کر رہ گیا ۔

 

وطن عزیز پر قربان ہونے کے لئے ہر ماں کا بیٹا تیار ہوا ، ایک بہن کا بھائی تیار ہوا، ایک سہاگن کا وہ سہاگ بھی تیار ہوا جس نے ابھی سہاگ کی سیج پر پہلا ہی قدم رکھا تھا ، وہ طالب علم بھی اپنا انتقام لینے کے لئے نکل کھڑا ہوا جس کی کتابیں چھین کر اس کے ہاتھ میں بندوق تھمانے کی دشمن نے چال چلی تھی اور پاکستان پر آخری وار کرنے کو نکل کھڑا ہواتھا لیکن اس کو یہ معلوم نہ تھا کہ جس ماں کا اکلوتا بیٹا اس ملک پر قربان ہونے کے لئے اپنا سب کچھ نچھاور کرنے کو تیار ہے اس کی ماں اپنے بیٹے کی لاش دیکھ کر بین اور وا ویلا نہیں کرتی بلکہ اپنے قیمتی آنسووں کے نذرانے پیش کر کے اس مٹی کو خراج تحسین پیش کرتی ہے جس کی حفاظت کرتے ہوئے اس کے اکلوتے اورجوان بیٹے نے اپنی جان جانِ آفرین کے سپرد کی ہے۔ وہ سہاگن جس نے اپنے سہاگ کو پہلی ہی رات یہ کہہ کر رخصت کیا تھا کہ دشمن کو نیست و نابود کرنے میں اگر شہادت کا جام بھی نوش کرنا پڑے تو مجھے اپنے بیوہ ہونے پر بہت فخر ہوگا۔  وہ معصوم بیٹا جس کو یہ بھی نہیں معلوم کہ اس کی دنیا لٹ چکی ہے، وہ یتیم ہو گیا ہے، وہ اپنے بابا کے تابوت سے لپٹ کر چیخ چیخ کر اپنے بابا کو نہیں پکارتا بلکہ اپنی نگاہوں میں  یہ سوال لئے ہوئے حیرت سے سب کی طرف دیکھ رہا ہے کہ اس کے بابا تو شہادت کے اعلیٰ ترین رتبے پر فائز ہو چکے ہیں، اللہ کریم نے میرے بابا کو جنت کا انعام دیا ہے میں کیوں روئوں گا۔ میں تو بہادر بیٹا ہوں حالانکہ مجھے معلوم ہے کہ اب میں کبھی بھی اپنے بابا کو گھوڑا بنا کر ان کی پیٹھ پر سواری نہیں کر سکتا۔ مجھے یہ بھی معلوم ہے کہ اب میں کبھی بھی اپنے بابا سے لاڈ نہیں کر سکتا، مجھے یہ بھی معلوم ہے کہ اب میں ساری زندگی کبھی بھی اپنے بابا سے ضد کر کے اپنی بات نہیں منوا سکتا ، مجھے یہ بھی معلوم ہے کہ میں اب اپنی پڑھائی کے لئے اپنے بابا سے ضد کر کے کتابیں اوربستہ نہیں منگوا سکتا، مجھے یہ بھی معلوم ہے کہ میںاب کبھی بھی اپنے بابا کو نہیں دیکھ سکوں گا لیکن مجھے اس بات پر ہمیشہ  فخررہے گا کہ میں اس شہید کا بیٹا ہوں جس کا خون اس وطن کی مٹی میں شامل ہے اور یہ مٹی جب مہکتی ہے تو مجھے میرے بابا کی خوشبو آتی ہے ، میرے بابا کو جنت میں اعلٰی درجات پر فائز کیا جائے گا ، اب میں بھی اپنے بابا کی طرح بنوں گا۔ دشمنوں کو منہ توڑ جواب دینے کے لئے وہ معصوم اور چھوٹا سا بچہ اپنے ذہن میں کیا کیا پلاننگ کر رہا ہے، اس سے کوئی بھی واقف نہیں ہے سوائے اللہ کی پاک ذات کے ، ایسی قوم کو شکست دینے کی سوچ رکھنے سے پہلے یہ بھی اپنے ذہنوں میں سوچ رکھو کہ ہم ایک جاگتی قوم ہیں ، یہ اللہ کے شیروں کا گھر ہے اس کو اللہ کی حفاظت اور نبی کریم محمد مصطفٰی ۖ کی محبت حاصل ہے ، اس ملک کی بنیادوں میں کلمہ طیبہ کی پاکیزگی اللہ اکبرکے نعروں کی گونج اور گھن گرج شامل ہے اور جس کام میں کلمہ طیبہ کو بنیاد بنایا جائے وہ کبھی بھی زوال پذیر نہیں ہوتا۔،  کیا کہتے ہو کہ گھر میں گھس کر ماریں گے ؟ تمہاری اتنی اوقات کہاں کہ تم اپنی بات پر قائم بھی رہ سکو۔ ایک کشمیری کے ہاتھوں میں ایک غلیل دیکھ کر تمہاری لاکھوں کی فوج پر ہیبت طاری ہوجاتی ہے ، ایک کشمیری لڑکی کو سامنے تن کر کھڑا دیکھ کر تمہاری افواج کی ہوا نکل جاتی ہے،  ایک ننھے کشمیری کے ہاتھوں میں ایک چھوٹا سا پتھر دیکھ کر تم سر تا پا لر ز جاتے ہو، کشمیر میں لہرانے والے پاکستانی جھنڈے کو دیکھ کر ہی تم پاگلوں کی طرح معصوم اور نہتے لوگوں پر گولیاں برسانے لگتے ہو، شرم اور غیرت ہو تو چلو بھر پانی میں ڈوب مرو کیونکہ نہتے کشمیریوں سے تو اکہتر سالوں تک مقابلہ جیت نہیں سکے ، ان کے حوصلوں اورجذبوں کو تو شکست دے نہیں سکے ہو اور چلے ہو اسلامی جمہوریہ پاکستان کے ساتھ جنگ کرنے ، یہ وہ پاکستان ہے جو ایٹمی طاقت بن کر دنیا کے نقشہ پر ابھر ا ہے اور پوری  دنیا اس کی عزت ،وقار اور عظمت کی قائل بھی ہے اور گواہ بھی  ۔


[email protected]

Comments



Note: No comments!



Leave a Reply

Success/Error Message Goes Here
Note: Please login your account and then leave comment!
TOP