سوشل میڈیا کا ذمہ دارانہ استعمال

سوشل میڈیا کے بڑھتے ہوئے استعمال سے کون واقف نہیں ہے۔ حال ہی میں کی گئی ایک تحقیق کے مطابق دنیا کی تقریباً 80فیصد آبادی سوشل میڈیا استعمال کرتی ہے۔ اس سے ہم اندازہ لگا سکتے ہیں کہ ایک عام آدمی اپنے دن کے تقریباً دو سے چھ گھنٹے فیس بک اور ٹویٹر وغیرہ پر لائیک، ٹویٹ اور اپ ڈیٹ کرنے میں گزارتا ہے جس کے باعث ہر گزرتے ہوئے منٹ میں تقریباً پانچ لاکھ کے اردگرد ٹویٹ اور تصاویر سوشل میڈیا کی زینت بن جاتی ہیں۔

 

ایسے میں فیس بک اور ٹویٹر کی اہمیت کو جھٹلایا نہیں جا سکتا۔یہی میڈیا ایک عام انسان کی آزادی اور خودمختاری کے لئے ایک اہم پلیٹ فارم تصور کیا جاتا ہے جہاں ایک چھوٹے بچے سے لے کر ایک عمررسیدہ شخص تک کھل کر اپنی رائے اور خیال پیش کر سکتا ہے۔ سوشل میڈیا حالیہ تاریخ میں ابھرنے والی سب سے اہم ٹیکنالوجی ہے جو کہ ذاتی رائے اور باہمی افہام و تفہیم کو فروغ دیتی ہے۔ جہاں بہت سے ثقافتی اختلاف ہونے کے باوجود فیس بک اور ٹویٹر پر ہزاروں لوگ ایک دوسرے کی ذاتی زندگیوں کے ساتھ منسلک ہو جاتے ہیں وہیں سوشل میڈیا  کی طاقت سے ملک دشمن عناصر اور دہشت گردوں نے بھی بڑے پیمانے پر لوگوں کو گمراہ کرنے اور دیگر جرائم کے فروغ سے بھرپور فائدہ اٹھایا ہے۔ فیس بک اور ٹویٹر ایسی ایپلی کیشنز ہیں جہاں پر روزمرہ کی تازہ خبریں اور دنیا بھر کے حالات بآسانی جانے جا سکتے ہیں۔ لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ بعض شرپسند عناصر جھوٹی خبریں اور افواہیں پھیلانے کے لئے ایسی منفی پوسٹ اور ٹویٹ کرتے ہیں جس سے ملک بھر کے لوگ نفرت اور تفرقات میں بٹ جاتے ہیں جس کے بعد ایک نہ رکنے والی نفرت آمیز پوسٹس اور ٹویٹس کا سلسلہ شروع ہو جاتا ہے۔ اکثر ایسے شرپسند عناصر کا نشانہ ملک کے مفاد میں کام کرنے والی سکیورٹی فورسز، صحافی اور ایسے اشخاص ہوتے ہیں جن کا مقصد ملک و قوم کی خیروبقا ہوتا ہے ایسے ملک دشمن عناصر کا مقصد صرف اور صرف ریاست اور عوام کی توجہ ملک کے سنگین مسائل سے ہٹا کر اپنی بحث اور فرقہ واریت میں مبتلا کرنا ہوتا ہے تاکہ ملک میں ایک نئی جنگ کا آغاز ہو سکے جس کے بعد سوشل میڈیا پر مختلف بحث و مباحثے شروع ہو جاتے ہیں جو بہت تیزی سے وسیع پیمانے پر پھیل جاتے ہیں جن کی روک تھام مشکل ہی نہیں ناممکن ہو جاتی ہے جس کے بعد عوام ایک نئی کشمکش میں مبتلا ہو کر اپنی مرضی کے مطابق گروہ بندی میں مبتلا ہو جاتی ہے۔ پھر چاہے یہ گروہ قومی، نسلی یا مذہبی ہوں یہاں ہر انسان جذباتی ہو کر اہم مقاصد سے ہٹ کر آپس میں ہی اتفاق کے بجائے نفرتوں میں پڑ جاتا ہے۔

 

یہاں یہ بات غور طلب ہے کہ یہ ٹویٹ ریٹویٹ کا سلسلہ شروع کیسے ہوتا ہے۔ فیس بک اور ٹویٹر پر دہشت گرد اور ملک دشمن افراد ہر وقت سرگرم رہتے ہیں۔ ان میں سے بعض تو ایسے ہوتے ہیں جو کسی بھی ریاست میں بظاہر تو عوام کے خیرخواہ ہوتے ہیں اور اپنی پروفائل(Profile) کو اس اندازسے بناتے ہیں کہ عام لوگ انہیں ایک محب وطن اور ذمہ دار شخص سمجھتے ہیں لیکن درحقیقت وہ دشمن ممالک یا دہشت گردوں کی محض کٹھ پتلیاں ہوتے ہیں۔ اب یہی منفی لوگ جھوٹی خبریں افواہیں اور منفی سوچ ملک میں پھیلانے کے لئے سوشل میڈیا کا سہارا لیتے ہوئے جعلی اور نفرت آمیز ٹویٹ اور پوسٹ، فیک اکائونٹس سے پوسٹ کرتے ہیں جن کو ملک میں چھپی کالی بھیڑیں ریٹویٹ، لائیک یا شیئر کرنا شروع کر دیتی ہیں جو پلک جھپکتے ہی لاکھوں لوگوں پر اثرانداز ہونا شروع ہو جاتی ہیں۔ ایسی منفی اور جھوٹی پوسٹوں پر لاکھوں اور ہزاروں لائیک، شیئر کومنٹ اورریٹویٹ ہونے کے باعث عام عوام اسے سوفیصد مستند اور سچی خبر سمجھ کر تفرقات میں پڑ جاتی ہے جو سوشل میڈیا کے ہر پیج اور اکائونٹ پر مختلف بحث کو جنم دیتے ہیں۔ نہ صرف یہ بلکہ بعض اوقات تو نوبت یہاں تک آ جاتی ہے کہ عوام کا آپس میں اختلاف اتنا بڑھ جاتا ہے کہ بات عام بحث سے چھڑ کر لڑائی جھگڑوں اور یہاں تک کہ ملک کی عدلیہ ریاست اور سکیورٹی فورسز کے خلاف کھلے عام مظاہروں تک آ جاتی ہے۔

 

اب سمجھنے کی بات یہ ہے کہ ان منفی پوسٹس اور ٹویٹس پر ہزاروں اور لاکھوں کی تعداد میں لائیک اور ریٹویٹ کیسے آتے ہیں اس کام کے لئے خاص طور پر دنیا کے ہر ملک میں ایسی کمپنیاں قائم ہیں جو کہ چند ہزار روپوں میں کنٹریکٹ دینے والے حضرات کی ٹویٹ اور پوسٹ کی زیادہ سے زیادہ فروغ کے لئے ہزاروں کی تعداد میں اسے جعلی اکائونٹس تیار کر دیتے ہیں جن کے ذریعے ان ٹویٹ پر بے تحاشہ لائیک اور ریٹویٹ دیکھے جاتے ہیں جس سے عام فیس بک اور ٹویٹ استعمال کرنے والے حضرات  متاثر ہوئے بغیر نہیں رہ پاتے۔ ان منفی ٹویٹس کو مزید شہ دینے کے لئے ملک کی بعض بااثر شخصیات نہ صرف ان کو ریٹویٹ کرتی ہیں بلکہ ان ہی کمپنیوں کا سہارا لیتے ہوئے جعلی اکائونٹس سے لاکھوں لائیک اور کومنٹ حاصل کر لیتے ہیں جن کا مقصد محض عوام کو گروہ بندیوں میں تقسیم کرنا ہوتا ہے۔ اگرچہ فیس بک اور ٹویٹر کے مالکان نے نہ صرف باقاعدہ طور پر ایسے جعلی فالوورز بنانے والی کمپنیوں پر متعدد بار سراسمیگی کا اظہار کیا ہے بلکہ باقاعدگی سے ان نقلی اکائونٹس پر مکمل پابندی لگانے کے لئے بھی اقدام اٹھائے ہیں۔ لیکن چونکہ دنیا بھر میں لاکھوں جعلی IDs بنائی جاتی ہیں اس لئے ان کی روک تھام کافی مشکل ہو جاتی ہے۔ یہاں یہ کہناغلط نہ ہو گا کہ جو بھی شخص فالوورز حاصل کرنے کے لئے زیادہ رقم ادا کر سکتا ہے اتنا ہی زیادہ دنیا اور لوگوں پر اثر انداز ہو سکتا ہے۔ لہٰذا بعض کرپٹ عناصر اور عوامی شخصیات ٹویٹر اور فیس بک پر ایسے بیانات جاری کرتے ہیں جن کو سمجھ دار عوام میں تو زیادہ پذیرائی نہیں ملتی لیکن ان نقلی اکائونٹس کی بدولت دنیا بھر میں ایسا تاثر جاتا ہے کہ جیسے ان کو عوام میں کھلی اور بے تحاشا حمایت حاصل ہے۔

 

انہی باتوں کے پیش نظر چین کی حکومت نے اپنے ملک کے سوشل میڈیا پر انٹرنیٹ کا استعمال محدود کیا ہوا ہے۔ چین کی حکومت نے ہزاروں نگران انٹرنیٹ کے لئے تعین کئے ہیں جو ہر ایک صارف کی سوشل سرگرمیوں پر کڑی نظر رکھے ہوئے ہیں۔ ان نگرانوں کا اصل مقصد سائبر سپیس سے ہر وہ ناگوار مواد ہٹانا ہوتا ہے جس سے کسی بھی قسم کی بدمزگی عوام میں پھیل سکتی ہو۔ جہاں اس عمل کو خاصا پسند کیا جاتا ہے وہیں بعض ممالک میں اس پر شدید تنقید بھی کی جاتی ہے جب کہ آج کے دور میں جہاں ہر ٹیکنالوجی کے بہت سے فوائد ہیں وہیں بہت سے نقصانات بھی ہیں۔ لہٰذا ایسے حکومتی اقدامات سے عوام کو بہت فائدہ ہو سکتا ہے۔ جیسے کہ بہت سے جعلی اکائونٹس تیار کرنے والی کمپنیاں بعض اوقات یہ نقلی اکائونٹس عام عوام کی تصاویر اور ان کے ذاتی ڈیٹا کو چوری کر کے بناتی ہیں جن کا مقصد محض فیس بک اور ٹویٹر حکام کی نظروں سے بچنا ہوتا ہے۔ یہی نہیں بلکہ بہت سے دہشت گرد دنیا بھر کے معصوم انٹرنیٹ صارفین کی ذاتی تصاویر اور انفارمیشن کو استعمال کرتے ہوئے بہت سے کالے دھندے بھی کرتے ہوئے پکڑے جا چکے ہیں۔ لہٰذا اس بات کو مکمل طور پر یقینی بنانا چاہئے کہ آپ کس حد تک اور کتنی ذمہ داری کے ساتھ سوشل میڈیا کا استعمال کرتے ہیں۔ اور ملک کے ہر فرد کو بذات خود یہ ذمہ داری لینی چاہئے کہ ایسی ہر منفی پوسٹ پیج یا اکائونٹس کو صارف نہ صرف بلاک یارپورٹ کریں بلکہ خود اپنے ارد گرد سب کو ذمہ دار اور محفوظ طریقے سے سوشل میڈیا استعمال کرنے کی تلقین کریں۔


[email protected]

Comments



Note: No comments!



Leave a Reply

Success/Error Message Goes Here
Note: Please login your account and then leave comment!
TOP