سرسبز و شاداب پاکستان

یوم شجرکاری ہر سال 18 اگست کو منایا جاتا ہے تاہم اس بار پاکستانی عوام نے اس کو اپنی مسلح افواج کے ساتھ چودہ اگست کو منایا۔چودہ اگست ہماری آزادی کا دن ہے۔ اس دن ہمارے بزرگوں کی محنت کا ثمر ہمیں ملا اور ہمیں انگریزوں کی غلامی سے آزادی نصیب ہوئی۔اس بار چودہ اگست پر عوام نے  یہ عہد کیا کہ وہ اپنی بقا کی جنگ کے لئے آلودگی کو شکست دیں گے اور ماحول کی حفاظت کے لئے اپنی فوج کے شانہ بشانہ سرسبزو شاداب مہم کا حصہ بنیں گے ۔ ڈی جی آئی ایس پی آر میجر جنرل آصف غفور نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر پر اپنے ٹویٹ میں کہا کہ پاک فوج عوام کے ساتھ اس بار چودہ اگست پر آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کی زیرسرپرستی مون سون میں 20 لاکھ پودے لگائے گی اور فوج کا ٹارگٹ ایک کروڑ درخت لگانا ہے۔سرسبز وشاداب پاکستان مہم کے حوالے سے مختلف تقریبات کا انعقاد کیا گیا اور لاکھوں پودے لگائے گئے۔ آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے اہلیہ کے ساتھ پودا لگا کر اس مہم کا آغاز کیا۔اس شجرکاری مہم میںسکول اور کالج کے طالب علموں ،سول و عسکری حکام اور میڈیا کی بہت بڑی تعدادنے شرکت کی ۔آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے اپنے پیغام میں کہا کہ درخت زندگی ہیں ہم سب کو شجرکاری مہم میں بڑھ چڑھ کا حصہ لینا چاہئے۔ماحولیاتی ادارے،محکمہ جنگلات اورمحکمہ زراعت مل کر شجرکاری کے لئے کام کریں۔

 

عوام الناس بھی اس مہم کو خوش آئند قرار دے کر مون سون کے دوران بڑھ چڑھ کر پودے لگا رہے ہیں ۔کسی بھی خطے میں متوازن آب و ہوا کے لئے 25 فیصد رقبے پر جنگلات کاہونا ضروری ہے جبکہ پاکستان میں صرف 4 فیصد رقبے پر جنگلات ہیں جس کی وجہ سے پاکستانی عوام ماحولیاتی مسائل کا شکار ہورہے ہیں۔ اس لئے وقت کی اہم ضرورت ہے کہ ہم سب ماحولیاتی توازن  بگڑنے نہ دیں اور بھرپور شجرکاری کرکے ملک کے درجہ حرارت کو کم کریں۔اگر درختوں کی تعداد نہ بڑھائی گئی تو گرمی اور آلودگی سے اموات میں اضافہ ہوسکتا ہے۔

درخت انسانوں کے دوست اور زمین کا زیور ہیں ۔درخت انسانوں کو نہ صرف آکسیجن، سایہ، پھل ،میوہ جات اور ایندھن مہیا کرتے ہیں بلکہ یہ ماحول کو آلودگی سے بھی بچاتے ہیں، زمین کو زرخیز کرتے ہیں، جنگلی حیات کا مسکن ہیں، زمینی کٹائو میں کمی لاتے ہیں ، سیلاب کو روکتے ہیں اور درجہ حرارت کو کم رکھتے ہیں۔

 

 فیصل آباد یونیورسٹی آف ایگریکلچر کے شعبہ فاریسٹری کے چئیرمین پروفیسر محمد طاہر صدیقی کہتے ہیں کہ درخت اپنی بڑھوتری ، ساخت کے لحاظ سے مختلف علاقوں اورآب و ہوا کے اعتبار سے مخصوص اقسام پر مشتمل ہوتے ہیں ۔ مختلف درخت مخصوص آب و ہوا، زمینی درجہ حرارت اور بارش میں پروان چڑھ سکتے ہیں لہٰذا موسمی حالات و تغیرات درختوں کے چناؤ میں بڑی اہمیت کے حامل ہیں جن کا ادراک ہونا بہت ضروری ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ ملک کے شمالی علاقوں میں شیشم، دیودار، پاپلر، کیکر، ملبری، چنار، پھلائی، کیل، اخروٹ، بادام، دیودار، اوک ، پائن ٹری، صنوبر، پڑتل، سپروس، چلغوزہ، سیب، ناشپاتی، آڑو اور سیب کے درخت لگائے جائیں۔ سطح مرتفع پوٹھوہار میں دلو، پاپلر، کچنار، بیری، چنار، سہانجنا، املتاس اور زیتون کے درخت لگائے جائیں ۔

 

ملک کے جنوبی میدانی علاقوں میں آم، بیری،شریں،سہانجنا، کیکر، پھلائی، کھجور، ون،جنڈ،فراش لگایا جائے ۔ نہری علاقوں میں جنڈ،نیلم ، گل نشتر،کچنار،بیری پاپلر، گولڈمور، املتاس، شیشم، جامن، توت، سمبل، پیپل، بکائن، ارجن،لسوڑا لگایاجائے۔

زیارت میں جونیپر کا قدیم جنگل بھی موجود ہے اس کی حفاظت کے لئے بھرپور اقدامات کرنے چاہئیں۔ بلوچستان خشک پہاڑی علاقہ ہے اس میں ون، کرک ،پھلائی، کیر، بڑ،چلغوزہ، پائن، اولیو ایکیکالگایاجائے اور سندھ کے اندرونی علاقوں میں کیکر،بیری پھلائی،ون،فراش،سہانجنا، آسٹریلین کیکرکے درخت لگانے چاہئیں ۔کراچی موسمیاتی تبدیلوں کی زد میں ہے گرمی کی شدت عوام کے لئے ناقابل برداشت ہے۔ اس لئے وہاں شجرکاری کرتے وقت دیسی درخت جن میں املتاس، برنا، نیم، گلمہور، جامن، پیپل، بینیان، ناریل، اشوکا شامل ہیں، لگانا موزوں ہے۔

ڈاکٹر پروفیسر شہزاد بسرا پاکستان میں کئی سال سے متبادل فصلوں پر کام کررہے ہیں وہ زرعی یونیورسٹی فیصل آباد کے شعبہ اگرانومی کے سرابرہ ہیں وہ کہتے ہیں پاک آرمی کی طرف سے سرسبز و شاداب پاکستان مہم قابل ستائش ہے۔ درخت لگانا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ موسم برسات میں درخت گل نشتر،جامن، فراش، سہانجنا،نیم،شریں،کچنار،گل مہر لگائے جانا موزوں ہے۔ وطن عزیز میں جنگلات کی شدید کمی ہے اور ناقص خوراک کی وجہ سے تقریباً سارا ملک ہی قبل ازعمر بڑھاپے،کمزوری اورغذائی قلت کا شکار ہے۔ مورنگا جس کو اردو میں سہانجنا کہتے ہیں اس کو کرشماتی پودا بھی کہا جاتا ہے اور دنیا بھر میں اپنے معجزاتی اثرات اور بے شمار طبی اور غذائی افادیت کے باعث  قوت مدافعت میں اضافے اور بے شمار بیماریوں کے علاج کے لئے استعمال ہورہا ہے جبکہ وطن عزیز، جہاں کا یہ پودا ہے وہاں اس کا استعمال متروک ہوتا جارہا ہے اور کاشت بھی چند مخصوص علاقوں میں محدود ہوکر رہ گئی ہے۔ہم نے ایک عزم کیا ہے کہ مورنگا کو ملک میں عام کردیںیہ بات انتہائی اطمینان بخش ہے کہ ملک بھر میں اس زبردست شجرکاری مہم میں مورنگا بھی ان پودوں میں شامل کیاگیا ۔

درخت لگانے کاوقت، تیاری اور اس کی حفاظت

سب سے پہلے جگہ کا انتخاب کریں اور مقامی درخت کے پودے نرسری سے حاصل کریں۔ درخت ایک قطار میں لگائے جانے چاہئیں اور ان کا درمیانی فاصلہ دس فٹ ہونا چاہئے۔گھر میںپودا لگاتے وقت اسے گھر کی دیواروں سے دور لگائیں۔ نرسری سے پودا لائیں۔ زمین میں ڈیڑھ فٹ گہرا گڑھا کھودیں یا جڑ کو ناپ کر اس کے مطابق گڑھا کھودیں، Organic  کھاد اس میں ڈالیں اور گڑھا پانی سے بھر دیں ۔پودا ہمیشہ صبح کے وقت لگائیں یا شام میں لگائیں ۔دوپہرمیں نہ لگائیں اس سے پودا سوکھ جاتا ہے۔پودا لگانے کے بعد اس کو پانی دیں ۔گڑھا نیچا رکھیں تاکہ اس میں پانی رہے ۔ ایک دن چھوڑ کر پانی دیں۔ پودے کے گرد کوئی جڑی بوٹی نظر آئے تو اس کو کھرپے سے نکال دیں۔اگر پودا مرجھانے لگے تو گھر کی بنی ہوئی کھاد ڈالیں اور اگر پودا کمزور ہو تو اسکو چھڑی کے ساتھ باندھ دیں۔

یہ بات یاد رکھیں کہ درخت بڑھنے میں وقت لیتے ہیں اس لئے اپنے پودے کی حفاظت کریں۔ گھروں میں امرود،جامن،سہانجنا،املتاس، نیم ضرور  لگائیں ۔جولائی سے ستمبر تک درخت لگانے کے لئے بہت موزوں وقت ہے اس لئے اشجار لگائیں۔موسمیاتی تبدیلیوں ، گرمی کی شدت،آبی قلت، اور آلودگی سے نجات ہم درخت لگا کرہی حاصل کرسکتے ہیں ۔

 

کر آغاز پاکستان ۔۔۔کر آغاز پاکستان

سرسبزرہے۔۔۔۔ شاداب پاکستان

Comments



Note: No comments!



Leave a Reply

Success/Error Message Goes Here
Note: Please login your account and then leave comment!
TOP