سخن کا محاذ

یہ 6 ستمبر1965ء کی روشن صبح تھی 'اہلِ لاہور حسبِ معمول بیدار ہوئے ۔ لیکن آج ارضِ پاک کی لہلاتی فصلیں اور سرسبز کھیت ہر اہلِ وطن کو سوالیہ نگاہوں سے دیکھ رہے تھے کہ اب اِ ن کی آزاد بقاء کی ضمانت قوم کے ہر پیروجواں کے ہاتھ میں تھی ۔ واہگہ اٹاری سیکٹر میں گھمسان کا رن جاری تھا ۔طاقت کے گھمنڈ میں بھارتی سینا جوبرکی تک پہنچ کر شام تک جشنِ فتح کی منتظر تھی اب اُس کا خون اب بی آر بی کے کنارے بڑی ارزانی سے بہہ رہا تھا ۔ طاقت اور گھمنڈ کا لشکر بڑھے چلا ا تا تھا لیکن ہر محاذ پر مردانِ خاکی ایک آہنی فصیل بنے سارے حملے پسپا کررہے تھے ۔اچانک ریڈیو پاکستان کی ریڈیائی لہروں سے سربراہِ مملکت کی آواز گونجتی ہے  :

'' دس کروڑ پاکستانی عوام پر آزمائش کا وقت آپہنچا ہے ۔ ہندوستانی حکمران ابھی نہیں جانتے کہ انہوں نے کس قوم کو للکارا ہے ۔پاکستان کے عوام جن کے دل کی دھڑکنوں میں لاالٰہ الا اللہ محمد رسول اللہ کی صدائیں گونج رہی ہیں اس وقت تک چین سے نہیں بیٹھیں گے جب تک ہندوستان کی توپیں ہمیشہ ہمیشہ کے لئے خاموش نہ کردی جائیں ''

یہ صرف اعلان تھا یا قوم کے لئے ندائے حق … ہر فرد وطن کی حفاظت کی قسم اٹھائے میدانِ حرب کی سمت بڑھنے لگا لیکن جوش و جذبات سے پُر عوام کو ہمارے فوجی بھائیوں نے روکا اور کہا کہ ہم وطن کی حفاظت پر معمور ہیں ۔ آپ لوگ اپنے اپنے مورچے سنبھالیں ۔اب غیور قوم کا فرد اپنے اپنے شعبوں میں دل جمعی سے کام کررہا تھا اور کیوں نہ کرتا کہ وطن پر آزمائش کا وقت جو آپہنچا تھا !۔

ریڈیو پاکستان لاہور جو کل تک میگھ ملہار اور وصل و ہجر کے گیت تیار کرتا تھا آج یہاں بھی ہر سخن میں تحفظِ وطن کے لئے دیپک راگ گائے جا رہے تھے ۔ ناصر کاظمی جو ابھی ریڈیو پاکستان کی عمارت میں داخل ہوئے تھے حملے کی خبر سنتے ہی  ڈیوٹی روم میں بیٹھے بیٹھے ایک ترانہ لکھ دیتے ہیں

'' ہمارے پاک وطن کی شان

ہمارے شیر دلیر جوان ''

تھوڑی دیر میں آنجہانی سلیم رضا بھی عمارت میں تشریف فرما ہوتے ہیں اوراسٹیشن ڈائریکٹر شمس االدین بٹ سے کہتے ہیں  :

'' بٹ صاحب ! مُلک پر وقت آگیا ہے۔ میں محاذ پر جانا چاہتا ہوں ۔ آپ ہی کوئی راستہ بتائیے۔ ''

بٹ صاحب کا جواب ہوتا ہے '' سلیم!  تمہارے جذبات کی قدر کرتا ہوں ' مگر محاذ پر فوجی جوان موجود ہیں تم اپنا مورچہ سنبھالو… آواز کا مورچہ ! ''

''آواز کا مورچہ  !! … ہاں ہاں بٹ صاحب ! میں ضرور سنبھالوں گا ۔ آج صبح سے ہی پرانے ملّی ترانے ہی باربار نشر ہورہے ہیں ۔ آج دن ضائع نہ کیا جائے ۔ میں ریہرسل پہ جاتا ہوں۔ '' سلیم رضا نے سارے الفاظ ایک ساتھ ہی کہہ ڈالے اوروہ سٹوڈیو کی طرف دوڑ پڑے۔ وہاں پہنچ کربے اختیار ہی ہارمونیم اٹھا لیا جہاں پہلے ہی  سے موجود کالے خان اور سلیم حسین ترانوں کے لئے سخن کے منتظر تھے ۔ تھوڑی دیر میںسٹیشن ڈائریکٹر کے ہمراہ ناصر کاظمی' منیر حسین' حامد علی بیلا اورفضل حسین بھی چلے آتے ہیں اور ترانے کی ریہر سل ہونے لگتی ہے ۔

جنگِ ستمبر میں جہان ارضِ پاک کے فوجی جوانوں نے شجاعتوں کی تاریخ رقم کی وہاں قوم کے سخن وروں اور فنکاروں نے بھی عالمی حربی تاریخ میں نیا باب تحریر کیا جوہماری ملّی تاریخ کا ایک روشن باب ہے ۔ سترہ روزہ جنگ صرف ایک جنگ یا آزمائش کا وقت نہ تھا بلکہ ہمارے قومی ادب کا بھی زریں عہد تھا جس میں تحریر کئے گئے ترانوں نے پاکستانی ادب کی بھی تابناک سمت دریافت کی اور اس دوران قوم کے ہر شاعر نے نرگسیت اور رجائیت کے بجائے قوم کے حقیقی جذبے کی ترجمانی کی جو ہمارے ملّی ادب کا ایک مستقل حصہ ہیں ۔

ناصر کاظمی جو لاہور کے معروف اردو شاعر تھے انہوں نے دورانِ جنگ سب سے زیادہ ترانے نذرِ وطن کئے۔ اُن کے تحریر کردہ نغمات میں جہاں افواجِ پاکستان سے عقیدت و محبت عیاں تھی وہاں فولادی عزائم بھی نمایاں تھے ۔ ان کا  تحریر کردہ ایک ترانہ جسے سلیم رضا' منیر حسین اور ساتھیوں نے گایا تھا سخن کے مورچے پر دشمن کو خوب بتارہا تھا کہ

''خوشکیوں پہ پانیوں پہ ہر ڈگر

ہر محاذِ جنگ پر ہم لڑیں گے بے خطر ''

اسی طرح ناصر کاظمی نے جنگ زدہ ماحول میں وطنِ پاک سے اپنی محبت کا اظہار بھی خوب کیا  جسے شام چوراسی گھرانے کے معروف گائیک استاد سلامت علی اور نزاکت علی نے گایا

'' پاک وطن کی ہر شے پیاری

اس پہ قرباں دنیا داری''

ناصر کاظمی کا قلم یہیں نہیں رکتا بلکہ وہ دشمن کی زد میں استقلال کا مظاہرہ کرنے والے شہروں کو بھی خوب سلامِ عقیدت پیش کرکے ان کے        عزم و استقلال کو اور داد دیتے ہیں ۔ سیالکوٹ کے لئے انہوں نے '' سیالکوٹ تو زندہ رہے گا '' کا نعرہ لگایا جو آج بھی اہلِ سیالکوٹ کی زباں پر ہے ۔ اپنے اس ترانے میں انہوں نے پہلے سیالکوٹ کی خوبیاں بیان کرتے ہوئے کہا 

'' شاعرِ مشرق کا تو مسکن تجھ پہ بزرگوں کا ہے سایہ

جس نے تجھ پر ہاتھ اٹھایا ' تو نے اس کا نام مٹایا

زندہ رہے گا ' زندہ رہے گا' سیالکوٹ تو زندہ رہے گا

جموں اور کشمیر سے پہلے ' تو ہے نصرت کا دروازہ

دشمن بھی اب کر بیٹھا ہے ' تیری جرأ ت کا اندازہ

زندہ رہے گا ' زندہ رہے گا' سیالکوٹ تو زندہ رہے گا''

اس کے بعد ناصر کاظمی نے اسی نظم میں پاک فوج کو محافظ بتاتے ہوئے زمینِ سیالکوٹ کو حوصلہ دیا ہے کہ

'' پاک فوج ہے تیری محافظ ایک وار بس اور دکھا دے

اٹھ اور نام علی کا لے کر دشمن کو مٹی میں ملا دے ''

شاہینوں کے شہر سرگودھا کے لئے بھی ناصر کاظمی کا قلم حرکت میں آیا اور کیا شاندار ترانہ تخلیق ہوا جسے عنایت حسین بھٹی ' حامد علی بیلا اور ساتھیوں نے کالے خان کی موسیقی میں گایا تھا

'' زندہ دلوں کا گہوارا ہے سرگودھا میرا شہر

سب کی آنکھوں کا تارہ ہے سرگودھا میرا شہر ''

اپنے اس ترانے میں بھی ناصر کا انداز  وہی ہے جو سیالکوٹ پہ لکھی گئی نظم میں تھا یعنی پہلے شہر کی تعریف و توصیف اور پھر افواجِ پاکستان اور اہلِ شہر کا استقلال ۔ یہی انداز شہروں پر لکھے گئے تقریباََ ہر شاعر کے ترانوں میں شامل ہے ۔

ناصر کاظمی صاحب نے قوم کے عظیم مجاہد میجر عزیز بھٹی شہید کے لئے بھی دورانِ جنگ اپنے جذبات کا اظہار کچھ اس طرح کیا کہ وہ عزیز بھٹی کی شکل میں پوری افواجِ پاکستان کو ایک جسد میں دیکھ رہے تھے وہ بہادری اور شجاعت کا استعارہ بن گئے تھے۔ اسی لئے بھٹی شہید  کو وہ کبھی ہوا باز اور کبھی رن کچھ کا جانباز بتاتے ہیں گویا افواجِ پاکستان اپنے اس عظیم مجاہد میں '' فنافی العزیز'' دکھائی دیتی ہے کہ

''تو ہے عزیزِ ملّت تو ہے نشانِ حیدر

احساں ہے تیرا ہم پر اے قوم کے دلاور

رن کچھ کے معرکے میں جوہر دکھائے تو

واہگہ کی سرحدوں سے لشکر ہٹائے تو نے

چھمب اور جوڑیاں میں گاڑا ہے تو نے جھنڈا

اے دوارکا کے غازی زندہ ہے نام تیرا

ہیبت سے تیری لرزاں کہسار اور سمندر

                تو ہے عزیزِ ملّت تو ہے نشانِ حیدر''

( یہ ترانہ لاہور ریڈیو پر سلیم رضا اور کراچی ریڈیو پر نسیمہ شاہین نے  ریکارڈکروایا تھا  )۔

لاہور ریڈیو پر اختر شیرانی کی نظم جو انہوں نے دوسری جنگ عظیم میں  لکھی تھی منیر حسین اور ساتھیوں نے ریکارڈ کروائی جس میں قوم کے غازیوں کے  لئے ''ساقیٔ مشروبِ وطن'' کی منفرد اصطلاح استعمال کی کہ

''وہ دیکھ وطن کی سرحد پر دشمن عساکر چھانے لگے

موجوں کی طرح بل کھانے لگے ' طوفاں کی طرح لہرانے لگے

دامانِ افق سے طیارے آگ اور دھواں برسانے لگے

یا با سرِ کہسار اٹھا …اٹھ ساقی تلوار اٹھا ''

اس نظم میں اختر شیرانی مرحوم نے خطیبانہ انداز اختیار کرکے عام فہم مگر پُر جوش اصطلاحات استعمال کیں جو اُن کے انتقال کے  17 برس بعد وہ نغمۂ وطن بن کر اس جنگ میں امر ہوگئیں !

جنگ کے خوفناک اور ہولناک بادلوں کا مقابلہ کرنے کے لئے  معروف شاعر و نقاد جناب قیوم نظر صاحب نے بھی خوب اشعار تحریر کئے جنہیں ملّی ترانے کی صورت منیر حسین ' فضل حسین اور ساتھیوں نے نغمے میں ڈھالا اور اس ترانے میں اس جنگ کو عوام کی بقاء کی جنگ بتایا گیا  اور ساتھ ساتھ خطیبانہ انداز میں عوام کو اپنی املاک و ناموس بچانے کا احساس بھی اس ترانے میں موجود ہے کہ

اٹھو کہ وقتِ رزم ہے ' اٹھو کہ وقتِ جنگ ہے

یہ جنگ ہے عوام کی ' عوام کی یہ جنگ ہے

بچاؤ اپنے ملک کو ' بچاؤ اپنی وادیاں

بچاؤ اپنی شاہرہیں ' بچاؤ  ریل گاڑیاں

بچاؤ اپنی فیکٹری' بچاؤ اپنی کھیتیاں

بچاؤ اپنی عزتیں' بچاؤ اپنی عصمتیں

بچاؤ اپنے بام و در' بچاؤ اپنی بستیاں

اٹھو کہ وقتِ رزم ہے ' اٹھو کہ وقتِ جنگ ہے

مگر پھر اس '' بیچ بچاؤ'' کے بعد قیوم نظر کا سخن جارحانہ ہوجاتا ہے کہ

''دشمنوں کی فوج سے مُلک کو بچاؤ تم

پرچم ِ ہلال کی شان کو بڑھاؤ تم

ہند کے غرور کو خاک میں ملاؤ تم

جبر اور غرور کو دہر سے مٹاؤ تم

اٹھو کہ وقتِ رزم ہے' اٹھو کہ وقتِ جنگ ہے ''

قیوم نظر نے جنگ کے شعلوں اور انگاروں کو اس حدیثِ مبارکہ '' جنت تلواروں کی چھاؤں میں ہے ''  کو مدِ نظر رکھتے ہوئے اپنے ایک ترانے میں ''صحنِ چمن '' کہا ۔ یہ پُر جوش ملّی ترانہ لاہور ریڈیو پر سلیم رضا اور ساتھیوں نے سلیم حسین کی موسیقی میں ریکارڈ کروایا تھا جس کے ہر لفظ سے خوف ہرن ہوتا ہے کہ

'' جنگ کا میداں ہمیں صحنِ چمن سے کم نہیں

آگ اور بارود کی گلکاریاں میدان میں

ہم کو سیرِ گلفشانیٔ چمن سے کم نہیں

بم کی آوازوں سے بڑھتا ہے ہمارا حوصلہ

یہ صدائے نغمۂ باغِ عدن سے کم نہیں  ! ''

قیوم نظر نے دورانِ جنگ شہرِ داتا لاہور کے لئے سب سے پہلا نذرانہ بھی تحریر کرنے کا اعزاز حاصل کیا تھا جسے منیر حسین اور ساتھیوں نے 9ستمبر کو ریکارڈ کرواکر نذرِ وطن کیا ۔ یہ ترانہ دراصل بھارتی ریڈیو آکاش وانی کے اُس پراپیگنڈے کا جواب تھا جو  8 ستمبر تک بار بار خبریں نشر کررہا تھا کہ نقلِ کفر' کفر نباشد ،لاہور فتح ہوگیا ہے ۔ قیوم نظر نے اپنے لفظوں میں بھارت کو بتایا کہ

''زندہ ہے لاہور پائندہ ہے لاہور

شوقِ شہادت کے جذبے کے بل پر بڑھنے والا

سینۂ کفر پہ چڑھ کر حق کا کلمہ پڑھنے والا

حق کے لئے جاں دینے والے پروانوں کا شہر''

یہ نغمہ نشر ہوا تو اپنے دفاعِ شہر کے لئے یہ پاکستان کا پہلا ترانہ بن چکا تھا اسی لئے عوام میں بھی بے حد مقبول ہوگیا اور دورانِ جنگ یہ زبان زدِ عام رہا ۔

مولانا ماہر القادری نے بھی سخن کا مورچہ سنبھالتے ہوئے  '' اپنا سب کچھ نذرِ وطن'' کرتے ہوئے تمام ملکی فنکار وں اور شاعروں کو پیغام دیا کہ

'' امتحاں شاعروں کے فن کا ہے

میرا سب کچھ میرے وطن کا ہے ''

اسی طرح ماہر کی دورانِ جنگ لکھی جانے والی ایک نظم کا ابتدائی شعر تو گویا زندہ شعر بن گیا کہ

'' شہیدوں کے لہو سے جو  زمیں سیراب ہوتی  ہے

بڑی زرخیز ہوتی ہے بہت شاداب ہوتی ہے

جہاں سے غازیانِ ملّتِ بیضاء گزرتے ہیں

وہاں کی کنکری بھی گوہرِ شب تاب ہوتی ہے ''

شاعرِ مزدور احسان دانش بھی دفاعِ وطن کے لئے میدانِ سخن میں '' علی  ' علی  '' کی صدائیں لگاتے چلے آئے اور محاذ پر موجود فوجی بھائیوں کے لئے پر جوش و پُر فکر اشعار تحریر کئے جنہیں لاہور ریڈیو پر سلیم رضا اور ساتھیوں نے گایا تھا ۔ اس نظم میں احسان دانش نے اگلی صف میں بڑھتی فوج کا  جہاںنقشہ کھینچا ہے تو وہاں قرآنی  آیت کہ اہلِ حق کا ایک فرد باطل کے ہزار پہ غالب ہے کو بطور تلمیح استعمال کیا ہے  :

'' تکبیر سے فضاء کو جگاتے ہوئے بڑھو

نعرہ علی علی کا لگاتے ہوئے بڑھو

تم میں سے ایک ایک ہے بھاری ہزار پر

دشمن کو فنِ جنگ دکھاتے ہوئے بڑھو

انگلی ہو لب لبی پہ تو کلمہ زبان پر

یوں عسکری کمال دکھاتے ہوئے بڑھو''

ملکہ ترنم نورجہاں کی آواز میں مرحوم جمیل الدین عالی کا نغمہ '' میرے نغمے تمہارے لئے ہیں '' تو گویا جنگِ ستمبر کی زندہ یادگار ہے  جسے میاں شہریار نے موسیقی کا لبادہ پہنایا تھا ۔ اس نغمہ میں عالی جی نے ایک بند تو گویا سخنوروں اور فنکاروں کی طرف سے آوازِ دل بناکر فوجی بھائیوں کو پیش کردیا کہ

'' تم پہ جو کچھ لکھا شاعروں نے ' اس میں شامل ہے آواز میری

اڑ کے پہنچو گے تم جس افق پر ساتھ جائے گی پرواز میری

قوم کے اے جری پاسبانو ! میرے نغمے تمہارے لئے ہیں ''

احمد ندیم قاسمی مرحوم نے بھی  وطن کے پاسبانوں کے لئے اپنا تمام سخن نذر کرتے ہوئے سلامِ عقیدت یوں پیش کیا  جسے لاہور ریڈیو پر استاد امانت علی خان اور اُن کے بھائی فتح علی خان نے ریکارڈکروایا تھا

'' وطنِ پاک کی عظمت کے سہارے تم ہو

مجھے خود اپنے نغموں سے بھی پیارے تم ہو

کتنے پامرد ہو تم 'کتنے جری 'کتنے کریم

مجھ سے پوچھو تو کہ دراصل تم ہو کتنے عظیم

ظرفِ ایثار کے تابندہ ستارے تم ہو

وطن ِ پاک کی عظمت کے سہارے تم ہو ''

ریڈیو پاکستان کراچی سے وابستہ معروف شاعر جناب مسرور انور صاحب جو اُس وقت نوجوان تھے انہوں نے 8 ستمبر کی شب بلیک آؤٹ میں اپنے پاسبان بھائیوں کے لئے جو الفاظ تحریر کئے وہ بھی ہمارے جنگی ادب کا عظیم شاہکار ہیں جسے سہیل رعنا صاحب کی دھن پر شہنشاہِ غزل مہدی حسن نے ریکارڈکروایا تھا ۔ یہ نظم صرف ایک نظم نہیں بلکہ عوام کی طرف سے افواجِ پاکستان کے لئے جذبات کا نذرانہ تھی کہ

'' اپنی جاں نذر کروں اپنی وفا پیش کروں

قوم کے مردِ مجاہد تجھے کیا پیش کروں ''

اس نغمے میں جہاں قوم کا احساس بھی بیان کیا ہے تو وہاں مسرور انور صاحب نے فوجی بھائیوں کی شجاعتوں کو اپنے سخن کا نیاحوصلہ اورجذبۂ تازہ بتاکر جنگی ادب میں خوب تراکیب استعال کیں کہ

'' دل میں پیدا کیا اک جذبۂ تازہ تو نے

میرے گیتوں کو نیا حوصلہ بخشا تو نے

کیوں نہ تجھ کو انہی گیتوں کی نوا پیش کروں''

مسرور انور صاحب دورانِ جنگ صدرِ مملکت جنرل ایوب خان مرحوم کی پہلی تقریر کو بھی سخن کا جامہ پہناتے ہوئے نظم تحریر کی جسے ریڈیو پاکستان کراچی پر تاج ملتانی اور ساتھیوں نے گایا تھا ۔ اس نظم کے اشعار کچھ یوں تھے کہ

'' یہ دس کروڑ انساں ملت کے نگہباں

سینوں میں گونجتا ہے ان کے خدا کا فرماں ''

جدید غزل کے نمائندہ شاعر جناب رئیس فروغ صاحب نے  پاک آسمانوں کے محافظوں کے لئے تاریخ کی پہلی نظم لکھی جسے کراچی ریڈیو پر تاج ملتانی اور ساتھیوں نے پیش کیا ۔ اس نظم میں شاہینوں کے لئے اقبال کی اصطلاح '' شاہیں بچّے'' بھی پا ک فضائیہ کے نوجوانوں کے لئے استعمال کی گئی تو بھارت کے لئے '' کوئے بُتاں'' کی ترکیب بھی دنیائے ادب کو ملی  !

'' شاہیں صفت یہ تیرے جواں اے فضائے پاک

ان غازیوں پہ سایہ فگن ہے خدائے پاک

ملّت کو کردیا ہے سرافراز مرحبا

یہ حوصلہ یہ عزم یہ اعجاز مرحبا

شاہیں بچوں کی جرأتِ پرواز مرحبا

کوئے بتاں میں گونج رہی ہے صدائے پاک ''

معروف شاعر جناب رئیس امروہوی نے بھی دورانِ جنگ اپنے سخن کے ہتھیار نذرِ محافظانِ وطن کئے جن میں لاہور اور اہلِ لاہور کے لئے اُن کے اس یادگار نغمے کو کون فراموش کرسکتا ہے جو انہوں نے ریڈیو پاکستان پر پروڈیوسر عظیم سرور صاحب کو ٹیلی فون پر فی البدیہہ ہی لکھوادیئے تھے اور جس کے نشر ہوتے ہی کراچی تا چاٹگام ارضِ داتا کے لئے نذرانۂ وطن گونج رہا تھا کہ

'' خطہ ٔ لاہور تیرے جانثاروں کو سلام

شہریوں کو، غازیوں کو، شہسواروں کو سلام''

رئیس امروہوی  لاہور کا فتح نامہ اپنی ایک نظم '' داتا کی نگری اے شہرِ لاہور میں بھی خوب بیان کیا کہ

'' بڑھتی ہے آگے فوجِ مظفر ' لہرائے پرچم سب مورچوں پر

رن چھوڑ بھاگے دشمن کے لشکر ' اللہ اکبر … اللہ اکبر ''

اسی طرح رئیس صاحب نے اپنی نظم '' فتحِ مبیں '' کو قرآنی احکام وتراکیب سے سجایا کہ

'' مسلم کی ہر اِک جنگ میں ہے امن کا عنواں

اِک ہاتھ میں تلوار ہے اِک ہاتھ میں قرآں

اے فوجِ خدا فتحِ مبیں دور نہیں ہے

اب فتحِ مبیں' فتحِ مبیں ' فتحِ مبیں ہے ''

یہ تینوں نغمات کراچی ریڈیو پر مہدی حسن خاں صاحب کی آواز میں استاد نتھو خاں اور پنڈت غلام قادر کی موسیقی میں تیار ہوئے تھے ۔

رئیس امروہوی کے بھائی جون ایلیا جنہیں چھوٹی بحروں میں باکمال غزل کا ملکہ حاصل تھا وہ بھی اس سخن کے محاذ میں کسی سے پیچھے نہ رہے اور انہوں نے بھی دورانِ جنگ کئی یادگار نغمے تحریر کئے جن میں تاج ملتانی اور ساتھیوں کی آوازوں میں '' صفیں درست رکھو حوصلے بلند رکھو '' نے دشمن کی سرزمین پر پیشقدمی کرتے فوجی بھائیوں کو نذرانہ پیش کیا تو احمد رشدی اور نگہت سیما کی آوازوں میں پاک بحریہ کے لئے پہلا ترانہ بھی انہی کا تحریر کردہ تھا جس کے بول کچھ یوں تھے کہ

فرمانروائے بحرِ عرب پاک بحریہ

بھارت میں تیرا نام ہے بے باک بحریہ

اس ترانے میں انہوں بھارتی بحریہ کے لئے '' جہازِ نخوتِ باطل کی ترکیب خوب استعمال کی کہ

بحرِ عرب کو تیرے سفینوں پہ ناز ہے

عظمت کے پُر جلال امینوں پہ ناز ہے

تیرے شناوروں کی جبینوں پہ ناز ہے

تو نے جہاز، نخوتِ باطل ڈبو دیا

کراچی کے ایک اور شاعر جناب حمایت علی شاعر صاحب کا تحریر کردہ ترانہ '' جاگ اٹھا ہے سارا وطن '' جو جنگ سے قبل فلم ''مجاہد'' کے لئے بنا تھا اس نے دورانِ جنگ  اتنی مقبولیت  حاصل کی کہ وہ جنگ کا نمائندہ ترانہ بن چکا تھا ، حمایت علی شاعر کے الفاظ میں جوشِ خطابت ذیادہ نمایاں ہے اسی لئے وہ اسی جوش میں لہو سے بھی پرچم بناتے نظر آتے ہیں ورنہ اب تک شعراء نے پرچم کے لئے آنچل کی ترکیب استعمال کی تھی ۔ ان کی نظم '' لہو'' جسے حبیب ولی محمد نے سہیل رعنا کی دھن پر ریکارڈ کروایا تھا  اس کے یہ اشعار ملاحظہ کیجیے کہ :

'' ہم اس لہو کا علَم بنالیں 'سنان و سیف و قلم بنالیں

وطن کو دے کر مقامِ کعبہ' اسی کو احرام ہم بنالیں

یہ خاک ماتھے پہ مل کے نکلیں' اسی کو جاہ و حشم بنالیں

وطن کے بیدار سورماؤ ! اٹھاؤ اپنا علَم اٹھاؤ''

بات جنگِ ستمبر اور فّن و سخن کی ہو تو ملکۂ ترنم نورجہاں اور صوفی غلام مصطفی تبسم کا ذکر نہ کیا جائے ایسا ناممکن ہے ۔ ملکۂ ترنم نورجہاں جو اُس وقت فلم انڈسٹری کی سب سے مہنگی گلوکارہ تھیں انہوں نے ٨ ستمبر کو ریڈیو پاکستان پہنچ کر بلامعاوضہ اپنی آوازکا مورچہ سنبھالا اور پنا فن نذرِ وطن کیا ۔ نورجہاں کے آتے ہی سٹیشن ڈائریکٹر شمس الدین بٹ صاحب نے ایک نوجوان پروڈیوسر محمد اعظم خان' پروفیسر غلام مصطفی تبسم' موسیقارسلیم حسین و اقبال حسین اور پروڈیوسر اسلام شاہ کے ساتھ ایک خصوصی کمیٹی بنادی جو اُن کی آواز میں ترانے ریکارڈ کررہی تھی۔ ملکۂ ترنم کی آواز میں پہلے دن ہی صوفی صاحب کا تحریر کردہ ترانہ ''میریا ڈھول سپاہیا تینوں رب دیاں رکھاں'' ریکارڈ ہوگیا ۔ اس کے بعد نورجہاں نے صوفی صاحب کے لکھے ہوئے '' ایہہ پتر ہٹاں تے نئیں وکدے '' اور '' کرنیل نی جرنیل نی'' جیسے عقیدت سے بھرپور ترانے بھی ریکارڈ کروائے جن کی تفصیل کے لئے ایک مکمل اور تفصیلی مضمون درکار ہے( جو '' ہلال '' کے لئے پہلے ہی پروڈیوسر جناب محمد اعظم خاں صاحب  سپردِ قلم کر چکے ہیں) ۔ سخن کے محاذ پر صوفی تبسم صاحب نے پنجابی کے ساتھ ساتھ اردو میں تینوں جہتوں پر مصروفِ ِ جہاد افواجِ پاک کے لئے بھی جذبات تحریر کئے جسے سلیم اقبال کی موسیقی میں ملکہ ترنم نے گایا تو وہ نغمہ بھی قلب و ذہن پر نقش ہوگیا۔ جس میں وطن کے محافظوں کو وطن کا حقیقی حکمران کہا گیا  ہے کہ

'' یہ ہواؤں کے مسافر ' یہ سمندروں کے راہی

میرے سربکف مجاہد ' میرے صف شکن سپاہی

یہ تیرا یقینِ محکم ' تیری ہمتوں کی جاں ہے

تیرے بازوؤں کی قوت تیرے عزم کا نشاں ہے

تو ہی راہ تو ہی منزل تو ہی میرِ کارواں ہے

تیرے پاؤں میں ہے قوت ' تیرے ہاتھ میں ہے شاہی ''

ملکہ ترنم نورجہاں نے دورانِ جنگ احسان دانش کی تحریر کردہ نظم بھی سلیم حسین و اقبال حسین ( سلیم اقبال) کی موسیقی میں اس انداز میں ریکارڈ کروائی جو جنگ زدہ ماحول میں فوجی بھائیوں کو آگے بڑھنے کا عزم دلاتے ہوئے کہہ رہی تھی :

''یہ دُور آگ نہیں روشنی ہے منزل کی

قدم ملا کے بڑھو ' اور علَم اٹھائے چلو

امیدِ فتح رکھو اور قدم بڑھائے چلو

عمل کے ساتھ مقدر کو آزمائے چلو''

 معروف نعت گو شاعر جناب مظفر وارثی مرحوم نے بھی دورانِ جنگ بیداریٔ وطن کے لئے اپنے مجاہدوں کو جو نظمیہ پیغام دیا اسے بھی ملکہ ترنم نورجہاں نے سلیم اقبال کی موسیقی میں ریکارڈ کروایا تو وہ بھی یادگار جنگی ترانہ بن گیا جس کے الفاظ کچھ یوں تھے :

جاگ اے مجاہدِ وطن

پھر پکارتی ہے تجھ کو زند گی

آگ پھر بھڑک اٹھی ہے ظلم کی

انتظار کب تلک ' کود اِس میں بے دھڑک

پھر بنا اسے چمن

فلمی گیتوں کے شاعر جناب تنویر نقوی کے الفاظ نے تو گویا جہاں فوجی بھائیوں کو جوش دلایا وہاں سننے والوں کی آنکھیں بھی عقیدت سے اشکبار کردیں ' یہ وہ ترانہ تھا جس کی ریہر سل کے دوران ہی ملکۂ ترنم کی آنکھیں اور لہجہ بار بار اشکبار ہورہا تھا جو اب بھی سننے والوں کو محسوس ہوسکتا ہے ۔ تنویر نقوی کی نظم اپنے اندر گہری معنویت  اور نئی تراکیب رکھتی ہے۔ جس میں مجاہدوں کے خون کے قطروں میں انہوں نے وقت کے کئی سورج اور ہر بوند میں نئی سحر دیکھی ہے کہ :

'' جس کے ہر قطرے میں خورشید کئی

جس کی ہر بوند میں اک صبح نئی

دُور جس صبحِ درخشاں سے اندھیرا ہوگا

رات کٹ جائے گی گُل رنگ سویرا ہوگا

رنگ لائے گا شہیدوں کا لہو ''

یہ نظم اردو کے ملّی ادب میں بھی ایک اعلیٰ پایہ کا سرمایہ ہے جس میں شامل اس شعر کا شمارنمائندہ اشعار میں ہوتا ہے کہ

'' خود بہ خود ٹوٹ کے گرتی نہیں زنجیر کبھی

بدلی جاتی ہے بدلتی نہیں تقدیر کبھی ''

اردو سخن میں فکری جوشِ خطابت رکھنے والے شاعر جناب جوش ملیح آبادی  بھی اس جنگ میں کیسے خاموش رہ سکتے  تھے انہوں نے بھی سخن کے محاذ پر اپنی نظم '' وارثانِ حیدر  خیبرشکن'' تحریر کی جو جوشِ خطابت کے ساتھ ساتھ فکر و فن کا بھی اعلیٰ نمونہ ہے جس میں گھمسان کی جنگ کی قسم کھا کر شاعر کہتا ہے کہ

'' قسم اس وقت کی جب زندگی کروٹ بدلتی ہے

ہمارے ہاتھ دنیا نئے سانچے میں ڈھلتی ہے

وطن کے نونہالو ! باندھ کر سر سے کفن آؤ

ادھر اے وارثانِ حیدرِ  خیبر شکن آؤ

شہادت جب رخِ گل رنگ سے گھونگھٹ اٹھاتی ہے

سرِ میداں حیاتِ زندگانی گنگناتی ہے ''

اس کے بعد جوش صاحب اپنے جوشیلے انداز میں خوب ترکیب استعمال کر کے اپنی نظم کا حاصلِ کلام شعر بھی کہتے ہیں کہ

''ہمارے دامنِ شمشیر سے مرہم ابلتا ہے

جہاں ہم پاؤں رکھ دیں چشمۂ زمزم ابلتا ہے ''

جنگِ ستمبر کے دوران لکھی جانے والی یہ نظم بعد میں پاک فضائیہ پر بننے والی فلم '' قسم اُس وقت کی'' کا عنوانی نغمہ بن گئی جسے سہیل رعنا کی طرز پر مجیب عالم نے گایا تھا  )

جنگِ ستمبر اور ہمارے قومی ادب و فن کا موضوع ایک طویل موضوع ہے کیونکہ اس جنگ میں نہ صرف ملک کے معروف شاعروں  نے کلام تحریر کئے بلکہ وہ افراد جو دشتِ سخن کے راہ نورد نہ تھے وہ بھی دل کی روشنائی سے اپنے کلام لے کر سخن کے محاذ پر آگئے بلکہ ٹھٹھہ کے  ایک ناخواندہ ماہی گیر بچے نے بھی اپنے جذبات کی ترجمانی ٹوٹے پھوٹے لفظوں میں کی ۔ یہی احساس تھا بیداریٔ وطن کا جو ہمارے قومی ادب و فن کا ایک روشن باب اور مستقل حصہ بن گیا ہے اور آج بھی جو ترانے نذرِ وطن ہوتے ہیں اُن میں وہی رنگ شامل ہے جو اُن سنہری دنوں میں شامل تھے ۔


مضمون نگار معروف صحافی اور محقق ہیں۔

[email protected]

 

Comments



Note: No comments!



Leave a Reply

Success/Error Message Goes Here
Note: Please login your account and then leave comment!
TOP