ستائیسویں رمضان، قیامِ پاکستان اور حیرت انگیز اتفاق

میں بار ہا لکھ چکا ہوں کہ انسان زندگی بھر سیکھتا رہتا ہے اور سیکھنے یا علم حاصل کرنے کا سلسلہ قبر تک جاری رہتا ہے۔ اس لئے علم و تحقیق کی دنیا میں کوئی بات حرفِ آخر نہیں ہوتی اور نہ ہی کوئی انسان کامل علم کے حصول کا دعویٰ کرسکتا ہے۔ میں ایک معمولی سا طالب علم ہوں اور ہر لمحہ سیکھنے کی آرزورکھتا ہوں۔ البتہ میں اس بات کا قائل ہوں کہ بحث یا تبادلۂ خیال علمی انداز میں اور تہذیب کے دائرے میں ہونا چاہئے اورتنقیص اورطنز سے بچنا چاہئے۔ تنقیص اور طنز سے علمی تکبر کا اظہار ہوتا ہے اور علم، تکبر نہیں سکھاتا بلکہ عاجزی سکھاتا ہے۔ صرف اقتدار، اختیار، دولت ،عہدے اور شہرت ہی تکبر میں مبتلا نہیں کرتے، میںنے لوگوں کو ''علم'' کے تکبر میں بھی مبتلا دیکھا ہے۔

 

سوال یہ ہے کہ پاکستان کس دن معرضِ وجود میں آیا؟ میں اپنی بات بعد میں کروں گا۔ پہلے دو معتبر حوالے دے لوں۔ اگرچہ ایسے حوالوں کی تعداد سیکڑوں میں ہے۔ اس سلسلے میں نہایت معتبر کتاب :''پاکستان کرونیکل'' مرتبہ عقیل عباس جعفری ہے۔ جس میں پاکستان کے حوالے سے ہزاروں بنیادی دستاویزات  جمع کردی گئی ہیں۔ اس لحاظ سے یہ کتاب پاکستان کی روز مرہ کی تاریخ کی معتبرکتاب ہے۔ اس کتاب کے صفحہ نمبر 1 پر قائدِاعظم کو 14اگست1947کو دستور ساز اسمبلی سے خطاب کرتے دکھایا گیا ہے، سٹیج پر ہندوستان کے آخری وائسرائے مائونٹ بیٹن بیٹھے ہیں۔ حکومت برطانیہ کی جانب سے 14اگست، بروز جمعرات، صبح نو بجے دستور ساز اسمبلی کے خصوصی اجلاس میں مائونٹ بیٹن نے آزادی اور انتقالِ اقتدار کا اعلان کیا۔ قیامِ پاکستان کے لئے مڈنائٹ (Midnight)کا وقت طے ہوا تھا۔ پاکستان کرونیکل کے صفحہ نمبر1 کے بہ مطابق ''14 اور 15اگست کی درمیانی شب مطابق27 رمضان المبارک 1366ھ، رات ٹھیک بارہ بجے دنیا کے نقشے پر ایک آزاد اور خود مختار اور دنیائے اسلام کی سب سے بڑی مملکت کا اضافہ ہوا، جس کا نام 'پاکستان' ہے''

 

آزادی کا اعلان صبح دستور ساز اسمبلی میں ہوچکا تھا۔ پاکستان کے پرچم کی منظوری دستور سازاسمبلی سے12 اگست کو لی جاچکی تھی۔ چنانچہ کراچی میں14 اگست کو قائدِاعظم قومی پرچم لہرانے گئے تو مولانا شبیر احمد عثمانی کوساتھ لے گئے اور اُنہی سے پرچم کشائی کی رسم ادا کروائی۔قائدِاعظم کے حکم پر ڈھاکہ میں مولانا اشرف علی تھانوی کے خواہر زادے مولانا ظفراحمد عثمانی نے پاکستان کا پرچم لہرانے کااعزاز حاصل کیا۔ اس کا ذکر بھی اس کتاب کے پہلے ہی صفحے پر موجود ہے۔ مقصد یہ کہ آزادی اور انتقالِ اقتدار کا اعلان اور پاکستان کے پرچم لہرانے کی رسم 14 اگست کو ہوئی اور14 اگست کے دن 26 رمضان تھا۔ دوپہر2 بجے مائونٹ بیٹن دہلی روانہ ہوگئے، جہاں اُسی رات 12 بجے بھارت کی آزادی کے اعلان کے ساتھ اُنہیں گورنر جنرل کا منصب سنبھالنا تھا۔

 

اس کتاب کے صفحہ 2 پر ریڈیو پاکستان کی تصاویر کے ساتھ لکھا ہے : ''15-14اگست کی درمیانی شب لاہور، پشاور اور ڈھاکہ کے ریڈیو سٹیشنوں سے رات گیارہ بجے آل انڈیا ریڈیو سروس نے اپنا آخری اعلان نشر کیا۔12 بجے سے کچھ لمحے پہلے ریڈیو پاکستان کی شناختی دھن بجائی گئی اور ظہور آذر کی آواز میں انگریزی زبان میں اعلان گونجا کہ آدھی رات کے وقت پاکستان کی آزاد و خودمختار مملکت وجود میں آئے گی۔ رات کے ٹھیک 12 بجے پہلے انگریزی اورپھر اُردو میں یہ الفاظ گونجے: ''یہ پاکستان براڈ کاسٹنگ سروس ہے۔'' فوراً بعد مولانا زاہر القاسمی نے قرآن مجید کی سورة فتح کی آیات تلاوت فرمائیں۔15اگست کو جمعة الوداع تھا۔ اُسی دن پاکستان کا پہلا سرکاری گزٹ شائع ہوا۔ اُسی روز جمعة الوداع کے حوالے سے قائدِاعظم کا پیغام جاری ہوا۔  15 اگست کو ستائیسویں رمضان تھی۔ چنانچہ 15-14 اگست کی درمیانی شب ''لیلة القدر'' تھی۔

 

ان ایام اور تاریخی لمحات کے ایک عینی شاہد سید انصارناصری صاحب ہیں جو ریڈیو سروس سے وابستہ تھے۔ انہوںنے 3 جو ن تقسیمِ ہند کا اعلان کے بعد قائدِاعظم کی تقریر کا اُردو ترجمہ اپنی زبان میں نشر کیا اور تقریر کے آخر میں پاکستان زندہ باد کا نعرہ لگایا۔11اگست سے لے کر14اگست1947 تک وہ قائداعظم کی تقریروں کے تراجم ریڈیو سے نشر کرتے رہے۔ وہ اپنی کتاب ''پاکستان زندہ باد'' کے صفحہ نمبر198 پر لکھتے ہیں:''رمضان المبارک برکتوں اور رحمتوں کا مہینہ ہے۔ نزولِ قرآن پاک کی مقدس رات لیلة القدر کی نورانی صبح  جمعة الوداع کا مقدس دن، ایسا قران السعدین تھا، جب رب ذوالجلال والاکرام نے اپنے محبوب  اورمکرم نبی حضرت محمد مصطفیۖ کے طفیل ان کے کروڑوں امتیوں کو جذبۂ ایمانی اور مثالی اتحاد و برکت سے ، پاکستان کی وسیع و عریض اسلامی مملکت کی عظیم نعمت عطا فرمائی۔''

 

بلاشبہ پاکستان کی دستور ساز اسمبلی میںآزادی کا اعلان 14 اگست کو ہوا، اُسی روز پاکستان کے پرچم سرکاری طور پر لہرائے گئے اور 15-14 اگست کی نصف شب پاکستان کا قیام عمل میں آگیا۔ چنانچہ پہلا یومِ آزادی 15 اگست کو منایا گیا۔ رمضان المبارک کی آخری راتیں قرآن مجید کے نزول کے حوالے سے اہم اور مقدس ہیں۔ رہا لیلة القدر کا مسئلہ تو وہ ستائیسویں رمضان کے ساتھ منسلک نہیں۔ اس خاص اور مقدس رات کے حوالے سے تمام احادیث کا مفہوم ہے کہ حضور نبی کریم ۖ  نے فرمایا کہ اسے رمضان کے آخری عشرے کی طاق راتوں میں تلاش کرو اور رات بھر عبادت کرو۔ پاک و ہند میں لیلة القدرکو27 ویں رمضان  کے ساتھ وابستہ کر لیا گیا ہے جو صحیح نہیں ہے۔ یہ درست ہے کہ بھارت بھی اُسی رات آزاد ہوا۔ لیکن کیا بھارت مسلمان ملک ہے؟ اسلام کے نام پر قائم ہوا ہے؟ کیا بھارت رمضان ، ستائیسویں رمضان اور نزولِ قرآن کے تقدس کو سمجھتا ہے؟ 15-14اگست47ء کی شب بہت سے واقعات ہوئے ہوں گے، لیکن ہم بات کررہے ہیں پاکستان کی جسے قائدِاعظم نے پریمیئر اسلامی ملک  اور عالمِ اسلام کا حصار (Fortress) قرار دیا تھا۔ بھارت تو پہلے سے موجود تھا۔ بھارت کو تقسیم کرکے دنیا کے نقشے پر جو نیا ملک اُبھرا اور معرضِ وجود میں آیا، اُس کا نام ' پاکستان ' ہے۔ یہ بہر حال  ایک تاریخی، منفرد اور عظیم الشان کارنامہ تھا جو اﷲ سبحانہ وتعالیٰ کی رحمت سے سرانجام دیا گیا۔ اسی لئے میرے درویش استاد  بزرگ پروفیسر مرزا منور کہا کرتے تھے کہ پاکستان پر اﷲ پاک کی رحمت کا سایہ ہے۔ میرے محترم کرم فرما ڈاکٹر اسرار احمد کہا کرتے تھے کہ ''پاکستان اﷲ پاک کا انعام ہے'' وہ قرآنِ حکیم کی ایک آیت کا حوالہ دے کر کہا کرتے تھے کہ جب انعامِ الٰہی کی قدر نہ کی جائے تو سزا بھی ملتی ہے۔ یہ اپنے اپنے نقطۂ نظر، احساسات اور تصورات کا معاملہ ہے،جس سے سب کا متفق ہونا ضرور ی نہیں۔

 

مجھے پروفیسر مرزا محمدمنور مرحوم ماہرِاقبالیات اور ماہرِ تحریکِ پاکستان اور قائداعظم  کے الفاظ یاد آرہے ہیں جو انہوںنے اپنی کتاب ''حصارِ پاکستان'' کے صفحہ نمبر194 پر لکھے: ''لاکھ لاکھ شکر اس خدائے مہربان کا جس نے اولادِآدم کی دائمی ہدایت کے لئے قرآن الفرقان ،ماہِ رمضان کی آخری متبرک راتوں میں سے ایک میں نازل کرنا شروع کیا، اسی طرح لاکھ لاکھ شکر خدائے رحمن کا جس نے رمضان ہی کے ماہ مبارک کی آخری مقدس راتوں میں سے ایک میں امتِ مسلمہ کو پاکستان عظیم الشان کی نعمتِ مترقبہ سے نوازا۔''

 

کچھ حضرات ابہام پیدا کرنے کے لئے یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ 14 اگست1947کو27واں روزہ تھا۔ اس لئے13اور14 اگست کی درمیانی شب لیلة القدر تھی۔ ریکارڈ کی درستی اور تاریخِ پاکستان کو مسخ ہونے سے بچانے کے لئے عرض کررہا ہوں کہ آپ کراچی سے شائع ہونے والا ڈان کا پہلا پرچہ دیکھ لیں۔ جو15 اگست1947 کو شائع ہوا۔ اس کی پیشانی پر15اگست1947 کے ساتھ  واضح طور پر 27رمضان المبارک چھپا ہوا ہے۔ میں نے مزید تصدیق کے لئے لاہور سے شائع ہونے والا پاکستان ٹائمز بھی دیکھا۔ اس کی پیشانی پر بھی15 اگست1947 کے ساتھ27 رمضان المبارک چھپا ہوا ہے۔ چنانچہ اس میں کوئی شبہ نہیں کہ جب15 اگست کو پاکستان معرضِ وجود میں آیا تو اُس روز ستائیسویں رمضا ن المبارک تھی اور جس رات پاکستان کے قیام کا اعلان ہوا، وہ لیلة القدر تھی۔ خود قائدِاعظم نے اپنے پیغام برائے پاکستان براڈ کاسٹنگ سروس مورخہ 15 اگست1947 میں کہا کہ پاکستان 15 اگست کو معرضِ وجود میں آیا۔

 

سوال یہ ہے کہ ہم نے پہلا یومِ آزادی 15 اگست1947 کو منایا تو پھر 14 اگست کو یومِ آزادی منانے کا فیصلہ کیونکر ہوا؟ سرکاری ریکارڈ کے مطابق پاکستان کی مرکزی کابینہ نے وزیرِاعظم لیاقت علی خان کی زیرِ صدارت29 جون 1948 کو فیصلہ کیا کہ آئندہ پاکستان کا یومِ آزادی 14اگست کو منایا جائے گا۔ یہ فیصلہ کیونکر ہوا، کس وزیر کی تجویز تھی؟ یہ معلوم نہیں ہوسکا لیکن بظاہر مقصد پاکستان کے یومِ آزادی کو ہندوستان کے یومِ آزادی سے الگ رکھنا تھا۔ پاکستان کی دستور ساز اسمبلی میں14اگست کو ہندوستانی وائسرائے اور برطانوی حکومت کا نمائندہ مائونٹ بیٹن پروانۂ آزادی دے گیا تھا اور پاکستان کے پرچم بھی لہرا دیئے گئے تھے۔ چنانچہ 14 اگست کو بھی یومِ آزادی منانے کا جواز موجود تھا۔ بہرحال کابینہ کے اس فیصلے کی منظوری جولائی1948 میں گورنر جنرل قائداعظم محمدعلی جناح  سے لی گئی اور پھر اس حوالے سے سرکاری طور پر ہدایات جاری کردی گئیں۔

 

میری گزارش ہے کہ ہمارے لئے ستائیسویں رمضان بہت اہم اور مقدس ہے۔ کیا ہی اچھا ہو کہ ہم14 اگست کے ساتھ ساتھ27ویں رمضان المبارک کو بھی ذہن میں رکھیں اور نئی نسلوں کو بھی اس تاریخی حقیقت سے آگاہ کریں کیونکہ ستائیسویں رمضان کے ذکر سے قوتِ ایمانی کو تقویت ملتی ہے اور پاکستان کے مستقبل پر اعتماد میں اضافہ ہوتا ہے۔

 

ایک اور حیرت انگیز اور قابلِ غور پہلو یہ ہے کہ بعض اوقات تاریخی حقائق کے پس پردہ قدرت اپنا ہاتھ دکھاتی اور ہمیں کچھ سمجھاتی ہے لیکن ہم آسانی سے سمجھنے والے نہیں۔ بہر حال آپ غور کریں اور تھوڑی سی تحقیق کریں تو آپ حیرت زدہ رہ جائیں گے۔ مثلاً یہ کہ قائداعظم کا انتقال 11 ستمبر1948 کو ہوا۔ 1948 سے لے کر آج تک پاکستان کا یومِ آزادی، قائداعظم کا یومِ ولادت، قائداعظم کا یومِ وفات اور قائداعظم کے دست راست لیاقت علی خان کے یومِ شہادت کادن ایک ہی ہوتا ہے۔ آپ کی سہولت کے لئے اور بات سمجھانے کے لئے گزشتہ چند برسوں کا چارٹ پیش خدمت ہے جس سے یہ نکتہ واضح ہو جائے گا۔ آپ چاہیں تو جنتری سامنے رکھ کر 1948 سے لے کر 2018 تک کا نقشہ تیار کرلیں تو آپ پر راز کھلے گا کہ قائداعظم اور پاکستان ایک دوسرے کے لئے لازم و ملزوم تھے اور ہر سال قائداعظم کا یومِ پیدائش، یومِ وفات، یوم پاکستان اور نواب زادہ لیاقت علی خان کا یومِ شہادت (16 اکتوبر) ایک ہی دن ہوتا ہے۔ اگر قدرت قائدِاعظم کا یومِ وفات 12 ستمبر1948 طے کر دیتی تو یہ نقشہ نہ بن سکتا تھا اور وہ یوم مختلف ہو جاتا ۔ میںنے صرف اپنی بات کی وضاحت کے لئے چند برسوں کا نقشہ بنایا ہے جو درج ذیل ہے۔

 

مجھے پاکستانیت کا یہ پہلو نہایت دلچسپ اور حیرت انگیز لگا۔ اس لئے آپ کی خدمت میں پیش کر دیا۔ میرے مطالعے کے مطابق عالمی تاریخ میں ایسی مثالیں کم کم ملتی ہیں۔ یہ حسنِ اتفاق بھی ہوسکتا ہے، تاریخ کا حادثہ بھی اورقدرت کی رمز بھی، لیکن یاد رکھیں کہ جسے ہم حُسن اتفاق کہتے ہیں، اس اتفاق کے حسن کو سنوارنے میں بھی قدرت کا ہاتھ ہوتاہے۔ یہ اتفاقات غور کرنے کے لئے سامان ِ فکر ہوتا ہے بلکہ سطحی نظر کے لئے سامانِ شوق۔ آپ اسے محض اتفاق سمجھیں یا قدرت کی رمز، آپ کی مرضی، میں اسے قدرت کی رمز سمجھتا ہوں اور رضائے الٰہی کا ایک اشارہ۔


مضمون نگار ممتاز محقق اور دانشور ہیں۔ ایک قومی اخبار میں کالم لکھتے ہیں اور متعدد کتابوں کے مصنف ہیں۔ پاکستانیات کے حوالے سے وہ ایک مستند شناخت رکھتے ہیں۔

[email protected]

Comments



Note: No comments!



Leave a Reply

Success/Error Message Goes Here
Note: Please login your account and then leave comment!
TOP