ذرا کینیڈا تک۔۔۔۔

زندگی رواروی کا نام ہے۔اس کے اَن گنت رنگ ہیں۔ خوشیوں بھرا وقت گزرتے پتہ نہیں چلتا جبکہ مشکل وقت لگتا ہے سِرکتا ہی نہیں۔ ابتداء میں جب ہم کینیڈا آئے تھے تو وقت نہیںکٹتا تھا، ایک پل ایک سال جتنا لگتا تھا۔ محسوس ہوتا تھا کہ ہمارا دم گھٹ جائے گا، یا ہم بس ابھی چکراکے گرجائیں گے۔ وطن سے دوری، اپنوں سے دوری ہمیں مارے ڈالتی تھی۔ اسی باعث فوراً بھاگ بھاگ کے واپس آجاتے تھے۔  پھر جی کڑا کیا، ہمت کی اور اپنے اُکھڑے ہوئے دل کو پردیس میں لگانے کی کوشش کی۔ جیسے جیسے ہمیں کینیڈا کے سسٹم کی، یہاں کے قوانین کی، یہاں کے طرزِ زندگی کی سمجھ آتی جارہی ہے ، حیات آسان ہوتی جارہی ہے۔ جب تک آپ اس سسٹم سے باہر ہوتے ہیں، مشکل پیش آتی ہے مگر جب آپ خود اس کا حصہ بن جائیں تو راحت محسوس ہوتی ہے۔نئی جگہ سیٹ ہونا مشکل ہے، نہ راستوں کا علم ہوتا ہے نہ کسی چیز کا پتہ ہوتا ہے۔ جیسے جیسے معلومات بڑھتی ہیں، لوگوں سے روابط بڑھتے ہیں، معاشی آسودگی میسر آتی ہے تو زندگی از خود اپنا راستہ بنا لیتی ہے۔ آرام دہ رہائش ، عمدہ گاڑی اور معقول نوکری یہ تین چیزیں اگر ہوں تو بس سمجھئے تمام مسائل حل۔ ویسے بظاہر تو یہ تین چیزیں اتنی مشکل نہیں لگتیں لیکن نئے آنے والوں کے لئے اُن کا حصول اتنا آسان بھی نہیں۔ بس ایک بار آپ سیٹ ہو جائیں تو پھر سکون ہے۔ رہائش کے لئے مناسب جگہ تلاش کرنا ہو تو آپ کے پاس دو ریفرنس ہونے چاہئیں۔ کرایہ پر مکان، فلیٹ یا Basement حاصل کرنے کے لئے دو چیزیں لازمی ہیں۔ اول اپنی آمدنی کا ثبوت اور دوم ریفرنس، اس کے علاوہ مالک مکان آپ سے ایسے سوالات کرے گا جیسے نوکری کے لئے انٹر ویو ہو۔ ایک تو جس طرح پراپرٹی کی قیمت دوسال میں تین گنا، چار گنا بڑھ گئی ہے اسی طرح کرایہ بھی بڑھ گیا ہے۔ ونکوور میں رہائش بہت زیادہ مہنگی ہے۔ اب سواری کا مسئلہ یعنی گاڑی، تو اس کا بیان یوں ہے کہ کینیڈا میں ڈرائیونگ لائسنس حاصل کرنا دودھ کی نہر کھودنے کے مترادف ہے۔

 

 

مرے خدا مرے لفظ و بیاں میں ظاہر ہو

اسی شکستہ و بستہ زباں میں ظاہر ہو

 زمانہ دیکھے میرے حرفِ بار یاب کے رنگ

گلِ مرادِ ہنر دشتِ جاں میں ظاہر ہو

میں سرخرو نظر آئوں، کلام ہو کہ سکوت

تری عطا مرے نام و نشاں میں ظاہر ہو

مزہ تو جب ہے کہ اہلِ یقین کا سرِّکمال

ملامتِ سخن گُمرہاں میں ظاہر ہو

گزشتگانِ محبت کا خوابِ گم گشتہ

عجب نہیں شبِ آئندگاں میں ظاہر ہو

بس حجاب ہے اِک شہسوارِ وادیٔ نور

کسے خبر اسی عہدِ زیاں میں ظاہر ہو

                                (افتخار عارف۔ کتاب دل و دنیا)

 

سمجھوتہ

''زندگی میں ایک چیز ہوتی ہے جسے کمپرومائز کہتے ہیں۔۔۔ پُرسکون زندگی گزارنے کے لئے اس کی بہت ضرورت پڑتی ہے۔۔۔ جس چیز کو تم بدل نہ سکو اُس کے ساتھ کمپرومائز کرلیا کرو، مگر اپنی کسی بھی خواہش کو کبھی بھی جنون مت بنانا، کہ زندگی میں کچھ چیزیں ایسی ہوتی ہیں جو ہمیں کبھی نہیں مل سکتیں۔۔۔ چاہے ہم روئیں یا بچوں کی طرح ایڑیاں رگڑیں۔۔ وہ کسی دوسرے کے لئے ہوتی ہیں۔۔۔  مگر اس کا یہ مطلب نہیں کہ زندگی میں ہمارے لئے کچھ ہوتا ہی نہیں۔۔ کچھ نا کچھ ہمارے لئے بھی ہوتا ہے۔۔۔''      

(عمیرہ احمد کے ناول امربیل سے)

 

ڈرائیونگ لائسنس حاصل کرنے کے لئے کئی مراحل سے گزرنا پڑتا ہے۔ بہت دشوار ٹیسٹ دینے پڑتے ہیں، تب کہیں جا کر یہ ملتا ہے۔ پہلے تو ذرا یہ سمجھ لیں کہ اگر آپ پاکستان میں گاڑی چلاتے رہے ہیں تو اپنا پاکستانی ڈرائیونگ لائسنس دفتر میں جمع کرائیں۔ اس کی  پہلے تصدیق ہوگی جس میں کافی عرصہ لگے گا۔ اگر پرانا لائسنس نہیںتو آپ کو صفر سے شروع کرنا پڑے گا، یعنی گاڑی چلانے کے لئے بہت پاپڑ بیلنے پڑتے ہیں۔ ڈرائیونگ کے ٹیسٹ بھی کئی ہیں۔ سب سے پہلے تو نالج ٹیسٹ دیں جو آن لائن ہوتا ہے، جب یہ کلیئر ہو جائے تب روڈ ٹیسٹ کی باری آتی ہے۔ روڈ ٹیسٹ میں 95 فیصد لوگ فیل ہو جاتے ہیں بلکہ اس سے بھی زیادہ بہت سے لوگ ایسے ہیں جو پاکستان میں بیس بیس سال گاڑی چلاتے رہے مگر یہاں کینیڈا میں روڈ ٹیسٹ میں فیل ہوگئے۔ کئی بار ٹیسٹ دیئے مگر ہر بار ناکام ہو کر آخر ہمت ہار بیٹھے۔ ڈرائیونگ لائسنس اگر خوش قسمتی سے مل ہی گیا تو پھر گاڑی کی انشورنس ایک اور بھاری پتھر ہے۔ اور وہ یوں کہ برٹش کو لمبیا یعنی جس صوبے میں ہم رہتے ہیں وہاں گاڑیوں کی انشورنس  کی صرف ایک ہی کمپنی ہے اور وہ اتنی مہنگی کہ الامان و الحفیظ۔ گاڑیاں تو خیر مہنگی ہیں مگر چونکہ قسطوں پر مل جاتی ہیں لہٰذا وہ اتنی تکلیف کا سبب نہیں جتنی انشورنس کی رقم ہر مہینے کٹتی ہے۔ ایسا نہیں کہ بغیر انشورنس گاڑی چلالیں، یہ ممکن نہیں ہے۔ انشورنس کے بغیر گاڑی کی نمبر پلیٹ نہیں ملے گی۔ ہر سال انشورنس کی تجدید بھی کرانا پڑتی ہے۔ قصہ مختصر گاڑی رکھنا بہت  مشکل کام ہے۔ اب تیسر امرحلہ روزگار کا ہے۔ تو اس بارے میں عرض یہ ہے کہ یہاں کمپنی آپ سے لوکل تجربے کی متقاضی ہوتی ہے، اپنے وطن میں بھلے آپ تیس مار خان ہوں۔ یہاں کینیڈا میں کیا لکھا پڑھا ہے وہ قابلِ توجہ ہے بس۔اسی باعث لوگ سب سے پہلے آکر یہاں کی یونیورسٹی سے اپنی تعلیمی اسناد کی Evaluation کرواتے ہیں پھراپنے آپ کو اَپ ڈیٹ کرتے ہیں، یونیورسٹی، کالج میں داخلہ لے کر پڑھائی کرتے ہیں۔ پھر اپنے متعلقہ شعبے میں نوکری حاصل کرسکتے ہیں۔ اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اس سارے عرصے میں بندہ کرایہ کہاں سے دے، کہاں سے کھائے، کیا کرے؟ یہی وہ مسائل ہیں جن سے گھبرا کے لوگ واپس لوٹ جاتے ہیں۔ عمومی طور پر دیکھا یہ گیا ہے کہ ایک بندے کو سیٹ ہونے میں یعنی زندگی کے دھارے میں شامل ہونے کے لئے کم از کم ڈھائی تین سال لگ جاتے ہیں۔ تین سال کے بعد ہر چیز جیسے آٹو میٹک ہو جاتی ہے مگر یہ ابتدائی تین سال کافی مشکل ہوتے ہیں۔ ہم اﷲ تعالیٰ کے شکر گزار ہیں کہ ہمیں ان مسائل سے واسطہ نہیں پڑا اور الحمدﷲ ہمارے لئے آسانی رہی۔

 

جن لوگوں کے قریبی عزیز و اقارب پہلے سے یہاں موجود ہوں اُن کے لئے نسبتاً سہولت رہتی ہے۔ انہیں رہنمائی مل جاتی ہے کہ کیا کرنا ہے، کیسے رہنا ہے، کیسے کماناہے؟ نئے آنے والوں کے لئے یہاں کے سسٹم کو سمجھنا مشکل ہے۔ یہاں ہر چیز کے لئے سخت قوانین ہیں جن پر عمل بھی سختی سے ہوتا ہے۔ قوانین کو جاننا، ان پر عمل پیرا ہونا، اپنے ماحول اور اطراف کو سمجھنا، ان سب کے لئے آپ کو مخلص دوست کی ضرورت ہوتی ہے جو آپ کو ان سے آگاہ کرسکے۔ لیکن یہ آگہی بھی دو تین دن یا ہفتوں میں نہیں ہوسکتی۔ جیسا کہ ہم نے بالائی سطروں میں تحریر کیا کہ اس اجنبی سرزمین پر کم از کم دو تین سال لگتے ہیں صرف آگہی کے لئے۔

 

کینیڈا میں آتے ہی چند باتوں کا خیال رکھناضروری ہے۔ اول اپنا کریڈٹ کارڈ ، پھر ڈرائیونگ لائسنس اور انکم ٹیکس ریٹرن۔ کریڈٹ کارڈ ہونا ضروری ہے۔ یہاں لوگ رقم جیب میں لے کرنہیں پھرتے، چھوٹی سے چھوٹی چیز ہو یا مہنگی سے مہنگی ادائیگی کارڈ کے ذریعے ہی ہوتی ہے۔ کریڈٹ کارڈ ٹھیک ہونا لازمی ہے یعنی کہ کریڈٹ ہسٹری اچھی ہونی چاہئے۔ اسی بنیاد پر Mortage منظور ہوتی ہے۔ اگر کریڈٹ کارڈ ہسٹری خراب ہو یعنی اگر مطلوبہ رقم کی ادائیگی وقت پر نہ کی گئی تو بس ریکارڈ خراب ہوگیا اور پھر Mortage نہیں ملتی۔

 

ڈرائیونگ لائسنس آپ کا شناختی کارڈ ہے، اس کے نمبر کے ذریعے متعلقہ شخص کی پوری تفصیل سامنے آجاتی ہے۔ ڈرائیونگ لائسنس کی اہمیت پاسپورٹ جتنی ہے اسےPrimary identity کہتے ہیں، یعنی بنیادی شناخت، پاسپورٹ، PR  کارڈ،  ڈرائیونگ لائسنس یہ سب پرائمریID ہیں۔ اس پر حامل کی تصویر، تاریخ پیدائش، پتہ درج ہوتا ہے۔ اسے ہمیشہ اپنے ساتھ رکھنا پڑتا ہے۔ نئے ڈرائیونگ لائسنس میں یہ جدت پیدا کی گئی ہے کہ ایک جانب سے وہ ڈرائیونگ لائسنس ہے اور دوسری جانب سے ہیلتھ کارڈ۔ ہیلتھ کارڈ سیکنڈری ID ہے، اگر الگ سے ہو تو اس پر ہیلتھ نمبر درج ہوتا ہے، ہیلتھ نمبر کے ذریعے ہی آپ کو تمام میڈیکل ہسٹری معلوم ہوتی ہے۔

 

پبلک ہائوس میں داخلے، سگریٹ کی ڈبیہ خریدنے کے لئے ڈرائیونگ لائسنس کارڈ دکھانا پڑتا ہے۔یہ اس لئے کہ صحیح عمر کا پتہ چل سکے کیونکہ کم عمر لوگوں کے لئے مے نوشی یا سگریٹ نوشی ممنوع ہے۔

اب کچھ بات ہو جائے انکم ٹیکس ریٹرن پر۔ کینیڈا میں آتے ہی ریٹرن فائل کرنا لازمی ہے، بھلے آمدنی ہو یا نہیں لیکن فائل ضرور کریں۔ بغیر انکم ٹیکس ریٹرن فائل کئے آپ کچھ نہیں کرسکتے۔ یہاں ہر ایک محکمہ دوسرے سے تعلق رکھتا ہے۔ ریونیو، ہیلتھ، ڈرائیونگ لائسنس سب جُڑے ہوئے ہیں۔ انکم ٹیکس نہ بھرنا کیا ہوتا ہے، یہ کسی کو نہیں معلوم۔ کیونکہ سسٹم ایسا ہے کہ کوئی بھی اس دائرے سے باہر نہیں۔  اب یہ بھی خوب ہے کہ یہاں کا وزیرِاعظم ہو یا عام آدمی، سب کی تنخواہ کا حساب کتاب ہوتا ہے، ایسا نہیں کہ وزیر مشیر انکم ٹیکس نہ دیں اور غریب آدمی کا خون چوس لیا جائے۔

 

کینیڈا میں ہر شخص کو ایک نمبر حکومت کی طرف سے ملتا ہے جس کو سوشل انشورنس نمبر کہتے ہیں۔ اس نمبر کے ذریعے حکومت کے پاس ہر ایک کی آمدنی کا ریکارڈ ہوتا ہے۔ جو کوئی بھی کہیں بھی ملازمت کرتا ہے، اس کا سوشل انشورنس نمبر ادارے کے پاس ہوتا ہے جس میں ہر بار ملنے والی تنخواہ کے چیک کا ریکارڈ رہتا ہے۔ ادارہ جب اپنا انکم ٹیکس ریٹر ن فائل کرتا ہے تو ریکارڈ میں موجود ہوتا ہے کہ کتنے ملازمین کو کتنی رقم کی ادائیگی ہوئی۔ اس طریقہ کار سے گھوسٹ ملازمین کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ ویسے تو یہاں کے سرکاری محکموں میں گھوسٹ ملازمین نہیں ہیں اور اگر کوئی چاہے بھی تو ایسا نہیں کرسکتا کیونکہ سسٹم اتنا شفاف ہوتا ہے کیا بیورو کریسی یا منسٹر صاحب خود، کوئی بھی بے ایمانی نہیں کرسکتا۔ کوئی کتنا ہی بڑا توپ منسٹر کیوں نہ ہو وہ کسی کو نوکری نہیں دلوا سکتا۔ مطلب یہ کہ اپنے بھائی بندوں کو سرکاری عہدوں پر نہیں لگوا سکتا۔ ان کو گھر بیٹھے تنخواہ بھی نہیں دلوا سکتا۔ کوئی بھی بغیر میرٹ کے کہیں فٹ نہیں ہوسکتا۔ سفارش کی پرچی یا فون کا یہاں کوئی تصور نہیں۔ عوام کے ٹیکس کے پیسوں سے تنخواہ پانے والے حکومت کے عہدیدار، عوام کے آگے اپنے ہر عمل کے جوابدہ ہیں۔

 

ایک اچھی بات یہاںیہ ہے کہ ماہانہ تنخواہ کے بجائے فی گھنٹہ کے حساب سے رقم ملتی ہے اور وہ بھی چیک کی صورت میں۔ ہر دو ہفتے کے اندر ایک چیک ملتا ہے جس میں جتنے گھنٹے کام کیا ہو اتنے ہی پیسے ملتے ہیں۔ اس سے ایک فائدہ تو یہ ہے کہ کوئی دونمبری نہیں کرسکتا، دوم کسی پر بوجھ نہیں پڑتا۔ ایسا نہیں کہ کینیڈا میں کوئی دفتر میں11 بجے آرہا ہے کوئی 12بجے، لنچ ٹائم پہ دو تین گھنٹے غائب پھر 5 بجے سے پہلے گھر چلے جانا، یہ سب یہاں نہیں ہوتا۔ دفتر میں صبح بیٹھ کر اخبار پڑھنا، پھر چائے پینا، پھر فون پر گپیں لگانا، یہ بھی یہاں نہیں ہوتا۔ یہاں اگر دفتر ٹائم 9 بجے ہے تو9 بجے سے پہلے دفتر پہنچنا ہوگا۔ 9 بجے کام شروع کرنا ہوگا۔ اپنی کافی خود بنانی ہوگی۔ اپنا بریف کیس بھی خود اٹھانا ہوگا، کوئی ڈرائیور نہیں ملتا، یہاں خود ٹرین میں بیٹھ کے جانا ہوگا یا اپنی گاڑی چلا کر ٹائم پر پہنچنا ہوگا۔ پارکنگ لاٹ میں گاڑی کھڑی کرنے کے پیسے بھی دینے ہوں گے۔ دفتری میٹنگ میں کیک پیسٹریاں یہاں کوئی نہیں اُڑاتا۔ ہرکوئی حق حلال کی کھاتا ہے چاہے وہ سرکاری ملازم ہو یا کوئی اور۔۔۔۔


مضمون نگار  مشہور ادا کارہ' کمپیئر اوردو کتابوں کی مصنفہ ہیں۔

[email protected]

Comments



Note: No comments!



Leave a Reply

Success/Error Message Goes Here
Note: Please login your account and then leave comment!
TOP