دیوسائی کے میدان

پاکستان کے شمالی علاقوں کا شمار دنیا کے حسین ترین خطوں میں ہوتا ہے یہاں برف پوش پہاڑ اور سرسبز وادیاں جنت کا منظر پیش کرتے ہیں ایسا ہی ایک خوبصورت مقام دیوسائی کا میدان ہے یہ میدان گلگت بلتستان کے ضلع سکردو اور ضلع استور کے سنگم پر واقع ہے۔ کوہِ ہمالیہ کوہِ قراقرم کے برف پوش پہاڑوں کے درمیان گھاس کا یہ میدان تقریباً تین ہزار مربع کلو میٹر پر پھیلا ہوا ہے۔ سطح سمندر سے13 ہزار فٹ بلندی پر موجود یہ ہموار سطح قدرت کا ایک ایسا حسین شاہکار ہے جو دیکھنے والوں کو ورطۂ حیرت میں ڈال دیتا ہے۔

دیوسائی دراصل دو الفاظ 'دیو' بمعنیٰ بڑا  یا دیو قامت اور 'سا' بمعنیٰ سایہ سے مل کر بنا ہے۔ دیو سائی جسے چھوٹا تبت بھی کہا جاتا ہے، سال کے تقریباً8 ماہ برف سے ڈھکا رہتا ہے۔ البتہ مئی سے اگست تک یہ خطہ انتہائی سرسبز اور دلکش وادی کا روپ دھار لیتا ہے۔ اس مقام پر پائے جانے والے پودے اور جانور اپنی خوبصورتی اور انفرادیت کی وجہ سے اپنی مثال آپ ہیں۔ یہاں پر چلنے والی تیز ہوا پُراسرار دیومالائی سرزمین کا منظر پیش کرتے ہیں۔

موسمِ گرما میں یہ خطہ مخمل جیسی سرسبز گھاس کے ایک ایسے قطعے کی شکل اختیار کرلیتا ہے جہاں ہر طرف مختلف اقسام اور رنگوں کے پھول کھِل اٹھتے ہیں۔ یہاں پر پائے جانے والے جانوروں میں برائون ریچھ ،مارموٹ، سنہری عقاب ، سرخ لومڑی اور برفانی چیتا شامل ہیں۔ برائون ریچھ کی یہ نسل جو چند دہائیوں پہلے تقریباً معدوم ہو چکی تھی۔ اب کافی حد تک دوبارہ افزائش پذیر ہے اور ایک اندازے کے مطابق ان کی تعداد پچاس سے زائد ہے۔ برائون ریچھ کی اس نایاب نسل کو بچانے کے لئے1993میں حکومتِ پاکستان کی طرف سے دیوسائی نیشنل پارک کا قیام عمل میں لایاگیا۔

دیوسائی میدان کو جانے کے لئے دو بڑے راستے ہیں۔ پہلا راستہ جو نسبتاً طویل اور مشکل ہے۔ مغربی روٹ کہلاتا ہے اور ضلع استور سے نکلتا ہے ۔ استور شہر سے تقریباًچار گھنٹے کی مسافت پر یہ راستہ استور، گوری کوٹ اور چِلم چوکی سے ہوتا ہوا دیوسائی تک جاتا ہے۔ یہ روٹ جو کافی حد تک پکی سڑک اور کچھ پتھریلے  ٹریک پر مشتمل ہے۔ تقریباً 75 کلومیٹر طویل ہے۔

دوسرا راستہ جو نسبتاً آسان اور زیادہ استعمال میں آتا ہے۔ اسکردو شہر سے سدپارہ، بڑا پانی سے ہوتا ہوا دیوسائی پہنچتا ہے۔ تقریباً2 سے 3 گھنٹے کی مسافت پر یہ راستہ بڑا پانی تک پکی سڑک اور اُس سے آگے پتھریلے جیپ ٹریک پر مشتمل ہے۔

سردیوں میں یہ سارا علاقہ برف کی گہری سفید دبیز چادر اوڑھ لیتا ہے اور باقی سارے ملک سے کٹ جاتا ہے۔ جبکہ گرمیوں میں یہاں قدرتی جھیلیں اور ندی نالے پھوٹ پڑتے ہیں اگر دیوسائی کا میدان قدرت کا ایک حسین تحفہ ہے تو شیوسار(Sheosar) جھیل اس کا دل ہے۔ یہ جھیل جو برف پوش پہاڑوں کے دامن میں واقع ہے، برف کے پگھلنے کی بدولت وجود میں آتی ہے یہ استور، سکردو شاہراہ پر واقع ہے۔ سیاحتی سیزن کے دوران یہ جھیل سیاحوں کے لئے ایک عارضی قیام گاہ کا درجہ رکھتی ہے اور جھیل کنارے عارضی خیمہ ہوٹل وجود میں آجاتے ہیں۔ شیوسار مقامی زبان کا لفظ ہے جس کے معنی اندھی

(Blind)

کے ہیں۔ جھیل کا پانی انتہائی سرد اور صاف و شفاف ہوتا ہے جس میں ٹرائوٹ مچھلی بکثرت پائی جاتی ہے۔ دیوسائی کا موسم انتہائی بے اعتبار ہوتا ہے اور سورج ، بادلوں اور بارش کی آنکھ مچولی جاری رہتی ہے۔ موسم صاف ہونے کی صورت میں عظیم پہاڑ نانگا پربت صاف نظر آتاہے۔ بلاشبہ دیوسائی کا میدان پاکستان کا سب سے خوبصورت سیاحتی مقام ہے۔

 

Comments



Note: No comments!



Leave a Reply

Success/Error Message Goes Here
Note: Please login your account and then leave comment!
TOP