دہشت گردی کے خلاف جنگ۔ ایک نیا موڑ

حال ہی میںافغانستان کے مشرقی صوبے کنڑ میں ایک امریکی ڈرون کے حملے میںملا فضل اﷲہلاک ہو گیا۔اس واقعے کے بعد تحریک طالبان پاکستان نے مفتی نور ولی محسود کو اپنا نیا سربراہ نامزد کیا ہے۔ ملا فضل اﷲ کی ہلاکت کی اطلاع نے پاکستان کے اس بیانیے کی تصدیق کر دی ہے کہ ملا فضل اﷲ اور تحریک طالبان پاکستان کی دیگر قیادت افغانستان میں موجود ہے۔ پاک فوج کے آپریشن ضرب عضب کے بعد سے ملا فضل اﷲافغانستان میں روپوش تھا۔ لہٰذا اس کا اثرورسوخ تحریک طالبان پاکستان پر کم ہو چکا تھا۔ اس کی دہشت گردی کی سرگرمیاںبھی محدود ہوچکی تھیں۔ تاہم ملا فضل اﷲ کی ہلاکت کے تحریک طالبان پاکستان پہ بالعموم اور پاکستان کی دہشت گردی کے خلاف جنگ پہ بالخصوص کئی دور رس اثرات ہو سکتے ہیں۔

 

ان اثرات میں سے سب سے اہم تحریک طالبان پاکستان کی اندرونی ٹوٹ پھوٹ ہے جوروز بروز بڑھتی جا رہی ہے۔اور امید ہے کہ یہ وقت کے ساتھ مزید بڑھے گی۔ حکیم اﷲ محسود کی ہلاکت کے بعد سے تحریک طالبان پاکستان میںباہمی جھگڑوں کی ابتدا ء ہوئی جو کہ ملا فضل اﷲکے دور میں مزید شدت اختیار کر گئی۔ ان اختلافات کی سب سے اہم وجہ اقتدار کی ہوس اور قبائلی شناخت ہے۔ ابتداء سے تحریک طالبان پاکستان کی سربراہی محسود قبائل کے دو نوجوانوں بیت اﷲ محسود اور حکیم اﷲ محسود کے پاس تھی۔ یہ نوجوان اپنے محسودقبیلے کی شناخت کا ناجائز فائدہ اٹھاتے ہوئے قبائلی نوجوانوں کو گمراہ کرنے کی کوشش کرتے تھے۔ ان دونو ں کے دور میں تحریک طالبان پاکستان کے اندر ٹوٹ پھوٹ نہ ہونے کے برابر تھی۔ مگر ملا فضل اﷲ کا انتخاب تحریک طالبان پاکستان کے اندر اختلافات کا سبب بن گیا۔تحریک طالبان پاکستان کے بہت سے اہم دہشت گردوں(جن کا تعلق قبائلی علاقوں سے تھا)نے ملا فضل اﷲکی سربراہی کوصرف ایک غیر قبائلی ہونے کی وجہ سے ماننے سے انکار کر دیا۔ اختلافات کی شدت کی وجہ سے یہ دہشت گرد تنظیم کئی حصوں میں تقسیم ہو گئی۔ جماعت الاحرار ان سب میں اہم دہشت گرد تنظیم بن کر ابھری۔ جس کا سربراہ مہمند ایجنسی سے تعلق رکھنے والا عمر خالد خراسانی ہے۔ ان اختلافات کا اندازہ اس بات سے بھی لگایاجا سکتا ہے کہ ملا فضل اﷲ کی ہلاکت کے بعد تحریک طالبان پاکستان نے اس کے انتہائی قریبی ساتھی عمر رحمان کو تحریک طالبان پاکستان کا نیا سربراہ نامزد کیا مگر اختلافات کی شدت کی وجہ سے بعد میں یہ نام تبدیل کر دیا گیا۔

 

 اس سے یہ نتیجہ بھی اخذ کیا جا سکتا ہے کہ تحریک طالبان پاکستان کے اندر قبائلی شناخت بہت اہمیت کی حامل ہے۔ لہٰذا مفتی نور ولی محسود کا چنائو اور اس کا خاندانی پس منظر مستقبل میںتحریک طالبان پاکستان کے ان باہمی جھگڑوں کو ختم کرنے میں مدد بھی دے سکتا ہے۔ یہ بات توجہ طلب ہے کہ تحریک طالبان پاکستان کے نئے سربراہ مفتی نور ولی محسود اپنا اثرورسوخ بڑھانے کے لئے کئی اقدامات اٹھا سکتا ہے۔ اس سلسلے میں پاکستان کے قومی مفادکو نقصان پہنچانے کی کوشش سرفہرست ہے۔ پشاور میںحالیہ خودکش دھماکہ اس سلسلے کی پہلی کڑی بھی ہو سکتی ہے۔ اس لئے پاکستانی قوم کو ان خطرات سے نمٹنے کے لئے ہر ممکن اقدامات کرنا ہوں گے۔ پاکستان اور افغانستان کے بارڈر پہ نگرانی کومزید بڑھانا قومی مفاد کا اہم تقاضا ہے۔ اس کے علاوہ مفتی نور ولی محسود یقینا تحریک طالبان پاکستان کی اندرونی ٹوٹ پھوٹ کو ختم کرنے کی کوشش کرے گا ۔ ا س سلسلے میں وہ اپنی قبائلی شناخت کو بروئے کار لانے کی ہر ممکن کوشش کرے گا۔ تاہم باہمی جھگڑوں کی شدت کی وجہ سے اس بات کا قوی امکان موجود ہے کہ وہ اپنے اہداف حاصل کرنے میں ناکام رہے۔

 

ذہانت علمِ ہندسہ کی مرہونِ منت ہے۔ تمام اعمال و افکار اِسی علمِ ہندسہ کے باعث ہیں۔ یہ علم  انسانیت کے لئے ایک خدائی تحفہ یا نعمت ہے۔ اجسام فلکی بھی ذہن رکھتے ہیں جو مسلسل اور مستقل حیثیت رکھتا ہے۔ کائنات کا تسلسل بھی اس بات کا بیّن ثبوت ہے کہ اجسام 'مادہ' نہیں بلکہ دماغ یا ذہن ہیں اور جو اس ذہن کی ذہانت کا راز پالیتا ہے، عرفان حاصل کرلیتا ہے۔ عِلمِ فلکیات کا مطلب صرف سورج، چاند کو نکلتے اور ڈوبتے ہوئے دیکھنا نہیں بلکہ اس کا مقصد اس تدبر کا مطالعہ ہے جس کے تحت اجسام حرکت کرتے ہیں اور ذہن کے بارے میں غور و فکر کرنا ہے جو ان کو متحرک کرتا ہے۔ ہر ڈائیگرام، ہندسوں کا نظام، ہم آہنگی کا ہر منصوبہ اور ہر طرح کی مطابقت جو ان اجسام میں ہے وہ ایک اکائی کی طرح ظاہر ہونی چاہئے اور جب انسان یکسو ہو کر سوچے گا تو پھر ازلی ذہانت اور دانش کے ذریعے وہ سماجی خوشی اور خوشحالی حاصل کرے گا۔                  (افلا طون)

 

دوسری طرف یہ بات بھی قابل غور ہے کہ تحریک طالبان پاکستان کو کمزور کرنے میں اندرونی خلفشار کے علاوہ پاک فوج کا بھی کلیدی کردار ہے۔ پاک فوج کی انتھک محنت اور لازوال قربانیوں نے تحریک طالبان پاکستان کی تنظیم کی کمر توڑ کر رکھ دی ۔ یہی وجہ ہے کہ دہشت گرد افغانستان میں پناہ لینے پر مجبور ہیں۔ اس کے علاوہ ملا فضل اﷲ پشاور میں آرمی پبلک سکول پر حملے کا ماسٹرمائینڈ تھا۔ لہٰذا اس خبر نے یقینا ان مائوں کے دلوں کو بھی تسکین بخشی ہو گی جنہوں نے اپنے معصوم بچے دہشت گردی کے اس افسوسناک واقعے میں کھوئے ہیں۔

 

 ملا فضل اﷲ کی ہلاکت نے پاکستان اور افغانستان کے باہمی تعلقات پر بھی کافی مثبت اثرات مرتب کئے ہیں۔ پاکستان اورافغانستان کے باہمی تعلقات کافی عرصے سے کشیدگی کا شکار تھے جس کی سب سے بڑی وجہ ملا فضل اﷲ اور تحریک طالبان پاکستان کی دیگر قیادت کی افغانستان میں موجودگی تھی۔ پاکستان نے بارہا اپنے خدشات کا ذکر افغانستان کی اعلی قیادت سے کیا مگر کوئی خاطر خواہ نتیجہ برآمد نہ ہوا۔ مگر پاک فوج کے سربراہ جنرل قمر جاوید باجوہ کا حالیہ دورہ افغانستان اور وہاںکے صدر اشرف غنی سے ملاقات کے بعد ملا فضل اﷲ کی ہلاکت نے دونوں ممالک کے درمیان جمی برف پگھلا دی ہے۔ افغانستان کے صدر اشرف غنی نے خود جنرل قمر جاوید باجوہ کوفون کر کے ملا فضل اﷲ کی ہلاکت کی اطلاع دی اور دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاکستان کی قرباینوں کو سراہا۔ یہ بات خوش آئند ہے کہ افغانستان کے صدر اب کھل کر پاکستان کے مؤقف کی تائید کر رہے ہیں۔ مفکرین اکثر اس بات پر زور دیتے رہے ہیں کہ دونوں ممالک کا باہمی تعاون دہشت گردی کی جنگ کو جیتنے کے لئے اشد ضروری ہے۔ اس تناظر میں دونوں ممالک کے باہمی تعاون سے مستقبل میں مزید ایسی اچھی خبریں سننے کو مل سکتی تھیں۔

 

ان تمام اثرات کو مدنظر ر کھتے ہوئے اس بات کا تعین کیا جا سکتا ہے کہ ملا فضل اﷲ کی ہلاکت جہاں پاکستانی قوم کے لئے وقتی طور پر کچھ خطرات کا باعث ہو سکتی ہے وہاں پاکستانی قوم کے لئے یہ نوید بھی لے کر آئی ہے کہ اب دہشت گردی کی جنگ اپنے اختتام کے قریب ہے۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ قوم اسی عزم اور حوصلے کے ساتھ د ہشت گردی کے خلاف اس جنگ کو اپنے منطقی انجام کی طرف بٹرھانے میں اپنی مصلح افواج کے شانہ بشانہ کھڑی رہے۔


مضمون نگار نیشنل یونیورسٹی  آف سائنس اینڈ ٹیکنالوجی میں Ph.D فیلو ہیں اور اسلام آباد پالیسی ریسرچ انسٹیٹیوٹ میں بطور ریسرچر کام کررہے ہیں۔

[email protected]

Comments



Note: No comments!



Leave a Reply

Success/Error Message Goes Here
Note: Please login your account and then leave comment!
TOP