دو قومی نظریہ… تین ارتقائی مراحل

اگر ہم اپنی ہزار سالہ قومی تاریخ پر ایک گہری نظر ڈالیں تو ہمیں احساس ہوگا کہ اللہ نے ہماری اجتماعی ہستی کو تین مختلف ادوار میں درپیش موت کے خطرات کی نشاندہی اور ان خطرات سے پنجہ آزمائی کی خاطر عہد بہ عہد تین مردان ِحق کو بروقت خبردار کیا۔ جب یہ مردان کار خبردار ہو گئے تو پھرچین سے نہ بیٹھے اور اپنا سر ہتھیلی پر رکھ کر اپنے اپنے وقت کے جہان گیروں اور جہان داروں کے سامنے ڈٹ گئے۔ قرونِ وسطیٰ کے ہندوستان میں جب شہنشاہ اکبر نے اپنی سیاسی مصلحت کے پیش نظر ہندوئوں اور مسلمانوں کو ایک مشترکہ دینی شناخت دینے کی خاطر اپنا دینِ الٰہی نافذ کیا تو نقش بندی صوفیاء حضرت مجدد الف ثانی ،شیخ احمد سرہندی رحمة اللہ علیہ کی قیادت میں مسلمانوں کی جداگانہ دینی شناخت کی بقاء کی خاطرسرگرمِ عمل ہو گئے۔ اس سرفروشانہ جدوجہد کو خراج تحسین پیش کرتے وقت اقبال نے حضرت مجدد الف ثانی کو ان لفظوں میں یاد کیا ہے:

 

گردن نہ جھکی جس کی جہانگیر کے آگے

جس کے نفسِ گرم سے ہے گرمیِٔ احرار

وہ ہند میں سرمایہئِ ملت کا نگہبان

اللہ نے بروقت کیا جس کو خبردار

 

  جو سیاسی کارنامہ حضرت مجدد الف ثانی نے نہایت جرت و ایثار کے ساتھ قرون وسطیٰ کے ہندوستان میں سرانجام دیا تھا ۔ وہی کارنامہ انیسویں صدی کے ہندوستان میں سرسید احمد خان نے سرانجام دیا۔ جب 1857ء میں بلاد اسلامیہ ہند نے برطانوی ہند کا نیا قالب اختیار کیا تو اسلامیانِ ہند انگریزوں کے عتاب اور ہندوئوں کے عناد میںگھِرکر زندگی اور موت کی کشمکش میں مبتلا ہو گئے۔ ایسے میں اللہ نے سرسید احمد خان کو بروقت خبردار کیا، ان کے دل کو بیمِ وریا سے پاک کیا اور یوں وہ قوتِ فرمانروا کے سامنے بھی ڈٹ گئے اور زوال پسند مسلمان قیادت کے سامنے بھی۔ پھر بیسویں صدی میں سرسید احمد خان ہی کے نقش قدم پر چلتے ہوئے علامہ اقبال نے اپنے شعلۂِ آواز سے خرمن باطل کو جلا کر رکھ دیا۔ میں ان تینوں یگانہ روزگار ہستیوں کو برصغیر میں جداگانہ مسلمان قومیت کا معمار اور پاکستان کا فکری بانی شمار کرتا ہوں۔

 

1930ء میں ہندی مسلمانوں کی سیاست ایک ایسی اندھی گلی میں بند ہو کر رہ گئی تھی جہاں بے بس اور لاچار مسلمان اقلیت کی سیاست ہندو اکثریت سے تحفظات کی بھیک مانگنے کے عمل سے عبارت ہو کر رہ گئی تھی۔ پہلی گول میز کانفرنس میںشریک مسلمان مندوبین نے بھی ایک متحدہ ہندوستانی قومیت کی بنیاد پر اکھنڈ بھارت کے لئے آئینی خاکہ منظور کر لیا تھا۔ ایسے میں اقبال نے اپنے خطبۂِ الہ آباد میں یہ ثابت کر دیا کہ مسلمان ایک اقلیت نہیں بلکہ ایک الگ قوم ہیں۔ اس تصور نے برصغیر کی مسلمان سیاست کواقلیت کی سیاست کی اندھی گلی سے نکال کر پاکستان کی شاہراہ پر ڈال دیا۔ اقبال کے اس بروقت اعلان نے انگلستان کے ایوانِ اقتدار میں ایک زلزلہ سا برپا کر دیاتھا۔ دی ٹائمز لندن نے اگر اپنے ایڈیٹوریل میں اس تصور کو ایک پان اسلامک سازش قرار دیا تھا تو انگلستان کے وزیراعظم سرریمسے میکڈونلڈ نے اس تصور کو اقبال کی ایک خطرناک شرارت سے تعبیر کیا۔ اقبال نے انگلستان کے وزیراعظم کو مخاطب کرتے ہوئے کہا تھا:

 

"The Prime Minister of England refuses to see that the problem of India is international and not national. The model of British democracy cannot be of any use in a land of many nations."

دس برس بعد لاہور میں قراردادِ پاکستان منظور کرنے والے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے قائداعظم محمد علی جناح نے یہی خیال کم و بیش انہی لفظوں میں یوں پیش کیا:

"The problem in India is not of an intercommunal character but manifestly of an international one, and it must be treated as such."

یہاں علامہ اقبال اور قائدِاعظم نے سرسید کے کردار سے پھوٹنے والی اس حقیقت پر مہر تصدیق ثبت کر دی ہے کہ بندہ ٔمومن قوتِ فرمانروا کے سامنے ہمیشہ بے باک رہتا ہے۔ حکمرانوں کے سامنے یہ بے خوفی اور یہ بیباکی بہت بڑی بات ہے مگر سرسیّد کا فیضان یہیں تک محدود نہیں ہے۔ قائداعظم کااستدلال اقبال سے ماخوذ ہے تو اقبال نے یہ استدلال سرسیّد  کے ان آخری مضامین سے اخذ کیا ہے جن میں سرسید( مرحوم) نے مسلمانوں کوانڈین نیشنل کانگرس سے دور رہنے کا مشورہ دیا تھا۔ اپنے ایک مضمون میں سرسید احمد خان برطانیہ کی کنزرویٹو اور لبرل، ہر دو پارٹیوں کو مخاطب کرتے ہوئے اس صداقت کا برملا اظہار کرتے ہیں کہ:

''برطانوی ہند انگلستان کی طرح ایک چھوٹا سا ملک نہیں ہے بلکہ ایک براعظم ہے جس میں بھانت بھانت کے اور باہم متصادم لسانی، نسلی اور تہذیبی گروہ موجود ہیں۔ انڈین نیشنل کانگرس کے اغراض و مقاصد تاریخ کی اس صداقت سے لاعلمی اور برطانوی ہند کے زمینی حقائق سے ناآشنائی کا شاخسانہ ہیں۔ کانگرس اسلامیانِ ہند کے خواب و خیال کی کسی صورت میں بھی ترجمان نہیں ہے۔''

یہ بنیادی جغرافیائی اور تہذیبی صداقت سرسید احمد خان سے لے کر قائداعظم محمد علی جناح تک مسلسل بدلتے ہوئے سیاق وسباق میں ہرعہد کی اپنی اصطلاحات میں جلوہ گر نظر آتی ہے۔ جب 1885ء میں برطانوی افسر شاہی کے ایک سابق رکن لارڈ ہیوم نے وائسرائے ہند لارڈ ڈفرن کے تعاون سے انڈین نیشنل کانگرس کا ڈول ڈالا تو سرسید احمد خان نے مسلمانوں کو بروقت خبردار کرتے ہوئے اس اینگلوانڈین تنظیم سے خود کو دور رکھنے کا مشورہ دیا۔ کانگرس کے ایک سرکردہ رہنما بدرالدین طیب جی سے سرسید احمد خان نے سوال کیا کہ:

''میں یہ سمجھنے سے قاصر ہوں کہ نیشنل کانگرس کے معنی کیا ہیں؟ اس کا یہ مطلب سمجھا جائے کہ مختلف ذاتوں اور ملکوں کے لوگ جو یہاں بستے ہیں ایک قوم ہیں یا ایک قوم بن سکتے ہیں اور ان کے مقاصد اور جذبات میں یکسانیت ہے؟ میرے نزدیک یہ ممکن ہی نہیں ہے اورجب یہ ناممکن ہے تو پھر نیشنل کانگرس قسم کی کوئی چیز ہو ہی نہیں سکتی اور نہ اس سے سب کو یکساں فائدہ پہنچ سکتا ہے۔ میں ہر ایسی کانگرس کے خلاف ہوں خواہ اس کی شکل و صورت کچھ ہی کیوں نہ ہو جو غلط تصورات پر مبنی ہو۔ یعنی پورے ہندوستان کو ایک قوم سمجھتی ہو'' (تفصیلات کے لئے دیکھیے جامعہ نئی دہلی، جلد95، شمارہ نمبر7تا 12)۔ اسی زمانے کی ایک تقریر میں سرسید نے مسلمان نوجوانوں کے ایک اجتماع میں یہ سوال اُٹھایا تھا:

''اے عزیز بچو! اگر کوئی آسمان کا تارہ ہو جاوے اور مسلمان نہ رہے تو ہم کو کیا۔ وہ تو ہماری قوم ہی نہ رہا۔ پس اسلام کو قائم رکھ کر ترقی کرنا قومی بہبودی ہے۔…''

سرسید احمد خان نے اپنی مومنانہ فراست سے یہ جان لیا تھا کہ انگریز حکمران یہ چاہتے ہیں کہ جب انہیں برصغیر سے رخصت ہونا پڑے تو وہ اپنے پیچھے ایک ایسا اینگلو انڈین حکمران طبقہ چھوڑ جائیں جو ہندوستان کی سامراجی وحدت کو قائم رکھتے ہوئے مغربی سامراج کی جانشینی کے فرائض سرانجام دے سکے۔ سرسید نے یہ جان لیا تھا کہ اگر انگریزوں کا یہ خواب پورا ہو گیا تو ہندی مسلمان ایک دائمی اقلیت ہو کر رہ جائیں گے اور ان کی سیاسی اورتہذیبی ہستی ہندو اکثریت کے رحم و کرم پر ہوگی۔ چنانچہ انہوں نے ہندی مسلمانوں کو اس صورتحال سے بچانے کے لئے باقاعدہ علمی و عملی منصوبہ بندی کی۔ سرسید کی حکمت عملی کے دو رُخ تھے۔ ایک رُخ برطانوی حکمرانوں کی جانب تھا۔ سرسید نے ان پر جغرافیائی و سیاسی حقیقت روزِ روشن کی طرح واضح کردی کہ ہندوستان ایک ملک نہیں بلکہ ایک برصغیر ہے۔ یورپ کے ملکوں کی طرح اس برصغیر کے مختلف ملکوں میں بھی ہر ملک کا اپنا اپنا ایک جمہوری نظام ہے اور یہ سچی جمہوریت کا ایک ناگزیر تقاضا ہے۔ دوسرا رُخ اسلامیان ِہند کی جانب تھا جنہیں سرسید نے اپنی تحریر و تقریر کے ذریعے بار بار اس حقیقت کی جانب متوجہ کیا کہ دینِ اسلام سے ہماری گہری اور اٹوٹ وابستگی ہی ہماری انفرادی اور اجتماعی ہستی کا امتیازی نشان ہے۔

''میرے تمام بچے طالب علم جو کالجوں میں پڑھتے ہیں اور جن کے لئے میری آرزو ہے کہ وہ یورپ کے سائنس اور لٹریچر میں کامل ہوں اور تمام دنیا میں اعلیٰ شمار کئے جائیں ان دو الفاظ لا الٰہ الا اللہ محمد الرسول اللہ کو نہ بھولیں۔''

یہی بات اقبال نے اپنے زمانے کے مسلمانوں کو بار بار ذہن نشین کرائی کہ ''اسلام تیرا دیس ہے تو مصطفوی ہے'' اور تازہ کن با مصطفی پیمان خویش!۔ اپنے متذکرہ بالا خطاب سے بارہ برس پہلے سرسیّد کو یقین ہو گیا تھا کہ:

''دونوں قومیں کسی کام میں دل سے شریک نہ ہو سکیں گی، ابھی تو بہت کم ہے آگے آگے اس سے زیادہ مخالفت اور عناد ان لوگوں کے سبب جو تعلیم یافتہ کہلاتے ہیں بڑھتانظر آتا ہے۔''

سرسید نے اپنے اس خیال کا اظہار اپنے ایک انگریز دوست مسٹر شیکسپیئر سے ہندی اردو تنازعے کے احوال و مقامات پر گفتگو کے دوران کیا تھا۔ یہ وہ زمانہ تھا جب سوامی دیانند سرسوتی (پنجاب اور یوپی) بال گنگادھرتلک (مہاراشٹر) اور کیشب چندر سین (بنگال) جیسے ہندو انتہا پسند مسلمانوں کی آمد سے پہلے کی ہندو تاریخ اور ہندو مائیتھالوجی سے ہندوستانی قومیت کا خمیر تیار کرنے میں مصروف تھے۔ متحدہ ہندوستانی قومیت کے ان اوّلین نظریہ سازوں کو اردو زبان کا قرآنی رسم الخط اور اس کے عربی فارسی ذخیرہ الفاظ سے ایسی نفرت ہو گئی تھی کہ انہوں نے سن اٹھارہ سو سڑسٹھ میں اردو کو دیوناگری رسم الخط اور سنسکرت لفظوں کی بھرمار سے ہندی بنا دینے کی تحریک شروع کر دی تھی۔ مسلمانوں نے اس تحریک کو اپنی تہذیبی شناخت پر حملہ تصور کیا اور اردو کی بقا کے لئے سرگرمِ عمل ہو گئے۔ ہندی اردو تنازعے کو ہندو مسلمان تہذیبی تصادم کا رنگ پکڑتے دیکھ کر سرسیّد نے یہ نتیجہ اخذ کیا تھا کہ یہ دونوں قومیں اب کبھی اکٹھی نہ رہ سکیںگی۔

بھارت کے ایک مسلمان دانشور جناب مشیر الحق نے اپنے ایک مضمون ''سرسید اور ہندوستانی قومیت'' میں ہمیں مشورہ دیا ہے کہ ہم سرسید کی مسٹر شیکسپیئر کے ساتھ مندرجہ بالا گفتگو میںلفظ 'قوم' کو انگریزی لفظ 'نیشن' کا ہم معنی سمجھنے سے گریز کریں۔ چلئے، ہم ان کا یہ مشورہ مان لیتے ہیں مگر سرسید کے اس خط کا کیا بنے گا جو انہوں نے بدرالدین طیب جی کے خط کے جواب میں لکھا تھا اور جس میں انہوں نے دو ٹوک انداز میں یہ اعلان کیا تھا کہ وہ ہر اس کانگرس کے خلاف ہیں جو ''پورے ہندوستان کو ایک قوم (نیشن) سمجھتی ہو''… یہاں یہ بات قابل غور ہے کہ خود سرسید نے اردو لفظ قوم کا مفہوم متعین کرنے کی خاطر انگریزی لفظ نیشن بھی لکھ دیا۔

بیداری
جس بندئہ حق بیں کی خودی ہوگئی بیدار
شمشیر کی مانندہے برّندہ و برّاق!
اُس کی نگہِ شوخ پہ ہوتی ہے نمودار
ہر ذرّہ میں پوشیدہ ہے جو قوتِ اشراق!
اُس مردِ خدا سے کوئی نسبت نہیں تجھ کو
تو بندئہ آفاق ہے، وہ صاحبِ آفاق!
تجھ میں ابھی پیدا نہیں ساحل کی طلب بھی
 وہ پاکیٔ  فطرت سے ہوا محرمِ اعماق!
(اقبال)

ملے گا منزلِ مقصود کا اُسی کو سراغ
اندھیری شب میں ہے چیتے کی آنکھ جس کا چراغ
میسر آتی ہے فرصت فقط غلاموں کو
نہیں ہے بندئہ حُر کے لئے جہاں میں فراغ
(اقبال)

 

تحریک خلافت کی ناکامی کے بعد ایک مرتبہ پھر قوم اور نیشن کے مفہوم کو الجھا کر متحدہ ہندوستانی قومیت کے نظریہ کو مقبول عام بنانے کی کوششوں نے زور پکڑ لیا تھا اور مسلمان عوام کو مذہبی استدلال کے ساتھ ساتھ ہندوستانی قومیت پر ایمان لے آنے کے مشورے دیئے جانے لگے تھے۔ ایسے میں اللہ نے اقبال کو بروقت خبردار کیا اور انہوں نے اپنے خطبہ الٰہ آباد 1930ء میں دو ٹوک اعلان کیا کہ مسلمان جدید معنوں میں ایک الگ قوم ہیں۔ جدید معنوں میں یوں کہ قومیت کے جدید تصور کے مطابق قومیں جغرافیائی اشتراک سے نہیں بلکہ روحانی یگانگت سے وجود میں آتی ہیں۔ اس جدید اصول کے مطابق برصغیر کے مسلمان ایک الگ قوم ہیں اور وہ اپنے لئے الگ قومی ریاستوں کے قیام کا حق رکھتے ہیں۔ یہ قوم کا وہی تصور ہے جو ہماری تہذیبی اور فکری تاریخ میں پہلے پہل سرسید احمد خان کے ہاں نمودار ہوا۔ وقت کا تقاضا یہی تھا کہ سرسید احمد کے ہاں یہ تصور مسلمانوں کی جداگانہ تہذیبی ہستی کو سنوارنے، نکھارنے اور پروان چڑھانے کی تعلیمی اور اصلاحی تحریک تک محدود رہتا۔ اقبال کے عہد میں اس جداگانہ تہذیبی ہستی کی بقا کو جن سنگین سیاسی خطرات نے اپنی لپیٹ میں لے لیا تھا ان سے نجات کی سعادت اقبال کے حصے میں آئی۔ اگر سرسید اقبال کے عہد میں ہوتے تو وہ وہی کرتے جو اقبال نے کیا۔ یہی وجہ ہے کہ جب بھی خطبہ الٰہ آباد کا خیال کرتا ہوں تو مجھے سرسیّد احمد خان اقبال کا یہ شعر گنگناتے سنائی دیتے ہیں۔

یہ کون غزل خواں ہے پُرسوز و نشاط انگیز

اندیشۂِ دانا کو کرتا ہے جنوں آمیز

                اقبال نے سرسید کی عقلیت پسندی کو تکمیلی شان عطا کرنے کے بعد عشق و جنوں کی ارتقائی منزلوں کی سیر کرائی۔ علی گڑھ کے طالب علموں کو مخاطب کرتے وقت انہوں نے کہا تھا کہ:

اوروں کا ہے پیام اور میرا پیام اور ہے

عشق کے دردمند کا طرزِ کلام اور ہے

                تو یہ سرسید کے اصلاحی پیغام کی تردید نہیں تھی بلکہ اسے وقت کے بدلتے ہوئے تقاضوں کے مطابق انقلابی پیغام میں ڈھالنے کی تمنا کا اظہار تھا ۔ یہی وجہ ہے کہ میں جب بھی اقبال کا خطبہ الٰہ آباد پڑھتا ہوں تو مجھے بے اختیار سرسید احمد خان یاد آتے ہیں جن کے ''اندیشہ دانا'' کو اقبال نے ''آدابِ جنوں'' سکھانے کا عہد آفریں کارنامہ سرانجام دیا ہے۔


مضمون نگار ایک ممتاز دانشور ہیں۔ آپ انٹرنیشنل اسلامک یونیورسٹی کے سابق ریکٹر ہیں۔ آپ کی تحاریر قومی اخبارات کی زینت بنتی رہتی ہیں۔ 

[email protected]

 

Comments



Note: No comments!



Leave a Reply

Success/Error Message Goes Here
Note: Please login your account and then leave comment!
TOP