دل تو پاکستان میں ہے

وطنِ عزیز پاکستان ایک طویل جدوجہد اور قربانیوں کی لازوال مثالوں کے بعد معرضِ وجود میں آیا۔اس عظیم نعمت کو پانے کے لئے ہمارے بزرگوں نے بہت قربانیاں دیں، گھربار لٹے، مال و اسباب چِھنا، دربدر ہوئے، ٹھوکریں کھائیں، اذیتیں برداشت کیں، لاکھوں جانوں کا نذرانہ پیش کیا، تب کہیں جا کر اس پاک سرزمین کو آزاد کرایا۔یہ آزادی کی نعمت، یہ اپنے ملک کا ،اپنے وطن کا احساس، اپنی مٹی سے وابستگی، اپنی شناخت ، اپنی پہچان ایک ایسی بے پایاں مسرت کا نام ہے جسے الفاظ میںڈھالنا مشکل نہیں ہے۔

کس طرح 71 سالوں میںہم نے آہستہ آہستہ ترقی کی، کس طرح اپنے پائوں پر کھڑے ہونے کی کوشش کی، کس طرح ہم نے آشیانہ بنایا، یہ ایک جہدِ مسلسل ہے۔ ہماری سرزمین پر دشمن نے حملے کئے، ہمیں توڑنے کے لئے وار کئے، ہم میں تفریق ڈالنے کی کوشش کی مگر پاکستانی قوم اور اس کی بہادر افواج دشمن کے آگے ڈٹ گئی۔

 

ہم اکثر سوچتے ہیں کہ ہم کتنے خوش نصیب ہیں کہ پاکستانی ہیں۔ ہمارے ملک کو قدرت نے بیش بہا عطیات سے نوازا ہے۔ دنیا کے سارے موسم پاکستان میں، حسین ترین مناظر پاکستان میں، جھیلیں، سمندر، دریا، صحرا، قدرتی جنگلات، صنوبر کے درخت، پہاڑ، معدنیات  پاکستان میں، دُنیاکا سب سے بڑا نہری نظام پاکستان میں، بہت ہی  پیارا وطن ہے ہمارا، ہمارے لوگ بھی سب سے قابل اور ہمارے دفاعی ادارے ہمارے لئے باعث فخر ہیں۔

71 سالوں میں جہاں ترقی کے کئی مراحل آئے، وہیں ایک سنگِ میل ملک کا ایٹمی قوت بننا بھی ہے۔ خطے میں طاقت کے توازن کو برقرار رکھنے کے لئے اس عظیم کارنامے کو سرانجام دینا بھی قابلِ ستائش ہے۔

پاکستان کی طرح کینیڈا میں مقیم پاکستانی بھی یومِ آزادی ہو یا یومِ دفاع ہرطرح کے قومی تہوار بہت جوش و خروش سے مناتے ہیں۔ جہاں ہر طرف تقاریب کا اہتمام ہے وہیں ہم ذکرکرنا چاہیں گے ونکوور میں پاکستان کے قونصل خانے کی جانب سے منعقدہ خصوصی پروگرام کا جو ونکوور آرٹ گیلری کے سامنے ہوا۔ اس رنگا رنگ پروگرام میںپاکستان کے علاقائی رقص پیش کئے گئے، بچوں کے ٹیبلو، قومی گیت اور پاکستانی کھانوں کے سٹالز کے علاوہ مقبول پاکستانی گلوکار فاخر کی شاندار پرفارمنس خاص طور سے قابلِ ذکر ہے۔

قومی گیت دل میںجو ولولہ اور جوش پیدا کرتے ہیں اس کیفیت کو کیسے بیان کریں ،سمجھ میں نہیں آتا۔ بس لگتا ہے کہ جیسے پاکستان خون کی طرح ہماری رگوں میں دوڑ رہا ہے۔ دھڑکن بن کر دل میں دھڑک رہا ہے، کیا خوبصورت جذبہ ہے، یہ جذبۂ حب الوطنی۔۔۔ یوں تو ہر پاکستانی دل میں وطن کی محبت رکھتا ہے مگر یہ جو ہم دیارِ غیر میں رہنے والوں کی چاہت ہے وہ کسی طور الفاظ میںڈھالی نہیں جاسکتی۔ ایک سُرور ہے، اِیک احساس ہے جیسے بحرِ بیکراں ہو۔

تقریب میں شہر کی چیدہ چیدہ شخصیات شرکت کرتی ہیں، پرچم کُشائی ہوتی ہے، قومی ترانہ بجایا جاتا ہے اور کیک کاٹا جاتا ہے۔ اس سادہ اور پُر وقار تقریب میں سبھی قومی لباس زیبِ تن کرتے ہیں اور خواتین خاص طور پر قومی پرچم کے رنگوں کی مناسبت سے سبز ملبوسات، ہری چوڑیوں وغیرہ کا اہتمام کرتی ہیں۔ کینیڈا میں اگست یومِ آزادی کی تقریبات پورے مہینے جاری رہتی ہیں۔ لہٰذا مارکیٹ میں پاکستانی دکانوں پر زیادہ تر قومی پرچم کے حوالے سے قائدِاعظم کی تصاویر والے خصوصی ملبوسات لوگوں کی توجہ کاباعث بنتے ہیں۔ یہ کپڑے پاکستان میں جس قیمت کے ہوتے ہیں یہاں دُگنی یا تگنی قیمت پر دستیاب ہوتے ہیں لہٰذا ہم تو اپنی شاپنگ پاکستان سے ہی کرتے ہیں۔ ابتدائی سالوں میں توہم ہر وقت ہرچیز کی قیمت کو ڈالر سے پاکستانی روپے میں بدل کر اپنا حال بدحال کرتے تھے، کوئی چیز خریدنے جائیں تو کیلکو لیٹر پر حساب کتاب شروع کردیتے تھے۔ پھر دوستوں نے سمجھایا کہ اگر یہی حال رہا تو بس نل کا پانی پی کر گزارہ کریں۔ ہمیں کافی عرصہ لگا اس رویّے کو تبدیل کرنے میں۔ ہر بار ہمیں یہی لگتا کہ ہائے اﷲپاکستانی پیسوں میں پانچ سو روپے کی ڈبل روٹی پڑی ہے۔ ہم سے تونوالہ بھی حلق سے اٹک اٹک کے اترتا تھا۔ اگرچہ ہم نے کافی حد تک اس پر قابو پالیا ہے مگر اب بھی بہت دفعہ یہی کرنسی ریٹ تبدیل کرکے قیمت کا تعین کرنے کا دورہ پڑ ہی جاتا ہے۔

ہم نے سوچ رکھا ہے انشاء ﷲجیسے ہی پاکستان جائیں گے ٹھیلے والے کا بن کباب ، چھابڑی والے سے پاپڑ، سڑک کنارے ملنے والی چنا چاٹ ضرور کھائیں گے۔ پہلے حفظانِ صحت کے اصولوں کو مدِ نظر رکھتے ہوئے ان چیزوں سے اجتناب کرتے تھے مگر اب نجانے کیوںشدید خواہش ہے یہ سب کھانے اور چینک چائے پینے کی!!  صبح صبح جب ہم مشہور کافی شاپ کی ڈرائیو تھرو کی قطار میں لگے پھیکے آلو، انڈا پنیر کا برگر اور بدذائقہ چائے خریدتے ہیں تو اپنا دیسی ناشتہ بہت یاد آتاہے، جی چاہتا ہے صبح صبح انڈا پراٹھا کہیں ڈھابے پہ مل رہا ہو تو خوب جی بھر کے کھائیں اور دفتر روانہ ہو جائیں۔ ہمیں تو دودھ پتی بھی اتنی یاد آتی ہے کہ کیا بتائیں۔ کراچی میں ہم تو ایک پیالی چائے اور دو بسکٹ پہ سارا دن نکال لیتے تھے۔ یہاں شاید موسم سرد ہونے کے باعث بھوک زیادہ لگتی ہے مگر وہ کھانے کو نہیں ملتا جو پاکستان میں میسر ہے۔ وہاں ہم جو نخرے کرتے تھے سب نکل گئے ہیں۔ اب تو انتظار ہے کہ کب واپس جائیں اور والدہ کے ہاتھ کے بنے کھانے کھائیں۔ سوچ رہے ہیں سردیوں میں پاکستان جانے کا پروگرام بنائیں کہ دنیا میں ہم کہیں بھی رہ رہے ہوں جو سرشاری پاکستان کی یاد کے ساتھ وابستہ ہے اس کی بات ہی اور ہے۔ ہم سات سمندر پار بھی رہ رہے ہوں ہمارا دل اپنے پاکستان اور پاکستانیوں کے ساتھ دھڑکتا ہے۔ اﷲ ہمارے پاکستان کو سلامت رکھے۔ آمین!!


مضمون نگار  مشہور ادا کارہ' کمپیئر اوردو کتابوں کی مصنفہ ہیں۔

[email protected]

Comments



Note: No comments!



Leave a Reply

Success/Error Message Goes Here
Note: Please login your account and then leave comment!
TOP