دفاع کیوں ناگزیر ہے؟

جدید ریاست کے اجزائے ترکیبی میں ایک جزو جغرافیہ بھی ہے۔جغرافیے کے بغیرقوم تو ہو سکتی ہے، ریاست نہیں۔ سیاسی حاکمیت اور آزادی کا کوئی تصور ریاست کے بغیرمتشکل نہیں ہو سکتا۔یہی سبب ہے کہ جب بھی کوئی قوم آزادی کے لئے اٹھتی ہے تو اس کا پہلا ہدف ریاست کا قیام ہو تا ہے۔اس سے مراد ایک ایسے جغرافیے کی تلاش ہے جہاں وہ اپنے اجتماعی آدرشوں کو عملی جامہ پہنا سکے۔

 

بر صغیر کے مسلمان اُس وقت بھی ایک قوم تھے جب یہاں انگریز حکمران تھے۔مگر یہ قوم اپنے تہذیبی وسیاسی اظہار اور آزادی سے محروم تھی۔اس کے رہنماؤں نے پوری کوشش کی کہ موجود ریاستی ڈھانچے میں اپنا تہذیبی وجود منوا سکیں مگر انہیں ناکامی ہوئی۔اس موقع پر علامہ اقبال مسلم قوم کے فکری افق پر نمودار ہوئے اور انہوں نے واضح کیا کہ ایک خطہِ زمین حاصل کئے بغیر یہ ممکن نہیں۔جب عام آ دمی کی سطح پر اس کا ابلاغ ہو گیا تو پھر پاکستان بن گیا۔گویا ایک قوم جس کے پاس تاریخ تو موجود تھی،اسے اب جغرافیہ بھی مل گیا۔

 

جغرافیے کی یہ اہمیت آج عالمگیریت کے عہد میں بھی کم نہیں ہوئی۔فلسطینی قوم صدیوں سے موجود ہے  لیکن ستر سال پہلے اسے جغرافیے سے محروم کر دیا گیا۔آج بھی ایک عام فلسطینی سمجھتا ہے کہ اس کی عظیم الشان تاریخ اس کی اجتماعی پہچان کے لئے کفایت نہیں کرتی۔جب تک اس قوم کی جغرافیائی سرحدیں بین الاقوامی سطح پر تسلیم نہیں کی جا تیں،فلسطینی قوم، اقوام ِعالم کا حصہ نہیں شمار ہو گی۔

 

جغرافیے کی اس غیر معمولی اہمیت کے پیش ِ نظر ، مذہب ہو یا سیکولر نظریہ،سب اس بات کو تسلیم کرتے ہیں کہ ایک ریاست کو اپنے جغرافیے کے تحفظ اور دفاع کا حق حاصل ہے اور اس کا یہ حق بھی مسلمہ ہے کہ وہ بیرونی خطرات سے بچنے کے لئے ضروری دفاعی قوت کا اہتمام کرے۔دفاع کے تصورات اور ہتھیار تمدنی ارتقا کے ساتھ ساتھ تبدیل ہوتے رہے مگرانسان کی معلوم تاریخ کا کوئی دور ایسا نہیں کہ قوموں نے اپنے جغرافیے کی حفاظت کا خیال نہ رکھا ہو۔اور اگر کسی نے تساہل یا کمزوری کا مظاہرہ کیا تو اسے جارح قوتوں کے ہاتھوں ہزیمت اٹھا نا پڑی۔

 

مجاہدو، سپاہیو

رہِ یقیں کے راہیو

ہو جانِ باکمال تم

ہو شانِ لازوال تم

سپاہیانِ ذی حَشم

ہر آن پُر جلال تم

ہے ابرہہ غلط گُماں

وہ رَن پڑے گا الاماں

اٹھے گا ابرِ خوں فشاں

جنودِ مرگِ ناگہاں

ہُبل، عزیٰ ہو، لات ہو

وہ چاہے سومنات ہو

سبھی بُتانِ آذری

کوہر جگہ پہ مات ہو

حتف کی تیز دھار تم

کہیں پہ ذوالفقار تم

یہی تو اتہاس ہے

کہ ایک بھی ہزار تم

 

عدو ہوا شکستہ صف

اٹھو کلیم ِ سربکف

تمہیں ہو تیغِ بے اماں

تمہیں ہو تیرِ با ہدف

ستیزہ گاہ اُدھیڑ دو

صفیں سبھی کَھدیڑ دو

شجاعتوں کی داستاں

نئے سرے سے چھیڑ دو

مبارزہ نیا نہیں

محاربہ نیا نہیں

وہی ہے رزمِ خیر و شر

یہ معرکہ نیا نہیں

یہ جانثار آئیں گے

یہ بار بارآئیں گے

یہ پرتھوی کو روندتے

کئی ہزار آئیں گے

منصور الحسن ۔ لاہور

 

  مدینہ کی ریاست کو جب بیرونی جارحیت کا سامناہوا تو اللہ تعالیٰ نے وحی کے ذریعے مسلمانوں کوحکم دیا کہ اپنے دفاع کو مضبوط کرو۔سورة الانفال میں کہا گیا:

''اور تم لوگ ،جہاں تک تمہارا بس چلے، زیادہ سے زیادہ طاقت اور تیار بندھے رہنے والے گھوڑے ان کے مقابلے کے لئے مہیا رکھو تاکہ اس کے ذریعے سے اللہ کے اور اپنے دشمنوں کو اور ان دوسرے اعداء کو خوف زدہ کرو جنہیں تم نہیں جانتے مگر اللہ جانتا ہے۔(8:60)

مولانا سید ابو الاعلیٰ مودودی نے اس کی تفسیر میں لکھا:

''اس سے مطلب یہ ہے کہ تمہارے پاس سامانِ جنگ اور ایک مستقل فوج ہر وقت تیار رہنی چاہئے تاکہ بوقتِ ضرورت فوراً جنگی کاروائی کر سکو۔یہ نہ ہو کہ خطرہ سر پر آنے کے بعد گھبراہٹ میں جلدی جلدی رضا کاراوراسلحہ اور سامانِ رسد جمع کر نے کی کوشش کی جائے اور اس ا ثنا میں کہ یہ تیاری مکمل ہو،دشمن اپنا کام کر جائے۔''(تفہیم القرآن،جلد دوم،صفحہ155)

 

یہ ایک اہم بات ہے کہ جب تک اسلام مکہ تک محدود تھا اورکوئی باضابطہ ریاست وجود میں نہیں آئی تھی،اس نوعیت کا کوئی دفاعی حکم بھی نہیں دیا گیا۔جب مدینہ میں ایک ریاست وجود میں آ گئی اوربیرونی خطرات میں اضافہ ہوا تواس موقع پر ایک دفاعی نظام بنانے کا حکم دیا گیا۔سورة الانفال، 2 ہجری میں جنگِ بدر کے بعد نازل ہوئی۔یہ جنگ جس بے سروسامانی کے عالم میں لڑی گئی،اس کی تفصیلات حدیث اور تاریخ کی کتابوں میں موجود ہیں۔اس کے بعد گویا لازم ہو گیا کہ مسلمانوں کومنظم دفاعی نظام بنانے کی طرف متوجہ کیا جائے۔

 

عقل عام بھی اس بات کا تقاضا کر تی ہے کہ کوئی ریاست اپنے جغرافیے کے بارے میں تساہل کا شکار نہ ہو۔یہ دنیا مسابقت کی ہے۔کمزور کے لئے جینے کے امکانات معدوم ہو تے چلے جا تے ہیں۔اقوام ِمتحدہ کے وجود میں آنے کے بعد خوش خبری سنائی گئی کہ اب ملکوں کی سرحدیں طے ہوگئیں اورکسی کی جغرافیائی وحدت پامال نہیں ہوگی۔آج ہم کئی ایسی مثالیں پیش کر سکتے ہیں کہ کیسے ملکوں کی خود مختاری پامال ہوئی اور کیسے ان کی سرزمین کے تقدس کو طاقت کے پاؤں تلے روندا گیا۔یہ واقعات اس بات کی شہادت ہیں کہ کسی بین الاقوامی ضمانت پر بھروسہ نہیں کیا جا سکتا اور اگر کوئی ملک اپنی آزادی اور جغرافیائی وحدت کو محفوظ بنانا چاہتا ہے تو اس کے لئے ناگزیر ہے کہ وہ ایک مضبوط دفاعی حصار کا اہتمام کرے۔

 

یہ ایک عمومی بات ہے جس کا تعلق کسی بھی ملک سے ہو سکتا ہے۔تاہم بعض خطے ایسے ہیں جو بدقسمتی سے بطور ِ خاص بیرونی جارح قوتوں کا ہدف ہیں۔جیسے کہ مشرقِ وسطیٰ۔اب اگر اس خطے کا کوئی ملک یہ چاہے بھی کہ وہ دفاعی اخراجات کو کم کرے یا اس پر توجہ نہ دے تو ایسا نہیں کر سکتا۔جہاں تمام عالمی قوتیں برسرِ پیکار ہوں اورعلاقی قوتیں بھی جنگوں سے گزر رہی ہوں،کسی ملک کے لئے یہ ممکن نہیں کہ وہ یک طرفہ طور پر اپنی دفاعی ضروریات سے بے نیاز ہو سکے۔

 

جنوبی ایشیا بھی اب دنیا کا ایک ایسا ہی خطہ ہے۔1989ء کے بعد یہ ایک عالمی جنگ کا مرکز بنا جب سوویت یونین نے اپنی فوجیں افغانستان میں اتاریں۔اپنے جغرافیے کے باعث، پاکستان سب سے زیادہ اس سے متاثر ہوا۔یہ ایک ایسی جنگ تھی جو کسی نہ کسی صورت میں آج تک جاری ہے۔وجہ یہاں بھی وہی بنی جو مشرقِ وسطیٰ میں تھی۔  بیرونی قوتوں کی فوجی مداخلت۔یہی نہیں،ان طاقتوں نے علاقائی قوتوں کو جنگ کے راستے پر ڈالا۔مثال کے طور پر بھارت کو چین کے مقابلے میں کھڑا کر نے کے لئے ،اس کو ایک بڑی عسکری قوت بننے میںمدد دی گئی۔یہ کوئی راز نہیں کہ بھارت دنیا میں امریکی اسلحے کا سب سے بڑا خریدار ہے۔

 

سوال یہ ہے کہ اس پس منظر میں پاکستان کے پاس کیا راستہ ہے؟ کیا وہ اپنے دفاع سے غافل رہ سکتا ہے؟اگر اس تاریخ کو سامنے رکھا جائے جو پاک بھارت تعلقات کے باب میں کئی جنگوں سے عبارت ہے تو پاکستان کے پاس اس کے سواکوئی راستہ نہیں کہ وہ اپنا دفاع مضبوط کرے۔یہ اس کی ناگزیر دفاعی ضرورت ہے۔ یہ انتخاب کا سوال نہیں۔اگر خطے کی صورتِ حال بدل جائے تو پاکستان کی دفاعی حکمت ِعملی بھی تبدیل ہو سکتی ہے۔مثال کے طور پر اگر یہ خطہ ایٹمی ہتھیاروں سے پاک ہو جائے تو پاکستان کے ایٹمی پروگرام کا جواز بھی باقی نہیں رہے گا۔لیکن جب تک اس خطے میں دنیا کا سب سے بڑا اسلحے کا خریدار موجود ہے اور پاکستان کئی بار اس کی جارحیت کا شکار ہوچکاہے، پاکستان کے لئے لازم ہے کہ وہ لمحہ بھر کے لئے بھی اپنے دفاع سے غافل نہ رہے۔

 

دفاعی نظام کی مضبوطی کا یہ مطلب نہیں کہ صلح کا دروازہ بند کر دیا جائے۔مذہب صلح کی بات کر تا ہے ۔جنگ کسی مہذب ملک یا فرد کی پہلی ترجیح نہیں ہوتی۔ہر امن پسندانسان  جنگ کو ناپسند کر تا ہے۔ اس کے باوجود،ہر ملک فوج رکھنے پر مجبور ہے۔اس کا مطلب یہ ہے کہ یہ دنیا کبھی فسادی اور شریر لوگوں سے خالی نہیں رہی۔انہیں مہذب رکھنے کے لئے بھی مضبوط دفاعی نظام کی ضرورت پڑتی ہے۔گویا ایک مہذب ملک کی فوج امن کی علامت ہے اور اس کے خلاف ہر وہ فوج جو استعماری مقاصد کی آبیاری کرتی ہو،اس کا یہ دعویٰ محلِ نظر ہو گا کہ وہ ایک مہذب معاشرے کی نمائندگی کر تی ہے۔

 

آج کے دور میں فوج کسی ملک کے دفاع کی علامت ہے۔جنگ اب ایک سائنس ہے۔قدیم ادوار میں تلواروں اورجنگجوئوں کی تعداد فیصلہ کن ہو تی تھی کہ مقابلہ مقدار کا تھا،کمیت کا نہیں۔آج یہ علم اور ٹیکنالوجی کا فرق ہے۔یوں دفاع کی ضروریات تبدیل ہو گئی ہیں۔اس کا سادہ مفہوم یہ ہے کہ دفاع ایک مضبوط ہمہ جہتی دفاعی نظام کا متقاضی ہے۔یہ ایک باعزت زندگی گزارنے کی ناگزیر ضرورت ہے۔اللہ کا شکر ہے کہ پاکستانی ریاست اور قوم اس کی اہمیت کو جانتی ہے۔اس کی فوج مضبوط ہے اوریہ خطے میں امن کی علامت بھی ہے۔گویا پاکستانی فوج صرف اپنے ملک کا دفاع نہیں کر رہی بلکہ جنوبی ایشیا میں بھی طاقت کے توازن کو قائم کئے ہوئے ہے جو پورے خطے کی ضرورت ہے۔یہ پاک فوج کی پیشہ ورانہ مہارت کا ثبوت ہے کہ وسائل میں کم ہونے کے باوجود ،وہ جارحیت پسند قوتوں کو مہذب بنانے کا فریضہ بھی سر انجام دے رہی ہے۔ 


مضمون نگار معروف دانشور ،سینئر تجزیہ نگار اور

کالم نویس ہیں۔  [email protected]

 

Comments



Note: No comments!



Leave a Reply

Success/Error Message Goes Here
Note: Please login your account and then leave comment!
TOP