خود احتسابی کے خوگر بنیں

میں کیا کر رہی ہوں یا کیا کر رہا ہوں ؟

میرا کیا کردار ہے ؟

کیا میں اپنا کردار صحیح طریقے سے ادا کر پا رہا/ رہی ہوں؟

یہ وہ سوالات ہیں جن کا ہم جواب آج تلاش کرتے ہیں۔

تو چلئے شروع کرتے ہیں اپنے آپ سے کہ بحیثیت پاکستانی میں اپنے کردار کو نبھانے میں کامیاب ہوا ہوں یا ناکام۔ ایک افسر کی حیثیت سے میں دفتر میں بیٹھ کر گپ شپ، چائے، اخبار سے لطف اندوز ہوتا ہوں یا اپنے کام کو پوری توجہ و یکسوئی سے کرتا ہوں۔

ایک طالب علم کی حیثیت سے کیا میں نے اپنا کام ایمانداری سے کیا یا نہیں۔ نوٹس اپنی مدد آپ کے تحت بنائے یا نیٹ سے کاپی کئے۔

بحیثیت سیاستدان میں نے اپنے ووٹر سے کئے ہوئے وعدے پورے کئے یا صرف اپنے

perks & priviliges

کو انجوائے کیا اور بیرون ملک دورے کئے۔

بحیثیت ڈاکٹر میں نے اپنی بہترین خدمات گورنمنٹ ہسپتال میں انجام دیں یا مریضوں کو اپنے پرائیویٹ کلینک پر بلایا۔

بحیثیت استاد میں نے طلباء کو اپنا تمام علم دیا، ان کی تربیت کی یا ان کو شام اپنی اکیڈمی میں داخلہ لینے پر مجبور کیا۔

بحیثیت جج میں نے اپنے فرائض ادا کئے، انصاف پر مبنی فیصلے کئے یا ناانصافی کی۔

بحیثیت دوکاندار میں نے کتنی ملاوٹ کی، کتنی چور بازاری کی۔کہاں گاہک کو دھوکہ دیا اور کہاں جھوٹی قسم کھائی۔

بحیثیت خاتون خانہ میں نے گھر کے ہر کام اور ہر بات میں اپنے شوہر کی رضا مندی کو ملحوظ خاطر رکھا یا جو دل میں آیا وہ کیا اور اس سے گھر کے معاملات جو اس کے علم میں ہونے چاہئے تھے چھپا لئے۔

یہ ساری وہ باتیں ہیں جن کا سوائے ہماری ذات کے اور کوئی جوابدہ نہیں ہے۔ لہٰذا ہم اگر ایسا ہی کر رہے ہیں تو کیوں اور اگر ایسا نہیں کر رہے تو کیا وجہ ہے؟

ان دونوں سوالوں کے جوابات ڈھونڈتے ہیں اور ان جوابات کے مطابق اپنی ذات کے اندر تبدیلی لانے کی کوشش کرتے ہیں جس کا من حیث القوم ہم شکار ہیں۔

خدا نے آج تک اس قوم کی حالت نہیں بدلی

نہ ہو جس کو خیال آپ اپنی حالت کے بدلنے کا

بے قدری، بے کاری کا عذاب

 

ایک پہاڑی چوٹی پر تین دیو ، ہوا، پانی اور بجلی رہتے تھے۔پہاڑی کے نیچے ایک گائوں تھا۔ ان دیوئوں نے گائوں والوں کی زندگی اجیرن کررکھی تھی۔ گائوں والے ان دیوئوں سے بہت تنگ تھے۔ گائوں کا ایک سیانا بڈھا کہنے لگا کہ بھائیو! یوں تو جینا محال رہے گا کیوں نہ ہم ایک وفد پہاڑی کی چوٹی پر بھیجیں اور تینوں دیوئوں  سے بات کریں، ممکن ہے وہ سمجھوتہ کرلیں۔ چنانچہ وفد بھیجا گیا تو دیوئوں نے کہا کہ ہم تمہارے دشمن نہیں بلکہ ہم تو تمہاری خدمت کرنا چاہتے ہیں۔  دراصل مشکل یہ ہے کہ ہم کچھ کرنے کے بغیرنہیں رہ سکتے۔ مجھے لگتا ہے کہ ہماری نئی نسل ان تینوں دیوئوں جیسی ہوگئی ہے۔ وہ کچھ کئے بغیر نہیں رہ سکتی۔ ہم نے انہیں بے قدری اور بے کاری  کے عذاب میں مبتلا کررکھا ہے اس لئے وہ ایڈونچر کی تلاش میں تخریب کی جانب چل نکلتے ہیں۔ تمام تر قصور ہمارا ہے۔

                                (اقتباس۔ تلاش۔ ممتاز مفتی)

 

 پہلی صورتحال میں اگر ہم یہ سب کرتے ہیں تو ا س کی کئی توجیہات ہیں۔ جیسے خدا خوفی نہ ہونا یا دین سے دوری۔ یعنی ہمارے دل میں اللہ تعالیٰ کا خوف ہی نہیں نہ آخرت کی جوابدہی کا کہ ہم اس کو کیا منہ دکھائیں گے۔ اپنے اعمال کا کیا جواب دیں گے۔سزاو جزا کا خوف نہیں ہے۔

یہ صرف دین سے دُوری کی بات نہیں بلکہ بہت سی باتیں ہمارے کلچر کا حصہ بن گئی ہیں۔ جھوٹ، بے ایمانی، وعدہ خلافی یہ اب ہمارے لئے باعث شرم نہیں رہیں۔ ہم اخلاقی گراوٹ کاشکار ہو گئے ہیں۔ ہم من حیث القوم ان عِلتوں میں مبتلا ہیں۔ اس کی اور بھی کئی وجوہات ہیں۔ ہم ایک دوسرے سے بے نیاز ہو گئے ہیں، بے حس ہو گئے ہیں خودغرضی میں مبتلا ہیں۔جب انسان کسی سے بے نیاز ہوتا ہے تو اس کی پروا کرنا چھوڑ دیتا ہے۔ اس کے اچھے بُرے کی پروا نہیں کرتا۔ اس کے ساتھ ساتھ اس میں خودغرضی بھی شامل ہو گئی۔ تو ہوا یوں کہ جب ہم نے پروا کرنی چھوڑی تو اس کے اچھے بُرے، خوشی غمی سے ہمیں کوئی غرض نہیں رہتی اور اگر اس کے نقصان سے کہیں ہمارا بھلامنسلک ہو تو ہم اس کے لئے خفا ہونے کے بجائے اپنی خوشی پر خوش ہوتے ہیں، یوں اس کی خوشی پہ دل میں خفا ہوتے ہیں۔ دل میں حسد، بغض پنپنے لگتا ہے۔ یہ نفسی برائیاں ہمیں گھیرنا شروع کردیتی ہیں اور ہم ان میں ملوث ہوتے جاتے ہیں۔ لاشعوری طور پر، ہمیں خبر بھی نہیں ہوتی۔جب ہمیں پتہ چلتا ہے تو ہم ان برائیوں میں کافی آگے نکل گئے ہوتے ہیں۔ اس کی اور بھی کئی reasons ہو سکتی ہیں۔ ہمارے رشتوں میں دُوریاں آگئی ہیں۔ پہلے جوائنٹ فیملی سسٹم میں سب اکٹھے رہتے تھے۔ اچھی بُری بات ہر جگہ ہو جاتی تھی لیکن ایک دوسرے کا لحاظ، مروت، احترام ملحوظ خاطر رکھا جاتا تھا۔ بڑے بزرگ چھوٹوں کو غلط بات پر ٹوک دیتے تھے، حتی کہ دُور پار کے رشتہ دار یا پڑوسی بھی لیکن ان کی بات کا کوئی بُرا نہیں مناتا تھا۔ اب اس کے برعکس ہے۔ نانی دادی یا نانا دادا یا کوئی اور بڑا بچے کو کچھ کہہ کے تو دیکھے،والدین فوراً لڑائی جھگڑے پر آجاتے ہیں۔ صبر، تحمل، برداشت جیسی صفات سے بھی ہم عاری ہو گئے ہیں۔ پہلے پہل لوگ ایک دوسرے کے ساتھ مروّت و محبت کے رشتوں میں بندے ہوتے تھے۔ اب ایسا نہیں ہے۔ اس سب کی وجہ صرف دین سے دُوری نہیں ہے، ہم اب کردار کے غازی نہیں رہے۔ دین کردار سازی میں مدد کرتا ہے اسے تو ہم نے حقوق العباد کے معاملے میں پیچھے ہی چھوڑ دیا۔ (البتہ حقوق اللہ بڑی شدو مد سے اختیار کئے ہوئے ہیں) لیکن اخلاقیات کو کیوں چھوڑ دیا۔ دنیا کی مہذب قومیں مسلمان نہیں ہیں لیکن وہ اخلاقیات

Ethics

کی دولت سے مالا مال ہیں۔ ان میں سچ، امانتداری، ایفائے عہد اور انصاف جیسے سب اوصاف موجود ہیں۔ ہمیں ان اوصاف کو اپنے اندر تلاش کرنے اور اپنانے کی ضرورت ہے۔ ان اوصاف کی عدم موجودگی کی وجہ انفرادی و اجتماعی بھی ہو سکتی ہے، تہذیبی اور تاریخی بھی ہو سکتی ہے، نفسیاتی اور سیاسی بھی ہو سکتی ہے، معاشی اور معاشرتی بھی ہو سکتی۔ ہمیں اپنے آپ میں یہ اوصاف پیدا کرنے ہوںگے۔ کیونکہ کوئی قوم اس وقت تک مہذب نہیں ہو سکتی جب تک اس میں اخلاقی اقدار زندہ نہ ہوں۔ ہماری اخلاقی اقدار ابھی مری نہیں ہیں بلکہ سو رہی ہیں جیسے ہی کسی کو کوئی تکلیف پہنچتی ہے ہمارے اندر سوئی ہوئی اچھائی بیدار ہو جاتی ہے۔ ملک پہ کوئی آنچ آتی ہے یا قوم کو کوئی ٹھیس پہنچتی ہے تو یہی سوئی ہوئی قوم فوراً جاگ جاتی ہے، متحد ہو کر مخالف کے لئے سیسہ پلائی دیوار بن جاتی ہے۔

جو لوگ دوسرے پہلو کے مطابق زندگی گزار رہے ہیں۔یعنی سب اچھا کر رہے ہیں تو ان میں کچھ دیندار ہوں گے، کچھ اخلاقیات کا خیال رکھنے والے ہوں گے اور کچھ انسانیت کے علمبردار ہوں گے۔ ہر شخص دوسرے سے مختلف شخصیت، عادات و اطوار رکھتا ہے۔ کوئی دوسرے جیسا نہیں ہوتا لیکن پھر بھی ہمارا معاشرہ بے حسی کا شکار نظر آتا ہے۔ لوگ ایک جیسے نہ ہو کر بھی ایک جیسے نظر آتے ہیں۔ ہمیں اپنے اس معاشرے کو بے حسی سے نکال کر زندگی کی طرف پورے جوش و جذبے اور ایمانداری سے رواں رکھناہے۔

 موجودہ حالات کی جو وجوہات میں نے اوپر پیش کی ہیں ان پر ہمیں سوچنا یہ ہے کہ ہم کس توجیہہ کا شکار بنے ہیں، کون سی ایسی وجہ ہے جو مجھ میں یہ کمی یا خامی پیدا کرنے کا باعث بنی۔ اب اسے دور کرنے کا وقت ہے۔ ہمیں خود اپنی اصلاح کا بیڑ ا اٹھانا ہے۔یہی انفرادیت سے اجتماعیت کا سفر ہے۔ معاشرہ ایک شخص سے نہیں پوری قوم سے بنتا ہے

افراد کے ہاتھوں میں ہے اقوام کی تقدیر

ہر فرد ہے ملت کے مقدّر کا ستارہ


[email protected]

 

Comments



Note: No comments!



Leave a Reply

Success/Error Message Goes Here
Note: Please login your account and then leave comment!
TOP