جوازِ جنون

میں خود ایک سپاہی ہوں اور فوج کی جفا کش ٹرنینگ کے ابتدائی مراحل سے بھی گزرا اور اب تک ایک بھر پور فوجی کی زندگی گزاری۔ موت کو اس سفر میں اتنی دفعہ قریب آتے دیکھاکہ بے و قعت ہو گئی۔ یہ کہانی پاک فوج کے ہر آفیسر کی بھی ہے اور ہر جوان کی بھی ہے کہ موت اپنے حقیر ہونے پر ان سے نالاں ہو گی۔ میں اکثر سوچتا تھا کہ ان کٹھن راہوں میں جہاں زندگی کا پتا نہیں، جہاں بچوں اور بیوی کے ساتھ گزرے ہوئے دن انگلیوں پر گنے جا سکتے ہوں، جہاںمعاشرتی طور پر بے چینی اور بے یقینی ہو تو وہ کیا ہے کہ ان سپاہیوں کو اپنے مقصد سے پیچھے ہٹنے نہیں دیتا۔ وہ کیا ہے کہ یہ ضدی جری 20 سال کے جوان سے لے کر 50 سال کے سینیئر آفیسر تک سب ہی اپنے وطن کے لئے جیتے ہیں اور اس کے لئے مرتے ہیں۔ کسی نے کہا PMA کی اعلیٰ ٹرنینگ ہے جو آپ کو کامریڈ شپ سکھاتی ہے، کسی نے کہا کہ پلٹن یا یونٹ کا وقار آپ کی طاقت ہوتا ہے جس کے لئے ہر پاکستانی سپاہی سینے پر گولی کھاتا ہے۔   یہ تمام باتیں یقینا ہیں لیکن پھر بھی کچھ اور تو ہے کیونکہ یہ معاملات تو دنیا کی دوسر ی اعلیٰ افواج میں بھی ہوتے ہیں یعنی ٹرنینگ اور پلٹن کی عزت۔

 

 وہ آنکھیں کما ل طاقت سے بھر پور آنکھیں تھیں میں ان کے اثر سے نہ نکل سکا۔ بزرگ خاتون کا چہرہ متانت اور بردباری سے بھرپور تھا،میں حیرت زدہ رہ گیا جب مجھے یہ معلوم ہواکہ یہ پاک فوج کے دو سپو ت کرنل عامر اور میجر عمر کی والدہ ہیں، جو دونوں شہید ہو گئے ہیں اور ان کے ایک صاحب زادے  لیفٹیننٹ جنرل شاہد بیگ مرزا ہیں۔ لوگوں کے چہرے پڑھنا میرے کا م کا حصہ ہے۔  5کور میں اپنی تین سالہ پوسٹنگ کے دوران مجھے بہت سارے چہرے پڑھنے کا اتفاق بھی ہوا۔ لیکن ان خاتون کا چہرہ اور وقار جس کے دو بیٹے شہید ہوں، ایک یکسر مختلف تجربہ تھا۔میرا دل اُن کے جذبات جاننے اور ان پر کچھ لکھنے کے لئے بے چین ہو گیا۔ میں نے جنرل شاہد بیگ مرزا سے اجازت چاہی لیکن ظرف اور متانت پوری فیملی کا خاصہ ہے۔ جنرل صاحب کہنے لگے کہ یہ ہمارا فخر ہے اور ہم کسی قسم کی تشہیر نہیں چاہتے۔اس بات کو قریباً ایک سال ہو گیا اور میں اسلام آباد پوسٹ ہو گیا۔ اب جب کہ 6ستمبر میں چند دن باقی ہیں اور شہداء  اور ان کے عزیزوں کی عظمت کا دن بھر پور طریقے سے منایا جائے گا، میں جنرل شاہد کی والدہ کو نہ بھُلا سکا۔ ہمت کر کے جنرل صاحب سے دوبارہ عرض کی اور اس دفعہ مُراد بر آئی۔ میری قسمت اچھی تھی کہ ان کی والدہ     اسلام آباد میں ہی تھیں اور میں مقررہ دن اور وقت پر ان کے پاس حاضر ہوا۔ جنرل صاحب کی والدہ ویسے ہی حوصلے میں لگیں، مضبوط و قائم۔ میں نے ان کی اپنی زندگی کے حوالے سے پوچھا تو انہوں نے بتایا کہ ان کے شوہر لیفٹیننٹ کرنل عبدالحق نے بھی ایک بھرپور سپاہی کی زندگی گزاری اور اپنے آبائی گائوں ملہال مغلاں (سوہاوہ روڈ چکوال ) میں اپنے وقت کے اکلوتے آ فیسر تھے۔ انہوں نے 65ء اور71ء کی جنگیں لڑیں۔ ا ور71ء کی جنگ کے بعد قیدوبند کی صعوبتیں بھی برداشت کیں۔ وہ بچوں کو اکثر کہا کرتے تھے کہ بہادروں کی طرح جیواور بہادروں کی طرح جان دو۔ میرے دونوں شہید بچے بھی بہت سعادت مند تھے۔ ماں باپ کی عزت اورتکریم کا ہر وقت خیال رکھتے۔ عمر PMAمیں پلاٹون کمانڈر تھاجب اس کے والد کو کینسر کی تشخیص ہوئی اس نے Compassionate Grounds  پرراولپنڈی کی پوسٹنگ مانگی۔  اسے EMEکالج میں کوارٹر ماسٹر پوسٹ کیا گیااس کے والد اس کی اس پوسٹنگ سے نا خوش تھے لیکن عمر نے کہا کہ ابو جی اگر آپ کی خدمت کرنے کے لئے مجھے گیٹ کیپر بھی پوسٹ کیا جاتا تو وہ بھی اچھا ہوتا ۔  میرے شوہر بیماری میں ہی وفات پا گئے اور ان کی خواہش کے مطابق انہیں آبائی گائوں ملہال مغلاں میں دفن کیا گیا۔

 

;2005کے زلزے کے وقت میرے بیٹے لیفٹیننٹ کرنل عامر اور میجر عمراپنی یونٹ 11 پنجاب میں پوسٹ تھے جو کشمیر میں تھی۔ یہ امدادی کارروائیوں میں مصروف تھے ۔جنرل شاہدبیگ مرزا اس وقت GHQ میں کرنل تھے ۔ وہ بھی زلزلے کے بعد کی امدادی سر گرمیوں کو دیکھ رہے تھے۔ 15 اکتوبر 2005کو عمر امدادی کارروائی کے دروان ہیلی کا پٹر کے حادثے میں شہید ہو گیا۔ عمر کی شہادت کی خبر حسن (چھوٹا بھائی) نے مجھے دی۔ رمضان کا مہینہ تھا اور سحری کا وقت تھا۔ سحری پر مجھے ہر ایک کال کر رہا تھا لیکن سمجھ نہیں آرہی تھی کہ کیا ہو رہا ہے۔ جب عمر کی شہادت ہوئی اس وقت میں بہت بے چینی محسوس کر رہی تھی میں نے عامر کو فون کیا جو اس وقت یونٹ کمانڈ کر رہا تھا کہ میری عمر سے بات کرائو۔ عامر نے کہا کہ امی جی وہ ابھی اُٹھ کر گیا ہے لیکن یہ وہ وقت تھا جب عمر کی شہادت ہو چکی تھی۔ یہ کہتے ہوئے وہ پُرنور آنکھیں پُرنم تھیں لیکن یہ ایک بہادر ماں کی آنکھیں تھیں ان کی آواز و بیان کسی بھی کمزوری سے دور تھا۔ عمر کے بچے احمد ڈیڑھ سال اور ماہ نور 4سال کی تھی۔ عمر کی شہادت کے وقت میں اور میری بہو (عمر کی بیگم) ساتھ تھے۔ ہم نے اللہ کی رضا کو مانا۔ محلے والے کہتے تھے کہ ہمیں کسی قسم کے دُکھ کی آواز نہیں آئی۔ ہم نے صبر اور ضبط سے اللہ کی رضا کو مانا۔ لوگوں کی زندگی حادثوں میں بھی چلی جاتی ہے یہاں تو میرا بیٹا شہادت کا رُتبہ پا گیا تھا، لافانی ہو گیا تھا۔ بارش کی وجہ سے ہمیں تین دن اُس کا جسدِ خاکی آنے کا انتظار کرنا پڑا۔ یہ ایک بہت مشکل وقت تھا ۔ 17 اکتوبر 2005 کو عمر کی میت پہنچی۔ ہم بہت حوصلے میں تھے۔ ہمارے کچھ عزیزوں نے کہا کہ اتنا حوصلہ حیران کُن ہے۔ جب عامر اپنے بھائی عمر کی میت لایا تو میں نے عامر سے کہا کہ لوگ یونٹ کے افسروں اور جوانوں کی میت لاتے ہیں تم آج اپنے بھائی کی میت لائے ہو اور عامر نے پیار سے کہا کہ امی جی شہیدوں کے جانے پر آنسو نہیں بہاتے وہ زندہ ہوتے ہیں یہ ہمارا فخر کا لمحہ ہے۔ عمر کی بیگم نے بھی بہت حوصلے سے یہ وقت دیکھا۔ عمر کو اپنے والد کے پہلو میں اپنے آبائی گاوں میں ہی جگہ ملی۔

 

2009 میں میرا بیٹالیفٹینیٹ کرنل عامر لاہور میں ISI میں پوسٹ تھا۔ عامر نے اپنا گھر بھی لاہور میں بنایا اور اس کی فیملی اور عمر کی فیملی کے گھر ساتھ ساتھ رکھے۔ عامر نے جب گھر بنایا تو اس وقت تک کسی نے اس گھر میں قدم نہیں رکھا جب تک میں نے آ کر قدم نہیں رکھا۔ گھر میں عامر نے وہ تمام چیزیںمیرے کمرے میں ویسے ہی رکھیں جیسے میں چاہتی تھی۔ مجھے کھلی کھڑکیاں پسند تھیں۔ عامر نے ایک کمرہ بالکل میری خواہش کے مطابق بنایا ۔ عامر مجھے لاہور شہر کی ہر اس جگہ لے کر گیا جہاں مختلف کھانے تھے۔ میں منع بھی کرتی لیکن وہ یہ کہتا کہ پہلے آپ کا حق تھا اب میر ا حق ہے۔ عامر نے عمر کے بچوں کا اپنی اولاد کی طرح خیال رکھا۔ لاہورمیں ISI   میں نوکر ی کے دوران اس نے دہشت گردی کے خلاف بہت سے آپریشن کیے۔ ایک دن عامر نے فون کیا اور کہا کہ تمام  گھر کے لوگTV لائونج میں اکٹھے ہو جائیں ۔  باہر کوئی نہ ہو۔  بعد میں پتا چلا کہ فیملی کو خطرہ تھا۔

 

27 مئی 2009کو میں اپنے چھوٹے بیٹے حسن کے گھر پر اسلام آباد میں تھی۔ حسن کی بیوی نے مجھے بتایا کہTV   پر لاہو ر میں دھماکے کی خبر آ رہی ہے مجھے ایسے لگا کہ یہ دھماکہ میرے وجود پرہوا ہے۔ میں اسی بے چینی کا شکار ہو گئی جو کبھی عمر کی شہادت کے وقت تھی۔ اتنے میں میری بیٹی کی کال آئی کہ عامر دھماکے میں شہید ہو گیا ہے۔ میں چپ ہو گئی۔ میں آخر ماں تھی مگر اُس کو اﷲ کی رضا جانا اور صبر اور شکر ادا کیا۔  میں رب کی رضا پر راضی تھی۔ مجھے میری فیملی لاہور لائی۔ یہ ایک مشکل گھڑی تھی۔ دو جوان سعادت مند بیٹے چلے گئے۔ عامر کا بیٹا عدنان 13سال کا تھا، بیٹی مریم 10اور عائشہ 7سال کی تھی۔ عامر کی بیگم نے بھی اس صدمے کو بڑے حوصلے سے برداشت کیا۔ عامر تو خود ہی خاندان کا حوصلہ تھا۔ عامر کو اس کے والد اور بھائی کے ساتھ ملہال مغلاں میں ہی جگہ ملی۔

 

عامر کے بعد اس کے بچوں کو تو جو کمی ہوئی لیکن عمر کے بچوں نے بھی یہ صدمہ ایک بار پھر دیکھا۔ یہ دوہری محرومی تھی۔ عامر نے اُن بچوں کو اپنی اولاد سمجھ کے پالا تھا۔

اس گفتگو کے دوران کچھ  نازک لمحے بھی آئے جب ایک بہادر اور مضبوط ماں کو اولاد کی چاہت کرتے دیکھا لیکن پھر یہ بھی دیکھا کہ یہ شہید بیٹے فوراً ہی ان کی طاقت بن گئے۔ کرنل عامر بیگ مرزا اور میجر عمر بیگ مرزا کی بیگمات بھی عظیم خواتین ہیں۔ یہ نقصان ناقابلِ تلافی ہے، یہ محرومی ایک حقیقت ہے لیکن شہیدوں کی قدر و منزلت اپنی جگہ مسلّمہ ہے۔ ان کے اپنے عظیم مقصد کے لئے قربان ہو گئے اور یہی ان کا اثاثہ ہے اور یہی ان کی طاقت۔ کچھ ایسے ہی ہوتے ہیں جو اپنا آج دوسرے کے کل کو دے دیتے ہیں ۔

 

کرنل عامر بیگ مرزا اور میجر عمر بیگ مرزا کی شہادت کے بعد ان کے گاوں کے بہت سے بچوں نے فوج جوائن کی ۔ ان کے حوصلے بُلند اور جذبہِ شہادت سے سرشار ہیں۔ بقول شہیدوں کی والدہ کے وہ اتنی دی ہوئی عزت پر اللہ تعالیٰ کی شکر گزار ہیں دو شہید لختِ جگر بڑا اعزاز ہے۔ انہوں نے آخر میں یہ کہا کہ آرمی کی طاقت ہم ہیں اور ہماری طاقت آرمی ہے۔

 

مجھے اپنے سوال کا جواب مل گیاتھا۔

جب تک ایسی مائیں زندہ ہیں جو بچوں کو فخر سے میدان جنگ میں بھیجتی  رہیں گی اور ان کی شہادت پر فخر کرتی رہیں گی سر فروشوں میں یہی دیوانگی رہے گی۔ یہ معاملہ فخر کا ہے ۔ یہ معاملہ استقامت اور صبر کا ہے اور صبر کا صلہ صرف اللہ تعالیٰ کے پاس ہے۔

 

Comments



Note: No comments!



Leave a Reply

Success/Error Message Goes Here
Note: Please login your account and then leave comment!
TOP