جنگِ ستمبر

جنگِ ستمبر: ایک سینیئر( ریٹائرڈ )بیورو کریٹ کی یادیں

6 ستمبر 1965ء کی شام افغانستان کی حکومت کی طرف سے حکومتِ پاکستان کو ایک خط موصول ہوا جس میں فیلڈ مارشل ایوب خان کو لکھا گیا تھا کہ پاک بھارت جنگ میں ہم آپ کی اور تو کوئی مدد کرنے کی پوزیشن میں نہیں ہیں البتہ یہ یقین دہانی کراتے ہیں کہ جب تک آپ کی بھارت کے ساتھ جنگ رہے گی ہماری طرف سے ایک فیصد بھی سرحدی خلاف ورزی نہیں ہوگی لہٰذا آپ اپنی وہ دو ڈویژن فوج جو ہمارے بارڈر پر لگا رکھی ہے، اسے بھارت کی سرکوبی کے لئے لے جائیں۔ جنگ کے دوران ایک ایک جوان بہت اہم ہوتا ہے، یوں وہ دو ڈویژن بھی مشرقی محاذ پر لے جائے گئے، یہ ایک انتہائی اہم یاد ہمیں ملک کے ممتاز بیورو کریٹ اور ماہر معاشیات جناب ٹی زیڈ فاروقی (طارق ظہیر فاروقی) نے ہمارے ساتھ شیئرکی۔ دراصل یہ وہ دن تھے جب پاکستان ترقی کی جانب گامزن تھا مگر بھارت نے ہمیں جنگ میں جھونک دیا تھالیکن اب پاکستان ہر قسم کے اسلحے میں خود کفیل دنیا کی پہلی اسلامی ایٹمی مملکت ہے۔ جناب ٹی زیڈ فاروقی نے چین کے حوالے سے تحسین آفرین انکشاف کیا کہ چین ہمارا ایک ایسا ہمدرد اور بے لوث دوست ملک ہے کہ اس پر آنکھیں بند کرکے اعتبار کیا جاسکتا ہے۔ انہوں نے 1965ء کی پاک بھارت جنگ کے حوالے سے بتایا کہ ہمارا فوجی ٹرانسپورٹ طیارہ C-130 جنگ کے دنوں میں ہر رات چین جایا کرتا تھا بعض دفعہ ایک رات میں دو تین جہاز بھی چلے جاتے اور چین کے اسلحے کے گوداموں کے پاس جا کے رکتے اور جو اسلحہ بھی ہمیں چاہئے ہوتا چین والے جہاز بھر دیا کرتے، انہوں نے نہ کبھی گن کے دیا، نہ ریکارڈ رکھا، نہ کبھی کسی چیز کے دینے میں لیت و لعل سے کام لیا۔ وہ سارا کچھ دوستی کے جذبے سے جنگ میں امداد تھی۔ فاروقی صاحب نے بتایا کہ ایک دو بار میں نے اپنے ساتھیوں سے کہا کہ اس اسلحے کی لسٹیں بنائو تاکہ یہ تو پتہ چلے کہ کتنا کچھ آیا اور کہاں کہاں کس کس محاذ پر گیا۔ یوں بعد میں اس دفاعی سامان کا ریکارڈ بنایا تھا۔ مجھے یاد ہے انہی دنوں 17 ستمبر 1965ء کو چین نے بھارت سے کہا تھا کہ وہ چین کا 65 ہزار مربع میل کا علاقہ خالی کردے۔

 

 مجھے جب فاروقی صاحب ستمبر 1965ء کے حوالے سے دوست ملکوں کے تعاون کا بتارہے تھے تو میرے سامنے 1965ء کا سارا زمانہ گھوم گیا جو تاریخ کی کتابوں میں محفوظ ہے۔ سعودی عرب نے نقد امداد کے علاوہ جنگ کے سارے عرصے میں پٹرول کی صورت میں بھی بھرپور تعاون کیا۔9 ستمبر 1965ء کو انڈونیشی نوجوانوں نے جکارتہ میں بھارتی سفارت خانہ تباہ کردیا تھا۔ ہر چند کہ مہذب ملکوں کے سفارتی آداب ہوتے ہیں مگر بھارت نے سفارت کاری کیا، پڑوس کا بھی خیال نہ رکھا جس پر مسلمان نوجوان برہم ہوئے۔

 

1965میں جب بھارت نے پاکستان کو کمزور جانتے ہوئے حملہ کردیا تو اُس وقت ٹی زیڈ فاروقی کراچی ہی میں تعینات تھے۔ وہ بتا رہے تھے بھارتی حملے کی وجہ سے کس طرح پاکستان بھر کی غیور عوام غم و غصے کی کیفیت میں مبتلا تھی۔ یقینا وہ ٹھیک فرما رہے تھے ، ہم نے دیکھا کہ اُس وقت ہماری ساری قوم اپنی افواج کی پشت پر ایک آہنی دیوار بن کر کھڑی تھی اور پھر دنیا نے دیکھا کہ کس طرح عددی برتری کے نشے میں دھت دشمن کی درگت بنائی گئی اور کس طرح ہماری افواج نے بھارتی افواج کی لاہور جم خانہ کلب میں'جشن' منانے کی خواہش چکنا چُور کردی اور دشمن فوج بی آر بی بھی کراس نہیں کرسکی۔ جناب ٹی زیڈ فاروقی سے گفتگو کے دوران بھی ان کی آنکھوں میں ایک اُمید اور روشنی دکھائی دے رہی تھی۔ جیسے وہ مستقبل میں پاکستان کو ایک عظیم اور مضبوط پاکستان کے روپ میں دیکھ رہے ہوں۔ ٹی زیڈ فاروقی جیسے لوگ اس قوم کااثاثہ ہیں کہ جن کے سینوں میں پاکستان کی اولین دَور کی مشکلات اور قوم نے جس پامردی سے ان کا مقابلہ کیا اس کی یادیں محفوظ ہیں۔ ہمیں ایسے نگینوں کو تلاش کرنا ہوگا، اُن کی یادوں کے دریچوں کو وا کرتے ہوئے قومی تاریخ کے انمول خزینوں کو سامنے لانا ہوگا۔


مضمون نگار ایک معروف صحافی اور مصنف ہیں۔ ایک قومی اخبار کے لئے کالم بھی لکھتے ہیں۔

[email protected]

Comments



Note: No comments!



Leave a Reply

Success/Error Message Goes Here
Note: Please login your account and then leave comment!
TOP