جنونِ رُخِ وفا اورمون گلیڈ

زمانہ کم سنی میں ایک قومی نغمہ بہت سنا تھا جس کے بول تھے۔

 تم ہی سے اے مجاہدو، جہاں کا ثبات ہے۔ گزشتہ ماہ میرے زیرِ مطالعہ ایک کتاب رہی۔ جس کا ٹائٹل ہے ''جنونِ رخِ وفا''۔اس کتاب کا مطالعہ کرتے ہوئے بار با ر مذکورہ بالا مصرعہ ذہن میں گونج رہا تھا۔ اس کتاب کو پڑھتے ہوئے نہ جانے کتنی بار آنکھیں بھیگیں ،یہ تو یاد نہیں۔ کتنی بار ہاتھ لرزے، یہ بھی یاد نہیں۔۔ کتنی بار اس وفا کے جذبے کو سلام کیا یہ بھی یاد نہیںرہا۔ ۔ بس یاد ہے تو فقط اتنا، میں نے شہداء کی مائوں کے بین پڑھے ہیں۔ شہید کی بہنوں کی آہ و زاری پڑھی ہے۔ شہیدوں کے یتیموں کی سسکیاں پڑھی ہیں۔ شہداء کی بیواؤں کے الم پڑھے ہیں۔  میں نے اس کتاب کو پڑھ کر دوستی کے اس جذبے کو محسوس کیا جس کا کوئی نعم البدل نہیں ہے۔ میری، سوشل میڈیا استعمال کرنے والوں سے، گزارش ہے کہ ایک بار سارے تعصبات کو پسِ پُشت ڈال کر، صرف انسانیت کی سوچ کو لے کر اس کتاب کا مطالعہ کیجئے۔ ذرا اہلِ دل ہوکر محسوس کیجئے۔ ایک ماں کس طرح سے اپنے بیٹے کو جوان کرکے وطن عزیز کی حفاظت کے لئے سکیورٹی اداروں میں تعینات کراتی ہے۔ تب کیا گزرتی ہوگی اس ماں پر جب وہ اپنے کڑیل جوان کے شاہی جلوس کا استقبال کرتی ہوگی۔ کیا گزرتی ہوگی اس ماں پر جب اسے پتہ چلتا ہوگاجس ماتھے پر وہ بوسہ دیتی تھی وہ لہو لہو ہے۔ کیا گزرتی ہوگی ان بہنوں کے دلوں پر جب ان کو خبر ملتی ہوگی کہ جس سینے پر سر رکھ کر وہ بھائی سے ناز اٹھوایا کرتی تھیں، اس چھاتی کو گولیوں سے چھلنی کر دیا گیاہے۔ کیا دل کہتا ہوگا بابا کی اس گڑیا کا جوہر روز اپنے باپ کے آنے کا انتظار کرتی ہے۔ روز اپنی ماں سے کہتی ہے کہ مجھے بابا سے بات کرنی ہے۔ کیسے شب و روز ہوںگے اس جوان بیوہ کے ؟ سفید رِداجس کا مقدر بن گئی ہو۔

 

جو لوگ ایک مخصوص مائنڈ سیٹ کی وجہ سے افواج کو برا بھلا کہتے ہیں، وہ ذرا اس ماں کے دل سے بھی تو پوچھیں جو روز اپنے بیٹے کے جوتوں اور وردی کو سینے سے لگا کر شہادت کے اس آخری پل کو محسوس کرنے کی کوشش کرتی ہے جب زخموں سے چُور اس کاکڑیل جوان بیٹا دشمن کا مقابلہ کررہا تھا اور دلیر ماں کا بہادر سپوت مادروطن کی حفاظت میں جان کی بازی ہار کر سپرد خاک ہوا۔ ذرا پوچھو  ان بہنوں سے جو ابھی بھائی کی شادی کے گیتوں کی تیاری کررہی ہوتی ہیں مگر بھائی کا جنازہ ان کے سامنے ہوتا ہے۔ ذرا پوچھو ان کم سن بچوں اور بچیوں سے جو اپنی چھاؤں سے محروم ہوجاتے ہیں۔ ۔ ذرا پوچھو ان جوان بیواؤں سے جنہوں نے زندگی کی بہارٹھیک سے دیکھی بھی نہیں ہوتی کہ خزاں ان کی زندگیوں میں خیمہ زن ہوجاتی ہے۔ان کے جوان وطن کی محبت میں خوشی خوشی اپنی جان کے نذرانے پیش کردیتے ہیں۔ ہمارے بہتر کل کے لئے اپنا بہترین آج قربان کردیتے ہیں۔

 

میں حیران ہوں وطن سے اس عشق کے جذبے پر جس سے لبریز ہوکر نہ صرف جوان خوشی خوشی جان نثار ہوتے ہیں بلکہ ان جوانوں کی مائیں بھی وطن کی محبت میں ایک کے بعد دوسرے بیٹے کو  مادرِ وطن پر قربان ہونے کے لئے بھیجتی ہیں۔ جس قوم کی ماؤں کا یہ جذبہ ہو وہ ریاست ناکام ہوہی نہیں سکتی۔

 

پاکستان وہ ملک ہے جو دہشت گردی سے طویل عرصے سے نبرد آزما ہے۔ اگرچہ اب حالات میں قدرے بہتری آئی ہے۔ جس کا سہرا سکیورٹی اداروں، آرمی پبلک کے کم سن شہداء اور اعتزاز حسن کے ساتھ ساتھ عام  عوام کے سر جاتا ہے۔ اسی طرز کی ایک کتابMoonglade انگریزی میں بھی شائع کی گئی ہے تاکہ وطن عزیز کے شہیدوں کے بارے میں دنیا بھر کے اہلِ دل یہ جان سکیں کہ نہ تو پاکستان دہشت گرد ہے نہ ہی اس کے سپوت تخریب کار ہیں بلکہ ہم وہ قوم ہیں جس نے دہشتگردی کے خاتمے کے لئے عاقبت نااندیشوں کامقابلہ کیا ہے۔ ہماری افواج، ایف سی اور پولیس سے لے کر عوام تک نے بلا دریغ قربانی دے کر ملک میں امن کے قیام کی بھاری قیمت ادا کی ہے۔

 

انگریزی کتابMoonglade پربین الاقومی شہرت یافتہ خاتون مصنفہ Angela Shearer نے تبصرہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ کتاب فاتحین کی داستان ہے۔ شہداء ہمیں تعلیم دیتے ہیں کہ اپنے مؤقف پر قائم رہ کر کس طرح اپنے آپ کو مر کر بھی زندہ رکھا جاسکتا ہے۔ میری دعا ہے اس کتاب کو مزید اوج ملے اس کتاب کی ہر تحریر میں شہدا ء کو خراج تحسین پیش کیا گیا ہے.

مادرِ وطن کے شہیدوں کو سلام۔

 پاک افواج زندہ باد۔ پاکستان پائندہ باد


[email protected]

Comments



Note: No comments!



Leave a Reply

Success/Error Message Goes Here
Note: Please login your account and then leave comment!
TOP