جس کی جان ہتھیلی پر

فہیم، صوابی کے گائوں لاہور میں پیدا ہوئے۔ والد زمیندار تھے اور اپنے بہن بھائیوں میں سب سے چھوٹے اور بہت لاڈلے تھے۔ والد کے ساتھ باہر جانے کی ان کو ایسی عادت تھی کہ ہمیشہ ماں کی گود سے چھلانگ لگا کے نکل جاتے اور کہتے ''بابا مجھے بھول گئے'' تو والد محبت سے اپنے بازو پھیلا دیتے اور فہیم کو محسوس ہوتا جیسے یہی اس کی کُل کائنات ہے۔ بچپن میں ماں کی گود اور باپ کا سینہ بچے کی پناہ گاہ ہوتا ہے اور بڑھاپے میں والدین کے لئے بچوں کی محبت اور فرمانبرداری ان کے خوابوں کی تعبیر ہوتی ہے۔ فہیم کرکٹ کے شیدائی تھے مگر اپنے علاقے میں کھیلا جانے والا گلی ڈنڈا اُن کا پسندیدہ کھیل تھا۔ نشانے کے پکے تھے اور اکثر کہا کرتے کہ کوئی سپاہی بھی میرے نشانے کا مقابلہ نہیں کر سکتا مگر ان کو کیا پتہ تھا کہ وہ بھی ایک دن سپاہی کی وردی میں نشانوں کے بادشاہ بن جائیں گے۔ اگر کبھی گائوں میں فوجی آجاتے تو فہیم اپنے سارے کام چھوڑ کر اُن کے راستے میں کھڑے ہو جاتے اور اس وقت تک سلیوٹ کرنے والا ہاتھ ماتھے سے نیچے نہ لاتے جب تک وہ چلے نہ جاتے۔

 

ہمارے وطن کی مٹی میں محبت اور قربانی کا ایسا جذبہ ہے کہ جس کی جڑیں بہت گہرائی تک اُتر چکی ہیں۔ اس بات کی گواہی شہداء کی گزری زندگی اور ان کے شہید ہو جانے کے بعد اُن کے اہلِ خانہ کے فخر سے بلند حوصلے دیتے ہیں۔ فہیم خان شہید 7 جون 1986ء میں پیدا ہوئے تو بڑھتی عمر کے ساتھ والدین نے تربیت کے ساتھ ساتھ ان کی خواہش پر اُنہیں حافظِ قرآن بنایا۔

اپنے گائوں کے بزرگوں کی محفل میں بیٹھنے کے رواج کی وجہ سے آج بھی وہاں ادب آداب اور تسلیمات کی وہی تہذیب اور روایت جاری ہے جس کا شہروں میں رواج اب ختم ہو چکا ہے۔ فہیم نے جو کچھ بزرگوں سے سیکھا اُس میں جو اہم کردار اس کی زندگی کی پہچان بنا ہے وہ برداشت اور فرمانبرداری تھی۔ کبھی تو اس حد تک زندگی کے بگڑے ہوئے معاملات میں فہیم کو صبر کا دامن تھامنا پڑتا کہ اگر اس کی جگہ کوئی اور ہوتا تو شاید کئی رشتے ٹوٹی ہوئی مالا کے موتیوں کی مانند بکھر جاتے مگر فہیم کا ایک ہی جملہ ہوتا صبر سے کام لیں یہ وقت گزر جائے گا لیکن اگر ہم نے یا آپ نے صبر نہ کیا اور سوالات اٹھانے شروع کردیئے تو رشتے نہ صرف ٹوٹ جائیں گے بلکہ ہم بھی بے ادب کہلائیں گے اور ہمارے بزرگوں کی تربیت خاک میں مل جائے گی۔

 

 

سپاہی

 

جب خونِ شہادت سے نکھرتا ہے سپاہی

تب قوم کی تقدیر بدلتا ہے سپاہی

سرحد کا محافظ ہے، جیالا ہے، جری ہے

مرنے کو، بقا اپنی، سمجھتا ہے سپاہی

میداں میں ہے بازوئے حیدر کا مقلد

باطل ہو مقابل، تو بپھرتا ہے سپاہی

تابندگیئِ ملتِ بیضا ہے اسی سے

جب خاک کی پوشاک پہنتا ہے سپاہی

ہے اس کی توانائی بس اِک نعرئہ تکبیر

دشمن کی صفیں چیر کے چلتا ہے سپاہی

اقبال کے شاہیں کی طرح اس کی شجاعت

جا جا کے پلٹتا ہے جھپٹتا ہے سپاہی

فرمودئہ اقبال نظر میں ہے کرامت

''مومن ہے تو بے تیغ بھی لڑتا ہے سپاہی''

کرامت بخاری        

 

اُمید، حوصلہ اور جرأت ۔۔۔ آپ سب کے لئے یہی میرا پیغام ہے، ہم پُرعزم ہو کر اپنے وسائل دانستہ اور منظم طریقے سے عمل میں لا تے ہوئے سنگین مسائل کو بحیثیت ایک عظیم قوم حل کرسکتے ہیں۔

                                                                ( قائداعظم )

 

جو شخص روکھی سوکھی کھا کر بھی مطمئن رہتا ہے وہ سب سے زیادہ دولت مند ہے کیونکہ اطمینان فطرت کی سب سے بڑی دولت ہے۔

                                                                (سقراط)

 

فہیم کا ایک خواب تھا کہ اس کا چھوٹا سا گھر ہو اور وہ اپنی مرضی سے اس میں پھول لگائے، پرندے پالے اور اس کے بچے اس گھر میں اپنے قہقہوں کی جلترنگ بجائیں۔ شومیِٔ قسمت ان کا یہ خواب پورا نہ ہو سکا۔ فہیم کا نکاح اپنے ماموں کی بیٹی سلمیٰ سے 2009ء میں ہوا اور 2013ء میں رخصتی ہوئی۔ فہیم  37 ایف ایف کا بہادر سپاہی تھا۔ شادی کے کچھ دنوں بعد واپس جانے لگا تو اس نے سلمیٰ سے کہا اگر آپ کو میرے گھر میں کسی کی بات سے کوئی تکلیف پہنچے تو آپ نے مسکرا کر خاموش رہنا ہے۔ میں آپ کے ساتھ ہوں جب آئوں گا تو مجھ سے ساری باتیں کر لینا۔ سلمیٰ نے فرمانبردار سپاہی کی فرمانبردار بیگم بن کے دکھایا۔ فہیم کے سسر ایئر فورس سے رٹیائر ہوئے۔ ان کا مزاج فہیم سے بہت ملتا تھا اکثر جب دونوں مل بیٹھے تو دیکھنے والا محسوس کرتا جیسے دونوں دوست ہیں۔ فہیم کے اپنے گھر کا ماحول سلمیٰ کے ماحول سے بہت مختلف اور ذرا سخت تھا۔ سلمیٰ نویں جماعت میں تھی جب اس کی شادی ہوئی مگر سسرال والوں نے تعلیم جاری رکھنے کا وعدہ پورا نہ کیا تو فہیم نے کہا کہ جب میں گھر آؤں گا تو آپ کو وہاں پرائیویٹ امتحان کی تیاری کروائوں گا۔ فہیم نے سلمیٰ کے ساتھ مل کر خوبصورت خواب دیکھ رکھے تھے مگر اُن دونوں کو یہ معلوم نہیں تھا کہ وہ مل کر اس کی تعبیر نہ دیکھ پائیں گے۔ زندگی سب سے امتحان لیتی ہے ، فہیم کو ایک امتحان کے لئے چُن لیا گیا تھا۔ فہیم کی ڈیوٹی شمالی وزیرستان میں تھی وہاں کے سخت ترین حالات کو بھی فہیم گھر آکے اس طرح بیان کرتا کہ جیسے وہ گلی ڈنڈے کا کھیل کھیل رہا ہو اُسے کوئی مشکل پریشان نہیں کرتی تھی۔ اُسے سلمیٰ کہتی کہ آپ کو گولیوں سے ڈر نہیں لگتا تو وہ سینے پہ ہاتھ مار کے کہتا جس جسم پر وردی پہن لی جائے اس کے دل سے ڈر اور خوف نکل جاتا ہے۔ پھر وہ کئی ساتھیوں کی شہادت اور جوانمردی کے قصے سناتا۔ اس کے ساتھی کہتے کہ جب وہ واقعات بیان کر رہا ہوتا تو اس کی آنکھیں چمکنے لگتیں اور چہرے پہ فخر کا نور پھیل جاتا۔ اپنی شہادت سے چار ماہ پہلے فہیم کی والدہ کا انتقال ہوا تو وہ چھٹی آئے تھے۔ وزیرستان سے تبادلہ ہونے میں چند ماہ باقی تھے انہوں نے بیگم سلمیٰ سے کہا کہ اپنا بہت خیال رکھنا میں پوسٹنگ ہوتے ہی آپ کو ساتھ لے جائوں گا اور پھر کچھ پیسے اُن کو دیتے ہوئے کہا کہ یہ اپنے پاس رکھ لو ڈاکٹر کو چیک اپ کرانے کے کام آئیںگے، تو بیگم نے کہا آج سے پہلے تو آپ نے کبھی اتنے زیادہ پیسے مجھے نہیں دیئے اس بار کیوں دے کے جا رہے ہیں؟ تو فہیم اپنی بیوی کی بات سن کر کچھ دیر خاموش رہے ،پھر کہا کہ مشکل وقت بتا کر نہیں آتا میں نہیں چاہتا کہ آپ کو کوئی مشکل ہو تو آپ کو کسی سے پیسے مانگنے پڑیں پھر جلد واپس آنے کا کہہ کر فہیم لوٹ گئے۔ فہیم کو بیٹی کا بہت شوق تھا وہ کہا کرتے تھے کہ بیٹی ماں باپ سے سچا پیار کرتی ہے جبکہ بیٹوں کے پاس زیادہ وقت ہی نہیں ہوتا۔ اُن کے گھر میں خوشی آنے والی تھی۔ خواب، رنگ، پھول، خوشیاں، خوشبو ہر سو پھیلی چھوڑ کر فہیم چلے گئے۔ سلمیٰ فہیم کا دل گھبرانے لگا اور پھر 7جون 2015ء کو دہشت گردوں کے خلاف ایک آپریشن کے دوران فہیم کو گولیاں لگیں او راللہ نے انہیں شہادت کے درجے پر فائز کیا۔ سلمیٰ فہیم کے والد کو فہیم کے دوست نے کہا کہ آپ سے ضروری بات کرنی ہے آپ گھر چلیں تو امان زیب نے سوچا کہ آج تک تو کبھی اس نے ایسا نہیں کہا اللہ سائیں خیر کرے مگر اُن کا دل کہہ رہا تھا کہ خیر نہیں ہے۔ جب وہ گھر پہنچے تو بہت سے لوگ جمع تھے ان کو بتایا گیا کہ فہیم زخمی ہے تو ماموں سسر امان زیب نے کہا سچ کیوں نہیں بولتے فہیم بیٹا شہید ہو گیا ہے۔ میں شہادت کو زندگی سمجھتا ہوں اب تو وہ کبھی نہیں مرے گا مرنا تو ہم کو ہے۔ تو امان زیب ماموں سسر کا حوصلہ دیکھ کے فہیم کے دوست نے کہا ہاں وہ اس وطن پر قربان ہو گیا ہے۔

سلمیٰ کو پتہ چلا تو اس نے کہا مجھے وہ بتا گیا تھا کہ مشکل وقت کبھی آئے تو گھبرانا نہیں تم سپاہی فہیم کی بیوی ہو، فوجیوں کی بیگمات وہی بنتی ہیں جن کو اللہ نے خاص بندوں میں شمار کیا ہوتا ہے۔ تمہارا حوصلہ بھی میرے جیسا ہونا چاہئے سلمیٰ، فہیم شہید کی بات سن کر کبھی رونے لگتیں کبھی بالکل چپ ہو جاتیں۔

 

9جون کو فہیم شہید کے پاک جسم کو گائوں لایا گیا۔ ماموں سسر امان زیب نے کہا کہ میں ہمیشہ سے سنتا آیاتھا کہ شہادت کی خوشبو ہوتی ہے تو ہم نے جب تابوت کھولا تو خوشبو کا جھونکا اس طرح فضا کو معطر کر گیا کہ یقین نہیں آرہا تھا کہ یہ کوئی دنیاوی مہک ہے ۔پھر امان زیب نے بتایا کہ 7جون کو فہیم شہید ہواتھا 9جون کو میں نے اُس کے جسم کو چھوا اُسے پیار کیا تو اس کا تازہ خون بہہ رہا تھا اور اس کا جسم اتنا نرم ملائم تھا کہ جیسے میں معصوم بچے کو چھو رہا ہوں۔

 

فہیم شہید اکثر یہی کہتا میرا مشن شہادت یا غازی کی منزل پر پہنچ کر ختم ہوگا اور پھر فہیم شہید کا مشن شہادت پر مکمل ہوا۔ آج فہیم شہید کا ایک بیٹا ہے، ریحان فہیم جو فہیم شہید کی شہادت کے چار ماہ بعد پید اہوا سلمیٰ فہیم نے کتنی ذہنی اذیت اُٹھائی ہوگی جب اُس کے بیٹے کو سینے لگانے والے بابا نہیں آئے ہوں گے۔

 

لیکن یہ بات بھی ہے کہ جب اﷲ تعالیٰ کسی بڑے امتحان سے گزارتا ہے تو اس کے لئے حوصلے بھی بڑے عطا کرتا ہے۔ باوجود ان تمام باتوں کے سلمیٰ بیگم فہیم شہید کا حوصلہ  آج بھی اپنی بلندیوں پر ہے اور وہ اپنے شہید شوہر کی فوجی ٹوپی اپنے بیٹے ریحان کو پہناتی ہیں اور سیلوٹ کرنا سکھاتی ہیں ۔ آفرین ہے ایسی مائوں پرجواپنے بیٹے قوم و ملک کی خدمت کے لئے تیار کررہی ہے اور قابلِ تحسین ہیں وہ بچے جو قوم کے کام آتے ہیں۔


مضمون نگار ایک قومی اخبار میں کالم لکھتی ہیں اور متعدد کتابوں کی مصنفہ بھی ہیں۔

[email protected]

 

Comments



Note: No comments!



Leave a Reply

Success/Error Message Goes Here
Note: Please login your account and then leave comment!
TOP