جذبہ ستمبر اور نوجوانانِ پاکستان

چند سال قبل ایک نجی ٹی وی چینل پر ایک ریٹائرڈ فوجی جنرل  جنہوں نے  1965ء کی جنگ نہ صرف لڑی تھی بلکہ شجاعت اور بہادری کے صلے میں انہیں ستارۂِ جرأت سے بھی نوازا گیاتھا فرما رہے تھے کہ عددی اعتبار سے دنیا کی سب سے بڑی فوج پاکستانی ہے۔اینکر نے حیران ہو کر پوچھا کہ وہ کیسے؟ انہوں نے جواب دیا کہ جب بھی ممالک کے درمیان جنگ چھڑتی ہے تو عام آدمی بارڈر سے دور بھاگتا ہے جبکہ پاکستانی عوام بارڈر کی طرف بھاگتے ہیں فوج کے شانہ بشانہ جنگ لڑنے کے لئے ۔جس کی بہترین مثال 1965ء کی جنگ ہے جب دشمن نے پاکستان کے خلاف اکٹھے کئی محاز کھول دیئے توہمارے نوجوان دشمن  کے سامنے ڈٹ گئے اور عورتیں رومال میں روٹیاں لپیٹے اور پانی کے مشکیزے اٹھائے بارڈر کی طرف اپنے فوجی بھائیوں کی مدد کے لئے بھاگ کھڑی ہوئیں۔

1965ء کی جنگ کے حوالے سے اس طرح کے کئی انٹرویو ، کالم، کتابیں اور خون کو گرما دینے والی ولولہ انگیز داستانیں سن کر ہم جوان ہوئے کیونکہ مجھ جیسے جوان 1965ء کی جنگ کے وقت پیدا بھی نہیں ہوئے تھے لیکن ان جنرل صاحب کی بات کے درست ہونے کا یقین اس وقت ہوا جب کم عمر ترین مائیکروسوفٹ سرٹیفائیڈ ارفع کریم کو سولہ سال کی عمر میں بستر مرگ پر ایک انٹرویو کے دوران پاکستان زندہ باد کا نعرہ لگاتے دیکھاپھر جب سترہ سالہ اعتزاز حسن کو ایک خود کش حملہ آور کی جانب پاکستان زندہ باد کا نعرہ لگاکر کودتے دیکھا تاکہ اس کے اسکول کے دو ہزار بچوں کی زندگی بچ سکے۔ اور پھر اس وقت جب سوات آپریشن کے دوران تین بھائیوں کی شہادت کے بعد چوتھے بھائی کو بھی فوج میں شمولیت اختیار کرتے دیکھا۔پاکستانی تاریخ ایسے کئی واقعات سے بھری پڑی ہے جہاں شہداء نے  خون سے تاریخ کے صفحوں پر اپنے نام ہمیشہ کے لئے نقش کر دیئے۔

1965ء میں  دشمن پاکستان کے خلاف صرف فوجی محازپر برسر پیکار تھا جبکہ اب حالات قدرے مختلف اور مزید خطرناک ہیں کیونکہ دشمن نے ہمیں کئی دیگر محاذوں پر الجھایا ہوا ہے۔ دشمن ہمیں معاشی،معاشرتی اور سیاسی ہر لحاظ حتیٰ کہ کھیل کے میدان میں بھی تنہا اورہماری جڑیں کھوکھلی کر دینا چاہتا ہے جس کی مثال سری لنکن کرکٹ ٹیم پر حملہ ہے جس کے تانے بانے افغانستان سے ہوتے ہوئے ہمارے مشرقی ہمسایہ ملک کی جانب جاتے دکھائی دیتے ہیں۔ آج ہمیں ایسے مشکل حالات کا سامنا ہے کہ دشمن ملک نے ہمارے ارد گرد مکاریوں کا جال بننے کے ساتھ ساتھ ہمیں عالمی برادری میں تنہا کرنے کی کوشش شروع کی ہوئی ہیں ۔

6 ستمبر  2018ء  ، یومِ دفاعِ پاکستان آن پہنچاہے ۔ اس بار کا یومِ دفاع  تھوڑا مختلف ہے کیونکہ اس سال کا یوم دفاع  نوجوانوں کا ایک وہ طبقہ بھی منانے جا رہا ہے جو ماضی کے نوجوانوں سے زیادہ باشعور اور سیاسی سمجھ بوجھ رکھنے کے ساتھ ساتھ حالات حاضرہ پر گہری نظربھی رکھے ہوئے ہے۔ نوجوانوں کا یہ طبقہ ملک کے لئے کچھ کرنا بھی چاہتا ہے اور ساتھ ساتھ ریاست سے امید بھی رکھتا ہے کہ وہ اس کی فلاح کے لئے اقدامات کرے۔اس نوجوان طبقے کی آنکھوں میں ستمبر1965ء والی چمک دیکھی جاسکتی ہے بلکہ یہ کہنا بے جا  نہ  ہوگا کہ شائد یہ چمک 65ء کی چمک سے بھی زیادہ روشن ہے کیونکہ آج کا نوجوان ماضی کی نسبت کہیں زیادہ باشعور اور جذبہ حب الوطنی سے سرشار ہے۔یہ نوجوانوں کا وہی طبقہ ہے جس نے مستقبل کے خطرے کو بھانپتے ہوئے یوم ِ آزادی کے موقع پر تین منٹ میں دس ہزار درخت لگا کر ایک ریکارڈ قائم کیا۔ الیکشن 2018ء  اس کی تازہ مثال ہے جہاں نوجوانوں نے ماضی کی نسبت زیادہ بڑھ چڑھ کر حصہ لیا اور سیاستدانوں کو یہ باور کروا دیا کہ اب ووٹ اسی کو ملے گا جو  ان کا مستقبل صرف زبانی کلامی نہیں بلکہ عملی طور پر بھی سنوارے گا۔

یہ نوجوانوں کا وہی طبقہ ہے جس کے بارے میں اقبال نے لکھا تھا

 عقابی روح جب بیدار ہوتی ہے جوانوں میں

نظر آتی ہے اس کو  اپنی منزل آسمانوں میں

نوجوانوں کا یہ طبقہ اس خواب غفلت سے بیدار ہوا ہے جس میں قوم سالہا سال سے سوئی ہوئی ہے اور اس نے اب باقی قوم کو جگانے کی ٹھان لی ہے اور پاکستان کا بیڑا پار لگا نے کی نیت کر لی ہے۔

 اس  یومِ دفاع پر جذبہ حب ا لوطنی کا تقاضا یہ ہے کہ ہم بحیثیت قوم سکولوں، کالجوں کی اسمبلیوں میں ملی نغمے پڑھ کر یا سیمینار منعقد کروا کربری الذمہ ہونے کے بجائے یا سڑکوں پر ہلڑ بازی کرنے کے بجائے تجدید عہد کریں کہ

     وطن کی مٹی عظیم ہے تو، عظیم تر ہم بنا رہے ہیں

ستمبر 1965١ء  کی جنگ کی یاد مناتے ہوئے جب ہمارا ذہن ماضی کی ورق گردانی کرتا ہے تو ہم دیکھ سکتے ہیں کہ کس طرح پوری قوم نے متحد ہو کر اپنے سے دس گنا بڑے دشمن کا غرور خاک میں ملا دیاتھا ۔جنگ 1965ء ہمیں یاد دلاتی ہے کہ کہ کس طرح ہمارے جوانوں، بزرگوں ، عورتوں اور حتیٰ کہ نابالغ بچے بچیوں نے اپنے خون سے اس چمنِ پاکستان کی آبیاری کی۔ جنگ 65ء میں اس ارض پاک کی خاطرہمارے جوانوں نے جانیں اس لئے نہیں دی تھیں کہ ہم فرقہ واریت کی آگ میں جل کر بھسم ہو جائیں۔ ان نوجوانوں نے  اپنے خواب اس لئے قربان نہیں کئے تھے کہ  میں مہاجر، میں پنجابی، میں پٹھان، میں بلوچ، میں سرائیکی کا نعرہ لگا کر نفرت انگیزی کو ہوا دی جائے۔

انہوں نے اس لئے اپنا مستقبل قربان کیا تھا کہ آئندہ آنے والی نسلوں کا مستقبل سنورسکے اور وہ ایک آزاد  دیس میں سانس لے سکے، ایک ایسے دیس میں جس کا معاشرہ انصاف اور اخوت کی مضبوط بنیادوں پر قائم ہو، ایک ایسا معاشرہ جہاں قلم کسی کا غلام نہ ہو، جہاں امن ہو، جہاںحوّا کی بیٹی محفوظ ہو، جہاں سچ کا بول بالا ہو، جہاں تمام انسان برابر ہو، جہاں اقلیتیں محفوظ ہو، جہاں کتابوں کی عزت ہو۔

بد قسمتی سے ہم ویسا معاشرہ تشکیل نہیں دے سکے لیکن آج کے نوجوان کو دیکھ کر ہمت بندھتی ہے کہ وہ وقت دور نہیں جب ایسے معاشرے کا خواب حقیقت میں تبدیل ہوگا۔ آج ہمیں فرقہ واریت، رنگ ،نسل اور لسانی و علاقائی تعصب سے بالا تر ہو کر متحد ہونے کی ضرورت ہے۔ خاص طور پر نوجوانوں کو جو کہ کسی بھی ملک یا قوم کا اثاثہ ہوتے ہیں ۔پاکستانی نوجوان کل آبادی کا ساٹھ فیصد ہے۔ یہ ایک ایسی طاقت ہے جو پاکستا ن کو پستیوں سے اٹھا کر اس کا کھویا ہوا مقام واپس لوٹا سکتی ہے لیکن ضرورت اسی امر کی ہے کہ اس نوجوان طبقے کو  اقبال کے خواب کی تعبیر اور جناح کے پاکستان کا معمار بنانے کے لئے قومی سطح پر کام کرنا ہوگاکہ ہماری نوجوان نسل ایک مثبت طرزِ فکر اپناتے ہوئے ملکی خدمت میںاپنا کردار ادا کرسکے۔

اللہ پاک اس ارضِ پاک کو سلامت رکھے۔(آمین)

پاکستان زندہ باد۔


مضمون نگار فری لانس صحافی ہیں۔

[email protected]

Comments



Note: No comments!



Leave a Reply

Success/Error Message Goes Here
Note: Please login your account and then leave comment!
TOP